ریزرویشن اور اقلیتوں کی نمائندگی


20 فروری 2024 کو مہاراشٹر اسمبلی نے ایک بل منظور کیا جس میں مراٹھوں کو تعلیم اور ملازمتوں میں 10 فی صد ریزرویشن دیا گیا ہے۔ اس بل کا مقصد ان شعبوں میں مراٹھوں کی کم ہوتی نمائندگی کو دور کرنا بتایا گیا۔ مہاراشٹر اسمبلی میں جس دن ریزرویشن کو ہری جھنڈی ملی اس دن ایوان میں کسی بھی رکن اسمبلی کو یہ موقع نہیں دیا گیا کہ وہ مسلمانوں کے ریزرویشن کو لے کر اپنی بات رکھ سکے۔ اس پر بعد میں رکن اسمبلی مفتی اسماعیل قاسمی، سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی اور دیگر نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پسماندہ مسلمانوں کے لیے 5 % ریزرویشن کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے 2014 کے ایک نوٹیفکیشن کو یاد دلایا جس میں مذہب کی بجائے غربت اور پسماندگی کی بنیاد پر ریزرویشن پر زور دیا گیا تھا۔ کانگریس ایم ایل اے امین پٹیل اور سابق چیف منسٹر پرتھوی راج چوہان نے بھی مسلم ریزرویشن کے مطالبے کی حمایت کی۔

اس سے قبل 5 فروری 2024 کو جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی میں ’بھارت جوڑو نیائے یاترا‘ کے دوران ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے ریزرویشن اور اس میں پچاس فی صد حد کے تعین کا معاملہ اٹھایا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ”اگر ’انڈیا‘ اتحاد اقتدار میں آتا ہے تو ہم ریزرویشن کی 50 فی صد حد ختم کر دیں گے اور دلتوں، آدیواسیوں اور او بی سی کو ان کے حقوق دیے جائیں گے۔“ اگرچہ راہل نے مذہبی اقلیتی طبقات کا ذکر نہیں کیا، لیکن ان کے بیان نے قانون ساز اداروں، سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں مذہبی اقلیتی طبقوں کے لیے ریزرویشن کوٹے میں توسیع پر دیرینہ بحث کو پھر سے ضرور شروع کر دیا۔

راہل گاندھی نے کئی دفعہ عوامی خطاب کے دوران اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ تمام طبقات کو ان کی آبادی کے تناسب سے ملک کے سیاسی، سماجی و معاشی شعبوں میں حصہ داری ملنی چاہیے۔ ”جتنی آبادی اتنا حق“ ۔ کا نعرہ بلند کرنے والے راہل گاندھی اور ان کی سیاسی جماعت کانگریس جب سماجی انصاف کی بات کرتے ہیں تو ایسا گمان ہوتا ہے جیسے کہ ان کے سامنے ذات پات پر مبنی تفریق کا مسئلہ ہی وہ واحد مسئلہ ہے جو ملک میں سماجی انصاف کو یقینی بنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یقیناً ذات پات پر مبنی تفریق ایک بڑا مسئلہ ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ واحد مسئلہ نہیں ہے۔

”جتنی آبادی اتنا حق“ جیسے نعروں کا اطلاق ملک کی سب سے بڑی اقلیت کے سیاق میں کبھی نہیں کیا جاتا۔ حالاں کہ اس ملک کی آزادی سے لے کر اب تک سیاسی، سماجی، معاشی و تعلیمی پسماندگی کا سامنا کرنے والے مسلمانوں کے حاشیہ بردار ہونے سے منسوب تمام حقائق سرکاری دستاویزوں میں مرقوم ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مسلمانوں کو ریزرویشن دیے جانے کو لے کر اس بنیاد پر شدید مخالفت کی گئی ہے کہ عدالت پہلے ہی آئین کے تحت کوٹہ کے لیے 50 فی صد کی حد مقرر کرچکی ہے۔

