خواتین کا عالمی دن۔ 8 مارچ


8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس دن کو منانے والے، خواتین کی سماجی، معاشی، ثقافتی اور سیاسی سرگرمیوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ آج کے دن تمام دنیا کو ، خواتین کے لئے، مساوی حقوق دلوانے کے لئے، ایک پیغام دیا جاتا ہے۔ یہ دن ایک زبردست پلیٹ فارم کے طور پر جانا جاتا ہے۔

آج کے دن کی مناسبت سے دنیا میں کسی بھی خاتون کو ”میرا جسم میری مرضی“ جیسا نعرہ لگانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔ آج کے دن، دنیا میں، مظاہرے بھی اس لئے ہوتے ہیں تاکہ خواتین زندگی کے معاملات اور مساوی حقوق کے لئے اپنی آواز اجاگر کر سکیں۔ اور خواتین جو کامیابیاں سمیٹ چکی ہیں ان کو بھی پذیرائی مل سکے۔ اور وہ سر اونچا کر کے، مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہو کر اپنے مساوی حقوق کے لئے لڑ سکیں۔

عالمی خواتین دن کی جڑیں 20 ویں صدی کے اوائل میں شمالی امریکہ اور یورپ سے جڑی ہوئی ہیں جس کو عالمگیر خواتین کے حق رائے دہی کی تحریک نے تقویت دی تھی۔ سب سے پہلے، 19 دسمبر 1908 کو امریکن سوشلسٹ پارٹی کی عورتوں کی آرگنائزیشن نے ایک ”عورتوں کے دن“ کی بنیاد رکھی۔ اس دور میں عورتوں کے حقوق کے لئے بائیں بازو کی جماعتیں پیش پیش تھیں۔ 1910 میں، ڈنمارک میں منعقدہ، پہلی بین الاقوامی سوشلسٹ عورتوں کی کانفرنس میں جرمن سوشلسٹ اور عورتوں کے حقوق کی داعی اور ایکٹوسٹ، کلارا سیٹکن نے خواتین کے لئے عالمی دن منانے کا عندیہ دیا اور وہاں ہی سے اس دن کو منانے کی شروعات ‏

ہوئی تھی۔ انیس مارچ 1911، جرمنی، آسٹریا، ڈنمارک اور سوئٹزرلینڈ کی عورتیں اپنے حقوق کے لئے سڑکوں پر نکلی تھیں۔ وہ مردوں کی طرح مساوی حقوق، خواتین کے لئے ووٹ کا حق اور سیاست میں نمائندگی کی خواہاں تھیں۔ اس دن کو ورلڈ وومین ڈے کہا گیا اور یہ عورتوں کے لئے ”اعزازی دن“ قرار پایا۔ کلارا سیٹکن کی قرارداد کو 19 مارچ 1923 کی بین الاقوامی عورتوں کی کانفرنس میں باقاعدہ طور پر منظور کیا گیا اور ہر سال 8 مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا گیا۔ لیکن اس فیصلے پر 1926 میں پہلی دفعہ عملدرآمد ہوا تھا۔

ماسوائے فن لینڈ، 1911 میں کسی بھی یورپین ملک میں عورتوں کو حقوق بشمول ووٹ دینا یا لینا، حاصل نہیں تھے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ 1911 میں ہونے والے مظاہروں میں تیس ہزار خواتین نے شرکت کی تھی۔ اب ہر سال یہ دن 8 مارچ کو منایا جاتا ہے۔ اس تاریخ کو خواتین کی خدمات اور جہدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے منتخب کیا گیا۔

اقوام متحدہ نے 1975 میں، باضابطہ طور پر خواتین کا عالمی دن منانا شروع کیا اور 1975 کا سال ”خواتین کا بین الاقوامی سال“ بھی قرار پایا۔ 1977 میں اقوام متحدہ نے اپنے اراکین کو دعوت دی کہ وہ اپنے ملکوں میں 8 مارچ کا دن، خواتین کے حقوق اور عالمی امن کے لئے، اقوام متحدہ کے ”عالمی خواتین دن“ منانے کا اعلان کریں۔ یہ روایت آج تک جاری ساری ہے۔ اور آج خواتین کا عالمی دن ”ہم سب“ کا ہے جو صنفی مساوات اور انصاف کے لئے جاری لڑائی کی یاد دہانی کے طور پر کام کرتا ہے۔

دنیا کے 26 ممالک یعنی انگولا، آرمینیا، آذربائیجان، برکینا فاسو، اریٹیریا، جارجیا، گنی بساؤ، قازقستان، کمبوڈیا، کرغزستان، کیوبا، لاؤس، مڈغاسکر، مالڈووا، منگولیا، شمالی کوریا، نیپال، روس، زیمبیا، تاجکستان، ترکمانستان، یوگینڈا، یوکرین، ازبکستان، ویتنام اور بیلا روس میں 8 مارچ کو سرکاری تعطیل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، برلن میں جرمنی کے سفارت خانے میں بھی تعطیل ہوتی ہے۔ کیونکہ جرمنی کا واحد صوبہ برلن ہے جہاں کی صوبائی حکومت نے 8 مارچ کو عام تعطیل دے رکھی ہے۔

آئیے ہم خواتین کی قابل ذکر کامیابیوں کا جشن منائیں اور زیادہ سے زیادہ امن پسندانہ اور منصفانہ کام جاری رکھیں۔

Facebook Comments HS