قانون کی خلاف ورزی کو جرم یا غلطی نہ سمجھنے والا مائنڈ سیٹ


”ڈھلک ڈھلک آویں میڈے یار آ“ (میرے محبوب! جب تم آنا تو بن ٹھن کر سج سنور کر ہلتے جلتے ہوئے آنا) ۔ میوزک کے ساتھ گانے کی آواز غالباً کراچی براستہ بہاول پور دہلی جانے والی ریلوے لائن اور بہاول پور سے لاہور براستہ وہاڑی جانے والی سڑک کے درمیان ڈالی گئیں پکھی واس خانہ بدوشوں کی جھونپڑیوں سے آ رہی تھی۔ میرا بائیک بہاول پور شہر میں داخل ہو رہا تھا۔ یہ دو رویہ سڑک تھی جس کے درمیان پودوں اور پھولوں کی گرین بیلٹ بنائی گئی تھی۔

سڑک اور ریلوے لائن کے درمیان ساٹھ ستر فٹ کا فاصلہ رہ گیا تھا جہاں قبضہ مافیا نے بغیر کسی سرکاری اجازت کے پلازے اور مارکیٹیں بنا دیں تھیں۔ مزے کی بات یہ کہ ان مارکیٹوں کے درمیان ایک مسجد اور دینی تعلیم دینے والا مدرسہ بھی برلب سڑک بنا کر بورڈ لگا دیے گئے تھے۔ بس چند سیکنڈز کے لیے میری نظر وہاں گئی اور مجھے غصے سے ڈانٹے والی آواز آئی۔ ”ا وے او گالہا! ا وے سدھا دیکھ وے“ (ابے او! ابے سیدھا دیکھو رے ) ۔ سامنے دیکھا تو ون وے کی خلاف ورزی کرتا ہوا ایک چنگ چی موٹر سائیکل رکشہ بڑی اسپیڈ سے آ رہا تھا اور اس کا ڈرائیور مجھے غصے سے ڈانٹ رہا تھا۔ میں نے اپنا بائیک فوراً سڑک کے ساتھ کچی زمین پہ اتار لیا ورنہ کام ہو جانا تھا۔ خیر۔

آپ بہاول پور شہر میں صدر پلی چوک سے ون یونٹ چوک کی طرف آئیں تو بائیں ہاتھ پہ ایک سابق شاہی محل آتا ہے۔ اس کے اور دو رویہ سڑک کے درمیان تقریباً سو سے ڈیڑھ سو فٹ کا فاصلہ ہے لیکن فروٹ بیچنے والے ٹھیلوں ریڑھیوں کی ایک لمبی لائن بالکل سڑک کے اوپر ہو گی۔ آپ خاموشی سے ٹھہر کر وہاں مشاہدہ کریں تو دیکھیں گے کہ عوام تو عوام سبز رنگ نمبر پلیٹ اور نیلی بتی ہوٹر والی گاڑیاں بھی ان ٹھیلوں کے پاس آ کر رکیں گی اور پھل خریدے جائیں گے۔

ایک دن میں نے دیکھا کہ ایک ادارے کی جیپ بھی وہاں ٹھیلے کے پاس رکی۔ ٹھیلہ سڑک کے اوپر اور جیپ سڑک کے درمیان رک کے کھڑی تھی۔ اندر بیٹھے باوردی افسر کو ٹھیلے والے سے فروٹ خریدتے دیکھ کر میرے دل میں چھناکے کے ساتھ کچھ ٹوٹنے کی آواز آئی۔ جیپ چلی گئی۔ دیگر گاڑیاں آ کر فروٹ خریدنے کے لیے رکیں، پیچھے سے بہت زیادہ اسپیڈ سے آنے والی ایک مسافر اے سی کوچ ایک موٹر سائیکل سوار پہ چڑھ دوڑی۔ ظاہر ہے سڑک گزرنے والی ٹریفک اور تجاوزات اور پھر ان تجاوزات کے پاس ٹھہر جانے والی گاڑیوں کو ایک ہی وقت میں برداشت تو نہیں کر سکتی نا۔ خیر۔

