چلو اچھا ہوا


شنکر نے اس وحشتناک بت کی تراش کو مکمل کیا اور بڑبڑانا شروع کر دیا۔

”میری محبوبہ، آج میں تمہارا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں ہاں، وہ بھی دل کی گہرائی سے۔ تمہیں شاید یہ بھی اندازہ نہیں کہ میں تمہارا شکر گزار کیوں ہوں!

کچھ عرصہ پہلے جب میں ایک بھنور میں پھنس گیا تھا تو میں نے تمہیں فون کیا۔ تم نے کتنی آسانی سے مجھے ٹال دیا۔ اور میں نادان یہی سمجھتا رہا کہ تم فوراً میری مدد کرنے کے لئے بھاگی آؤ گی اور اس بھنور میں سے نکلنے میں میرا ساتھ دو گی۔ میں ایک دو دن یہی سوچتا رہا کہ شاید تم اپنی اہم ذمہ داریوں کو نبھانے میں مصروف ہو۔ تم نہیں آئی، نہ ہی مجھ سے کوئی رابطہ کیا۔ گھنٹے دنوں میں تبدیل ہو گئے اور دن ڈھلتے چلے گئے۔

میں نے اپنے من مندر میں ایک محبت کا بت تراشا ہوا تھا۔ تمہارا، پیار بھری نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے۔ میں اس کی پوجا کرتا ریا۔ کام پہ ہوتا یا گھر پہ، جاگتے سوتے، اندر یا باہر، تنہائی میں یا دوستوں کے درمیان، صبح شام یا دن رات، میرے خواب و خیال پہ تمہارا پورا قبضہ تھا۔ مجھے ہر سو ہر رنگ میں تم ہی نظر آتی تھی۔ بے اختیار، نہ سوچے سمجھے میں تمہاری محبت کا غلام بن گیا۔ میں عقل سے آگے نکل کر عشق کی منزلیں طے کرتا رہا۔

میں کتنا پاگل اور دیوانہ تھا، یہی سمجھتا رہا کہ تم بھی اس سفر میں میرے ساتھ نہیں تو آس پاس ضرور ہو۔
لیکن، لیکن
مجھے اس مشکل سے نکالنے کے لئے تم کبھی نہیں آئی۔ تمہاری یہ بے رخی میری برداشت سے باہر ہے۔ ”

پھر ایک دن، ایک اور پورے دن انتظار کرنے کے بعد شنکر محبت کے بت کو توڑتا رہا جب تک کہ وہ ریزہ ریزہ نہیں ہو گیا۔

”مجھے تو اب بھی تم سے پہلے کی طرح محبت ہے۔ مجھے اب بھی تمہارے اوتار کی ضرورت ہے جس کی میں پوجا کر سکوں۔

چلو، تم میری عاشقہ نہ سہی، دوست تو ہو۔ ”

پھر شنکر نے ایک اور بت تراشا، اپنی محبوبہ کی شکل کا، دوست کی طرح مسکراتا ہوا، چہرہ پہ نرمی۔ اور شنکر نے اس کی پوجا شروع کر دی۔

”دوست تو ضرور دوست کے بارے میں سن کر اس کی مدد کے لئے آتا ہے۔ دوست کا بھنور میں پھنسے ہوئے ایک دوست کی پکار سن کر دل پسیجتا ہے۔ ایک سچا دوست بھاگ کر آئے گا اپنے دوست کو مشکل سے نکالنے کے لئے۔ میں تمہاری راہیں تکتا رہا۔ ایک ہفتہ اور ایسے ہی گزر گیا۔ میرا دل خون کے آنسو رونے لگ گیا۔ یہ کون سی دنیا ہے جس میں دوست دوست نہ رہا۔“

شنکر نے مایوسی کے عالم میں اس بت کو بھی ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔

محبت تو ایک نازک اور لطیف جذبہ ہے لیکن جب محبت عشق میں بدل جائے تو وہ بے قابو ہو جاتی ہے۔ عشق کا جادو شنکر کے سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ عشق کو کوئی پرواہ نہیں تھی کہ معشوق کا پیام آیا یا نہیں۔ اس نے پھر شنکر کو مجبور کر دیا کہ وہ محبوبہ کی طرف سے کسی اور رشتے کو ڈھونڈے۔

”اگر تم دوست نہیں تو مجھے جانتی پہچانتی تو ہو۔ میں تمہارے لئے کوئی اجنبی تو نہیں۔ تم جان پہچان کے ناتے ضرور رابطہ کرو گی۔ ہمدردی کے دو بول کہو گی، شاید کوئی مشورہ بھی دو گی۔“

شنکر کے عشق نے اب ایک اور بت کھڑا کر لیا، اس کی شکل کا دبی دبی مسکراہٹ کے ساتھ۔
پھر شنکر اس کی پوجا کرتا رہا۔ ایک ہفتہ اور ایسے ہی گزر گیا۔

