پانچواں بچہ
پانچواں بچہ تھا یہ۔ مریضہ کی شوگر بہت ہائی تھی۔ پہلے دواؤں سے کنٹرول کرنے کی کوشش کی لیکن پر انسولین پر جانا پڑا۔
خاتون کا سانس پھولا ہوا تھا۔ پاؤں سوج کر جوتوں سے باہر تھے۔ آنکھوں کے گرد حلقے تھے۔ جسم میں خون کی شدید کمی تھی۔
آپ پانچوں بچہ کیوں پیدا کر رہی ہیں؟ ہم نے پوچھا۔
جی بس۔ شوہر۔ وہ کہتے کہتے رک گئیں اور ہمارا دل چاہا۔ خیر کیا کہیں آپ جانتے ہی ہیں کہ کیا دل چاہا ہو گا۔
خیر مریضہ کے نو ماہ اس طرح گزرے کہ کبھی ہسپتال میں داخل، کبھی چھٹی۔ کبھی انسولین کی بڑھتی ہوئی ڈوز تو کبھی بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے والی دوائیں۔
آٹھویں مہینے میں بچے کی حرکت کم ہونا شروع ہو گئی۔ حمل کی ذیابیطس بچے کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ پیٹ میں بچہ مرنے کی شرح ذیابیطس حاملہ میں بہت زیادہ ہوتی ہے۔
اب کیا کریں؟
حمل و زچگی کی سائنس یہ کہتی ہے کہ جب محسوس ہو بچہ پیٹ میں محفوظ نہیں، اسے نکال لیا جائے کہ سائنس اسے پیٹ کے بغیر زندہ رکھ سکتی ہے لیکن نرسری کی سہولیات ہونا لازم ہیں۔
جونہی بچہ پیدا کروانے کی بات کریں، میاں بیوی کا چہرہ لٹک جائے۔ ڈاکٹر صاحب۔ کچھ اور دیکھ لو۔ نرسری میں تو بہت خرچہ ہو جائے گا۔
دل چاہتا کہ کہوں میاں پانچواں بچہ پیدا کرواتے وقت کیا عقل گھاس چرنے چلی جاتی ہے؟ ایک عورت کا جسم اتنی مشقت کیسے برداشت کرے؟ پانچ نفوس کو اپنے جسم کے پنجر سے بنا کر نکالنا۔ کیا سمجھتے ہو؟ مذاق؟ جیسے بٹن دب جائے اور مشین میں ملک شیک تیار۔
خیر جناب، خدا خدا کر کے چھتیس ہفتے اور کچھ دن گزرے اور ہم نے سیزیرین کا دن مخصوص کیا۔
سیزیرین شروع کیا اور ہمیں چھٹی کا دودھ یاد آ گیا۔ انتہائی لٹکا ہوا پیٹ سنبھالیں یا پیٹ کاٹیں؟
پیٹ کی تمام پرتیں آپس میں بری طرح جڑی ہوئیں اور جس طرح خدا نے بنائی تھیں وہ شکل و ہیئت غائب۔ جیسے ایک بوسیدہ کپڑا بار بار پھٹے اور اتنی بار سیا جائے کہ پھر ٹانکا لینے کے لیے کوئی جگہ ہی باقی نہ رہے۔
پیٹ کی پرتیں کاٹتے کاٹتے لگا کہ مثانہ ان پرتوں میں سے جھانک رہا ہے۔ مثانہ نارمل صورت حال میں یہاں نہیں ہونا چاہیے اور یہی وہ مقام ہے جہاں اکثر ڈاکٹرز سے مثانہ کٹ جاتا ہے۔
مثانہ واقعی اوپر آ چکا تھا۔ اسے انتہائی احتیاط سے علیحدہ کرتے ہوئے خیال رکھا کہ کوئی فسٹولا نہ بن جائے۔ مثانے کے بعد رحم جو کہ پیٹ سے جڑا ہوا تھا کو کاٹنے کے بعد اتنی جگہ بنائی کہ بچہ نکال سکیں۔