حالاں کہ نومبر 2022 میں اقتصادی طور پر کمزور طبقات (ای ڈبلیو ایس) کے لیے مرکزی حکومت کے ذریعے 10 فی صد ریزرویشن دینے کے فیصلے کی سپریم کورٹ کی توثیق کے ساتھ ہی یہ واضح ہو گیا کہ 50 فی صد کی اوپری حد مطلق نہیں ہے۔ اس کی بنیاد پر ہندوستان کے سب سے بڑے لیکن سماجی اور اقتصادی طور پر پسماندہ مذہبی اقلیتی گروپ۔ مسلمانوں کے لیے مثبت کارروائی کی راہ مشکل نہیں رہ جاتی ہے۔ یہاں یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ مسلمانوں کو ریزرویشن دیے جانے کی تجویز کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ ملک کا آئین نہیں ہے بلکہ ملک کے سیاسی رہ نماؤں کے ارادے اور ان کی نیت ہیں۔

اسکالرشپ کے وسیع پیمانے کے ساتھ ساتھ حکومت کی رپورٹوں نے مثبت اقدامات پر زور دیا ہے، جس میں مسلمانوں کی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے ان کی حصہ داری بھی طے کی ہے۔ مثال کے طور پر 2007 میں قومی کمیشن برائے مذہبی اور لسانی اقلیت (رنگناتھ مشرا کمیشن) کی جانب سے پیش کی گئی کچھ سرکاری رپورٹوں میں آئین کے تحت ذات برادری کی بنیاد پر شراکت کے علاوہ مسلم اقلیت کے لیے الگ ریزرویشن کوٹہ تجویز کیا گیا تھا۔ رنگناتھ مشرا کی سفارشات میں یہ بات شامل تھی کہ مجموعی طور پر اقلیتوں کو 15 فی صد ریزرویشن دیا جانا چاہیے اور اس 15 فی صد میں 10 فی صد ریزرویشن مسلمانوں کے لیے مختص ہو۔

اسی طرح کی ایک تجویز 2006 کی تاریخی سچر کمیٹی رپورٹ میں بھی پیش کی گئی تھی۔ اگرچہ اس میں خاص طور پر ریزرویشن کوٹہ کی سفارش نہیں کی گئی تھی، لیکن رپورٹ میں مسلم کمیونٹی کے لیے حکومت کی طرف سے مثبت اقدامات کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ اس کے باوجود، ہندستان کا آئینی طور پر لازمی مثبت کارروائی کوٹہ ذات برادری پر مبنی گروہوں تک ہی محدود ہے۔

جسٹس رنگناتھ مشرا کمیٹی اور سچر کمیٹی دونوں نے نوآبادیاتی دور کے بعد کی ہندستانی ریاست میں کئی دہائیوں سے جاری مسلم کمیونٹی کے مستقل اور منظم طور پر پسماندگی کا احاطہ کیا ہے۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ بتاتی ہے کہ مسلم آئی پی ایس افسروں کا حصہ تقریباً چار فی صد اور آئی اے ایس افسروں اور آئی ایف ایس افسروں کا حصہ دو فی صد سے بھی کم ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ گوپال سنگھ کمیٹی کی رپورٹ 1983 میں بھی مسلمانوں کی نمائندگی کی تقریباً یہی تصویر پیش کی گئی تھی۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 1983 اور 2006 کے درمیان کچھ بھی نہیں بدلا۔ مزید یہ کہ سچر کمیٹی نے مسلمانوں کی بدحالی کی تصویر پیش کر کے کانگریس کو بھی بے نقاب کیا، کیوں کہ تقریباً چھ دہائیوں سے کانگریس کے اوپر مخالف سیاسی جماعت بی جے پی نے یہ الزام لگایا ہے کہ کانگریس مسلمانوں کو مطمئن کرنے کی سیاست میں ملوث رہی ہے۔ بی جے پی کے اس الزام کا فائدہ کانگریس کو تقریباً تمام ہی الیکشن میں ملا اور مسلمانوں نے بھی یہ سمجھا کہ کانگریس ان کی خیر خواہ جماعت ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے ووٹ کو دھیان میں رکھ کر کانگریس نے کبھی اس الزام کو رد نہیں کیا۔ حالاں کہ سچر کمیٹی کی رپورٹ نے یہ ثابت کر دیا کہ کانگریس نے مسلمانوں کو مطمئن نہیں کیا کیوں کہ اگر کیا ہوتا تو مسلمانوں کی صورت حال اتنی بدترین نہ ہوتی۔ یہ کہنا خوف ناک ہے کہ 2006 کے بعد بھی کچھ زیادہ نہیں بدلا ہے۔ فی الحال لوک سبھا (پارلیمنٹ کے ایوان زیریں ) کے کل 545 ممبران پارلیمنٹ میں سے صرف 26 مسلمان ہیں، اور حکمراں پارٹی کا کوئی بھی رکن نہیں ہے، جس کے پاس ایوان میں مکمل اکثریت ہے۔

