مذہبی معاشرہ اور عورت مارچ

کسی بھی معاشرے کے مہذب پن کا اندازہ لگانا ہو یا جاننا ہو کہ یہ معاشرہ کتنا تہذیب یافتہ ہے تو صرف یہ دیکھ لیں کہ اس معاشرے میں کمزوروں اور جانوروں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جاتا ہے۔
اسی طرح اگر کسی فرد کے بارے میں جاننا ہو کہ یہ کتنا مہذب یا تعلیم یافتہ ہے تو صرف یہ مشاہدہ کر لیں کہ اس کا اپنے بیوی بچوں اور خصوصاً بیوی کے ساتھ رویہ کیسا ہے۔ کیا وہ اسے برابر کا انسان سمجھتا ہے یا اس نے خود کو کسی ایسے خود ساختہ مرتبے پر فائز کر رکھا ہے جہاں سے بیوی اسے اپنی ماتحت نظر آتی ہے۔
ملا کی مذہبی تعبیر کے مطابق مسلمان معاشرہ تو کم از کم مہذب ہونے کی طرف قدم نہیں بڑھا سکتا۔ کیونکہ ان کی مذہبی تعبیر میں نہ صرف بیوی پر ذہنی اور جسمانی تشدد کی اجازت ہے بلکہ بچوں کو بھی دس سال کی عمر میں نماز نہ پڑھنے پر مارنے کا حکم ہے۔ یعنی کہ مار پیٹ مذہبی شعائر کا درجہ رکھتی ہے اور درجات کا باعث ہے۔
اسی طرح جانوروں کے ساتھ بھی سلوک ملاحظہ فرما لیں۔ جہاں کتے سے نفرت کی تعلیم دی جاتی ہو، سور کا صرف نام لینے سے بھی زبان چالیس دن تک پلید ہو جاتی ہو، چھپکلی مارکر ثواب کمانے کی تعلیم دی جاتی ہو، وہاں جانوروں سے کیسے اچھا سلوک ہو سکتا ہے؟ اور اس سلوک کے مظاہر جگہ جگہ گلی محلوں میں نظر آتے ہیں۔
ایسے نام نہاد مذہبی معاشروں میں عورت مارچ کی اس لئے ضرورت ہے تاکہ عورتوں کو آگاہی فراہم کرنے کی ایک کوشش کی جا سکے کہ ظلم سہنا اور گھریلو تشدد برداشت کرنا مذہبی فریضہ نہیں بلکہ اپنے اور ان کے بچوں کے ساتھ ایک ظلم عظیم ہے۔ ایک ایسا شیطانی چکر ہے جس کو اگر روکا نہ جائے تو نسل در نسل چلتا ہے۔ ذہنی اور نفسیاتی بیماروں کو جنم دیتا ہے۔ بچوں کے نام پر دی جانے والی ان کی قربانی ان کی اپنی اور اپنے بچوں کی ذہنی صحت کی قربانی ہے۔ آنے والی نسلوں کی بہبود اور بہتری کی قربانی ہے۔
اس لئے بھی ضروری ہے کہ ان کو آگاہی دی جا سکے کہ تم بھی برابر کی انسان ہو۔ اگر تم گھر پر رہ کر بچے سنبھالتی ہو، گھر کی دیکھ بھال کرتی ہو، خانساماں اور دھوبی کا کام کرتی ہو تو اس کام کی بھی ایک معاشی قدر ہے جو کہ روٹی کپڑے سے کہیں زیادہ ہے۔ بس فرق یہ ہے کہ مرد جو کام کرتا ہے اس کی اجرت طلب کرتا ہے جس سے وہ بعد ازاں برتری اور قومیت خریدنا چاہتا ہے لیکن تم بیگار کو اپنی قسمت اور خدائی اسکیم سمجھ کر روٹی کپڑے کے احسان کے بوجھ تلے دبی جا رہی ہو۔ معاشی استحصال کرنے والے کو اپنا ان داتا اور روزی رساں سمجھے بیٹھی ہو۔ جو دو وقت کی روٹی کے بدلے تمہاری غیر مشروط اطاعت کا طلب گار ہے۔ اور اسے خدا کی حکمت قرار دے کر تم سے سر اٹھانے کا ہر حق چھین لینا چاہتا ہے۔