احباب! بہاول پور، ملتان اور ڈیرہ غازی خان میں کسی عورت کی اپنی ساس کے ساتھ چپقلش چل رہی ہو اور اس دوران شوہر پہ بھی غصہ آ جائے تو وہ شوہر کو کہتی ہے ”او بھولی ماں دے پتر آ“ (او بھولی ماں کے بیٹے ) ۔ بہاول پور کے علاقہ ککڑاں دی بستی (مرغوں کا گاؤں ) میں ایک عورت نے مذاق میں کہا ”میں بھولی ہوں“ تو اس کی سہیلیوں نے فوراً کہا ”تو بھولی نہیں، ایٹم بم کی گولی ہے“ ۔ جنوبی ایشیا کے معاشروں میں ایٹم بم کے ایسے کئی گولے اور گولیاں قانون کی خلاف ورزی کو جرم یا غلطی سمجھتے ہی نہیں چہ جائیکہ ان کا تعلق عوام سے ہے یا خواص سے۔

کبھی کبھی اکبر شیخ اکبر کا ذہن ایک فینٹاسی میں چلا جاتا ہے وہ یہ کہ بہاول پور ریلوے اسٹیشن سے لے کر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے بغداد کیمپس تک گزرنے والی سڑک کے دائیں بائیں ایک فٹ اونچا فینس جنگلہ لگا دیا گیا ہے تاکہ کوئی گاڑی یا موٹر سائیکل ون وے کی خلاف ورزی کر نے اور دوسروں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بننے کے لیے کسی گلی سے اچانک سڑک پہ نہ آ سکے۔ سڑک کے دائیں بائیں دکانوں کے لیے رکاوٹ والے فینس جنگلہ یا لوہے والی گرل کہہ لیں کے پیچھے سروس روڈ دے دی گئی ہے تاکہ وہاں سے لوگ ان دکانوں پہ جاسکیں۔ اچھا، پھر میں سوچتا ہوں کہ اس ماڈل کو سارے پاکستان، انڈیا اور پورے جنوبی ایشیا میں لاگو کر دیا گیا ہے۔ اپنے ان آوارہ خیالات پہ مجھے خود ہنسی آ جاتی ہے۔ خیر۔

احباب! جعفر نام کے ہمارے ایک دوست کو رات گئے دوستوں کی محفلوں میں بیٹھنے اور سیاست اور حالات حاضرہ پہ گفتگو کرتے ہوئے سگریٹ پہ سگریٹ پھونکنے اور چائے پہ چائے پینے کا بڑا شوق تھا۔ اس کے باپ نے کئی بار کہا کہ شام کو گھر پہنچ جایا کرو لیکن جعفر صاحب اثر ہی نہ لیتے تھے۔ والد صاحب غصے میں رات کو گھر کا دروازہ نہ کھولتے اور موصوف گھر کی دیوار پھلانگ کر خاموشی سے اپنے کمرے میں جا کر سو جاتے۔

ایک رات جب انھوں نے حسب عادت گھر کی عقبی دیوار پھلانگی تو ان کی کمر پہ ایک زور کا ڈنڈا لگا۔ انھوں نے سمجھا کہ شاید والد صاحب کو غلطی فہمی ہوئی ہے کہ کوئی چور گھر میں داخل ہو گیا ہے۔ بچاؤ کے لیے فوراً کہا ”ابا! میں جعفر آں“ (ابا! کوئی اور نہیں میں جعفر ہوں ) ۔ انکل نے بھی فوراً کہا ”میں وی تیکوں آں“ (مجھے پتہ ہے ) اور پھر دو چار ڈنڈے مزید برسا دیے۔

جنوبی ایشیا کے وہ جعفر جو قانون کی خلاف ورزی کو جرم یا غلطی سمجھتے ہی نہیں، کیا ہمیں ان کے ذہنوں میں تبدیلی خود بخود آنے کی امید رکھ کے بیٹھ جانا چاہیے۔ چلو اور نہیں تو عوام اور خواص کے مائنڈ سیٹ میں اس حوالے سے مثبت تبدیلی لانے کے لیے سوشل میڈیا سے ہی کچھ کام لے لیا جائے۔

Facebook Comments HS