دوہری جلاوطنی کی ایک کہانی


(ناول ”دا لاسٹ گفٹ“ )
لکھاری:۔ علی حسن اویس

”دی لاسٹ گفٹ“ عبدالرزاق گرناہ کا آٹھواں ناول ہے جو 2011 ء میں پہلی مرتبہ شائع ہوا۔ ناول کا تانا بانا افریقی پس منظر میں جلا وطنی اور احساس جرم کے گرد بنا گیا ہے۔ یہ ناول پانچ ابواب پر مشتمل ہے اور ہر باب جلاوطنی کی ایک داستان ہے۔ ناول کے مرکزی کردار عباس اور مریم ہیں جو کینوس میں میاں بیوی کے روپ میں ابھرتے ہیں۔

ناول کا آغاز فروری کی ایک یخ بستہ رات میں عباس کی بیماری سے ہوتا ہے۔ اس کی بیوی مریم، اسے ہسپتال لے جاتی ہے وہاں اسے ڈاکٹر مینڈیز بتاتی ہے کہ عباس کو ذیابیطس کا مرض لاحق ہے جس وجہ سے اس پر فالج کا حملہ ہوا ہے۔

مریم ہسپتال کی کنٹین میں کام کرتی تھی۔ عباس کی بیماری کے سبب اسے کئی ہفتے ہسپتال سے چھٹی لینا پڑی۔ جس وجہ سے اس کی نوکری خطرے میں پڑ گئی۔ مگر وہ عباس کو تنہا چھوڑ کر نوکری پر نہیں جانا چاہتی تھی۔ ایک روز مریم نے عباس کے چہرے پر مسکراہٹ کے آثار دیکھے تو اسے وہ وقت یاد آ گیا جب وہ سیاہ فام ہلکے بھورے رنگ کے عباس سے ایکسیٹر (برطانیہ کا ایک شہر) میں پہلی بار ملی تھی۔

پہلی بار اس نے عباس کو ایک قطار میں کھڑے مسکراتے ہوئے دیکھا تھا۔ دوسری بار وہ اس کیفے میں ملے جہاں مریم کام کرتی تھی۔ تب اسے معلوم ہوا کہ عباس ملاح ہے۔ مریم نے کیفے کی نوکری چھوڑ کر فیکٹری میں جانا شروع کیا تو تیسری مرتبہ اس کی ملاقات عباس سے اسی فیکٹری میں ہوئی۔ وہ کچھ عرصہ ساتھ رہتے رہے اور جب مریم حاملہ ہو گئی تو ان دونوں نے شادی کر لی۔ مگر مریم کے سرپرست فیروز اور وجے اس شادی کے خلاف تھے۔

وہ فیروز ہی تھی جس نے مریم کو اس کی زندگی کی کہانی سنائی تھی۔ فیروز نے مریم کو بتایا تھا کہ ہسپتال میں مریم ایک لاوارث بچی کی صورت ملی تھی۔ اس کے والدین کا کچھ پتہ نہ چل سکا اور حکومت نے اسے مسٹر اور مسز رگس کے پاس چھوڑ دیا۔ جب وہ تھوڑا بڑی ہوئی تو انہیں اپنا والدین سمجھنے لگی اور مریم رگس کے نام سے پہچانی جانے لگی۔ کچھ سالوں بعد اسے ایک اور خاندان کی تاویل میں دے دیا گیا۔ مگر وہ نئے خاندان کو خوش نہ کر سکی، جس سبب حکومت نے اسے فیروز اور وجے کے سپرد کر دیا۔ فیروز ماریشئیس سے ایک مسلمان گھرانے کی لڑکی تھی جبکہ وجے کا تعلق ایک انڈین ہندو گھرانے سے تھا۔ ان دونوں نے بھی خاندانی روایات کے خلاف شادی کی تھی۔ ان کی اپنی کوئی اولاد نہ تھی اس وجہ سے مریم کو لے کر وہ بہت خوش تھے۔

مریم نے جب سے عباس سے شادی کی تھی، اس کا فیروز اور وجے سے کوئی رابطہ نہ تھا۔ جب ان کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی تو اس نے فیروز اور وجے سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر وہ اسے نہ مل سکے۔

