ہن قبائل کی یلغار


پانچویں اور چھٹی صدی عیسوی کے اوائل میں آج کے روسی اور چینی ترکستان اور وسط ایشیا سے ایک قبیلہ سیلاب کی لہروں کی طرح اٹھا، یہ نسلی طور پر قدیم ترکوں اور قدیم ایرانیوں کا مرکب تھے۔ افتھالیوں یا ہنوں کا ذکر ہمیں سب سے پہلے اس حیثیت سے ملتا ہے کہ وہ ”آوروں ( AVARS) کے محکوم اور رعیت تھے، جنہوں نے چوتھی صدی میں منگولیا اور اس کے گرد و نواح میں اپنی سلطنت قائم کی تھی، ان کا حکمران خاقان یا خان کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا افتھالی ہن یہ خطاب وسط ایشیا سے کوچ کے دوران اپنے ساتھ لائے، لیکن اس کے باوجود ہن ایک جداگانہ قوم تھے، جن کا لسانی اور ثقافتی پس منظر بالکل جدا تھا۔ اپنے وطن سے ان کے کوچ کا سبب یہ تھا کہ وہ اپنے سخت گیر“ آور ”حکمرانوں سے بچنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کاشغر یعنی موجودہ سنکیانگ اور سوغز ( SOGDIA) یعنی موجودہ سمرقند کو تاخت و تاراج کر دیا یہ تاریخ میں سفید ہن کہلائے، ان قبائل کے دو حصے ہو گئے الگ الگ دور میں، پہلے

ایک حصہ اپنے سردار مشہور زمانہ فاتح ”اٹیلا“ کی قیادت میں کوہ ایلپس عبور کر کے یورپ کی طرف نکل گیا، اور کچھ عرصے کے بعد دوسرا حصہ اپنے سردار ”تورومان کی قیادت میں جنوب مغربی ایشیا کی طرف بڑھا۔ یہ قبائل ترکی کے آرارات پہاڑ کے قریبی علاقوں سے گزرتے ہوئے ایران کی ساسانی سلطنت کو تاراج کرتے اور باجگزار بناتے ہوئے افغانستان کی طرف بڑھے، جہاں کے“ خلجی ”ہن نسل سے سمجھے جاتے ہیں، اس کے علاوہ میدانی علاقوں کے پٹھانوں خصوصاً غلجیوں“ میں بھی ہن خون کی آمیزش کے ثبوت ملتے ہیں۔

پھر ہندو کش کو عبور کرتے ہوئے دریائے سندھ عبور کر کے گندھارا پر قابض ہو گئے، ہن قبائل کے اس سردار کا نام ”تورومانا تھا اور اس کا بیٹا“ مہرا گلا ”تھا یہ دونوں بڑے ظالم مشہور ہیں، ان کا ذکر ہمیں ان ہی ناموں سے، گپت خاندان کے کتبوں میں بھی ملتا ہے۔ پنجاب پہنچ کر شدید قتل و غارت اور تباہی برپا کرتے ہوئے قابض ہو گئے، اور سیالکوٹ کو ، جسے اس زمانے میں سکالا ( SAKALA) کہا جاتا تھا اپنا دارالسلطنت بنایا، اور یہاں سورج دیوتا کا عظیم الشان مندر بھی تعمیر کروایا۔

مشہور تاریخ دان سر اولف کیرو اپنی مشہور زمانہ تصنیف“ پٹھان ”میں لکھتے ہیں“ خان ”کا لقب ہن ان علاقوں میں اپنے ساتھ لے کر آئے، گوجر یا ان دنوں گرجوار کہلانے والے قبائل وسطی ایشیا کے علاقوں میں ہنوں کی رعیت کی حیثیت سے رہا کرتے، یہ قبائل بھی ہنوں کے پیچھے پیچھے ان کے فتح کردہ علاقوں میں آن پہنچے اور آباد ہوتے چلے گئے۔ سر اولف کیرو لکھتے ہیں، کہ آج کے صوبہ خیبر پختون خواہ کے زیریں علاقوں میں دیکھا جائے تو ان علاقوں کے دیہات میں گو گوجر قبائل کی تعداد زیادہ ہو گی، اور وہ اکثریت میں ہوں گے، لیکن ان کا سردار یعنی گاؤں کا سربراہ“ خان ”ہو گا، جو خالصتاً ایک ہن تخلص ہے۔

