کوئٹہ سے کنیا کماری تک
کوئٹہ سے کنیا کماری تک براہوی زبان کی کتاب دراوڑستان کا اردو ترجمہ ہے جسے ڈاکٹر عبدالرزاق صابر نے لکھا اور نیلم مومل نے ترجمہ کیا ہے۔ یہ ترجمہ 2011 میں براہوی اکیڈمی کوئٹہ نے شائع کیا تھا۔ موجودہ کتاب ڈاکٹر عبدالرزاق صابر کا جنوبی ہندوستان کا سفرنامہ ہے جس میں دراوڑ نسل، اس کی زبان اور ثقافت اور جنوبی ہندوستان کے بارے میں سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔
ڈاکٹر عبدالرزاق صابر 1987 میں بلوچستان یونیورسٹی میں براہوی کے لیکچرار تعینات ہوئے، وہ 1996 میں شعبہ براہوی کے چیئرمین بنے، اب وہ گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ تربت یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہ چکے ہیں۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ بہت سے تحقیقی مضامین کے مصنف ہے ساتھ ساتھ میں وہ براہوی زبان کے اچھے شاعر بھی ہیں۔
موجودہ سفر نامہ جو ان کے جنوبی ہندوستان کے سفر کے بارے میں ہے جب انہیں 23 ویں آل انڈیا دراوڑی کانفرنس میں 24 مئی 1995 کو کیرالہ کے شہر تریویندم میں واقع داروڑ زبان کے بین الاقوامی اسکول نے مدعو کیا تھا۔
وہ اپنے سفرنامے کا آغاز بھارتی حکام کے ان کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک سے کرتا ہے اور کہتا ہے کہ جب وہ ممبئی ائرپورٹ پر اترا تو امیگریشن اتھارٹی کے ممبر نے اسے غصے، نفرت اور حقارت سے دیکھا اور پاکستانی مسافروں کی قطار میں کھڑے ہونے کا حکم دیا۔ اور ساتھ ساتھ میں اسے پولیس کو رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
مصنف دعویٰ کرتا ہے کہ ممبئی اور بنارس کے لوگ دنیا میں ٹھگی کے حوالے سے مشہور ہیں۔ اس کا مزید کہنا ہے کہ اس نے لوگوں کو تلگو نامی زبان میں بات کرتے سنا جو پہلی دراوڑ زبان مانی جاتی ہے۔ یہ زبان زیادہ تر اترپردیش میں بولی جاتی ہے۔ مصنف لکھتا ہے کہ تلگو زبان سنتے انہیں ایسا لگا جیسے وہ لوگ براہوی زبان میں بات کر رہے ہوں۔
ممبئی میں کچھ گھنٹے گزارنے کے بعد وہ ممبئی سے تریویندم پہنچے جو کیرالہ کا دارالحکومت ہے۔ 1995 میں ان کے مطابق کیرالہ ہندوستان کا واحد صوبہ تھا جس کی شرح خواندگی 100 فیصد تھی۔ تریویندم ہوائی اڈے پر ان کا استقبال دو لوگوں نے کیا جنہیں بین الاقوامی اسکول آف درویدین لینگوئجسٹکس نے بھیجا تھا۔ ہوائی اڈے سے انسٹی ٹیوٹ جاتے ہوئے اسے بتایا گیا کہ ایک اہم میزائل ٹیکنالوجی سینٹر تریویندم چھاؤنی میں واقع ہے۔ انہیں بتایا گیا کہ پاکستانیوں سمیت کسی بھی غیر ملکی کو اس چھاؤنی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔
جب وہ انسٹی ٹیوٹ پہنچے تو پروفیسر سبرامونیم (ایک پڑھے لکھے محقق) نے ان کا استقبال کیا جو انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر تھے۔ انہوں نے کانفرنس میں سکھ اور پنجابی اسکالرز سمیت کئی ماہر لسانیات اور ماہرین تعلیم سے ملاقات کی۔ اسے کیرالہ کا مشہور کھانا پیش کیا گیا جو کرمی چاول، مچھلی کے شوربے، بھنڈی کے شوربے، پالک اور لال مرچ کی چٹنی سے تیار کیا گیا تھا۔ اگلے دن وہ ٹرین میں کوچن شہر جاتا ہے۔ ان کے مطابق ہندوستانی ٹرین کا نظام ہمارے ریلوے نظام کی بنسبت اس وقت بھی جدید تھا جس کا ٹکٹ سسٹم کمپیوٹرائزڈ تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے اور اس کے ہندوستانی ساتھیوں نے کوچن میں شادی کی ایک تقریب میں شرکت کی اور وہاں کے شادیوں کی رسومات پر روشنی ڈالی۔
وہ کیرالہ میں چونالی مندر بھی گئے تھے جو کہ ان کے مطابق ایک جدید ترین فن تعمیر تھا۔ یہ ذہنی طور پر بیمار لوگوں کے علاج کے لیے مشہور تھا۔ اس نے 134 فٹ کا شیندرم مندر بھی دیکھا۔ جہاں صدیوں سے آگ جل رہی ہے۔ وہ کیرالہ یونیورسٹی بھی گئے اور پام لیف لائبریری دیکھی جہاں کھجور کے پتوں پر کتابیں لکھی ہوئی تھی
