بچپن ۔ خوبصورت یاد یا برا خواب


بچپن بھی کیا پیارا لفظ ہے۔ اس کو سنتے ہی دماغ میں رنگ برنگ خاکے بننے لگتے ہیں۔ اس سے ایسے ایسے احساسات جڑے ہوتے ہیں کہ کئی مرتبہ کوئی جگہ، کوئی دھن، کوئی خوش بو، کوئی ذائقہ ایک ناسٹیلجیا (پرانی یاد) سی کیفیت میں لے جاتے ہیں۔ لیکن ہر شخص کی بچپن کی یاد ناسٹیلجیا جیسی نہیں ہوتی۔ کچھ کے لئے یہ کابوس (برا خواب) ہوتی ہے۔

ایک دن اسکول میں عجیب و غریب چہ مگوئیاں سننے کو ملیں پتہ چلا کہ ساتویں جماعت کا ایک بچہ سمیر ٹیسٹ کے دوران بے تحاشا رویا ہے کہ وہ کچھ بھی یاد نہیں کر سکا۔ خود استانی کے لئے بھی یہ عجیب تھا، سمیر ایک درمیانے درجے کا شاگرد تھا، کبھی اپنی کارگردگی سے حیران کر دیتا تھا اور کبھی پریشان۔ اس کے گھریلو مسائل پورا اسکول سمجھتا تھا کیونکہ اس کے والدین اپنے اختلافات کو کسی سے نہیں چھپاتے تھے، اور اپنے بچوں کی عزت کو کوئی اہمیت نہ دیتے ہوئے، اس کے اساتذہ، اس کے دوست یہاں تک کہ اسکول کے چوکیدار تک سے کچھ بھی کہہ گزرتے تھے۔

وہ تین چار دنوں سے اسکول سے غائب تھا، اس لئے وہ اس امتحان کے بارے میں نہیں جانتا تھا لیکن پھر بھی اس کا اس طرح سے رونا کسی اور مسئلے کی نشاندہی کر رہا تھا۔ رونے کی بھی کئی اقسام ہیں۔ کچھ لوگ خوشی کے آنسو اور غم کے آنسوؤں میں فرق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کچھ مگرمچھ کے آنسو پہچان لیتے ہیں۔ اچھے استاد جانتے ہیں کہ ٹوٹ جانے کی کیفیت میں بچے کس طرح روتے ہیں۔

بہت کوشش کر کے یہ معلوم ہوا کہ سمیر کی والدہ نے گھریلو جھگڑوں سے تنگ آ کر خودکشی کی کوشش کی تھی اور دوا کے زہریلے اثرات کی وجہ سے دو دن اسپتال میں رہیں اور بچے رشتے داروں کے گھر پر طرح کی بات سنتے رہے۔ پھر روز روز گھر میں عدالت لگنے لگی، الزام تراشیاں، شکایتیں اور نہ ختم ہونے والے جھگڑے۔ بچے کا ذہن کئی دن تک ان حالات کو سمجھنے کی کوشش کرتا رہا۔ اور بڑوں کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ ان کے سارے عمل سے بچوں پر کیا گزر رہی ہے۔

اس واقعے کے بعد کئی دن تک اپنے ہی دوستوں کے سوالوں سے بچتا رہا۔ اس کو لگتا تھا کہ ہر شخص جو اس کے قریب آ رہا ہے وہ اس سے اس ہی بابت سوال کرے گا۔ اور ہر وہ شخص جس کے چہرے پر مسکراہٹ ہے وہ سمیر پر ہنس رہا ہے۔ سمیر اپنے دوستوں سے دور ہو گیا۔ والدین نے آپسی مسائل کی وجہ سے بدلتے ہوئے سمیر پر کبھی توجہ نہ دی۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ سمیر خود اذیتی کے مرض میں مبتلا ہو گیا ہے۔ اس کے بازوؤں اور رانوں پر پڑے بلیڈ کے زخم سب سے پوشیدہ تھے، اس کے دل کے زخم بھی سب سے پوشیدہ تھے۔ لیکن سب سے خطرناک چشم پوشی اس کے والدین اپنی غلطیوں سے کر رہے تھے۔ سمیر جیسے بچوں کی بچپن کی یادیں ناسٹیلجیا نہیں ہوتی۔ کابوس ہوتی ہے۔

بچے کے ذہن کو اک بیج سمجھ لیں۔ ہمیں دھیان رکھنا چاہیے کہ ہم اس میں کیا بو رہے ہیں، کیونکہ جو ہم بوئیں گے وہ ہمارے ہر اک عمل، ہر فیصلے، ہر طرز زندگی پر اپنی تن و مند شاخیں پھیلانے لگے گا۔ اس کی جڑیں بچے کی ذات میں پھیل جائیں گی۔ اگر ہم منفی توانائیاں اور تجربات جمع کرتے جائیں گے، منفی بیج بوئیں گے۔ آنسوؤں اور خود ترسی کی آبیاری کرتے جائیں گے تو ہماری ذات کیکر اگاتی جائے گی، جس سے گاہے بگاہے اپنے اور پرائے سب کے احساسات غیر ارادی طور پر چھلنی ہوتے جائیں۔