سفید ہن ایک تباہ کن لہر کی طرح پورے پنجاب پر چھا گئے۔ ہن قبائل نے اپنی بڑی بڑی بستیاں راجپوتانہ اور پنجاب میں آباد کیں، اس گروہ میں ہنوں کے بعد سب سے زیادہ اہمیت گرجاروں ( GURJARAS) کو حاصل تھی جن کا نام ”گوجر“ ( GUJAR) کی شکل میں آج بھی موجود ہے۔ یہ شمال مغربی ہندوستان میں دور تک بکھری ہوئی ایک قوم کا نام ہے۔ جاٹ جو عام طور پر زراعت پیشہ ہیں، گوجروں کے قرابت دار سمجھے جاتے ہیں، گوجر پیشہ کے اعتبار سے عام طور پر مویشی پالنے والے ہیں۔

یہ دریافت کہ 800 سے 1018 ع تک قنوج پر حکومت کرنے والے راجے پاریہار ( PARIHARS) جن میں سے کئی شمالی ہند کے خود مختار حکمران کی حیثیت رکھتے تھے، درحقیقت پانچویں اور چھٹی صدی میں باہر سے آئی قوموں ( ہن اور گورجاروں ) کی نسل سے تھے اور گوجروں کے قرابت دار تھے۔ ( اگرچہ انھیں اعلی نسل کے راجپوت سمجھا جاتا ہے ) حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی غالب غیر ملکی قبیلہ ہندو دھرم اختیار کر لیتا تھا، تو ان حکمران اور فاتح خاندانوں کو بغیر کسی اعتراض کے کھشتری یا راجپوت تسلیم کر لیا جاتا تھا۔

اور ان کے ساتھ کے عام لوگوں اور گوجر قبائل کو ذیلی درجہ دے کر ان سے چھوٹی ذاتوں سے منسوب کر دیا جاتا تھا۔ ہنوں کی اس بنیادی لہر کے ہراول میں آنے والے کچھ ہن قبائل چونکہ تعداد کے لحاظ سے اتنے مضبوط نہ تھے کہ پنجاب کے قدیم قبائل پر فتح پا سکتے، تو وہ ہزارہ اور آج کے راولپنڈی کے علاقے سے کشمیر کی طرف مڑ گئے اور چھتر کلاس سے لے کر چیکار اور اوڑی سے آگے تک کے بالائی علاقوں تک پہاڑی سلسلے کی بالائی دھار کے علاقوں پر قابض ہو کر یہیں آباد ہو گئے، کشمیر کی قدیم تواریخ میں یہ ”کھش کہلائے اور آج بھی یہ قبائل ان ہی علاقوں میں آباد ہیں، اور کھکھ کہلاتے ہیں ان کو “ افتھالی کھکھ ”بھی کہا جاتا ہے، یاد رہے کہ ایرانی اور عرب تاریخ دان، ہن قبائل کو افتھالی یا افتھالیہ کہا کرتے تھے، یہ قبائل اپنی جارحیت پسند اور مہم جو فطرت کی وجہ سے کشمیر کے حکمرانوں کے لیے ہمیشہ مشکل کا باعث بنتے رہے ہزارہ سے کشمیر کی طرف جہلم ویلی کے راستے آنے اور جانے والے تجارتی قافلوں کو یہ قبائل پہاڑ سے اتر کر لوٹ لیا کرتے، اور دوبارہ پہاڑ کی بلندی پر واقع اپنے دشوار علاقوں کی طرف لوٹ جاتے، پھر کشمیر سے فوج بھیجی جاتی تو ان علاقوں میں تادیبی کارروائیاں کرتی، اب وعدے وعید ہوتے اور آئندہ ایسا نہ کرنے کے وعدے اور یقین دہانیوں پر یہ فوجیں واپس جاتیں، لیکن ان کے واپس جانے کے کچھ ہی عرصہ بعد اپنی بغاوت اور شورش پسند طبیعت کی وجہ سے یہ کھش یا کھکھ قبائل دوبارہ جہلم ویلی کے راستے سے گزرتے قافلوں پر حملے کرتے، ان کو لوٹتے، یہ سلسلہ ماضی قریب میں کشمیر پر پنجاب کے حکمران رنجیت سنگھ کے دور تک جاری رہا، لیکن پھر ان قبائل کی شورش سے تنگ آ کر رنجیت سنگھ کی طرف سے کشمیر کے گورنر ہری سنگھ نلوہ نے افتھالی کھکھوں کے مرکزی علاقوں کچیلی اور چیکار میں فوجی سکھ خاندان آباد کر دیے جو تقسیم تک ان ہی علاقوں میں رہائش پذیر رہے اس کے علاوہ ان قبائل کو شورش، لوٹ مار اور بغاوت سے باز رکھنے کے لیے کھکھ قبیلے کے سردار کے بیٹے کو یرغمال کے طور پر سرینگر رکھا جاتا، تاکہ یہ قبائل وعدہ خلافی نہ کر سکیں، ایسے ہی ایک کمسن کھکھ شہزادے کی اس یرغمالی کے دوران وفات ہو گئی اس کی قبر بادامی باغ سرینگر میں آج تک موجود ہے، یہ قبیلہ آج بھی خود کو “ ترک ”کہتا ہے۔