اس پریشان کن صورت حال کے درمیان مٹھی بھر ریاستوں میں دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے زمرے میں مسلم ذیلی شراکت امید کی کرن ہے۔ مسلم برادری کے ٹھوس مطالبات اور اس کے بعد 1980 میں دیگر پسماندہ طبقات کمیشن کی سفارشات کے بعد مسلم ذات کے طبقوں کو او بی سی زمرے میں شامل کیا گیا تھا۔ تاہم تمام شعبوں میں مسلمانوں کی نمائندگی انتہائی کم رہی، کچھ ریاستوں نے تعلیمی اداروں اور سرکاری ملازمتوں میں اس کی نمائندگی بڑھانے کے لیے بڑے او بی سی کوٹے کے اندر مسلم برادری کے لیے ذیلی کوٹہ مختص کیا۔

کیرالہ اور آندھرا پردیش کی ریاستیں مذکورہ ذیلی کوٹہ فراہم کرتی ہیں۔ کرناٹک میں مسلمانوں کے لیے اسی طرح کا سب کوٹہ چار فی صد تھا جسے پچھلے سال کے اوائل میں اس وقت ختم کر دیا گیا تھا جب وہاں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت تھی۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ بہار اور تمل ناڈو کی ریاستوں نے ریزرویشن کا فائدہ تقریباً پوری مسلم کمیونٹی کو دیا ہے اور انہیں پسماندہ اور انتہائی پسماندہ گروہوں میں تقسیم کیا ہے۔ اسی طرح کا ایک فریم ورک ریاست مغربی بنگال میں بھی موجود ہے۔ اگرچہ 2011 میں یو پی اے حکومت نے پہلی بار ملکی سطح پر مسلم کمیونٹی کے لیے ذیلی کوٹہ کی کوشش کی تھی، لیکن عدلیہ نے اسے ناکام بنا دیا، جس سے سماجی انصاف اور سیکولرازم کے درمیان خلیج بڑھ گئی۔

محدود ذیلی کوٹے سے، جیسا کہ کچھ ریاستوں میں نافذ ہے، مسلم او بی سی کو نمائندگی میں معمولی مدد ملی ہے کیوں کہ بصورت دیگر انہیں اپنے ہندو ہم وطنوں کے ساتھ مقابلہ کرنے میں مشکل پیش آئے گی۔ مزید یہ کہ پسماندہ مذہبی گروہوں تک ریزرویشن کی توسیع کی بھی اس بنیاد پر مخالفت کی گئی ہے کہ یہ سیکولر ازم کے اصول کی خلاف ورزی ہے، جس کی گونج آئینی عدالتوں میں بھی سنائی دیتی رہی ہے۔ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ ایک سیکولر آئینی ریاست کو مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کے خطرے سے دوچار طبقات کو یقین دلانے کی ضرورت ہے کہ وہ ان کی شمولیت کے لیے پرعزم ہے۔