اگر ہم بچے کے ذہن میں محبت، احساس اور اعتماد کے گلاب اگائیں گے، زندگی کی ہر کمی اور اپنی ہر کوتاہی کے باوجود خدا کی ذات پر امید سے ذہن کی کھیتی باڑی کریں گے تو نہ صرف وہ ہر موسم میں صدا بہار رہیں گے، مہکتے رہیں گے بلکہ اپنی شخصیت کے خوش رنگ پھولوں اور خوش ذائقہ پھلوں سے دوسروں کو مستفید بھی کر پائیں گے۔

سمیر جیسے بچوں کے ساتھ رونما ہونے والے حادثات ان کا ٹراما بن کر ان کے ساتھ رہتے ہیں۔ ٹراما کو ہم آسان زبان میں نقصان یا تکلیف سمجھ سکتے ہیں۔ اس ٹراما کی تین بڑی اقسام ہیں۔ جن میں پہلی کسی ایک حادثے کی بنیاد پر لگنے والا ذہنی دھچکا ہوتا ہے۔ دوسری میں ایک ہی طرح کا واقعہ بار بار رونما ہونے پر دماغ کو متاثر کرتا ہے، اور تیسری میں مختلف قسم کے تکلیف دہ واقعات یا حادثات کی بناء پر انسان کی شخصیت خراب کرتا ہے۔

بہت سارے لوگ زندگی بھر جان نہیں پاتے کہ ان کا رد عمل ان کے ٹراما سے متاثر ہیں۔ خود کو غلط سمجھنا، اعتماد کی کمی، اداسی، بے حسی، غائب دماغی، خوف، چڑچڑا پن، لوگوں سے بیزاری یا غیر ضروری لگاؤ جیسی چیزیں ٹراما کی نشانیاں ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق بچپن کے ٹراما کے مریضوں کی تعداد میں جنسی استحصال سے زیادہ گھریلو لڑائیوں سے متاثر ہونے والے بچے ہیں۔ ان میں سے اکیس فیصد کیسز میں لوگ خود نوجوانی میں اپنے ٹراما کی نشاندہی کر کے تھراپی کی طرف آتے ہیں تاکہ بہتر زندگی گزار سکیں۔

ٹراما کی کیفیت میں جو چیز انسان کے زخم بھرنے میں سب سے زیادہ مدد دیتی ہے وہ اپنے مسائل کو تسلیم کرنا، اپنے مجرموں کو معاف کر دینا اور ان سے دور رہنا، اپنی ذات میں موجود اچھی چیزوں اور اللہ کی دی ہوئی نعمتوں پر زیادہ دھیان دینا ہے۔ آس پاس کے لوگوں کے بجائے تھراپسٹ سے بات کر کے بھی دل کا غبار نکالنا مددگار ثابت ہوتا ہے کیونکہ ایک ماہر آپ کے سارے منفی تجربات کو مثبت موڑ دے کر آپ کی مدد کرتا ہے۔

اگر آپ ٹراما کا شکار ہیں تو اپنے لئے مدد تلاش کریں کیونکہ آپ کے بچے یہ نہیں چاہیں گے کہ ان کے ماں باپ ان کی تکلیف کی وجہ بنیں۔ اپنی غلطیوں اور اپنے شخصی مسائل کو پہچانیں اور اپنے کسی بھی کمپلیکس کا اثر اپنے بچوں پر نہ پڑنے دیں۔ خود کو نفسیاتی طور پر مضبوط بنائیں اور اپنے بچوں کے ایسی تکالیف سے ہرگز نہ گزرنے دیں جس سے نکلنا ناممکن یا جس کے اثرات دائمی ہوں۔

تکالیف ہر اک کی زندگی کا حصہ ہیں، کوئی شخص بھی پریشانیوں سے خالی نہیں۔ مگر وہ ان پریشانیوں سے دوسروں کو پریشان کرنے والا بنتا ہے یا اپنے اور دوسروں کے مسائل کا حل نکالنے والا۔ یہ سو فیصد اس کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ آپ نے کون سا راستہ اختیار کرنا ہے۔ جو بچے ٹوٹے ہوئے گھروں میں بڑے ہوتے ہیں، جن کے بڑے انہیں محبت کرنا اور خوش رہنا نہیں سکھا پاتے، وہ زندگی میں کبھی کچھ بن بھی جائیں تب بھی ان کی ذات میں کہیں نہ کہیں ایسی خلاء ضرور رہ جاتی ہے جسے کوئی پورا نہیں کر سکتا، ایسے بچے ہمیشہ دوہری زندگی جیتے ہیں اور ساری عمر خود سے جنگ کرتے ہوئے گزار دیتے ہیں۔ دعا کریں کہ ہماری نفسیاتی و شخصی کمزوریوں کی وجہ سے ہمارے یا کسی کے بھی بچوں کا بچپن اور مستقبل خراب نہ ہو۔

Facebook Comments HS