ان کے بعد ہن قبائل کی بڑی لہر پنجاب آن پہنچی، ان کا سردار تو رومان تھا، روایت ہے کہ چونکہ یہ آج مارگلہ کہلانے والی پہاڑیوں کے راستے آج کے راولپنڈی پہنچے تھے، لہذا ان پہاڑیوں کو اس کے بیٹے“ مہرا گلا ”کے نام پر آج تک“ مارگلہ ”کہا جاتا ہے۔ ہن بہت جنگجو، بے رحم اور ظالم ہوا کرتے تھے ٹیکسلا کی یونیورسٹی کے کھنڈرات میں ان کی طرف سے کی گئی آتشزدگی کی تہہ کا آج بھی ایک دیوار کے اوپن کراس سیکشن میں مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔

سر اولف کیرو موجودہ سکھ جاٹوں کی بہادری، اکھڑ پن، بے رحمی اور دوسروں سے کچھ الگ خد و خال کی بنا پر ان کو ہن قرار دیتا ہے۔ سردار تو رومان کے بعد اس کا بیٹا“ مہرا گلا ”سردار بنا، وہ اپنے باپ سے بھی زیادہ ظالم اور تشدد پسند شخص تھا لیکن اس کے شدید مظالم سے تنگ آ کر پنجاب میں آباد قدیم قبائل نے بغاوت کر دی, اس پر مہرا گلا اپنی فوج اور اس کے ہاتھیوں سمیت پنجاب سے فرار ہو کر بھمبر کے راستے پیر پنجال رینج کو عبور کرتے ہوئے وادی کشمیر کی طرف بڑھا، اس راستے میں ایک بلند تنگ درے پر اس کے قافلے کا ایک ہاتھی لڑھک کر گہرائی میں گر کر شدید زخمی ہو گیا اس زخمی ہاتھی کے چیخنے کی دردناک آوازیں اس تنگ درے میں گونجتے ہوئے اوپر تک سنائی دینے لگیں، مہرا گلا چونکہ بہت ظالم شخص تھا، اسے یہ دردناک آوازیں بہت اچھی لگیں، تو اس نے وہیں رک کر اس درے کی بلندی سے ایک سو ہاتھیوں کو نیزوں کے کچوکے دے دے کر اسی گہرائی میں پھنکوا دیا، اور ان کی دردناک چیخوں سے لطف حاصل کیا۔

پیر پنجال کے اس درے کو ان گرائے گئے ہاتھیوں کی مناسبت سے مقامی طور پر آج بھی“ ہستی ونج ”کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ کشمیر پر حکمران راجہ، مہرا گلا جیسے ظالم کی آمد کا سن کر اپنے خاندان سمیت فرار ہو گیا، اور یوں“ مہرا گلا ”نے کشمیر پر قبضہ کر کے وہاں اپنی حکومت قائم کر لی۔ راج ترنگنی میں مرکوز ہے کہ کشمیر میں مہرا گلا اپنے خونخوار لشکر سمیت جہاں جاتا، مردار خور پرندے اس کے لشکر کے اوپر اڑتے جاتے، کیونکہ یہ جہاں جاتا وہاں بہت سے انسانوں کو قتل کروا کر ان کی لاشوں کا قیمہ بنواتا، تو ان مردار خور پرندوں اور درندوں کو معلوم ہوتا کہ یہ جہاں جائے گا وہاں ہمیں وافر مقدار میں انسانی گوشت کھانے کو ملے گا، یہ درندہ صفت حکمران جس طرف جاتا یہ مردار خور پرندے اس کے لشکر سے پہلے ہی ان علاقوں پر منڈلانا شروع کر دیتے۔

اور اس کے لشکر کے پیچھے پیچھے مردار خور جانور اور درندے انسانی گوشت کھانے کے لالچ میں چلا کرتے روایت ہے کہ اس نے کشمیر پر اپنے دور حکمرانی کے دوران لاکھوں افراد کو قتل کروایا۔ اس ظالم“ مہراگلا ”کا انجام بھی بہت دردناک اور عبرتناک ہوا، اسے ایک تکلیف دہ جلدی بیماری لگ گئی، اور یہ خارش کر کر کے اپنا خون نکال دیتا لیکن خارش کم نہ ہوتی، اس نے تنگ آ کر لکڑیوں کی ایک بڑی چتا بنوائی، اور اس پر بیٹھ کر خود کو زندہ ہی نذر آتش کروا دیا۔

Facebook Comments HS