کتاب ”اجالا“ اور صاحب کتاب پر تبصرہ


سید شہباز ؔ تنویر نقوی

میں نے آنکھ کھولی تو اسکول کی الف بے سے پہلے ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والے فلمی و غیر فلمی گانے مجھے ازبر تھے۔ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہونے کے ناتے نہ صرف سب کی آنکھوں کا تارا تھا بلکہ ان کے لئے ایک جیتا جاگتا کھلونا تھا۔ والدین سمیت تمام گھر والے گانوں کے شوقین تھے۔ مجھے گانے یاد کروائے جاتے اور پھر سب سن سن کر خوش ہوتے۔ بچپن سے ہی ریڈیو پاکستان کراچی کے بچوں کے پروگرام میں شرکت کرتا رہا۔ مزے کی بات یہ کہ گانوں کے ساتھ مجھے ان کے شاعروں اور موسیقاروں کے نام بھی یاد ہوتے تھے۔

گیت نگار حضرت تنویرؔ نقوی کے تقریباً سب ہی گانے مجھے ازبر تھے۔ پھر چند سال پہلے شہزاد حفیظ اور گوہر جعفری صاحبان (جو فیس بک پر حضرت تنویرؔ نقوی صاحب کے پیج کا انتظام فرماتے ہیں ) کی مہربانی سے میری حضرت تنویرؔ نقوی صاحب کے صاحبزادے شہبازؔ تنویر نقوی سے ملاقات ہو گئی جو دوسری ہی نشست میں دوستی کی شکل اختیار کر گئی۔

لاہور میرا دوسرا گھر ہے اور میری کوشش ہوتی ہے کہ لاہور میں قیام کے دوران شہبازؔ سے ملاقات ہو۔ چند ماہ ادھر ایسی ہی ایک نشست میں شہبازؔؔ نے شرماتے ہوئے مجھے ایک کتاب کا تحفہ دیا۔ سرورق پر نظر پڑتے ہی سید شہبازؔ تنویر نقوی دکھائی دیا۔ ایک خوشگوار حیرت اور مسرت نے مجھے گھیر لیا۔ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات۔ شاعری کی کتاب ”اجالا“ جسے ”ماورا پبلشرز“ نے 2022 میں شائع کیا تھا، میرے ہاتھوں میں تھی۔ کتاب کی قیمت 600 روپے ہے۔

شاعری تو بعد میں پڑھی لیکن اس وقت کتاب کی شکل و صورت ہی دل کو بھا گئی۔ دلفریب طباعت، عمدہ معیاری کاغذ اور نفیس سرورق، یقیناً سب سے پہلے ’ظاہر‘ متاثر کرتا ہے پھر جب ’اندر‘ بھی متاثر کن ہو تو سونے پر سہاگہ ہے۔ مجھے موسیقی سے شغف ہے اور سر کے ساتھ شاعری ہضم ہو جاتی ہے مگر ’شاعری‘ بطور شاعری میں دلچسپی ذرا کم ہے۔ لیکن دوست کی کتاب اور حضرت تنویرؔ نقوی سے تعلق نے کتاب پڑھنے پر خوشی سے آمادہ کیا۔ کتاب کا آغاز پنجابی زبان میں نعت شریف سے ہوا ہے۔

پنجابی زبان سے ناواقفیت کی بنا پر میں نے اپنی بیگم سے اسے سنانے کی فرمائش کی۔ الفاظ کی ادائیگی کے ساتھ کافی حد تک سمجھ آ گئی۔ بہت سادہ اور بے ساختہ اظہار محبت سے سرور آ گیا۔ غزلیات میں شہبازؔ نے ہر ایک طرح کی بحر میں مشق سخن کیا ہے خصوصاً لمبی بحر کی غزلوں میں ایک خاص قسم کا ردھم پایا جاتا ہے جو میری حس موسیقی کے لئے تسکین بخش ثابت ہوا۔ شہبازؔ کی غزلوں میں خیال کی وسعت موجود ہے۔

پیار، محبت، حسن، جدائی تو شعر کا حسن ہیں لیکن شہبازؔ کی مثبت سوچ بہت پیاری ہے۔ اس کی ہر غزل میں ایک خوبصورت پیغام موجود ہے۔ خصوصاً صفحہ 68 کی غزل جس کا مطلع ہے : برہم برہم رہنا چھوڑو، دل کے بوجھ کو سہنا چھوڑو۔ یہ پوری غزل ہی اچھائی کو اپنانے کی دعوت دے رہی ہے۔ شہبازؔ کے گیت بہت شاندار ہیں۔ ہر ایک گیت کی الگ موسیقیت، الگ سر اور ردھم ہے۔ پھر کتاب کے آخر میں چند غزلیں اور اشعار پنجابی زبان کے ہیں۔ کچھ قطعات بھی ہیں۔ قصہ مختصر کہ عمدہ اشعار کا ایک گلدستہ ”اجالا“ کی شکل میں اردو ادب میں ایک خوبصورت اضافہ ہے۔ شاعری کرنا ایک خداداد صلاحیت ہے۔ اسے سیکھا نہیں جا سکتا!

یقیناً شہبازؔ کی اٹھان شعروں اور موسیقی کے درمیان ہوئی ہے۔ بچپن سے لڑکپن اور جوانی تک یہی سب کچھ اس کے کانوں نے سنا اس لئے شاعری میں بھی متنوع موسیقیت ہے۔ لیکن شہبازؔ اس خدا داد صلاحیت کو بہت دیر سے منظر عام پر لایا۔ دیر آید درست آید کے مصداق ہم ”اجالا“ کو خوش آمدید کہتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ سید شہبازؔ تنویر نقوی اپنا مشق سخن جاری رکھیں گے۔

Facebook Comments HS