نہیں امکاں جاناں
ہم اس تصور میں سکون پاتے ہیں کہ وہ فوج جو ہمارے ملک کی اور خود ہماری محافظ ہے اس کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے لیکن یہ امیج، شخصیت اور کردار اس وقت دھندلانے لگتا ہے جب ہم اپنی فوج کے سیاسی اور کاروباری عزائم اور کرپشن کی وسعتوں پر نظر ڈالتے ہیں۔
اگر اس تحریر کو فوج کے محض سیاسی کردار پر بحث تک محدود رکھیں تو دس میں سے نو افراد ہمارے اس خیال سے اتفاق کریں گے کہ 2024 کے الیکشن کے بعد فوج کی سیاسی طاقت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس طاقت کی فوج نے قیمت بھی ادا کی ہے۔ فوج بدنام ہوئی، اس پر نکتہ چینی میں اضافہ ہوا، حرف دشنام میں شدت آئی، لوگوں کو علم ہو گیا کہ ان کی حفاظت کے علاوہ فوج اور کیا کیا کچھ کرتی ہے، جس سے ان میں غصہ اور ناراضگی پیدا ہوئی لیکن فوج نے اس صورتحال کے خاتمے کے لیے کچھ کیا اور نہ ہی وہ اپنی سیاسی طاقت میں اضافے سے پیچھے ہٹی ہے۔ یہ صورتحال 1970 میں بھی تھی۔ تب فوج ایک مختصر مدت کے لیے عارضی طور پر اپنے سیاسی کردار سے پیچھے ہٹی تھی یا پھر اس وقت بھی پیچھے نہیں ہٹی تھی بلکہ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو استعمال کرنے کے لیے محض اس طرح کا تاثر دیا تھا۔
فوج پر سب سے زیادہ تنقید جنرل اشفاق کیانی کے دور میں ہوئی۔ انھوں نے جنرل پرویز مشرف کے بعد آرمی چیف کا عہدہ سنبھالا تھا جب فوج پورے طور پر سیاست میں ملوث ہی نہیں بلکہ پیش پیش تھی اور بدنام ہو چکی تھی۔ ان کے دور میں فوج پر جتنے بڑے اور ہولناک حملے ہوئے ماضی میں کبھی نہیں ہوئے۔ میمو گیٹ اسکینڈل، ریمنڈ ڈیوس اور ایبٹ آباد واقعے نے فوج کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ عام آدمی تو رہا ایک طرف خود فوج کے اندر سے شدید تنقید سامنے آئی تھی۔
جنرل کیانی نے نہ صرف اس بدنامی کا تدارک کرنے کی کوشش کی۔ سیاست میں فوج کا عمل دخل کم کر کے، سیاست دانوں کے پیچھے اسے اس مقام پر کھڑا کیا جو کہ اس کا اصل مقام ہے۔ 2008 کے صاف اور منصفانہ الیکشن کروائے۔ لیکن اس مرتبہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ 2024 میں بھی فوج اتنی ہی بدنام ہے لیکن اس نے 2008 اور 2013 کی طرح صاف اور منصفانہ الیکشن کروانے کی کوئی کوشش کی اور نہ ہی اپنی سیاسی طاقت میں اضافے سے پیچھے ہٹی۔
ایک بے ترتیب ایجنڈا، متضاد پیغامات اور اقدامات، کابینہ میں فیصلہ سازی اور ہم آہنگی کا فقدان، خراب سیاسی اور معاشی گورننس، ، حد سے بڑھی ہوئی انا اور منتقم مزاجی نتیجہ تھی کہ عمران خان کی حکومت اپنے پہلے برس میں ہی ایک ناکام و ناکامیاب حکومت ٹھہری جو کہ بڑے بڑے دعووں کے بعد برسراقتدار آئی تھی۔ پونے چار برس حکومتی مدت کا حاصل اتنا بھی نہیں تھا کہ عمران خان چار منٹ اپنی حکومت کی کارکردگی پر بات کر سکتے۔
تاہم عدم اعتماد کی تحریک لاکر اور پی ڈی ایم کی حکومت تشکیل دے کر ان کے مخالف سیاست دانوں نے جس مہارت سے بدنامیوں، گالیوں اور ناکامیوں کا رخ اپنی طرف کیا وہ حیران کن تھا۔ نو مئی کے واقعہ کے ردعمل میں کی گئی گرفتاریوں، مختلف مقدمات میں عمران خان کو سزائیں، الیکشن کے دوران ریاستی جبر نے عمران خان کے حق میں وہ ہوائیں چلائیں کہ سب حیران ہو گئے۔ ثابت ہو گیا کہ لوگوں کی بڑی تعداد عمران خان کو سول سپریمیسی کی اپنی آرزو کا روپ باور کرتی ہے لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ خود عمران خان دوبارہ اسی فوج کی مدد سے اقتدار میں آنا چاہتے ہیں۔ وہ ساتھی سیاست دانوں کے ساتھ مل کر میدان سیاست میں فوج کا اثر رسوخ کم کرنے کے بجائے فوج کی باہوں میں باہیں ڈال کر ایوان اقتدار تک پہنچنے کو ترجیح دیتے ہیں ایسے میں فوج کو کیا ضرورت ہے کہ وہ میدان سیاست میں اپنی طاقت میں اضافے کی روش سے پیچھے ہٹے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ عوام کی وسیع اکثریت میں غصہ اور ناراضی پائی جاتی ہے۔ عوام کے اس غصے اور ناراضی کا عمدگی سے اظہار اور ان کے حقوق کو تروتازگی ان کے لیڈر دے سکتے ہیں، پارلیمنٹرین دے سکتے ہیں، وزیراعظم اور ان کے وزراء دے سکتے ہین، اراکین اپوزیشن دے سکتے ہیں۔ ان سب کا سیاست اور ریاستی ایوانوں میں ایک کردار ہے۔ وہی اداراتی سطح پر فوج کو پسپا ہونے، سیاسی معاملات میں مداخلت سے دستبردار ہونے پر مجبور کر سکتے ہیں لیکن 3 مارچ بروز اتوار یہ سب سیاست دان قومی اسمبلی کے ایوان میں ایک دوسرے کے ساتھ جو کچھ کر رہے تھے اس کو دیکھتے ہوئے یہ سب باتیں خیال محال اور جنون ہیں۔
ایک طرف سے شیررررر کے نعرے دوسری طرف سے شیم کے نعرے۔ سنی اتحاد کونسل عرف پی ٹی آئی کے اراکین نے وہ نعرے بازی کی کہ دیکھنے اور سننے والوں کے حلق خشک ہو گئے۔ ایوان میں مینڈیٹ چور اور گھڑی چور کا وہ شور تھا کہ مچھلی بازار بھی شرما جائے۔ اراکین کا ایک دوسرے سے عدم تحفظ کا یہ حال تھا کہ خواتین اراکین نے اپنی قیادت کو حصار میں لے رکھا تھا۔ ایک دو مرحلوں پر تلخی اتنی زیادہ بڑھی کہ معاملہ ہا تھا پائی تک پہنچ جاتا اگر اسمبلی کا سیکیورٹی اسٹاف درمیان میں نہ آتا۔ کیا یہی وہ لوگ ہیں جو اگلے پانچ برسوں میں فوج کو سیاسی معاملات میں مداخلت اور سیاسی طاقت میں پسپا ہونے پر مجبور کریں گے؟
پرویز مشرف کے جانے کے بعد فوج کا ریاست پر اقتدار اور کنٹرول، گورننس پر اقتدار اور کنٹرول کی طرف منتقل ہو گیا۔ ریاست پر کنٹرول کی صورت میں یہ ہوتا تھا کہ دس سال فوج کی حکومت، پھر دس سال سول حکومت۔ 75 برسوں میں تقریبا نصف مدت فوج اور نصف مدت سویلین حکومت رہی۔ 2008 کے بعد صورت یہ بنی کہ فوج نے ریاست کے بجائے گورننس پر قابو پا کر اقتدار مستقل بنیادوں پر اپنے ہاتھ میں رکھنا طے کر لیا۔ اس کے ساتھ ہی دو پارٹی سسٹم پر قابو پانے کے لیے عمران خان کی تیاری اور ہائبرڈ نظام کی تشکیل بھی زیر غور آ گئی۔ ماضی کی عمران خان کی حکومت ہو یا اب شہباز شریف کی حکومت ہائبرڈ نظام ہی پاکستان کا مقدر نظر آتا ہے۔
2013 میں نیشنل سیکیورٹی کمیٹی میاں نواز شریف کے دور میں تشکیل دی گئی جس کے بعد جنرلز اور سیاست دان ایک ہی ٹیبل پر آ گئے اس کے پیچھے خیال تھا کہ جنگ کا فیصلہ فوجی نہیں ایک سیاسی فیصلہ ہوتا ہے جو کہ سیاسی حکومت ہی بہتر طور پر کر سکتی ہے فوج محض اس فیصلے کے نفاذ کی قوت ہے۔ عمران خان کی حکومت میں معاشی فیصلوں میں سیاست دان اور فوج ایک پلیٹ فارم پر آ گئے۔ باجوہ صاحب جا کر اندرون و بیرون ملک کاروباری حلقوں سے ملتے، بیرونی ممالک سے قرضوں کا بندوبست کرتے۔ فوج معاشی معاملات میں بھی دخیل ہو گئی۔ یوں گورننس میں فوج کے کردار میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔
سیاسی معاملات میں فوج کا اثر رسوخ کم کرنے اور اسے اپنے دائرے تک محدود کرنے کے لیے ضروری ہے کہ تمام سیاست دان مل کر ایک نئے عمرانی معاہدے پر کام کریں لیکن یہاں بھی عمران خان وہ رکاوٹ ہیں جو اس طاقت ور نعرے سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں کہ ان کے علاوہ سب چور ہیں لہذا وہ اکیلے ہی فوج سے معاملات طے کریں گے۔ ہمارے علاوہ سب پارٹیاں غلط ہیں، سب سیاست دان غلط ہیں ان کی سوچ غلط ہے صرف اور صرف ہم صحیح ہیں جب تک عمران خان کی یہ سوچ ہے یہ معاملات یو نہی چلتے رہیں گے۔ یہ فاشزم کی سوچ ہے جس کے بعد عمران خان مسئلے کا حل نہیں خود ایک مسئلہ بن جاتے ہیں۔ عمران خان اور تمام سیاسی قوتوں کا فائدہ اسی میں ہے کہ وہ ایک ساتھ جمع ہو جائیں۔ جس کے امکان فی الحال تو دور دور نظر نہیں آتے۔
مدتوں سے یہی عالم نہ توقع نہ امید
دل پکارے ہی چلا جاتا ہے جاناں جاناں

