رولاک: جنسی ہوس پرستی پر نفسیاتی الجھاؤ
نئی کتابوں اور نئے چہروں سے شناسائی کی خاطر ہم ہر سال لاہور کے بین الاقوامی کتاب میلہ میں پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ نئے مراسم قائم ہوں اور نئی تخلیقات سے آگاہی بھی حاصل کی جا سکے۔ رفاقت حیات سے بھی ہماری پہلی ملاقات اسی کتاب میلہ میں ڈاکٹر ظہیر عباس کے توسط سے ہوئی۔ ملاقات کا پس منظر بھی عجب تھا۔ کچھ یوم قبل سوشل میڈیا کے ذریعے ہمیں رولاک کی خبر ہوئی، اس لیے ہم ایک اسٹال سے ناول خریدنے کا ارادہ بنا ہی رہے تھے کہ ظہیر عباس کہنے لگے کہ وہ ہمیں ناشر سے رعایتی قیمت پر کتاب بھی دلوا دیتے ہیں اور صاحب کتاب سے بھی ملوا دیتے ہیں۔ اس طرح وہ رفاقت حیات سے ایک خوش آئند ملاقات کا سبب بنے۔ رفاقت حیات کے مصافحہ میں گرم جوشی تھی اور شخصیت میں عاجزی جو ہمیں بھا گئی۔
ملاقات کے احوال کے بعد آئیے ناول پر بات کرتے ہیں۔ رولاک ایک ضخیم ناول ہے جو 669 صفحات پر مشتمل ہے اور اس کے 46 ابواب ہیں۔ یہ پیپر بیک میں چھپا ہے اور اس کی طباعت اطمینان بخش ہے۔ سرورق دل چسپ ہے جسے مریم محمود نے ڈیزائن کیا ہے۔ اگر میں اس سرورق کے احوال کو بیان کروں تو اس کی تفہیم کچھ یوں ہو گی کہ پرانے اور خستہ حال گھر کی بند کھڑکیاں تنہائی یا قید کا احساس دلاتی ہیں، جب کہ تخیل میں جو کھلا دروازہ نظر آ رہا ہے وہ پیش کردہ ماحول سے باہر جھانکنے کی خواہش کی نشان دہی کرتا ہے۔ بند کھڑکیوں اور کھلے دروازے کی یہ امتزاجی کیفیت رکاوٹوں یا حدود کا سامنا کرنے کے باوجود زندگی میں نئے مواقع یا راستے تلاش کرنے کے خیال کی علامت ہے۔
ناول کا عنوان رولاک ہے۔ چوں کہ یہ سندھ کی ثقافت کی نمائندگی کرتا ہے اس لیے سندھی زبان سے ہی اس کا نام منتخب کیا گیا ہے جس کے معنی آوارہ مزاج کے ہیں۔ ناول کا پلاٹ تاریخی شہر ٹھٹھہ کے ایک ایسے زیریں متوسط گھرانے کے گرد گھومتا ہے جس کا سربراہ فریم ساز ہے اور وہ ایسی سفلہ عادات میں مبتلا ہے جو معاشرے میں بگاڑ کا سبب ہیں۔ اسے لکھتے وقت تکنیک ضمیر واحد متکلم استعمال ہوئی ہے جس میں مرکزی کردار اپنی کہانی اپنی زبانی بیان کر رہا ہے۔
ناول کی کہانی عامیانہ ہے جو حقیقت نگاری پر مبنی ہے اس کہانی کے ذریعے مصنف نے معاشرے میں پائی جانے والی تقریباً تمام تر برائیوں کا ذکر کیا ہے۔ اس کہانی میں تین مفصل کردار ہیں جب کہ باقی مختصر۔ ناول کا مرکزی کردار قادر بخش احساس محرومی کا مارا ہوا نوجوان ہے جس کی خواہشات کا قاتل کوئی اور نہیں بل کہ اس کا باپ ہے۔ اس کا باپ اس قدر سفاک ہے کہ وہ اپنے بیٹے کے ہر اس جذبے کا دشمن ہے جو اس کے لیے جنس مخالف میں آسودگی کا سبب ہے۔
اب ہم ناول سے اخذ شدہ اہم پہلووں کو باری باری بیان کیے دیتے ہیں تا کہ ان کے ذریعے ناول نگار کے اصل پیغام کو اجاگر کر سکیں۔
بدکردار باپ: لال بخش اس کہانی کا منفی کردار ہے جو کہ قادر بخش کا بدکردار، شرابی و ہوس پرست باپ ہے۔ پیشے سے وہ فریم ساز ہے اور بازار میں اس کی شہرت زناکار کی ہے۔ اس کے ہاتھوں کسی کی بھی عزت محفوظ نہیں ہے۔ یہاں تک کہ اسے دوران بدکاری دھر لیا جاتا ہے اور سزا کے طور پر منہ کالا کر کے گدھے پر سوار کرا کے سارے شہر میں گھمایا جاتا ہے لیکن وہ انتہا درجے کا بے شرم ہے، وہ پھر بھی باز نہیں آتا اور جیسے ہی دوبارہ موقع ملتا ہے غیر شرعی مجامعت میں ملوث ہو جاتا ہے۔
