خدا کا ظَرف اور انسانی لغزشوں پر معافی
ہم دو غلط فہمیوں کا شکار ہیں۔ ایک یہ ہے کہ خدا صرف سزا دینے پہ مامور ہے اور دوسری یہ کہ اس کو کچھ نذرانہ دے کر سزا معطل کرائی جا سکتی ہے۔ گو ہم ظاہراً یہ بات نہ کرتے ہوں مگر ہمارے لاشعور میں یہی خیال راسخ ہو چکا ہے۔ اسی طرح ہمارے غریب کے ساتھ جہاں دیگر بہت سے مس ہیپس ہو چکے ہیں وہاں یہ سانحہ بھی اس کے ساتھ بڑی شدت سے پیش آیا ہوا ہے اور وہ اس غلط فہمی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔
بات دراصل یہ ہے کہ اول تو غریب آدمی سال بھر خالی ہاتھ رہتا ہے مگر خوش قسمتی سے کبھی اس کے پاس کچھ رقم آ بھی جائے تو وہ یہ معمولی رقم بھی صحیح مقام پہ خرچ نہیں کر سکتا بلکہ اس کی یہ جمع پونجی بھی غلط مذہبی تعبیروں کی نذر ہو جاتی ہے اور وہ معمولی رقم جو اسے بڑی تگ و دو سے حاصل ہوئی تھی، اسے مذہب کے نام پر اڑا کے پھر خالی ہاتھ رہ جاتا ہے۔ اس کا سبب خدا کے بارے اس کے تعلق اور نقطہ نگاہ میں ضعیف الاعتقادی، غلط فہمی اور جہالت ہے۔ وہ مذہبی پیشواؤں کو خدا کا ایجنٹ سمجھ کر ان کی ترغیب پہ مذہب کے نام پہ پیسہ خرچ کرنے کو غربت سے نکلنے کے وسیلے کے ساتھ ساتھ اخروی کامیابی کی ضمانت سمجھتا رہتا ہے۔ دوسری طرف یہی پیسہ مذہب کے نام پر مذہبی پیشواؤں کی جیب میں جاتا رہتا ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارا خدا ایسا ہے جو ہماری غربت، کس مپرسی اور بدحالی میں بھی ہم سے مال دینے کا تقاضا کرتا ہے؟ کیا وہ صرف معاشی نیکیوں (مالی قربانیوں ) سے ہی خوش ہوتا ہے؟ کیا دیانت داری سے کام کرنا اس کے نزدیک نیکی نہیں؟ کیا رزق حلال کے لیے تگ و دو سے اس کی رضامندی حاصل نہیں ہوتی؟ کیا کسی دکھیارے سے چند لمحے حوصلہ مندی کی باتیں کرلینا، خدا کی خوشنودی کا سبب نہیں؟ کیا اپنی اولاد کی معیاری زندگی کے لیے محنت و مشقت اس کے نزدیک کار ثواب نہیں؟ اگر ہم یہی سمجھتے ہیں کہ وہ غریب سے بھی مالی قربانی لے کر ہی خوش ہوتا ہے تو ہم کسی غلط عقیدے پہ کاربند ہیں۔ خدائے رحیم ایسا ہرگز نہیں ہو گا۔
میرے خیال میں لوگوں نے خداوند متعال کے بارے فقط ”قہار“ کا امیج بنا لیا ہے، یعنی وہ بھی ان بتوں سے مختلف نہیں جن کے چرنوں میں سونے چاندی کے سکوں کے ڈھیر لگا دینے پہ ہی وہ کرم کی اک نگاہ ڈالتے ہیں۔ اس خیال کے جڑ پکڑ لینے میں شاید مذہبی پیشواؤں کا سب سے زیادہ ہاتھ ہے۔ کیوں کہ ان کی معاشی آسودگی اور راحت دنیوی کا سامان اسی نقطے میں پوشیدہ ہے کہ لوگ خدا سے ڈرے رہیں اور خدا کے نام پہ نذر و نیاز ان نام نہاد خدائی نمائندوں (ایجنٹوں ) کے سامنے پیش کرتے رہیں۔ بلاشبہ انھی نذرانوں کی بدولت نذرانے لینے والے (بریلوی پیر، دیوبندی ملاں، شیعہ ذاکر) ایلیٹ لائف سٹائل انجوائے کرتے ہیں جبکہ نذرانے دینے والوں کے تن پہ کپڑے بھی کئی جگہوں سے پھٹے ہوتے ہیں۔
اگر آپ مذہبی آدمی ہیں تو یہ بات شرح صدر کے ساتھ ذہن میں بٹھا لیں کہ تمہارا خدا اس معصوم اور کمزور مخلوق پہ قطعاً شدت کرنے والا نہیں۔ وہ قہار سے کہیں زیادہ غفار اور رحیم ہے۔ وہ بہت زیادہ خوش اس وقت ہوتا ہے، جب اپنی اولاد پہ خرچ کیا جائے۔ اس کا کوئی نمائندہ یا ایجنٹ نہیں جو مال و زر لے کر اس کے آگے تمہاری سفارش کرے۔ وہ ہر وقت حالت غضب میں بھی نہیں رہتا اور وہ دیگیں چڑھانے، میلاد منانے، مجالس کرانے اور بیل کاٹ کر تقسیم کرنے سے تب راضی ہو گا، جب تمہارے گھر میں ماں کی دوائی میسر ہو، بیوی کی راحت کا سامان دستیاب ہو، اور تمہارے بال بچوں کی خوراک، تعلیم، تفریح اور دیگر ضروریات کے تمام وسائل تمہاری طرف سے دستیاب ہو چکے ہوں بصورت دیگر اس وقت تک تمہارے خدا کے نزدیک کوئی مالی ایکٹیویٹی پسندیدہ عمل نہیں جب تک تمہارے زیر کفالت افراد مناسب طرز پہ زندگی بسر کر لینے کے قابل نہ ہوں۔