وہ تریویندم کی سبزیوں کی مختلف اور عجیب و غریب اقسام کے بارے میں بھی بات کرتا ہے۔ ان کے بقول دراوڑ لوگ سندھیوں کی طرح میٹھے کے شوقین نہیں ہوتے بلکہ وہ مسالے دار اور چٹ پٹی کھانوں کو پسند کرتے ہیں۔ وہ سرخ اور کالا مرچ کھانے کے عادی ہیں۔
کانفرنس کے تیسرے دن ڈاکٹر عبدالرزاق صابر نے براہوی ثقافت اور روایات پر اپنا لیکچر دیا۔ ان کے مطابق براہویوں کی بہت سی روایات دراوڑ ثقافت سے ملتی جلتی ہیں۔ وہ دعویٰ کرتا ہے کہ براہوی زبان دراوڑ زبان کی ایک ذیلی قسم ہے اور کہتا ہے کہ کہ مہر گڑھ، مونجودوڑو، سندھ، بلوچستان اور جنوبی ہندوستان کی دیگر تہذیبیں دراوڑ تہذیب سے متاثر تھیں۔ وہ مزید لکھتا ہے کہ دراوڑ قبائل اور زبانیں زیادہ تر جنوبی ہندوستان میں پائی جاتی ہیں اور یہ دعویٰ کرتا ہے کہ دراوڑ لوگ جنوبی ایشیا کے قدیم ترین لوگ اور قبیلہ ہیں۔
وہ قارئین کو بتاتا ہے کہ ناریل ہندو مذہب میں مقدس پھل ہے۔ ہندو اسے مذہبی تقریبات، شادی بیاہ اور دیگر پروگراموں میں استعمال کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صابر نے دراوڑی میوزیم کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے جنگلی جانوروں کی حنوط شدہ مجسمے دیکھیں جو قدیم دراوڑی لوگوں کے معاشرے کا حصہ تھیں۔
ڈاکٹر صابر نے اپنے سفرنامے میں دراوڑ زبان کے بارے میں بے پناہ معلومات فراہم کی ہیں۔ ان کے بقول دراوڑ زبانوں کی تعداد 26 ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ براہوی زبان سب سے قدیم دراوڑی زبان ہے۔ ان کے بقول ایک اندازے کے مطابق 160 ملین لوگ دراوڑی زبان بولتے ہیں (جو اب 214 ملین تک پہنچ گئی ہے ) ۔ یہ زبان ہندوستان، بلوچستان، سندھ، ایران، سری لنکا اور افغانستان میں بولی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، کیرالہ میں ملیالم بولی جاتی ہے، کرناٹک میں کنری یا کنڑ بولی جاتی ہے، ریاست میسور میں گوڈاگو، ممبئی میں کالمی، اریسا میں گونڈا، اندراپردیش میں کویا، اریسا میں کوی، بہار میں کرور، اندراپردیش میں کوی، بہار میں مالٹو، اڑیسہ میں مونڈا، مہاراشٹر میں نائکی، مدھیہ پردیش میں پارجی، میسور اور کیرالہ میں ٹوڈا، مہاراشٹر میں گونڈی اور اندراپردیش میں تلگو بولی جاتی ہے۔ جبکہ تامل زبان اس کی سب سے زیادہ بولنے والی زبان ہے جو ہندوستان، سری لنکا، ملائیشیا، ویت نام اور جنوبی افریقہ میں بولی جاتی ہے۔
مصنف تامل ناڈو کے اپنے دورے، اس کی خوبصورتی، پہاڑیوں اور جنگلی جانوروں کے بارے میں بھی بات کرتا ہے۔ انہوں نے کوٹلم شہر کا دورہ کیا جہاں ان کے مطابق 40 تامل شعرا نے جنم لیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ انہوں نے کوٹلم میں اس جگہ کا نظارہ کیا جہاں پانی میں ہندو گناہ سے پاکیزگی کے لئے نہاتے تھے، وہاں پر مردوں اور عورتوں کے لیے الگ الگ حصے بنائے گئے تھے۔ مصنف لکھتا ہے کہ کوٹلم شہر کو اس کی فنی خوبصورتی کی وجہ سے ٹیمپل اف آرٹ بھی کہا جاتا ہے۔ اس سفرنامے کے ایک باب کا عنوان کنیا کماری ہے۔ کنیا کماری تامل ناڈو میں ہندوستان کا آخری سرہ ہے جہاں بحیرہ عرب، خلیج بنگال اور دریا سندھ ملتے ہیں۔
یہ کتاب الفاظ کی چناؤ، بہترین جملوں، گرائمر کی غلطیوں سے پاک، براہوی زبان، دراوڑ قوم اور زبانوں اور جنوبی ہندوستان کے مختلف شہروں اور ثقافتوں کے بارے میں معلومات کا بیش بہا خزانہ ہے۔ اس کتاب کو پڑھتے ہوئے پڑھنے والا اس کے پڑھنے میں ایسا کھو جاتا ہے کہ اسے ایک ہی نشست میں ختم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ بلوچستان جیسے صوبے میں اس طرح کے نایاب سفر نامے لکھنے والے لکھاری یقیناً داد کے مستحق ہیں