آئین ( 103 ویں ترمیم) ایکٹ، 2019 کے ذریعے اقتصادی طور پر کمزور طبقے (ای ڈبلیو ایس) کی شکل میں اضافی 10 فی صد ریزرویشن کوٹہ متعارف کرانے کے ساتھ، یہ دلیل دی جاتی ہے کہ مذکورہ کوٹہ سے مسلم برادری کو بھی فائدہ ہو گا۔ تاہم، ای ڈبلیو ایس زمرے کے تحت اقتصادی معیار کی اونچی حد، جو آٹھ لاکھ ہے، اور مسلمانوں کی انتہائی خراب معاشی حالت کو دیکھتے ہوئے، کوئی بھی اندازہ لگا سکتا ہے کہ کیا مسلم برادری اکثریتی برادری کے اپنے ہم وطنوں کے ساتھ مقابلہ کر سکے گی۔

پچھلے سال سپریم کورٹ میں کرناٹک کی جانب سے مسلم ذیلی کوٹہ کو ختم کرنے کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کی ابتدائی سماعت کے دوران حکومت کے دفاع میں یہ بات نمایاں طور پر سامنے آئی تھی کہ مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں دیا جا سکتا لیکن یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ذات پر مبنی ریزرویشن کی بنیاد بھی ایک طرح سے مذہبی ہی ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک ہندو شخص آئین میں درج فہرست ذات سے تعلق رکھتا ہے اور بعد میں وہ اسلام یا عیسائی مذہب اختیار کر لیتا ہے تو وہ شخص آئین کی رو سے ریزرویشن کا مستحق نہیں ہو گا۔

چناں چہ دیکھا جائے تو ہم جسے ذات پر مبنی ریزرویشن کا نام دے رہے ہیں وہ دراصل مذہب پر مبنی ریزرویشن ہی ہے۔ اس سیاق میں 2021 میں پارلیمنٹ کے اندر جی۔ وی۔ ایل نرسیمہا راؤ کے سوال کے جواب میں سابق وزیر قانون روی شنکر پرشاد نے واضح لفظوں میں کہا تھا کہ آئین میں درج فہرست ذات سے تعلق رکھنے والے جن لوگوں نے عیسائی یا اسلام مذہب قبول کر لیا ہے وہ سرکاری نوکریوں میں ریزرویشن کا فائدہ حاصل نہیں کر سکتے، مزید یہ کہ ایسے تمام لوگ پارلیمنٹ اور صوبائی قانون ساز اسمبلیوں میں درج فہرست ذات کے لیے مختص نشستوں پر انتخاب بھی نہیں لڑ سکتے ہیں۔

نوآبادیاتی ہندستان میں مذہبی اقلیتوں کو مثبت اقدامات کے فوائد حاصل ہوئے ہیں۔ 1997 میں ایشین سروے میں شائع ہونے والے ایک مقالے ’اے نیو ڈیمانڈ فار مسلم ریزرویشن ان انڈیا‘ (ہندستان میں مسلمانوں کے لیے ریزرویشن کا ایک نیا مطالبہ) میں تھیوڈور رائٹ کے مطابق، ”برطانوی نوآبادیاتی حکام نے 1909 میں قانون ساز اداروں میں مسلمانوں کے لیے نشستیں مختص کیں، اور 1926 میں علاحدہ رائے دہندگان، اور سول سروسز میں 25 فی صد کوٹہ ان کی 24 فی صد آبادی کی عکاسی کرنے کے لیے فراہم کیا گیا تھا۔“

مسلمانوں کے ریزرویشن کا سوال بھی دستور ساز اسمبلی میں نمایاں طور پر زیر بحث آیا۔ جیسا کہ زویا حسن اپنی کتاب ’پولیٹکس آف انکلیوژن: کاسٹ مائنوریٹیز اینڈ افرمیٹیو ایکشن‘ (شمولیت کی سیاست: ذات پات، اقلیتیں اور مثبت کارروائی) جسے آکسفورڈ یونی ورسٹی پریس نے شائع کیا ہے، انھوں نے لکھا ہے : ”دسمبر 1946 اور اگست 1947 کے درمیان سی اے ڈی کی میٹنگوں میں ریزرویشن کو اقلیتوں کے خوف اور اندیشوں کو دور کرنے کے ممکنہ حل کے طور پر دیکھا گیا تھا،“ تاہم اس کے بعد کے واقعات، خاص طور پر تقسیم اور دستور ساز اسمبلی کے کچھ ارکان کی سخت مخالفت کی وجہ سے مسلم قیادت کو سماجی حقوق اور سلامتی کے مطالبے کو ثقافتی اور مذہبی حقوق سے جوڑنا پڑا۔