گھریلو تشدد :لال بخش اپنی بیوی کو مارتا پیٹتا ہے۔ اس کی بیوی نے مشرقی بیویوں کی طرح آج تک اس کی کسی بات سے اختلاف نہیں کیا حالاں کہ وہ باخبر ہے کہ اس کا خاوند زانی اور بدکردار ہے پھر بھی وہ ہمیشہ اس کی طرف داری کرتی ہے۔ اس کے باوجود لال بخش جب چاہے اس پر تشدد کرتا ہے چاہے وہ نشے میں ہو یا نہیں۔
غیر ازدواجی جنسی تعلقات: غیر ازدواجی و جنسی تعلقات اس ناول کا اہم ترین پہلو ہے، ساری کہانی اسی کے گرد گھومتی ہے۔ لال بخش کے لیے ایسا کرنے میں کوئی حجت نہیں وہ جب چاہے کسی کے بھی ساتھ جنسی تعلقات قائم کر لیتا ہے۔ وہ ایسا کرنے کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کرتا ہے، کچھ خواتین تو بڑی آسانی اس کی جھولی میں آن گرتی ہیں جب کہ کچھ پر اسے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ اس عمل کے لیے وہ اپنا سب کچھ لٹانے اور قربان کرنے پر تیار ہو جاتا ہے حتی کہ اس کی اس عادت کی وجہ سے وہ اپنے اکلوتے بیٹے سے نفرت کرنے اور اسے خود سے دور بھیجنے کے لیے بھی قائل ہو جاتا ہے۔
غربت افلاس: ناول میں اندرون سندھ کے شہر ٹھٹھہ کی معاشرت کی عکاسی کی گئی ہے۔ غربت میں گھرے لوگوں اور ان کے روزمرہ مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے جہاں کسمپرسی کی چکی میں پستے ماحول میں خواتین اپنی آبرو بیچنے پر بھی آمادہ ہیں۔ یہ صرف ایک شہر کی کہانی نہیں بلکہ اگر اسے تمثیلی طور پر لیا جائے تو یہ ہر شہر کی کہانی ہے جہاں ایک مخصوص طبقہ بنیادی حقوق سے محرومی کا شکار ہے اور وہ اس کا سامنا کرتے ہوئے لاچار ہے۔
بلوغت کے مسائل: رفاقت حیات نے ناول کے ذریعے نوجوانوں کو درپیش ان مسائل کی نشان دہی بھی کی ہے کہ جن کے بارے میں ہمارے معاشرے میں بہت کم گفتگو کی جاتی ہے۔ ناول میں قادر بخش کے بچپن، لڑکپن اور جوانی کے مراحل کو قلم بند کیا گیا ہے۔ بچپن میں ہی وہ اپنے باپ کی عدم توجہی کی وجہ سے احساس محرومی کا شکار ہو جاتا ہے۔ جب لڑکپن میں قدم رکھتا ہے تو وہ جنس مخالف کی طرف راغب ہونے لگتا ہے۔ اسے خواتین کی کشش محسوس ہونے لگتی ہے۔ وہ ان کے سراپا کا بھرپور نگاہوں سے مشاہدہ کرتا ہے اور پھر وہ انہیں تصورات میں لا کر لذت حاصل کرتا ہے۔
ہر شخص جب بالغ ہوتا ہے تو وہ بہت سی جسمانی و نفسیاتی تبدیلیوں سے گزرتا ہے لیکن ان کو بیان کرنے سے گریز کرتا ہے، میں مصنف کو داد دیتا ہوں کہ انہوں نے بلوغت میں ہونے والی تبدیلیوں کو اس کہانی کے ذریعے قارئین تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ قادر بخش میں بھی جب ہارمونل بدلاؤ کی وجہ سے زیادہ ٹیسٹوسیٹرون بننا شروع ہوتے ہیں تو اسے احتلام ہونے لگتے ہیں۔ پھر وہ اپنے وجود کی خوبیوں کو کھوجتے ہوئے خود لذتی (Masturbation) بھی کرنے لگتا ہے۔
جب اس کا باپ اس کا تعلیمی حق چھینتے ہوئے اسے زبر دستی شہر بدر کر دیتا ہے تو وہ گیراج میں نئے دوست بناتا ہے۔ فارغ اوقات میں وہ ان کے ساتھ مل کر آوارہ گردی کرتا ہے۔ وہ ان کی وجہ سے ہم مرتبہ دوستوں کے دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے اور ان کے نقش قدم پر چلنے لگتا ہے۔ جب وہ اس شہر میں آتا ہے تو چوری چپکے سگریٹ نوشی کرتا ہے لیکن جب ماحول کا رنگ اس پر چڑھتا ہے تو دوستوں سے متاثر ہو کر سگریٹ میں چرس بھی بھرنے لگتا ہے۔
