زمین سے اینڈرومیڈا گلیکسی تک (مکمل کالم)
ہیوسٹن/ واشنگٹن۔ یکم جنوری 2094 : انسانوں کی زمین سے مریخ پر منتقلی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ اس ضمن میں پہلا خلائی جہاز آج شام کو ہیوسٹن کے جانسن سپیس سنٹر سے روانہ ہو گا۔ جہاز میں امریکی ارب پتی، سیاست دان، اعلیٰ عہدے دار اور ہالی وڈ کی مشہور شخصیات سفر کریں گی۔ مریخ پر ان کی رہائش کے تمام انتظامات پہلے ہی مکمل کر لیے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ پچیس برس قبل مریخ پر پانی دریافت ہوا تھا جس کے بعد وہاں زندگی کی نشو نما کا جائزہ لینے کے لیے ناسا سے ایک مشن بھیجا گیا تھا، مشن نے مریخ کے ان مقامات کی نشاندہی کی تھی جہاں پانی کی وجہ سے انسانی زندگی کا برقرار رہنا ممکن تھا۔ انسانوں کی آباد کاری کا یہ منصوبہ زمین پر رونما ہونے والے موسمی تغیرات اور سائنس دانوں کی اس پیش گوئی کو مد نظر رکھ کر شروع کیا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ زمین سے انسانی زندگی کے خاتمے میں اب زیادہ زیادہ وقت باقی نہیں ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں رونما ہونے والی موسمی تبدیلیوں کی شدت نے امریکہ کے ساحلی علاقوں اور سپین اور پرتگال کے کئی شہروں کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اس کے علاوہ ایشیائی ممالک بھی شدید خطرے سے دوچار ہیں اور شنید کی جا رہی ہے کہ اگلے ایک دو برسوں میں ایشیا کا بڑا حصہ بھی سیلاب اور سونامی کی لپیٹ میں آ جائے گا۔
برسلز۔ یکم مارچ 2094 : یورپین یونین کے سیکریٹری جنرل نے اعلان کیا ہے کہ یورپی شہریوں کی مریخ پر منتقلی کے بعد زمین پر یورپ کے تمام اثاثے پسماندہ ممالک میں تقسیم کر دیے جائیں گے، اس مقصد کے لیے افریقی اور ایشیائی ممالک کی نمائندہ تنظیموں کے سربراہان پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو رواں برس کے اختتام تک اثاثہ جات کی پر امن تقسیم کا طریقہ کار وضع کرے گی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ یورپی شہریوں کے انخلا کے بعد ویزا پابندیاں ختم کردی جائیں گی اور یورپ پوری دنیا کے لیے کھول دیا جائے گا۔ یہ غیر معمولی اعلان اس وقت کیا گیا ہے جب امریکہ اور یورپ کے شہری بڑی تعداد میں مریخ منتقل ہو رہے ہیں، ایک اندازے کے مطابق امسال ستمبر تک منتقلی کا یہ عمل مکمل ہو جائے گا۔ یاد رہے کہ چند برس قبل ٹائٹینک نامی سپیس شپ کی ایجاد کے بعد سے مریخ کا سفر بے حد آسان ہو گیا ہے، اس سپیس شپ میں بیک وقت پچاس ہزار افراد سفر کر سکتے ہیں۔ ادھر امریکی دفتر خارجہ نے یورپین یونین کے اثاثوں کی تقسیم کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے انسانیت کی بھلائی کے لیے بڑا قدم قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے سپیس شپ سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ امریکہ بھی اپنے اثاثے غریب ممالک کو عطیہ کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کر رہا ہے، اس ضمن میں امریکی صدر نے مریخ میں قائم عارضی دفتر میں اجلاس بھی طلب کیا ہے جہاں اس معاملے کا جائزہ لے کر جلد فیصلہ کیا جائے گا۔
جدہ۔ یکم جون 2094 : اسلامی ممالک کی تنظیم کے ترجمان نے امریکہ اور یورپ کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہوں نے مریخ منتقلی کے فیصلے پر نظر ثانی نہ کی تو اسرائیل کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے گی۔ او آئی سی کے ترجمان نے یہ بیان اسلامی ممالک کے ہنگامی اجلاس کے بعد جاری کیا جو دو دن جاری رہنے کے بعد آج جدہ میں ختم ہو گیا۔ ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ امریکہ اور یورپ کا نسل پرستانہ رویہ اور مکروہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے بالآخر بے نقاب ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپیس شپ میں مسلمانوں پر مریخ جانے کی پابندی لگانا اس بات کا ثبوت ہے کہ سفید فام اقوام کس قدر متعصبانہ رویہ رکھتی ہیں۔ واضح رہے کہ امریکہ اور یورپ نے گزشتہ ہفتے مسلمان ممالک کے سربراہان کو سپیس شپ میں اپنے ساتھ لے جانے سے معذرت کر لی تھی جس کے بعد او آئی سی کا یہ سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ او آئی سی نے کسی معاملے پر محض مذمت کرنے کی بجائے اس طرح واضح دھمکی دی ہو۔ ماضی میں تنظیم کو اس بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے کہ پچاس ممالک کا یہ اتحاد عملی طور پر کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں۔ یاد رہے کہ اسرائیل کی پوری آبادی پہلے ہی امریکیوں کے ساتھ مریخ پر منتقل ہو چکی ہے اور اسرائیل کے شہروں میں اس وقت فلسطینی آباد ہیں۔ سرکاری طور پر منظور شدہ ایک دفاعی تجزیہ کار کے مطابق او آئی سی کا اسرائیل کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی دینا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ مسلمان ممالک نے بالآخر دشمن کے خلاف متحد ہو کر لڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور یوں امت مسلمہ کی وحدت کا خواب پورا ہو گیا ہے۔
لاہور/اسلام آباد/گوادر۔ یکم ستمبر 2094 : پاکستان نے یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اثاثوں کی تقسیم کے عمل میں پاکستان کو ترجیح دے۔ ایک بیان میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان نے اٹھایا ہے اسی لیے یورپ کے اثاثوں میں زیادہ حصہ اسلام آباد کا ہے۔ ادھر گوادر میں سیلاب اور بارشوں کے نتیجے میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں، محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کا یہ سلسلہ تھمنے کا فی الحال کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔ حکومت بلوچستان نے سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے پچاس پچاس ہزار روپے کی امداد کا اعلان کیا ہے جبکہ وفاقی حکومت نے یقین دہانی کروائی ہے کہ یورپ سے ملنے والے اثاثوں پر پہلا حق بلوچستان کے لوگوں کا ہو گا۔ لاہور کے علاقے اچھرہ میں گزشتہ روز اس وقت صورتحال سخت کشیدہ ہو گئی جب ایک عورت کو لوگوں نے حلوہ پوری کھاتے ہوئے دیکھ لیا۔ اس سے پہلے کہ مزید اشتعال پھیلتا، پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور عورت کو بحفاظت وہاں سے نکال کر لے گئی۔ بعد ازاں اس عورت نے اپنے فعل پر معذرت کی اور کہا کہ اس سے انجانے میں صرف حلوہ کھانے کی غلطی ہو گئی، آئندہ وہ حلوہ ہمیشہ پوری کے ساتھ کھائے گی۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ موقع پر پہنچنے والی بہادر پولیس افسر کو مریخ کی سیر کروائی جائے۔
اینڈرومیڈا گلیکسی کا ایک سیارہ، تاریخ نا معلوم: آج ہمارے سیارے سے چھوڑا گیا راکٹ پوری گلیکسی کا چکر لگا کر کامیابی کے ساتھ واپس آ گیا ہے۔ راکٹ میں موجود خلا بازوں کی رپورٹ کے مطابق انہیں صرف زمین نامی سیارے پر زندگی کے آثار ملے، شنید ہے کہ کسی زمانے میں اس سیارے پر انسان نامی کوئی مخلوق رہتی تھی۔ اس مخلوق کی ذہانت کے بارے میں اندازے لگائے جا رہے ہیں تاہم فی الحال خلا بازوں کو جو مواد زمین سے ملا ہے اس کی روشنی میں یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اس مخلوق کی ذہانت کی سطح خاصی پست تھی، گو کہ زمین کے دیگر جانداروں کے مقابلے میں یہ خود کو برتر سمجھتی تھی لیکن اگر اس کا موازنہ گلیکسی کے دیگر سیاروں کی مخلوق سے کیا جائے تو یہ بالکل نچلی سطح پر ہوگی۔ اس مخلوق نے ترقی کے زعم میں نہ صرف اپنے سیارے کو تباہ کیا بلکہ مریخ پر بھی اپنی حیات برقرار نہ رکھ سکی اور بہت جلد اس کا وجود مٹ گیا۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ زمین سے اس مخلوق کے کچھ اجزا اکٹھے کرسکیں تاکہ ایک نیا انسان تخلیق کر کے تحقیق کو مزید آگے بڑھایا جائے۔ تاہم کچھ سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ انسان کی یہ تخلیق ہمارے سیارے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، ان کی رائے میں انسان نامی اس مخلوق کی ذہنی سطح یقیناً ”پست ہوگی مگر اس مخلوق کا رجحان ایک ایسے رویے کی طرف ہے جسے ہم ’بدی‘ کا نام دے سکتے ہیں اور یہ رویہ گلیکسی کے تمام سیاروں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ سائنس دانوں کی اس رائے نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے اور اب ہمارے سیارے پر لوگ یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ بدی کیا ہوتی ہے!