اس ملک میں مسلمانوں کی شناخت محض مذہبی و ثقافتی بنیادوں پر کی جاتی ہے حالاں کہ ان کی ایک سماجی شناخت بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ مسلمان اس ملک میں پسماندہ و حاشیہ بردار ہیں۔ تقریباً تمام سماجی طبقات میں مسلم طبقہ سیاسی، معاشی نیز تعلیمی لحاظ سے سب سے پسماندہ ہے اور پسماندگی کی حیرت انگیز سطح کے ساتھ، پوری مسلم برادری کو کسی بھی دوسرے سماجی گروہ کی طرح ایک پسماندہ ’سماجی گروپ‘ کے طور پر سمجھا جانا چاہیے۔

لہٰذا تعلیمی اداروں میں داخلوں، سرکاری ملازمتوں اور سیاسی نمائندگی کے حوالے سے مجموعی طور پر ’سماجی گروپ‘ کے لیے ایک علاحدہ کوٹہ مختص کیا جانا چاہیے، جو کریمی لیئر حکمرانی اور مسلمانوں کے درمیان ذات پات یا طبقاتی تفریق سے مشروط ہو۔ اندرا ساہنی بمقابلہ یونین آف انڈیا اینڈ دیگر ( 1992 ) میں ”پسماندہ طبقات“ کے تعین کے سلسلے میں سپریم کورٹ آف انڈیا کی طرف سے طے کردہ جامع رہنما خطوط ایک فریم ورک کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب کچھ ممالک نسلی اور مذہبی اقلیتوں کو جگہ دینے کے لیے اقتدار کی تقسیم کے انتظامات پر غور کر رہے ہیں، ہندوستان کی آئینی جمہوریت مسلم اقلیت کے حق میں کم از کم ریزرویشن ضرور دے سکتی ہے۔

حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ مسلم کمیونٹی کو درپیش سماجی اور معاشی چیلنجوں سے جامع مثبت اقدامات کے ذریعے نمٹے۔ سماجی انصاف اور سیکولرازم کے اصولوں کی پاس داری کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے لیے علاحدہ ریزرویشن کوٹہ کا تعین ہندستانی معاشرے میں جامع نمائندگی اور مساوی مواقع کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے۔

محمد علم اللہ جامعہ ملیہ، دہلی

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

محمد علم اللہ جامعہ ملیہ، دہلی

محمد علم اللہ نوجوان قلم کار اور صحافی ہیں۔ ان کا تعلق رانچی جھارکھنڈ بھارت سے ہے۔ انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے تاریخ اور ثقافت میں گریجویشن اور ماس کمیونیکیشن میں پوسٹ گریجویشن کیا ہے۔ فی الحال وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ’ڈاکٹر کے آر نارائنن سینٹر فار دلت اینڈ مائنارٹیز اسٹڈیز‘ میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا دونوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے دلچسپ کالم لکھے اور عمدہ تراجم بھی کیے۔ الیکٹرانک میڈیا میں انھوں نے آل انڈیا ریڈیو کے علاوہ راموجی فلم سٹی (حیدرآباد ای ٹی وی اردو) میں سینئر کاپی ایڈیٹر کے طور پر کام کیا، وہ دستاویزی فلموں کا بھی تجربہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے نظمیں، سفرنامے اور کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ کئی سالوں تک جامعہ ملیہ اسلامیہ میں میڈیا کنسلٹنٹ کے طور پر بھی اپنی خدمات دے چکے ہیں۔ ان کی دو کتابیں ”مسلم مجلس مشاورت ایک مختصر تاریخ“ اور ”کچھ دن ایران میں“ منظر عام پر آ چکی ہیں۔

muhammad-alamullah has 168 posts and counting.See all posts by muhammad-alamullah

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments