انقلاب کے وقت کے فرانس اور پاکستان کے موجودہ حالات میں یکسانیت
انقلاب فرانس کی وجوہات بہت زیادہ تھے۔ یہ انقلاب دہائیوں سے پرورش پا رہا تھا۔ اس انقلاب کو گرمانے کے لیے ہر طرح کا ایندھن تیار کیا گیا۔ عیسائی مذہبی انتہا پسندی، بدترین انتظامی صورتحال، کسانوں کا بدترین استحصال، امیروں، جاگیرداروں اور مذہبی دولت مند طبقوں کو ٹیکس میں چھوٹ دینا، ملک کے وسائل کو مخصوص افراد کے فائدے کے لیے بے دریغ استعمال کرنا، حکومتی سطح پر ہر جگہ کرپشن کا مسلسل بڑھنا، مخصوص تجارتی طبقے کا اجناس، دوائیوں، ایندھن، جائیدادوں، سونا و جواہرات کی قیمتوں کا من پسند تعین، اختیارات کا رشتہ داروں اور عزیزوں کے فائدے کے لیے بے دریغ استعمال، فرانس کے وسائل کا امریکہ کی آزادی کے لیے فراخ دلانہ استعمال، بادشاہ کی بیوی کی شاہ خرچیاں اور اپنی سہلیوں کی مدد سے فرانس بھر میں کرپشن کروانا اور سرکاری خرچے پر زیورات و قیمتی لباسوں کی خرید، اپنی شاہانہ حیثیت کے دکھاوے کے لیے بڑی بڑی دعوتوں کا اہتمام کرنا، حکومت اور طاقت میں موجود ہر بڑے شخص کو اپنی ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرنا، ہزاروں کی تعداد میں سرکاری ملازمین جو کچھ کام نہیں کرتے تھے اور مراعات پر مراعات لیے جا رہے تھے۔
بدترین مالی مشکلات میں بھی یہ ملازمین سالانہ اپنے مراعات میں اضافہ کرتے۔ سب سے زیادہ مراعات عدالتوں میں کام کرنے والے لیتے تھے، عدالتوں میں ہزاروں اہلکاروں کے ہونے باوجود لاکھوں لوگ انصاف کے حصول کے لیے برسوں اپنی باری کا انتظار کرتے تھے۔ عدالتیں صرف چند رئیسوں اور مذہبی طاقت وار طبقوں کے مقدمات سنتی تھیں اور فیصلے بھی ان کے مرضی کے مطابق دیتی تھیں۔ جب بھی حکومت مشکل میں ہوتی تھی تو عیسائی مذہبی ٹھیکیدار اور عدالت عوام کے خلاف اشرافیہ کے ہمنوا بن جاتے تھے۔
جس سے طاقت اور دولت کے ہوس میں اندھے حکمرانوں اور طاقت واروں کو اور شہ ملتی تھی اور وہ تازہ دم ہو کر مزید استحصال کے لیے کمر کس لیتے تھے۔ بادشاہ کے گرد مطلبی اور بددیانت مشیروں کا ایک پورا گروہ ہر وقت موجود رہتا تھا۔ یہی گروہ ملکہ کا استعمال بھی کرتا تھا۔ یہ مشیر و وزیر کرپشن بھی دل کھول کر کرتے تھے اور سازشیں بھی۔ فرانس نے تمام ہمسایوں سے پنگے لے رکھے تھے، جس کی وجہ سے ہر وقت جنگ کا خوف لوگوں پر مسلط رہتا تھا خصوصاً سرحدی علاقوں کے لوگ اس کا زیادہ شکار ہوئے۔
فرانس کی سرحدوں پر آباد لوگ دوسرے ملکوں سے بھی ہمدردی رکھتے تھے۔ اس لیے محصولات سے بچنے کے لیے ان لوگوں نے سمگلنگ کو اپنا ذریعہ معاش بنا دیا تھا، یہ فرانس سے اجناس اور دیگر اشیاء دوسرے ملکوں میں سمگل کر دیتے تھے، اور ان ملکوں سے فرانس میں آنے والے اشیاء کو محصول بھرے بغیر فرانس پہنچا دیتے تھے جس سے فرانس کے کسان بری طرح متاثر ہوتے تھے۔ سرحدوں پر محصولات کی وصولی کے لیے جو عملہ تعینات تھا وہ رشوت لے کر اس سمگلنگ کی راہ آسان کر دیتے تھے۔