عورت مارچ اس لئے بھی ضروری ہے کہ عورت کو اس معاشی استحصال کا احساس دلایا جا سکے جس میں اسے جائیداد سے محروم رکھ کر یا آدھا حصہ دے کر یہ بتایا جاتا ہے کہ جاؤ اب اپنی بقا کے لئے کسی مرد پر انحصار کرو اور بدلے میں اس کی غلامی کرو۔ اس کی مطیع ہو جاؤ کیونکہ وہ تم پر مال خرچ کرتا ہے۔ وہی مال جو اسے دگنے حصے کی صورت میں ملا ہے۔ وہی مال جو اسے تعلیم اور روزگار کے بہتر مواقع دے کر کمانے کا موقع دیا گیا ہے۔ وہی مال جو اس نے بچوں اور گھریلو ذمہ داریوں سے آزادی ملنے کی وجہ سے کمایا ہے۔ اسی مال سے وہ عورت کے جسم و جان کا مالک بننا چاہتا ہے۔
عورت مارچ اس لئے بھی ضروری ہے کہ عورت کو یہ بتایا جا سکے کہ مذہب کے پردے میں کی جانے والی مرد کی جنسی بے راہ روی اور بے وفائی اس کا حق نہیں بلکہ ان کے اور ان کے بچوں کے لئے ایک ایسا زہر قاتل ہے جس کو زہر کہنے کا حق بھی ان سے مذہبی بلیک میلنگ کے ذریعے چھین لیا گیا ہے۔
مختلف تحقیقات کے مطابق کثیر الازواج گھرانوں میں پیدا ہونے والے بچوں کی ذہنی استعداد دوسرے بچوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہے، جس کی وجہ سے وہ تعلیمی میدان میں پیچھے رہ جاتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ان میں عزت نفس دوسرے بچوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہے، اور ان میں افسردگی، ( ڈپریشن ) اور بے چینی (اینگزائٹی) جیسے ذہنی امراض میں مبتلا ہونے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔
اس طرح ایسی شادی میں پھنسی عورتیں بھی کئی امراض میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔ انہیں کئی اقسام کے نفسیاتی عوارض بشمول افسردگی، بے چینی، غصہ اور دباؤ لاحق ہو جاتے ہیں۔ ان میں عزت نفس اور خود اعتمادی کی بھی کمی پائی گئی ہے۔ اور وہ اپنی شادی شدہ زندگی سے بھی غیر مطمئن پائی گئی ہیں۔ ان کا اپنے شوہر سے تعلق منفی بنیادوں اور عدم اعتماد پر قائم ہوتا ہے۔
ایک ایسی شادی میں الجھی عورت جو ہر وقت ایک مستقل تناؤ کا شکار ہے وہ کیسے اپنے بچوں کی پرورش اچھے طریقے سے کر سکتی ہے اور کیسے ان کو ایک ذمہ دار انسان اور مفید شہری بنا سکتی ہے۔ اور باپ تو ایسے بچوں کو پہلے ہی ڈھنگ سے میسر نہیں ہوتا۔
پاکستان جیسے معاشروں میں عورت مارچ انتہائی ضروری ہے جہاں غیرت کے نام پر اس کو قتل کر دیا جاتا ہو۔ جہاں سوارہ اور ونی جیسی قبیح رسوم ابھی تک رائج ہوں۔ جہاں اس کو جائیداد میں حصہ نہ دیا جاتا ہو اور جہاں بیٹیاں پیدا کرنے پر اس کو ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہو۔

