سفر بہ کوہ


ہمارے ایک بزرگ تر (سینئر) انجینئر ہیں اور سینئر بھی اتنے ہو چکے ہیں کہ اب سینئر سیٹیزن بننے کے قریب ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی میں انگریزی والے جو سفر کیے سو کیے اردو والے سفر بھی اس حد تک بے حد، بے شمار اور لاتعداد کر رکھے ہیں کہ ایک ہزار کلومیٹر سے کم فاصلہ ان کے ہاں کسی سفر میں شمار ہی نہیں ہوتا۔ لگ بھگ ڈیڑھ ہزار کلومیٹر طے کرنے کے بعد کہیں گے کہ کیا تکلف کی بات کرتے ہیں، یہیں پاس ہی سے تو آیا یوں۔ انہی کی زمین پہ لکھا کہ محض اڑھائی دہائی قبل ہی کی تو بات ہے جب ظاہری حلیے سے ایسا دھوکہ کھایا کہ انگشت بدنداں تک نہ ہو سکے۔

صوبہ سرحد کا نام تب تک خیبر پختون خوا (کے پی ) نہیں رکھا گیا تھا۔ حیات آباد پشاور سے آگے کچی بستی اور جھگیوں کے بعد مشہور و معروف کارخانو بازار ہے۔ جہاں سے سب مال بازار سے بارعایت دستیاب ہوتا ہے۔ خریداری کی غرض سے وہاں جانا ہوا۔ کپڑے اور خشک میوہ جات (ڈرائی فروٹس) کی اکثر دکانوں پہ خوشنما اور دیدہ زیب پگڑیاں باندھے سکھ حضرات کھڑے ملے۔ بڑی خوشی ہوئی کہ یہاں بھی اپنی پنجابی ماں بولی والے مل گئے۔ اسی بہانے خریداری خوب رہے گی۔ ٹھک سے دکان میں گھسے اور کہا: کداں سردار جی (کیسے ہو سردار جی) ۔ دکاندار صاحب نے بے تاثرات کا خاموش سا چہرہ ہماری طرف موڑ دیا۔

عموماً سکھ دکانداروں سے ایسے استقبال کی توقع نہیں ہوتی۔ چہرے پہ مسکراہٹ، نہ ہونٹوں پہ ہنسی، کوئی علیک سلیک نہ ہی فوجوں کے علاقے بابت کوئی باز پرس۔ خود ہی دل بڑا کر کے پوچھنا پڑا کہ سردارجی شرٹ دا کپڑا چاہیدا (سردار جی شرٹ کے لئے کپڑا چاہیے ) ۔ سردار جی نے انتہائی غیر متوقع طور پہ ایک باریک سی اور کم پچ والی آواز میں جواب دیا کہ: ”امارے پاس شئرٹ کا کاپڑا نہیں ہے“ ۔ کسی بھی پیشگی انتباہ کے بغیر ایسی آواز اور جواب نے ہماری ساری خوشی، خوش فہمی میں بدل دی۔ خریداری کا سارا جوش یک دم اپنے ہوش کھو بیٹھا۔ ساتھ جانے والے دوستوں کو بھی ادراک ہو گیا کہ بھیتر کچھ ٹوٹ گیا ہے۔ دوستوں میں سے ایک کہنے لگا: چھڈ رہن دے، کیتے ہور چلدیں (چھوڑو، رہنے دو، آؤ کہیں اور چلتے ہیں ) ۔

یہ بھولی بسری یاد آج پھر سے کچھ یوں تازہ ہوئی کہ راستے صحرا نووردی سے نکل کر سفر بہ کوہ (پہاڑوں کے سفر) کی جانب گامزن ہوئے۔ کئی دن چاولوں پہ انحصار کرنے کے بعد من میں خوشہ گندم کی طلب پیدا ہوئی۔ ڈھونڈتے پھرتے دور ”پنجاب ہوٹل“ کا اک چمکتا دمکتا سائن بورڈ نظر آیا۔ اس پہ حسن اتفاق یہ کہ ہوٹل کے دروازے پہ نارنجی رنگ کی پگڑی باندھے ایک سردار جی بھی کھڑے نظر آ گئے۔ دل کی خوشی کو ایک لمحے کے لئے روکا کہ کہیں پھر سے ارمانوں پہ اوس نہ پڑ جائے۔ پہلے اندر جا کے معاملات دیکھ لئے جائیں، کیا معلوم یہاں بھی کوئی بھاری بھر کم آواز میں کہہ دے : ابحث عن مکان آخر (کوئی اور جگہ ڈھونڈو)

اندر داخل ہوتے ہی پہلا دھچکا یہ لگا کہ کوئی بھی میز خالی نہیں ہے اور اگر یہیں بیٹھ کے کھانا مقصود ہے تو پھر انتظار کرنا پڑے گا۔ لیکن تابڑ توڑ رش یہ تو معلوم ہو گیا کہ کھانا واقعی لذیذ ہو گا ورنہ پبلک ایسے نہیں ٹوٹتی۔ صاحب دکان سے ملاقات ہوئی تو یہاں بھی فوجاں والا معاملہ تو نہیں تھا البتہ بھائی صاحب کی فوجی کٹنگ اور پنجابی لہجے نے خوش کر دیا۔ کھانے کا آرڈر دیا اور انتظار میں کھڑے ہو گئے۔ کچھ دیر بعد کھانا دینے کے لئے بھائی صاحب خود آ گئے، انتظار کروانے کے لئے معذرت کی، کھانے کی تعریف میں کہا کہ آپ کو پسند آئے گا اور ہمارے کھانے کا ذائقہ آپ کو دوبارہ آنے پہ ضرور مجبور کرے گا۔

پیسے ادا کیے اور ساتھ میں شکریہ بھی اور کہا کہ: کھانے کی خوشبو نہیں آ رہی کہ ٹھنڈے موسم کے باعث ناک بند ہے، اور سفر بھی دور کا کر کے پہنچا ہوں، ذائقہ تو اب کھا کے ہی پتا چلے گا۔ کیا خوب پنجابی گلوکار نے گایا کہ:

اگے تیرے بھاگ لچھئیے

Facebook Comments HS