عورتوں کا عالمی دن
پاکستان سمیت دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن آٹھ مارچ کو منایا جا رہا ہے خواتین کا دن پہلی مرتبہ 1911 میں آسٹریا، ڈنمارک، جرمنی اور سوئٹزر لینڈ میں منایا گیا۔ اس حساب سے رواں برس 113 واں یوم خواتین منایا جا رہا ہے 1917 میں سویت روس میں خواتین کو ووٹ کا حق ملنے کی وجہ سے وہاں 8 مارچ کو قومی تعطیل ہونے لگی۔ وہاں سوشلسٹ مہم کے تحت اسے باقاعدہ منایا جاتا ہے۔ 1975 میں اس دن کو اقوام متحدہ نے بھی اپنا لیا۔ کئی ممالک میں خواتین کے عالمی دن پر تعطیل ہوتی ہے۔
کئی ملکوں میں اسے احتجاج کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے جبکہ بعض میں اس دن نسوانیت کا جشن منایا جاتا ہے۔ تقریبا اًیک صدی سے لوگ 8 مارچ کو خواتین کے لیے ایک خاص دن کے طور پر مناتے ہیں۔ عورت آزادی مارچ کے تحت آج ریلیاں نکالی جا رہی ہیں۔ عورت مارچ کے لیے تیار کردہ خصوصی پلے کارڈز اور پوسٹرز کی تصاویر جن کے ذریعے خواتین اپنے خیالات اور مطالبات کا اظہار کرتی ہیں خاص طور پر اس دن کا آغاز 1908 میں امریکہ کے شہر نیویارک شہر سے ہوا جب اس روز تقریباً 15000 خواتین نے کم گھنٹے کام، بہتر تنخواہوں اور ووٹ کے حق کے لیے سڑکوں پر مارچ کیا۔ اس ایک سال کے بعد سوشلسٹ پارٹی آف امریکہ نے پہلا یوم نسواں منانے کا انعقاد کیا تاہم اسے بین الاقوامی طور پر منانے کا خیال سب سے پہلے کلارا زیٹکن نامی خاتون کے ذہن میں آیا جو کہ ایک کمیونسٹ تھیں اور خواتین کے حقوق کی نگہبانی کرتی تھیں۔
خواتین کا عالمی دن کئی ممالک میں قومی تعطیل کر کے منایا جاتا ہے مگر بشمول روس کے جہاں 8 مارچ کے قریب آتے ہی تین چار دنوں میں پھولوں کی فروخت بڑھ جاتی ہے۔ اس دن کو بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔ چین میں حکومت اپنے کارخانوں اور اداروں میں خواتین کو آدھے دن کی چھٹی دیتی ہے دنیا بھر میں مردوں اور خواتین کو مساوی قانونی اور اقتصادی حقوق دینے والے ممالک کی تعداد صرف چھ ہے۔ جو بیلجیم، فرانس ڈنمارک، لیگزم برگ، ، لیٹویا، اور سویڈن ہیں
ورلڈ بینک کی جانب سے ان تمام پہلوؤں پر دونوں جنسوں کو کو مساوی حقوق حاصل ہیں سعودی عرب اور افغانستان کے قوانین عورتوں کو حقوق فراہم نہ کرنے کے لیے بدنام ہیں اور اسی وجہ سے یہ ممالک 25.6 فیصد تعداد کے ساتھ سب سے نیچے ہیں۔ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان کے مختلف شہروں میں منعقد ہونے والے عورت مارچ کا اہتمام کیا جاتا ہے جہاں ہزاروں افراد پرجوش انداز میں شرکت کرتے ہیں اور معاشرے میں خواتین کے مسائل کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
کراچی کی تاریخی عمارت فرئیر ہال پر جمع ہونے والے مظاہرین کے علاوہ لاہور اور اسلام آباد کے پریس کلبز پر شرکت کرنے والوں کی بڑی تعداد جمع ہوتی ہے اس کے علاوہ پشاور، کوئٹہ، حیدر آباد، فیصل آباد اور گجرانوالہ میں بھی عورت مارچ کا انعقاد کیا جاتا ہے اس مارچ میں شرکت کے لیے آنے والے مرد حضرات بھی حصہ لیتے ہیں وہ اس لیے آتے ہیں کہ عورتیں ان کی مائیں بھی ہیں، بہنیں، بیٹیاں بھی ہیں اور ساتھی بھی ہیں اور ہم جماعت بھی۔
جو ان کی جد و جہد ہے وہ ہماری بھی جد و جہد بھی ہے۔ اگر عورت آزاد نہیں تو مرد کیسے آزاد ہو سکتے ہیں۔ یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم عورتوں کے مسائل کے بارے میں جن کا ہماری خواتین کو ہمارے معاشرے میں، ہماری ثقافت میں، ہمارے ملک میں سامنا کرنا پڑتا ہے اس کی آگاہی پھیلائیں اور عورتوں کے مسائل کے بارے میں جن کا ہماری خواتین کو ہمارے معاشرے میں، ہماری ثقافت میں، ہمارے ملک میں سامنا کرنا پڑتا ہے اسے اجاگر کریں۔
جب تک ان کے مسائل کی نشاندہی اور آگاہی نہیں ہوگی اس وقت تک لوگ نہیں سمجھ سکیں گے کہ ان کی مشکلات کیا ہیں اور کئی لوگ تو یہ سمجھتے ہی نہیں ہے کہ لڑکیوں کے کچھ مسائل بھی ہیں۔ جن میں علاقائی فرق، گھریلو عورت پر تشدد، کام کرنے کی جگہ پر عورتوں کا تحفظ فراہم کیا جانا، عورت کو اپن مرضی سے پسند کی شادی کی اجازت، صنفی مساوات، عورتوں کی ساتھ غیر انسانی سلوک، خواتین کا غیر قانونی قتل، خاندان میں عورت کی عزت خاوند کے انتخاب، ، حصول علم کا حق، ترقی میں برابری، معاشرے میں عورتوں کی سماجی سرگرمیوں کی اجازت، گھروں میں عورتوں پر تشدد اور مظالم بند کیے جائیں۔
اگر عورت میں استعداد ہے اور وہ علمی صلاحیت سے مالامال ہے، ایجادات اور نئی دریافتوں کی صلاحیت رکھتی ہے، سماجی کاموں کی صلاحیت رکھتی ہے، سیاسی شعور رکھتی ہے مگر اسے اس کی صلاحیت کے مطابق کام نہ کرنے اور استعمال کرنے اور اس پر نکھار لانے کا موقع نہیں دیا جا رہا ہے تو یہ اس کے ساتھ ظلم ہے۔ اور اس ظلم کو ختم کرنے کے لیے ہی خواتین کا عالمی دن منا یا جاتا ہے