جب عباس پر فالج کا حملہ ہوا تو اس کی بیٹی حنا اور بیٹا جمال بھی گھر آ گئے۔ حنا 28 سال کی تھی اور ایک سکول میں پڑھاتی تھی جبکہ جمال لندن کی ایک یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا۔ حنا اپنے باپ کو اس وجہ سے پسند کرتی تھی کہ وہ بچپن میں اسے بھوکی شارک، لگڑ بگے، بولنے والے اونٹ اور وحشی جانوروں کی کہانیاں سنایا کرتا تھا۔ جبکہ جمال والد کو اس وجہ سے پسند کرتا تھا کہ وہ انہیں سیر پر لے جایا کرتا تھا۔ کچھ دن تک وہ دونوں گھر پر رہے اور پھر حنا نے ماں کو کہا کہ وہ اسے اسٹیشن چھوڑ آئے تاکہ وہ لندن جا سکے۔

مریم حنا کو اسٹیشن چھوڑ آئی اور واپس آ کر جمال سے باتیں کرنے لگی اور بتایا کہ جب اس نے اور عباس نے بھاگ کر شادی کی تو انہیں دن رات کام کرنا پڑا اور وہ مختلف شہروں میں پھرتے رہے اور آخر عباس کو الیکٹرانکس کی فرم میں نوکری مل گئی اور وہ خود ہسپتال کی کینٹین میں کام کرنے لگی۔ مگر اب عباس بستر مرگ پر پڑا، بولنے سے قاصر محض آوازیں نکال سکتا تھا جن کا کوئی مطلب نہ ہوتا۔

حنا لندن میں ایک شخص نک سے ملی اور اس سے پیار کر بیٹھی۔ وہ اس کے ساتھ رہنا چاہتی تھی مگر والدین کو یہ نہیں بتانا چاہتی تھی کہ وہ نک سے پیار کرتی ہے۔ ایسٹر کی چھٹیوں میں وہ نک کے گھر اس کے والدین جل اور رالف سے ملنے برائٹن گئی۔ رالف بسیار گو اور کہانی گھڑنے میں ماہر جبکہ جل نسبتاً کم گو اور خوبصورت عورت تھی۔ ان دونوں نے حنا کو خوش آمدید کہا اور اچھی خاطر تواضع کی۔ مگر جب حنا نے مسلمان ہونے کے سبب چرچ کی عبادت میں شامل ہونے سے انکار کیا تو نک کا چچا نا صرف ناراض ہوا بلکہ حنا سے اس کے خاندان کے متعلق مختلف قسم کے سوالات پوچھ پوچھ کر تنگ کرنے لگا۔ مگر وہ صرف اتنا کہہ سکی کہ وہ خاندان کے بارے کچھ نہیں جانتی اور مذہبی طور پر برائے نام مسلمان ہے۔

دوسری طرف جمال کا بھی یہی حال تھا مگر جب وہ یونیورسٹی میں داخل ہوا تو وہ اسلام اسٹڈیز گروپ میں شامل ہو کر ہر ہفتے اسلام کے متعلق جاننے کی سعی کرنے لگا۔ تاکہ وہ یہ جان سکے کہ جس مذہب کا اس پر ٹھپا ہے وہ عملی نوعیت میں کیسا اور اس کی تعلیمات کس نوعیت کی ہیں۔

پھر مرکزی کردار عباس کی کہانی شروع ہوتی ہے اور اس کے بچپن کا پس منظر پیش منظر بن کر ابھرتا ہے۔ عباس تنزانیہ کے شہر زانزیبار میں، ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوا جس کا سربراہ غریب ہونے کے ساتھ ساتھ کنجوس بھی تھا۔ وہ بچوں کو تعلیم کے بجائے کام کرنے پر اکساتا تھا۔ والد کے منع کرنے کے باوجود عباس اس گھر کا واحد بچہ تھا جو سکول میں داخل ہوا۔ وہ سکول جاتا اور کبھی کبھی اپنے چھوٹے بھائی کو بھی سکول لے جاتا۔ سکول کے بعد وہ کالج میں داخل ہوا اور شہر میں اپنے رشتہ داروں کے گھر رہنے لگا۔