”اسے پتا ہے کہ میں بھنور میں پھنسا ہوا ہوں۔ ایسی بھی کیا بے تعلقی! اس نے مجھ سے کیوں نہیں کوئی رابطہ کیا۔ کیا وہ ایک فون بھی نہیں کر سکتی!“

کئی مرتبہ شنکر نے آنسو بہائے اور وہ بھگوان سے فریاد کرتا رہا۔

”میری محبوبہ کے دل کے کسی بھی کونے میں میرے لئے جگہ نہیں ہے۔ نہ محبت، نہ دوستی، نہ جان پہچان کا رشتہ۔ کیا میں اس کے لئے محض ایک اجنبی ہوں؟

لیکن ہے تو وہ بھی انسان ہی۔ ضرور ایک مشکل میں گھرے ہوئے انسان کے بارے میں سوچ کر کبھی نا کبھی تو اسے خیال آئے گا اور وہ کم از کم مجھ سے اس کے بارے میں پوچھے گی۔ ”

شنکر نے ٹوٹے ہوئے بتوں کا ملبہ پرے ہٹا کر اپنے من مندر میں ایک اور بت بنایا، انسانیت کا اپنی محبوبہ کی شکل سے ملتا جلتا، لیکن چہرے پہ ہلکا سا سوز پریشان زلفوں کے ساتھ۔ اب شنکر نے اس دیوی کی پوجا شروع کر دی۔

”ضرور یہ میری التجا کا جواب دے گی۔ انسانیت کا رشتہ تو بے لوث اور سب سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔ اسی لئے انسان ہزاروں کلومیٹر دور انجانے انسانوں کی مدد کے لئے نکل پڑتا ہے۔ اس کے دل میں مجھ انسان کے بارے میں لازماً خیال آئے گا۔ پھر وہ میرے بارے میں پتا کرنا چاہے گی کہ میں بھنور سے باہر آ گیا ہوں کہ نہیں۔ “

شنکر اس بت کی پرستش کرتا رہا۔ اپنے عشق کی پذیرائی کرتا رہا۔ لیکن شنکر کی محبوبہ تو شاید اس کو بھول چکی تھی۔ ایک دن شنکر بے قرار ہو گیا اور انسانیت کے بت کو ڈھیر کر دیا۔

”اب میرا اس سے کیا رشتہ ہے؟ کچھ بھی نہیں۔ اب میرا اس سے کیا رشتہ ہے؟ میں تو اب بھی اس پہ جان دینے کے لیے تیار ہوں، میں بے خطر اس کے لئے آگ میں کود سکتا ہوں لیکن اس کی طرف سے دل کی تمام راہیں بند ہیں، ہر طرح کے تعلق سے وہ بے نیاز ہے۔ “

شنکر اب حسرت و یاس کی دلدل میں دھنستا چلا گیا۔

”نہیں نہیں، ایک اور بھی تعلق ہو سکتا ہے، نفرت کا۔ ہاں اسے مجھ سے نفرت ہے۔ وہ عفریت جو انسانوں کو ہمیشہ کے لئے ایک دوسرے سے علیحدہ کر دیتا ہے، انسان کو انسان کا دشمن بنا دیتا ہے۔ پھر انسان دشمن کو مصیبت میں دیکھ کر قہقہے لگاتا ہے، اس کے مسائل میں اضافہ کرتا ہے، ہمدردی کے بجائے تضحیک کرتا ہے، یا کچھ اور نہیں تو اس کو بھنور میں گھرا ہوا دیکھ کر اپنی گردن دوسری طرف موڑ لیتا ہے۔ یہی رشتہ اس نے باندھ لیا ہے مجھ سے، نفرت اور عداوت کا!“

شنکر نے اپنے من مندر میں ایک اور بت بنایا جیسے اس کی محبوبہ بہت غصے سے ہے۔ پھر اس نے اس بت کو خوفناک بنانے کے لئے اس پہ کئی سینگ جڑ دیے۔

”اب مجھے تم سے کوئی توقع نہیں ہے۔ اب مجھے تمہارے آنے کا یا تمہاری طرف سے کسی پیغام کے آنے کا کوئی انتظار نہیں رہے گا۔ اب کوئی آہٹ مجھے بے چین نہیں کرے گی، کسی دستک کی آواز سن کر میں پاگلوں کی طرح دروازے کی طرف نہیں بھاگوں گا، شام کی تنہائی میں دور گلی میں کسی ہلتے ہوئے دھندلے سائے کو دیکھ کر میں بے قرار نہیں ہوں گا۔ اس کے لئے میں تمہارا بہت شکر گزار ہوں۔

چلو اچھا ہوا! تم نے مجھے انتظار کی اذیت سے آزاد کر دیا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے۔ ”
اور شنکر نے اس نئے بت کی پرستش شروع کر دی۔

حبیب شیخ
Latest posts by حبیب شیخ (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments