تقریظ نگاری – اپنی کتاب کی بے جا تعریف کروانا


تقریظ نگاری وہ فن ہے جس کے ذریعے کسی کتاب کا مصنف اپنی کتاب کی (بے جا ) تعریف و توصیف کسی نامور ادیب سے، اپنی دوستی، رشتہ داری، تعلق، واسطہ (یا پھر خدا کا واسطہ) دے کر، کرواتا ہے۔ اس تعریف و توصیف سے کتاب کی صحت پر کوئی اثر پڑے یا نہ پڑے لیکن اس کی فروخت میں اضافہ ضرور ہوجاتا ہے۔ تقریظ کی تعریف اردو لغت میں اس طرح کی گئی ہے :

”مصنف کے علاوہ کسی اور کا کسی کتاب یا مضمون وغیرہ پر اپنی رائے (عام طور پر تعریف اور تائیدی رائے ) ظاہر کرنا، جو کتاب کے آغاز یا اختتام میں شامل ہو“ ۔

اگر تقریظ، کتاب و صاحب کتاب کی تعریف و توصیف بیان کرتے ہوئے، طول پکڑ جائے تو وہ تقریظ نہیں رہتی بلکہ مقدمہ بن جاتی ہے۔ اگر تقریظ میں صرف محاسن کتاب کو ہی موضوع سخن بنایا جائے تو مدح سرائی کی شکل اختیار کر کے اپنی صنفی شناخت کھو دیتی ہے اور اگر غلطی سے تقریظ میں کتاب اور صاحب کتاب کی تعریف کے بجائے مذمت کی جائے تو اسے تنقیص کہیں گے (اس صورت میں مصنف تقریظ کا صفحہ پھاڑ کر اس کے بغیر ہی کام چلانے کو ترجیع دینا پسند کرے گا، چاہے وہ تنقیص کتنا ہی مبنی بر حقیقت کیوں نہ ہو) ۔

تقریظ نگاری ایک انتہائی سود مند فن ہے جس کا کم از کم فائدہ یہ ہے کہ تقریظ نگار کو زیر نظر کتاب کے مصنف کی طرف سے چھپنے کے بعد کتاب کی ایک کاپی مفت دی جاتی ہے (البتہ کتاب کا چھپنا شرط ہے ) جسے تقریظ نگار اپنی لائبریری کی زینت بنا سکتا ہے (پڑھنے کے لیے اس کے پاس وقت شاید نہ ہو) ۔ تقریظ نگاری کے لیے آپ کو کتاب کے مطالعے کی بھی ضرورت نہیں، بس آپ کتاب کا ٹائٹل اور فہرست مضامین دیکھ کر اور مصنف کی چال چلن، عادت و اطوار، علمی قابلیت اور ظاہری شکل و صورت کے بارے معلومات حاصل کر کے اپنی یا کسی اور کی پرانی تقریظ میں مناسب ترمیم کر کے ایک نئی تقریظ حسب کتاب تیار کر سکتے ہیں۔

ہر مصنف کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی کتاب پر تقریظ ایک نامور ادیب تحریر کرے مگر نامور ادیب فارغ بیٹھے تو نہیں ہیں کہ دوسروں کی کتابوں پر تقریظ لکھتے پھیریں، لہذا یا تو وہ بغیر دیکھے اپنی پرانی تقریظ تھوڑی بہت ترمیم کے بعد مصنف کے حوالے کر کے جان چھڑاتے ہیں یا مصنف سے کہتے ہیں کہ اپنی کتاب پر خود ہی تقریظ لکھ کر ان کا نام تقریظ کے نیچے درج کر لیں، انہیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ اس میں نامور ادیب کا کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے اسے اعتراض ہو بلکہ مفت میں اس کی ناموری مزید بڑھ جاتی ہے اور ایک کتاب بھی مل جاتی ہے۔

اگر کتاب کا مصنف خود ایک نامور ادیب ہو تو تقریظ نگار اپنا زور قلم صاحب کتاب کی علمی شان اور عظمت کو اوج ثریا پر لے جانے میں لگاتا ہے اور کتاب کے محاسن اور خصوصیات کو بس سرسری طور پر ذکر کرتا ہے جبکہ کتاب کی خامیوں کو یکسر نظرانداز کرتا ہے۔ اس طرح کی تقریظ سے تقریظ نگار کی چاپلوسی کے سوا کتاب کے قارئین کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا۔

بعض اوقات تقریظ نگار کو مصنف سے کوئی پرخاش ہوتی ہے، جس سے مصنف بے خبر ہوتا ہے اور جب بے خبر مصنف اسے اپنی کتاب پر تقریظ لکھنے کو کہتا ہے تو وہ بجائے مصنف یا کتاب کی تعریف و توصیف کرنے کے اس کے عیوب ڈھونڈ ڈھونڈ کر بیان کرتا ہے جس سے کتاب کی تقریظ کم اور تنقیص زیادہ ہوتی ہے۔

تقریظ نگاری اتنا مشکل فن بھی نہیں ہے کہ کوئی اسے سیکھ نہ سکے، آپ بھی تھوڑی بہت کوشش کر کے اس فن کو سیکھ سکتے ہیں بس آپ کو اس فن سے متعلق قواعد و ضوابط اور اصولوں کا پتا ہونا لازمی ہے۔ کچھ زریں اصول جو مجھے یاد ہیں، ذیل میں بیان کیے دیتا ہوں، ان پر عمل کرنا آپ کا کام ہے :

تقریظ کو اس طرح لکھیں کہ قارئین کو یہ نہ لگے کہ آپ کتاب کی مدح سرائی میں مبالغہ آرائی سے کام لے رہے ہیں۔ مصنف اور کتاب کی شان بیان کرنے کے ساتھ ساتھ تھوڑی بہت برائی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

تقریظ میں زیادہ سے زیادہ اردو کے وہ دقیق الفاظ جو فارسی یا عربی زبان سے مشتق ہوں استعمال کریں تاکہ قارئین پر آپ کی علمی قابلیت کا رعب قائم ہو جائے۔ آسان الفاظ استعمال کرنے سے قارئین کو آپ کے تبحر علمی کے بارے میں شک ہو سکتا ہے۔ ’پھول‘ کو ’گل‘ ، چاند کو ’قمر‘ اور ’سورج‘ کو ’شمس‘ لکھیں۔ اس طرح کے الفاظ آپ کو پرانی تقریظ میں مل جائیں گے۔

مصنف کے لیے مشکل القابات کا استعمال بھی ضروری ہے۔ یہ القابات کسی پرانے تقریظ سے یا پھر مرزا غالب کے خطوط سے مستعار لیے جا سکتے ہیں (مرزا غالب لوگوں کو القابات سے نوازنے، جسے عرف عام میں مسکا لگانا کہتے ہیں، میں ماہر تھے انھوں نے اپنے مہربانوں اور کرم فرماؤں کے لیے ایسے ایسے القابات استعمال کیے جنھیں پڑھ کر خود متعلقہ شخص بھی حیرت زدہ ہوتا ہو گا کہ یا الہیٰ مجھ میں اتنی خوبیاں تھیں اور مجھے پتا بھی نہیں تھا) ۔ کچھ القابات خطوط غالب سے اخذ کر کے ذیل میں درج کر رہا ہوں، امید ہے آپ کو تشفی ہوگی (مزید القابات کے لیے خطوط غالب کا مطالعہ کریں ) :

نجیب الدولہ، فتح الملک، سعادت اقبال نشاں، جمیل المناقب، فلک رفعت، حضرت برجیس فطرت، مخدوم زادہ مرتضوی دودمان، سعادت و اقبال تو امان، نورالابصار ممتاز روزگار، مردم چشم جہاں بین غالب، مخدوم مکرم و معظم۔

البتہ مصنف کی شان بیان کرنے اور اسے القابات سے نوازنے سے پہلے اس کی شخصیت کے بارے مکمل معلومات حاصل کر لیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ اسے ’اعلیٰ حضرت مخدوم زادہ مرتضوی دودمان، سعادت و اقبال تو امان‘ لکھ رہے ہوں اور وہ کلین شیو، پینے پلانے والا کم ذات قسم کا آدمی ہو۔ اس طرح کے القابات سے اس شخص کے مرتبے میں کوئی اضافہ تو نہیں ہو گا مگر آپ دو ٹکے کے ہو کر رہ جائیں گے۔

اسی طرح کتاب کے مضمون کے بارے میں بھی تھوڑی بہت معلومات (چاہے مصنف ہی سے مل جائیں ) حاصل کر لیں تاکہ حسب مضمون تقریظ نقل کرنے میں آسانی ہو۔ پتا چلا مضمون مزاحیہ تھا اور آپ نے تقریظ کسی مذہبی کتاب کی چھاپ دی۔ اس سے ممکن ہے کہ کتاب کی مزاح میں اضافہ ہو جائے لیکن ساتھ میں آپ کا بھی مذاق بن جائے گا۔

کوشش کریں کہ تقریظ طویل نہ ہو کیوں کہ جتنا زیادہ لکھو گے اتنا ہی غلطیوں اور دروغ گوئی کے امکانات بڑھ جائیں گے جس سے آپ کے علمی مرتبے میں کمی کے ساتھ ساتھ آپ کے گناہگار ہونے کا بھی احتمال ہے۔

تقریظ میں اگر شاعری کا تڑکا ڈالا جائے تو اس سے پڑھنے والے کی دلچسپ اور بھی بڑے گی۔ مصنف کی شان میں لکھنے کے لیے اشعار آپ کسی منقبت نامے سے اخذ کر سکتے ہیں اور کتاب کے لیے دیوان غالب اور شاہ نامہ فردوسی کا مطالعہ کریں اور پسندیدہ اشعار ایک ڈائری میں لکھ لیں جو آپ کو تقریظ لکھتے وقت کام آئیں گے۔

تقریظ کے آخری حصے میں آپ کتاب، جلد، کاغذ، چھپائی، طباعت، رنگ اور معیار جیسی کیفیات کا ذکر کرنا نہ بھولیں۔ یہ تبصرہ اگر تعریفی ہو تو ناشر سے آپ کے تعلقات بہتر ہونے کے امکانات روشن ہوجائیں گے اور کبھی آپ کو اپنی کتاب اسی ناشر سے چھپوانی پڑے تو شاید وہ آپ کے ساتھ خصوصی ڈسکاؤنٹ کر لے۔

امید ہے کہ بیان شدہ اصولوں پر عمل کرتے ہوئے آپ ایک عظیم تقریظ نگار بن جائیں گے اور اگر (خدا نخواستہ) ایسا ہوا تو مغرور نہ ہوں بلکہ مجھے جیسے مصنفوں کی کتابوں پر تقریظ لکھنے سے منع نہ کریں (بیشک تقریظ لکھنے کے پیسے لے لیں ) ۔

Facebook Comments HS