بچہ نکل آیا اور اب آیا رحم کو سینے کا مرحلہ۔ جہاں سوئی سے ٹانکہ بھریں، وہاں خستہ حال رحم پھٹ جائے۔ یا اللہ اسے کیسے سیئیں؟ کاش اس کا شوہر پاس کھڑا ہوتا اور اسے دکھا کر پوچھتے کیوں بھیا تم کٹواؤ گے اپنا پیٹ؟
ہمیں علم ہے کہ بہت سے اعتراض برائے اعتراض کرنے والے کہیں گے کہ نہ کاٹیں پیٹ، نارمل کر لیں۔
نارمل ایک ڈھونگ ہے جہاں لوگ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ بے چاری ویجائنا قربانی دیتی ہے۔ لہولہان اور کٹی پھٹی۔ کبھی ویجائنل فسٹولا بنتا ہے اور کبھی مقعد کی شامت آتی ہے کہ پاخانے اور ہوا پہ کنٹرول ہی نہیں رہتا۔
خیر جناب رحم سینا تھا، سی دیا۔ کہیں پتلی سوئی، کہیں پتلا دھاگہ۔ کہیں ٹانکہ دائیں سے بائیں۔ کہیں اوپر سے نیچے۔ کہیں خون روکنے کے لیے بجلی کا کرنٹ ( cautery) تو کہیں پریشر دینے والا پیڈ جو بعد میں خود ہی گھل کر ختم ہو جاتا ہے۔
اس چومکھی لڑنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ مریضہ مزے سے خراٹے بھرتی رہیں اور ہم ان کی خر خر سنتے، جھنجھلاتے، بڑبڑاتے، سر جھکاتے ٹیلر ماسٹر کا کام کرتے رہے اور آخیر میں ہمارے کندھوں اور کمر کا واویلا عروج پر تھا۔
باہر نکلے تو شوہر لاپرواہی سے چیونگ گم چباتے ہوئے فون میں گم تھا۔ ہو گیا ڈاکٹر صاحب؟ اس نے پوچھا۔
ہاں۔ ہو گیا۔ ہو گیا ستیاناس بے چاری کا۔ زیرلب۔
شکر ہے۔ ساتھ بیٹھی کسی عورت نے کہا۔
اگلے دن دیکھنے گئے تو مریضہ بستر پہ پڑی کراہ رہی تھی۔ بچے نے رو رو کر آسمان سر پہ اٹھایا تھا اور شوہر صاحب کافی کی چسکیاں بھرتے ہوئے موبائل گیم کھیل رہے تھے۔
ڈاکٹر صاحب۔ درد بہت ہے۔ مریضہ نے کہا۔
درد تو ہو گا۔ ہم نے دل میں سوچا۔ نرس کو ہدایت کی درد والی دواؤں کی مقدار بڑھا دی جائے۔ اور شوہر۔ ہمارا جی چاہا کہ اس سے کچھ سوال پوچھیں؟
اس پانچویں بچے نے آپ کی زندگی کو کیا اضافہ سوائے چار سے پانچ کے؟
کیا یہ ماں جو حال سے بے حال ہے، پانچ بچوں کی اچھی پرورش کر سکتی ہے؟
وہ کیا کمی تھی جسے اس بچے نے پیدا ہو کر پورا کیا؟ کیا آپ کی زندگی نامکمل تھی؟
ہمیں علم ہے کہ ان سوالوں کا جواب آئیں بائیں شائیں کے علاوہ کچھ نہیں ہو سکتا۔
یا پھر اللہ کی مرضی!
جس دن ہماری چڑچڑاہٹ عروج پہ ہو ہم کہہ دیتے ہیں، کنواری مریم ایک ہی تھی بھیا!
احتیاط کیا کرو احتیاط!