خدا ایسا ہرگز نہیں کہ وہ پر آسائش لینڈ کروزر گاڑیوں میں سفر کرتے ذاکروں، جدید اسلحہ سے لیس محافظوں میں گھرے ملاؤں اور قلعہ نما عالیشان درباروں کے بھاری پیٹ والے پیروں پہ غریب کے خون پسینے کی کمائی خرچ کرنے کا تقاضا کرتا ہو۔ یہ رویہ ہماری غلط دینی تعبیروں کا نتیجہ ہے جسے انھی مذہبی شعبدہ گروں نے اپنی لگژری لائف کی بقا کے لیے زندہ رکھا ہوا ہے۔
میں ذاتی طور پر ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں، جس کی ذہین فطین بیٹی غربت کے سبب ساتویں سے آگے پڑھائی جاری نہیں رکھ سکی مگر وہ سالانہ ایک بڑا مذہبی جلسہ منعقد کرواتا ہے اور ملک کے طول و عرض سے بلائے ہوئے ملاؤں پہ ہزاروں خرچ کرتا ہے۔ خدا ان نا معتدل رویوں کا کسی صورت میں طرف دار نہیں ہو سکتا ۔ غریبوں کو خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اپنی معمولی رقم جو ان کے علاج معالجے اور بنیادی ضروریات پہ خرچ ہونی ہوتی ہے، اسے مذہب کے نام پہ لٹانے کے بجائے کوئی متبادل راہ اختیار کرنی چاہیے۔
خدا کی رضا حاصل کرنے کے بے شمار راستے ہیں۔ غریب کا اپنے آپ کو غربت کی بدبودار دلدل سے نکالنے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنا بھی قرب خداوندی کا ذریعہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امیر طبقے کو بھی اس امر پہ ایک نگاہ ضرور ڈال لینی چاہیے کہ مذہب کے نام پر ان کا خرچ کیا گیا پیسہ کس کی جیب میں جا رہا ہے کیا وہ ایلیٹ کلاس کی عیاشی کا باعث بن رہے ہیں یا غریب طبقے کی آسودگی کا ۔
آخر پہ ایک واقعہ سنا کے بات سمیٹتا ہوں۔
میں ٹوبہ ٹیک سنگھ سے گوجرہ ایک ہائی ایس میں جا رہا تھا۔ دفعتاً اگلی سیٹوں پہ مار کٹائی شروع ہو گئی۔ غور کرنے پہ پتہ چلا کہ تین چار لوگ مل کر ایک جیب کترے کی درگت بنا رہے ہیں، جو موقع واردات پہ ہی پکڑ لیا گیا تھا۔ بس پھر کیا گاڑی کی تقریباً ہر سواری نے حسب توفیق تھپڑ، مکا اور لات سے جیب کترے کی دھنائی شروع کردی۔ اتنے میں فرنٹ سیٹ پہ بیٹھے ایک نوجوان نے گاڑی رکوائی اور اتر کر پیچھے آیا اور جیب کترے کو سواریوں کے اس مشتعل ہجوم سے یہ کہتے ہوئے بچانے کی کوشش کرنے لگا کہ ”بھائیو! اس کے ساتھ بہت ہو گئی ہے، بس کردو، امید ہے آئندہ یہ حرکت نہیں کرے گا“ معاملہ دفع دفع ہو گیا اور جیب کترے کی جان بچ گئی۔ اس واقعے سے مجھے یہ معلوم پڑا کہ وہ نوجوان کسی اچھے خاندان کا عمدہ تربیت یافتہ اور اعلیٰ ظرف انسان تھا جو یہ سمجھنے کے باوجود کہ جیب کترے نے سنگین غلطی کی ہے، اس کو انسان سمجھتے ہوئے اس سے درگزر کا معاملہ کرنا چاہتا تھا۔
خدا کے ماننے والوں سے میں یہ سوال کروں گا کہ تمہیں اپنے خدا کا عکس جیب کترے کی دھلائی کرنے والے ہجوم میں نظر آیا یا اس نوجوان میں جس نے انسانی ہمدردی کے ناتے جیب کترے کو معاف کر دینے پر اصرار کیا؟
مجھے امید ہے تمہارے خدا کا ظرف بہت زیادہ وسیع ہو گا اور تمہاری چھوٹی موٹی انسانی لغزشوں پہ تمہیں کئی ہزار سال تک جہنم میں پھینک کر ، تم سے لاتعلق ہو کر نہیں بیٹھ رہے گا۔ لہذا خدا سے خوف کا تعلق ختم کر کے مذہبی ایجنٹوں کے وجود کا جواز بھی ختم کر ڈالو۔