یوں وہ فرانس جو انقلاب فرانس سے چند دہائیوں پہلے انتہائی خوشحال تھا وہ قرضوں میں ڈوبتا چلا گیا۔ امریکہ کی آزادی کی جنگ کے لیے فرانسیسیوں نے اپنا ملک گروی رکھ دیا تھا۔ برازیل سے آنے والے سونے کے سب سے بڑے خریدار فرانس کی اشرافیہ تھی۔ جو غریب کسانوں کو لوٹ کر اور محصولات اور ٹیکس نہ دے کر جو پیسے بچاتے تھے اس سے سونا خریدتے تھے۔ یوں دولت گردش میں نہیں رہتی تھی اور مہنگائی بڑھتی جاتی تھی۔ بادشاہ کے مشیروں نے اپنے کارندے رکھے تھے جو مسلسل پروپیگنڈا کرتے رہتے تھے، اس دور کے اخبارات بھی اس پروپیگنڈا کو پھیلانے میں ان کے شریک کار تھے۔
فرانس کی آبادی بہت تیزی کے ساتھ بڑھ رہی تھی، لوگ دیہات چھوڑ کر شہروں کا رخ کر رہے تھے، آبادی میں بے تحاشا اضافہ سے بے روزی گاری میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا تھا، ملک میں خوراک کی شدید قلت ہو گئی تھی اور اشیاء خورد و نوش کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ گئیں تھیں، غریبوں اور کسانوں کے لیے حکومت جس مدد کا اعلان کرتی وہ سرکاری اہلکار آپس میں بانٹ کر کھا جاتے تھے۔ بادشاہ کے وزیروں اور مشیروں کی مدد سے بڑے بڑے سیٹھ ذخیرہ اندوزی کر کے بازاروں میں مصنوعی بحران بھی پیدا کرتے تھے جس کی وجہ سے وہ اپنی من مانی قیمتیں وصول کرتے تھے۔
با اثر فرانسیسی کوئی سرکاری ٹیکس نہیں دیتے تھے، اور تمام مراعات اور سہولیات کا بے دریغ استعمال کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے حکومتی اخراجات کا بندوبست کرنا ناممکن ہوتا جا رہا تھا۔ حکومت کو خدمات اور دیگر اشیاء مارکیٹ ریٹ سے دس گنا زیادہ پر دی جاتی تھیں اس کے عوض مشیر و وزیر رشوت لیتے تھے۔ ان مشیروں اور وزیروں نے بے نامی ادارے بنائے ہوئے تھے اور ان کے ذریعہ یہ لوگوں اور ریاست کو لوٹتے تھے۔ ایک حتمی اہم وجہ فرانس کا یادگار ریاستی قرض تھا، جو اس کی عالمی طاقت کے طور پر اپنی حیثیت کو برقرار رکھنے کی کوششوں سے جمع ہوا۔
مہنگی جنگوں اور دیگر منصوبوں نے فرانسیسی خزانے کو اربوں کے قرضوں میں ڈال دیا تھا، کیونکہ اسے بہت زیادہ شرح سود پر قرض لینے پر مجبور کیا گیا تھا۔ ملک کا ٹیکس لگانے کا فاسد نظام غیر موثر تھا، اور جیسے ہی قرض دہندگان نے 1780 کی دہائی میں واپسی کا مطالبہ کرنا شروع کیا تو بادشاہ اور مشیروں کو احساس ہو گیا کہ اس قرض کو ادا کرنا ان کے لیے ممکن نہیں ہے۔ اس لیے وہ رشوت دے کر ان قرضوں کی مدت میں توسیع کرتے رہتے تھے اور قرض کا سود دینے کے لیے مزید قرض لیتے تھے۔
جس مقصد کے لیے قرض لیا جاتا تھا وہ اس پر خرچ نہیں ہوتا تھا اور زیادہ تر قرض کی رقم خرد برد ہوجاتی تھی۔ اس وقت کے فرانس میں جو جتنا زیادہ کرپٹ ہوتا تھا وہ اتنے ہی بڑے عہدے پر ہوتا تھا۔ ان کرپٹ لوگوں کے لیے اس وقت کا دستور موم کی ناک کی طرح تھا وہ جس طرف چاہتے تھے اس کا رخ موڑ سکتے تھے۔ ایسے میں وہ طبقے جو اس ظلم سے تنگ آ گئے تھے وہ احتجاج کرنے لگ گئے۔ اس دور میں فرانس میں بڑے بڑے فلسفی اور دانشور اور ادیب پیدا ہوئے۔
والٹیئر، مونٹیسکوئیو، روسو، ڈینس ڈیڈروٹ اور اس دور کے ہزاروں دیگر مفکروں اور ادیبوں نے لوگوں کو سوچنے کا ایک نیا زاویہ دیا۔ پاکستان میں بھی حالات بالکل ویسے ہی ہیں جیسے اس دور کے فرانس میں تھے البتہ پاکستان میں فرانس کی طرح عالم فاضل لوگ نہیں ہیں، پاکستان کے پاس مفکرین نہیں ہیں۔ جو لوگ خود کو مفکرین کہلوا کر لوگوں کو بے وقوف بناتے ہیں وہ دراصل ان کرپٹ لوگوں کے لیے کام کرتے ہیں۔ اس دور کے فرانس میں صرف ایک طبقہ ایسا تھا جو مخلص تھا یا پھر دیانت دار تھا اور وہ ان کے مفکرین تھے۔
پاکستان میں یہ نام نہاد طبقہ بھی بدترین کرپٹ ہے۔ اس دور میں ڈینس ڈیڈروٹ تمام حقائق اور سچائیوں کو جمع کر کے انسائیکلوپیڈیا میں شائع کر دیتا تھا۔ جس سے وہ تمام سچائیاں اور حقائق لوگوں تک پہنچ جاتے تھے۔ اس لیے اس دور کے بادشاہ نے ان پر پابندی لگادی تھی ان کا انسائیکلوپیڈیا بند کر دیا تھا۔ ہمارے ہاں جتنے طبقات ہیں سب چور ہیں اور ہر چور کے پاس اپنے اپنے مفکرین اور صحافی ہیں۔ جن کا کام مسلسل اپنے مالک کے لیے جھوٹ پھیلانا ہے۔
اس دور میں علمی طبقہ نہایت دیانت داری کے ساتھ سچ کی حفاظت کرتا تھا اور سچ کی نشر و اشاعت پر سودا بازی نہیں کرتا تھا۔ اس لیے پاکستان میں انقلاب نہیں آ سکتا۔ یہاں ہر گروہ کے پاس اپنے اپنے سچ ہیں اور اپنا اپنا پروپیگنڈا ہے۔ فرانس میں عیسائی مذہب کو بادشاہ اور اشرافیہ بطور ڈھال اور ہتھیار کے استعمال کرتے تھے۔ ہمارے ہاں مذہبی گروہوں کو بطور پریشر گروپ کے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس دور کے فرانس کے لوگ دستور بنانے کی تگ و دو میں تھے اور وہ اس میں کامیاب بھی ہو گئے تھے جبکہ ہمارے ہاں دستور کو مضبوط کرنے کی جگہ اس کو کبھی معطل کیا جاتا ہے اور کبھی اس کی تشریح و توضیح اپنے من پسند ضرورتوں کے مطابق کی جاتی ہے۔
