مریم نواز کا مینجمنٹ اور گورننس ماڈل
مریم نواز ماشا اللہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کی نومنتخب وزیراعلیٰ ہیں۔ اس مضمون میں ہم ہر قسم کی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر ان کے مینجمنٹ ماڈل کا جائزہ لیں گے اور تجزیہ کرنے کی کوشش کریں گے کہ کیا اس مینجمنٹ ماڈل سے پنجاب کے عوام کا معیار زندگی بلند ہو پائے گا یا پھر ان کی زندگی میں غم کی کالی رات کا دورانیہ مزید طویل ہوتا جائے گا۔
مریم نواز کے مینجمنٹ ماڈل کے جو شواہد اب تک سامنے آئے ہیں اس سے یہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے چچا اور پاکستان کے وزیراعظم میاں شہباز شریف کے گورننس کے ماڈل کو کاپی کر رہی ہیں۔
صفت کسی انسان کی ہو یا پھر کسی مینجمنٹ ماڈل کی وہ کام کے ماحول کی ایک مخصوص تشکیل کرتی ہے۔ آئیے وزیراعظم پاکستان عزت مآب میاں شہباز شریف کے مینجمنٹ کے ماڈل کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ مریم نواز صاحبہ کا گورننس کا ماڈل انہی سے مستعار لیا ہوا ہے۔ موجودہ وزیراعظم پاکستان اور سابقہ وزیراعلیٰ پنجاب کے گورننس اور مینجمنٹ ماڈل کی درج ذیل صفات ہیں۔
اس منیجمنٹ ماڈل میں لیڈر مرکز توجہ ہوتا ہے۔ ٹیم کے سارے ارکان لیڈر کا ہرآن ہر لحظہ طواف کرتے ہیں اور ناصرف اس کے ہر حکم کی تعمیل کو اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں بلکہ اس کی نظروں کے لطیف اشاروں کو بھی ڈی کوڈ کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں۔ لیڈر ان کی جانب اگر چل کے آئے تووہ لیڈر کی طرف دیوانہ وار بھاگ کے لپکتے ہیں۔
”چیف ترے جانثار بے شمار بے شمار“ کا غلغلہ بلند کیا جاتا ہے۔ اندھی عقیدت کے حامل پیروکاروں کو منزل نہیں رہنما مطلوب ہوتا ہے۔ انہیں اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ پورے ملک میں آگ لگ جائے اور سب کچھ جل کر بھسم ہو جائے لیکن ان کے لیڈر کا وجود سلامت رہے تو سب خیر ہے۔
اس منیجمنٹ ماڈل کی دوسری خصوصیت شوبازی ہے۔ اس میں لیڈر ہر وقت متحرک نظر آتا ہے۔ وہ سرپرائز چھاپے مارتا ہے۔ وہ اچانک کسی زیر تعمیر پبلک پراجیکٹ کی سائٹ پر نمودار ہوتا ہے اور متعلقہ افسروں کی سرزنش کرتا ہے اور کیمرے کی آنکھ کے سامنے ان میں سے چند کو معطل کر دیتا ہے اور یوں ایک نا اہل سسٹم کی سزا ایک نا اہل افسر کو دے کر اپنی قائدانہ صلاحیتوں کی داد وصول کرتا ہے۔
اس منیجمنٹ ماڈل کی تیسری خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ اس میں لیڈر ہر پبلک پراجیکٹ کو اس کی مقررہ ڈیڈلائن سے قبل مکمل کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔ اس کے نزدیک حمل کا دورانیہ نو ماہ سے کم کر کے پانچ یا چھ ماہ تک لایا جاسکتا ہے۔
اس مینجمنٹ ماڈل میں لیڈر ”پسوڑی بادشاہ“ ہوتا ہے۔ وہ اپنی ٹیم کا دن کا چین اور راتوں کی نیند حرام کر کے اپنی بے مثال لیڈرشپ کا علم بلند کرتا ہے۔ لیڈر اپنی برق رفتاری کی مارکیٹنگ تو خوب کرتا ہے لیکن یہ حقیقت فراموش کر دیتا ہے کہ زمین کو زرخیز بنانا لیڈر کا فرض ہے اور مٹی زرخیز نم ہونے سے ہوتی ہے لیڈر کی آنیوں جانیوں سے نہیں ہوتی ہے۔
اس مینجمنٹ ماڈل کے مطابق لیڈر معاملات کو اس وقت درست کرنے کے لئے اپنی توجہ مبذول کرتا ہے جب چڑیاں کھیت چگ چکی ہوتی ہیں اور ملک کے طول و عرض میں دھول اڑ رہی ہوتی ہے۔
غالب نے کہا تھا کہ
جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہو گا
کریدتے ہو جواب راکھ! جستجو کیا ہے
میاں شہباز شریف کے مینجمنٹ ماڈل کی پیروی کرنے والے لیڈر اپنی نادانی میں جسم یعنی نظام کو نذرآتش کر دیتے ہیں اور پبلک پراجیکٹس کی تکمیل کے لئے فواد حسن فواد جیسے سورما اور جادوئی افراد پر انحصار کرتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہمارے تمام لیڈر جو کسی بھی جماعت سے وابستہ ہوں وہ نظام کی بہتری پر یقین نہیں رکھتے اور فائر فائٹنگ کو ہی نظام کا متبادل سمجھتے ہیں۔
سسٹم یا نظام جسم ہے اور جسم صرف دل نہیں ہے۔ جسم کی خرابی دل کو بھی لے بیٹھتی ہے اور پھر دل اداس ہو کر بار بار لندن یا اڈیالہ کا رخ کرتا ہے۔ دل کو لندن یا اڈیالہ جاکر فرصت کے رات دن تو میسر آ جاتے ہیں جو اپنے اعمال پر غور و فکر کرنے کے لئے بہترین جگہ ہے لیکن یہی لیڈرز جب اپنے روایتی سیاسی میدان میں لوٹتے ہیں تو پھر وہ ماضی کی غلطیاں مزید شدت سے دہراتے ہیں۔
اس مینجمنٹ ماڈل میں لیڈر اپنی ٹیم میں ان افراد کو شامل کرتا ہے جو جی حضوری کے چمپئن ہوتے ہیں۔ وہ اپنے لیڈر کے جسم کا مساج تھائی لینڈ کی حسیناؤں سے بھی زیادہ اچھے طریقے سے کرتے ہیں۔ وہ اپنے لیڈر کو یقین دلا دیتے ہیں کہ وہ ”چراغ سحری“ ہے اور اس کے بعد صرف اندھیرا ہے۔ صرف ان کا لیڈر ہی بستی کی ڈوبتی کشتی کو کنارے لگا سکتا ہے۔
میاں شہباز شریف کا مینجمنٹ ماڈل ٹیسٹ ٹیوب بچے پیدا کرنے میں بے مثال ہے۔ اس کے سارے پودے گملے میں لگتے ہیں اور منظم قوت کی زیر نگرانی پروان چڑھتے ہیں۔
عزت مآب وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلیٰ پنجاب کا مینجمنٹ اور گورننس ماڈل ”سافٹ ویئر انجنیئرنگ“ کے ازلی و ابدی اصول پر استوار ہوتا ہے۔ پنجاب کی نومنتخب وزیراعلیٰ محترمہ مریم نواز بھی اس مینجمنٹ ماڈل کو آگے لے کر چلیں گی جس کے اختتام پر ہو سکتا ہے کہ عوام الناس اس نتیجے پر پہنچیں کہ حرکت تو بے شک بہت تیز تھی لیکن سفر پھر بھی نہیں کٹا ہے۔