مصنف سے ایسی کوئی بات نہیں چھپی جو معاشرے میں توجہ طلب نہ ہو۔ وہ ناول میں ہم جنس پرستی پر بھی واقع نویسی کرتا ہے۔ نوجوانی میں انسان کا زیادہ تر دھیان اپنے جسم کی پوشیدہ خوبیوں کو دریافت کرنے میں لگا رہتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ایسے تجربات سے بھی گزرے جن سے پہلے وہ نہ گزرا ہو۔ کہانی میں ایک موڑ پر جب قادر بخش اپنے دوستوں کے ساتھ ریلوے اسٹیشن پر ایک ہیجڑے کی طرف مائل ہو جاتا ہے تو وہ اس کے ساتھ جسمانی تعلق قائم کرنے کے لیے بھی راضی ہو جاتا ہے لیکن جب وہ اپنے ایک ہم جنس پرست دوست کو ایسا کرتے ہوئے دیکھتا ہے تو وہاں سے بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔
ناول کا انجام ہولناک ہے۔ قادر بخش ساڑھے تین سال کی شہر بدری کاٹنے کے بعد اپنے شہر لوٹ آتا ہے۔ اس بار اسے سومل سے محبت ہو جاتی ہے لیکن اس کا سفاک باپ جو اس کا رقیب بھی ہے سومل کو اس سے ہتھیانے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ پہلے وہ سومل کی ماں سیمی سے جسمانی لذت حاصل کرتا ہے پھر سومل سے بھی زنا بالجبر کا مرتکب ہو جاتا ہے۔ قادربخش کی باپ سے نفرت اور احساس محرومی اسے اپنے باپ کے قتل پر مجبور کر دیتی ہے اور بالآخر وہ یہ سنگین قدم اٹھانے سے گریز نہیں کرتا۔
ناول کا پلاٹ بہترین ہے البتہ اسلوب سست روی کا شکار ہے۔ بہت سی تفصیلات کو غیر ضروری طور پر بار بار بیان کیا گیا ہے۔ اگر ان سے گریز کیا جاتا تو کہانی میں روانی برقرار رہتی اور ضخامت بھی سمٹ جاتی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کی تخلیق کا دورانیہ کافی لمبا ہے جس کا اثر نمایاں ہے۔ آخری ابواب میں اگر کچھ جگہوں پر ترتیب میں تبدیلی کر دی جاتی تو جہاں تجسس برقرار رہتا وہیں ہیبت بھی بڑھ جاتی۔
میرے خیال میں ادب کو با ادب ہی رہنا چاہیے اور کثیف بات کو بھی اس انداز میں بیان کیا جانا چاہیے کہ وقار مجروح نہ ہو۔ اس ناول میں کچھ عبارتیں اور الفاظ بالکل ہی عام انداز میں کہے گئے ہیں، ایک طرف اگر انتہا درجے کی ادبی اصطلاحات استعمال کی جا رہی ہوں تو دوسری جانب اچانک سے معیار کو پستی پر لے آنا عجیب صورت حال پیدا کر دیتا ہے۔
رولاک جنسیت پرستی پر شدید نفسیاتی الجھاؤ کو نمایاں کرتا ہے۔ ایک طرف باپ اپنی جنسی ہوس کو پورا کرنے کے لیے مختلف اقدام اٹھاتا ہے تو دوسری طرف اسی کا بیٹا احساس کمتری کی وجہ سے نفسیاتی ابہام کا شکار ہے۔ مصنف نے کہانی کے ساتھ ساتھ کرداروں پر بھی خوب محنت کی ہے۔ مختصر مکالمات و دیگر تشریحات کو ماہرانہ انداز میں پیش کیا ہے۔ حس جمالیات کی بدولت منظر نگاری پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ مصنف کے تاریخی ورثہ سے لگاؤ نے مقامات اور قدیم عمارات کو واقعات میں ایسے پرویا ہے کہ قاری کے لیے دل چسپی کا سامان موجود ہے۔
بہرحال رفاقت حیات نے اس ناول کے ذریعے ایسی گفتگو چھیڑی ہے جو نازک موضوعات پر مشتمل ہے اور اس سے قبل کم ہی ایسے مصنفین ہیں جنہوں نے حقیقت نگاری کو ذریعہ بناتے ہوئے
جنسی ہوس اور نفسیاتی پہلووں پر ایک ساتھ روشنی ڈالی ہو۔