اسی دورانیہ میں اس کی نظر سامنے والے گھر کی لڑکی پر پڑی جس کا باپ سوداگر تھا۔ معاملہ دیکھنے تک محدود تھا کہ عباس کی بہن نے عباس کی شادی اس لڑکی سے کروا دی۔ عباس کو ہر شخص اس شادی کی وجہ سے طعنے دیتا اور اس پر ہنستا۔ مگر عباس کو کچھ سمجھ نہ آتا کہ ان دبی دبی مسکراہٹوں کے کیا معنی ہیں۔ اس کی بیوی نے اسے بتایا کہ وہ سوداگر کی بیٹی نہیں بلکہ اس کے والدین مر چکے ہیں۔ عباس کو ان مسکراہٹوں کے معنی اس وقت سمجھ آئے جب چھے ماہ کے اندر ہی بچہ کی پیدائش ہو گئی۔ آخر اس نے اس اذیت سے چھٹکارا پانے کا سوچا اور بغیر کسی کو بتائے وہاں سے بھاگ نکلا۔

عباس نے اپنی بیوی مریم سے یہ بات چھپائی تھی کہ وہ مریم سے شادی کرنے سے قبل شادی شدہ تھا اور اس نے اس عورت کو اس وقت چھوڑ دیا جب وہ حاملہ تھی اور مڑ کر کبھی واپس نہیں گیا۔ مریم اس بات پر خوش تھی کہ عباس آہستہ آہستہ ٹھیک ہو رہا ہے اور بات چیت کرنے لگا ہے۔ اسی دوران عباس زیادہ تر اپنے ماضی کے واقعات بیان کرتا۔ کبھی سکول کے بارے میں باتیں کرتا تو کبھی تنزانیہ کے متعلق۔ اسی دوران اس نے مریم کو یہ بتایا کہ وہ پہلے بھی شادی شدہ تھا۔

اسی دوران جمال بھی لندن سے واپس آ گیا۔ اور کچھ دن بعد اس کی کلاس فیلو بھی وہاں پہنچ گئی جس کا نام لینا تھا۔ ان دونوں نے مل کر خوب سیر کی اور ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارا اور ایک دوسرے کو اپنی زندگی کی کہانیاں سنائیں۔ کچھ دن وہ وہاں رہنے کے بعد آئرلینڈ اپنے ماں باپ کے پاس چلی گئی۔ اسی دوران حنا واپس آئی اور اس کی ماں مریم نے اسے بتایا کہ اس کا باپ تھراپی سے بہتر ہو رہا ہے مگر وہ ایسی کہانیاں اور قصے سنانے لگا ہے جس کو برداشت کرنے کی اس میں ہمت نہیں۔ دوسری طرف حنا نے بتایا کہ وہ نک کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہے مگر اس کے والدین کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ نہیں رہنا چاہتی۔

ایک روز مریم کو بیٹھے بیٹھے وہ وقت یاد آ گیا جب وہ وجے اور فیروز کے ساتھ رہتی تھی۔ اور اس وقت کی کہانی وہ اپنی بیٹی حنا اور بیٹے جمال کو سنانے لگی۔ اس نے بچوں کو بتایا کہ وہ فیروز کی طرح نفسیاتی نرس بننا چاہتی تھی اور وجے ایک محنتی شخص تھا مگر وہ دونوں پیسے کے معاملے میں محتاط تھے اور سادہ زندگی بسر کرتے تھے۔ وہاں رہتے ہوئے وہ بھی محنتی ہو گئی تھی اور گھر کے کام خود کیا کرتی تھی جیسے کھانا بنانا اور صفائی کرنا۔

