اپنی کتاب کو ادبی اشرافیہ میں رینک کیسے کروائیں؟


انسان کتاب اس وقت لکھتا ہے جب اس کے پاس بتانے کے لیے کچھ ایسا ہوتا ہے جو دوسرے نہیں جانتے اور دوسرے اگر جان جائیں تو ان کی زندگی میں بہتری اور آسانی آ سکتی ہے۔ ہر انسان کے پاس زندگی کے کسی نہ کسی حصے میں بتانے کے لیے ایسا کچھ ضرور موجود ہوتا ہے جو دوسروں کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ لیکن اجاڑ میں ایک پودا جتنا مرضی توانا ہو، بے جان ہی نظر آئے گا، مصداق بہت اچھی اور اعلیٰ پائے کی کتب مناسب بندوبست کی عدم موجودگی کی وجہ سے یا تو منظر عام پر نہیں آتیں اور اگر آ بھی جائیں تو ان کی رسائی اس حد تک نہیں ہوتی کہ مناسب قارئین تک پہنچ سکیں۔

پچھلے دنوں مدثر شاداب کے غالب کے انداز میں لکھے گئے خطوط پر بات ہو رہی تھی جو ”مرزا غالب کے جدید خطوط“ کے عنوان سے شائع ہو رہے ہیں، تو خیال آیا کہ چند ایک باتیں کتاب کی اشاعت کے بعد کے مراحل کے بارے میں بھی کہی جائیں۔ یہ باتیں نہ صرف مدثر شاداب کے لیے ہیں بلکہ ہر اس مصنف کے لیے ہیں جن کی پہلی کتاب اشاعت کے مراحل سے گزر چکی ہے یا گزر رہی ہے۔

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ایک مصنف جس کی کتاب چھپ چکی ہے وہ آرام سے بیٹھ کر اب اس کامیابی کے مزے لوٹے گا۔ حالانکہ پاکستان میں یہ صورت حال اس قدر سادہ نہیں ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ ہمارے ہاں اجاڑ میں اگا توانا پودا بھی بے جان ہی نظر آتا ہے۔ تاوقتیکہ اس پر کسی قد آور شخصیت کی نظر نہ پڑ جائے یا کسی خاص ادارے یا ادبی طور پر ان فیشن لکھاری کا منظور نظر نہ بن جائے۔ تو کیا پھر ادبی آمروں کی چاپلوسی کی جائے یا ادبی طاقت کے مراکز کے چکر لگائے جائیں تا کہ ان کا آشیرواد حاصل ہو؟

میرا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ ایک کتاب عام قاری کے لیے لکھی جاتی ہے نہ کہ ادبی گلیمر کے حامل چند لوگوں کی خوشنودی کے لیے۔ اس لیے ایک نئے مصنف کا مطمح نظر بھی عام قاری ہونا چاہیے۔ اگر ایک عام قاری اس کو پسند کرتا ہے تو اس کی کتاب اور اس کے پڑھنے والے باقی رہیں گے وگرنہ خوشنودی سے وقتی فوائد اور سٹیج لائٹ تو مل جائے گی مگر عام قاری تک اس کا مقصد نہیں پہنچ پائے گا اور کتاب وقت کے گزرتے دھارے پر اپنا نشان ثبت نہیں کر پائے گی۔ اب چند عملی تجاویز جن کے فوائد آپ کچھ عرصے بعد محسوس کریں گے۔

· جیسے بھی ممکن ہو سکے، اپنی کتاب کی تقریب رونمائی ضرور کروائیں۔ وہ چاہے تو اپنے قریبی ادبی حلقوں میں کر لیں یا پھر اگر جیب اور تعلقات ہوں تو کسی بڑے ادبی مرکز میں یہ اہتمام کریں۔

· دوستوں اور یاروں سے ہر طریقے سے منت خوشامد کر کے، دھونس سے، جیسے ممکن ہو مضامین لکھوائیں، فیس بک پر پوسٹ لگوائیں، جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے۔