پاکستان کے اس وقت کے حالات فرانس ہی کی طرح ہیں۔ فرانس میں بھی توشہ خانہ کو لوٹا جاتا تھا یہاں بھی سب نے توشہ خانہ لوٹا، فرانس میں بھی بڑے سرمایہ دار اپنے فائدے کے لیے ملکہ کو کبھی ہیروں کا ہار، کبھی ہیروں کی انگوٹھی، کبھی جاگیر اور کبھی پیسے رشوت میں دیتے تھے۔ ہمارے ہاں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ جس بھی بڑے سرکاری عہدہ دار کے بچوں کی شادی ہو یہاں کے قبضہ گروپ، سمگلر اور ٹھیکیدار اس میں ان کے بچوں کو اربوں روپوں کی سلامی میں گھر، قیمتی گاڑیاں، زیورات اور نقد پیسوں کی سلامی دیتے ہیں۔
پاکستان کی اشرافیہ بھی ملک سے باہر سرمایہ کاری کر رہی ہے، گھر، محل اور جائیدادیں خرید رہے ہیں۔ یہاں بھی اس وقت کے فرانس کی طرح یہ لوگ جو سرکاری عہدوں پر ہیں یا سیاست میں ہیں کمپنیاں بنا بنا کر پاکستان کو لوٹ رہے ہیں۔ یہاں بھی فرانس کی طرح سرکاری اہلکار کام نہیں کرتے اور مراعات پر مراعات لیے جا رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ کرپشن بھی کرتے ہیں۔ کبھی اگر آپ کو موقع ملے تو اس وقت کے مشہور اسکینڈلز نکال کر دیکھ لیں آپ کو حیرت ہوگی، ہوبہو ایسے ہی سیکنڈل یہاں بھی بن رہے ہیں۔
فرانس نے امریکہ کی آزادی کی جنگ میں خود کو تباہ کر لیا تھا، پاکستان نے افغان جہاد اور وار آن ٹیر ر میں اپنا ملک تباہ کر دیا ہے۔ اس وقت کے فرانس میں ٹیکس صرف غریب طبقے پر لگتا تھا، با اثر لوگ الٹا ٹیکس سے فائدے اٹھا کر ملک کو کچھ نہیں دیتے تھے۔ پاکستان میں بھی بالکل ایسا ہی ہو رہا ہے۔ وہ بھی قرضوں کی سود چکانے کے لیے قرضے لیتے تھے۔ ہم بھی لیتے ہیں، وہ بھی قرضے رول اوور کراتے تھے ہم بھی ایسا ہی کر رہے ہیں۔
وہ بھی قومی املاک بیچ رہے تھے ہم بھی بیچ رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی سمگلنگ سب سے بڑا کاروبار ہے اور اس دور کے فرانس میں بھی سمگلنگ سب سے موثر کاروبار تھا۔ بس ایک فرق ہے فرانس کا باشعور طبقہ محب وطن تھا۔ مخلص تھا، جانباز تھا، ہمارا باشعور طبقہ محب وطن، مخلص اور جانباز نہیں ہے۔ بلکہ وہ بھی اسی استحصالی قوتوں کے ساتھ شریک جرم ہے۔ ہیگل نے اپنے تجربہ اور مشاہدے سے اخذ کیا تھا کہ تاریخ ترقی کا ایک عقلی عمل ہے اور اسے ہر اس شخص کے لیے سمجھا اور قابل فہم بنایا جا سکتا ہے جو اسے عقلی طور پر دیکھنا چاہتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اسے کلی طور پر دیکھنا اور عالمی روح کی ایک کوشش کے طور پر ایک قابل فہم مقصد کے ساتھ سامنے لانا ہی سچائی ہے۔
اور پاکستان کا سو کالڈ انٹلیکچوئل طبقہ اس کی مکمل نفی کر رہا ہے۔ انقلاب عوام نہیں لاتے، مفکرین لاتے ہیں، مفکرین وہ ہیں جو سچائی کو سب چیزوں پر مقدم رکھتے ہیں اس کے لیے زہر کا پیالہ تک پی لیتے ہیں۔ چند پیسے اور مراعات لے کر بھاشن دینے والے اداکاروں کو مفکرین نہیں کہا جاسکتا۔ فرانس کے انقلاب سے پوری دنیا نے رہنمائی حاصل کی ہے اور ہم انقلاب فرانس کی وجہ بننے والے سارے کام دھرا رہے ہیں۔