تب وہ سکول میں پڑھتی تھی اور اسی دوران وہ سکول میں اچھے نمبر بھی لینے لگی تھی۔ اس نے بچوں کو بتایا کہ ایک بار وجے کا بھتیجا ان کے پاس رہنے آیا اور اس نے اسے ہراساں کرنے کی کوشش کی۔ مگر وہ اس سے بچ نکلی۔ وجے اور فیروز خاموش رہے۔ مگر جب انہیں عباس اور مریم کے رشتہ کے متعلق معلوم ہوا تو انہوں نے مریم کو کمرے میں بند کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ اس سے مل نہ سکے۔ اس نے کہا کہ وہ پہلے انہیں یہ سب بتانا نہیں چاہتی تھی تاکہ اس کے بچے دنیا کو اتنا غیر محفوظ تصور نہ کریں جتنا میں نے پایا۔ پھر اس نے ایک آہ کے ساتھ انہیں بتایا کہ وہ ان کے باپ کی دوسری بیوی ہے۔ یہ سن کر حنا چلانے لگی کہ وہ تارکین وطن کے ان سانحات کو برداشت نہیں کر سکتی۔ جمال والد کے پاس گیا اور اس کے ہاتھ چومیں۔ دوسرے دن جمال یونی ورسٹی کے لیے روانہ ہوا اور حنا برائٹن نک کے پاس چلی گئی۔

جب وہ نک سے ملی تو دونوں نے حنا کے پیپرز اور حنا کے والدین کے متعلق باتیں کیں اور پیار کیا۔

جمال یونی ورسٹی میں لینا (Lena) اور ہارون سے ملا۔ ہارون نے اسے بتایا کہ اس کے پاس کچھ تارکین وطن لوگوں کی تصاویر ہیں جو اسے نئے گھر کے دراز میں ملی تھیں۔ مگر وہ ان تصویروں کے پیچھے پوشیدہ کہانی کو نہیں جانتا۔

اسی دوران ستمبر میں عباس پر فالج کا ایک اور حملہ ہوا جس وجہ سے اس کی موت ہو گئی۔ حنا اور جمال دوبارہ گھر چلے گئے۔

عباس کے بچے چاہتے تھے کہ ان کا باپ کھل کر اپنی زندگی کے راز اپنے بچوں سے بیان کرتا۔ انہیں کہانیاں سناتا۔ مگر وہ اس سے یہ سب سن نہ پائے اور وہ مر گیا۔ مگر مرنے سے قبل اپنی زندگی کے تمام راز ٹیپ ریکارڈر میں محفوظ کر گیا۔ انہوں نے وہ ریکارڈنگ چلائی تو ان کا باپ بول پڑا اور اپنی زندگی کے راز بتانے لگا۔ اس نے بتایا کہ وہ بیوی اور پیدا ہونے والے بچے کو چھوڑ کر گھر سے فرار ہوا تو ایک جہاز میں سوار ہوا اور چھپ گیا اور خوش قسمتی سے اسے وہاں ہی نوکری مل گئی اور وہ ملاح بن گیا۔ اور پندرہ سال تک یوں ہی غنڈہ گردی کی زندگی گزاری۔ اس نے کہا کہ میں نے جو کچھ کیا وہ کافی برا تھا۔ جب میں نے اپنا وطن کھو دیا تو اس کے ساتھ ہی میں نے دنیا میں اپنا مقام بھی کھو دیا۔ آخر مریم سے ملا اور صرف اس کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہو گیا۔ یہ ٹیپ سن کر حنا آنسو بہاتی رہی۔

ایک روز مریم لوگوں کی وجے اور فیروز سے ملاقات ہو گئی اور دونوں نے ماضی کی یادوں کو تازہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی جمال اور حنا نے زانزیبار جانے کا فیصلہ کیا اور جمال نے کہا کہ اس طرح کا ایک موقع ایک اور قسم کے تارکین وطن کو موضوع بنائے گا، جسے وہ افریقہ تک محدود رکھے گا۔

Facebook Comments HS

علی حسن اویس

علی حسن اُویس جی سی یونی ورسٹی، لاہور میں اُردو ادب کے طالب علم ہیں۔ ان کا تعلق پنجاب کے ضلع حافظ آباد سے ہے۔ مزاح نگاری، مضمون نویسی اور افسانہ نگاری کے ساتھ ساتھ تحقیقی آرٹیکل بھی لکھتے ہیں۔

ali-hassan-awais has 78 posts and counting.See all posts by ali-hassan-awais