· بلاگ پوسٹ یا مختلف ویب سائٹوں پر مضامین لکھوائیں۔ یہ لکھنے والے دوست احباب بھی ہو سکتے ہیں اور چاہنے والے بھی ہو سکتے ہیں۔ اگر بڑی بڑی سلیبیریٹیز اور ایمزون والے اپنی پراڈکٹ کی رینکنگ کر سکتے ہیں تو مصنف کیوں نہیں؟ میرا خیال ہے روایتی سوچ سے نکلنا چاہیے اور اپنی تخلیقات کی رینکنگ کے لیے سب کچھ کرنا چاہیے۔

· آج کل گرافکس کا بہت ٹرینڈ ہے۔ انگلی اپنی دوڑ میں صرف چند لمحوں کے لیے اس جگہ رکتی ہے جہاں ایک جازب گرافک موجود ہو۔ یہ بعد کی بات ہے کہ اس پر لکھی تحریر کا معیار کیا ہو گا۔ آج کے دور میں توجہ حاصل کر لینا ہی اصل کامیابی ہے۔ ورٹیکل ویڈیو فارمیٹ نے ہماری توجہ کا دورانیہ ویسے ہی بہت کم کر دیا ہے، اس لیے اگر آمدہ کتاب کے اہم پہلوؤں کے بارے میں گرافک بنا کر انٹرنیٹ پر فلوٹ کی جائیں تو اس سے نہ صرف معلومات کے پھیلاؤ کا دائرہ کار بڑھے گا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ دوسروں کے لیے اس کو شیئر کرنا آسان ہو جائے گا۔

· وہ کتاب جس موضوع کے متعلق ہے، اس موضوع کے ماہرین کو یہ کتاب تحفتاً ضرور بھیجیں۔ اردو میں ابھی تک مطبوعات کا کارپس تیار نہیں ہوا جہاں کسی موضوع پر لکھی جانے والی تمام تر کتابوں کا ڈیٹا بیس موجود ہو۔ اردو میں یہ کام ابھی موضوع کے ماہرین کے ذریعے ہوتا ہے۔ اس لیے انہیں کتاب بھیجنے کا مطلب ڈیٹا بیس میں نام شامل کروانا ہے۔

· اگر آپ کے پاس مصنف کی کاپیاں ہیں، تو انہیں سنبھال کر رکھیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فی الوقت آپ کو شاید لگے کہ میرے پاس بہت کاپیاں ہیں۔ مگر جب کتاب چل نکلتی ہے تو آپ کے پاس ایسی ایسی جگہ سے فرمائشیں آتی ہیں کہ آپ کے لیے ٹالنا مشکل ہو جاتا ہے بلکہ بعض اوقات تو اپنی کتاب خود خرید کر دوسروں کو تحفتاً بھیجنی پڑتی ہے۔ میں نے اپنے پی ایچ ڈی کورس ورک کے دوران ڈاکٹر آصف اعوان کی خدمت میں لیوتار کی مابعد جدید صورت حال کا ترجمہ پیش کیا تو انہوں نے فوراً ہی کہا کہ انہیں لسانیات والی کتاب بھی چاہیے۔ اس وقت تک میرے پاس اس کی تمام کاپیاں ختم ہو چکی تھیں۔

· گلی محلے کے شناساؤں کو کتاب بانٹنے کی بجائے پبلک لائبریریوں یا یونیورسٹی کی لائبریریوں میں کتابیں بھجوا دیں کیوں کہ یہ علم کے مراکز ہیں۔ یہاں نیا علم تخلیق کیا جاتا ہے (چاہے یہ بات صرف اصول کی حد تک ٹھیک ہو) ، لائبریری کے اندر کتاب کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی کے کام آہی جائے گی۔

آخر میں ڈاکٹر شبیر احمد قادری صاحب کی بات یاد آ گئی۔ ایک دفعہ کیفے ٹیریا میں بیٹھے چائے پی رہے تھے، فرمانے لگے ؛ آپ نے اپنی کتاب جب سے چھپی ہے، پڑھی ہے؟ میں نے شرمسار ہو کر کہا نہیں ؛ فرمایا: اگر آپ اپنی کتاب خود نہیں پڑھتے تو دوسرے کیا خاک پڑھیں گے۔ اس کو جدھر مرضی لے جائیں، بہتری کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments