رام لیلا کے رومانس کا سیاسی سوانگ

الیکشن 2024 ہو چکے ہیں، الیکشن کے نتائج کی شفافیت پوری دنیا دیکھ چکی اور اس پر کھل کر رونا دھونا اور شور شرابا بھی ہو چکا۔ مسلم لیگ نواز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی مل کر وفاق میں حکومت بنا چکی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف بن گئے ہیں جبکہ صدر پاکستان آصف علی زرداری صاحب بن چکے۔ پنجاب کی حکومت مسلم لیگ نواز شریف کو ملی، سندھ کی حکومت پاکستان پیپلز پارٹی کو ملی جبکہ خیبر پختون خوا کی حکومت سنی اتحاد کونسل المعروف پی ٹی آئی کو ملی اور بلوچستان کی حکومت بھی پاکستان پیپلز پارٹی کو ہی تفویض کی گئی ہے۔
حکومت سازی کی یہ منصوبہ بندی اس انداز سے ترتیب دی گئی ہے کہ کہیں کوئی جھول اور نقص اس منصوبہ بندی میں دکھائی نہیں دیتا۔ مردود قرار دی گئی پارٹی کو ووٹ خیبر پختون خوا کے علاوہ پاکستان بھر سے پڑا لیکن حکومت بنانے کا اختیار اور خصوصی اجازت صرف خیبر پختون خوا، میں مل سکی۔ پنجاب میں حسب تجربہ مسلم لیگ نواز شریف کو باہمی افہام و تفہیم کی ڈیل کے تحت حکومت بنانے کی اجازت ملی جبکہ سندھ کی حکومت مستقل طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کی جھولی میں ڈال دی گئی۔
عجیب اتفاق کہیے یا خود ساختہ تقدیر کا کھیل جانیے، جے یو آئی کی ہرزہ سرائی اور مفاد پرستانہ حکمت عملی کسی صورت کام نہ آ سکی، بلوچستان کی حکومت بھی پاکستان پیپلز پارٹی کو تحفے میں دی گئی ہے۔ فارم 45 والے فارم 47 والوں کے مقابلے میں پہلے تو سر عام رسوا ہوئے بعد ازاں بادشاہ کے سامنے پسپا ہو کر پارلیمنٹ میں مجبوراً اپوزیشن میں بٹھا دیے گئے ہیں۔ یہ آوارگان روسیاہ دیکھیے کب تک یونہی تنہا و آوارہ کوچہ برادران یوسف میں مارے مارے پھرتے ہیں۔
آنکھوں کا تارا قرار پانے والی دو عدد جماعتوں کو بادشاہ اعلیٰ کی طرف سے جب تک حکومت کرنے کے کی اجازت میسر رہے گی، فارم 45 والے شور شرابا اور واویلا کرتے رہیں گے۔ الیکشن کے بعد حکومت سازی کا عمل تقریباً مکمل ہونے کو ہے۔ پاکستان کی یہ تاریخ رہی ہے کہ کسی ایک جماعت کو دو تہائی اکثریت سے کبھی ایوان میں آ کر اکیلے حکومت بنانے کی اجازت نہیں دی گئی اور نہ آئندہ مستقبل قریب میں یہ موقع کسی صورت فراہم کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
یہ ایک طے شدہ متعین اصول ہے جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، گویا یہ لوح محفوظ پر کندہ کیا ہوا حرف آخر ہے جسے چھبیس کروڑ عوام کی متحد شعوری اجتماعیت بھی تبدیل نہیں کر سکتی۔ 2024 کے جنرل الیکشن میں جملہ سیاسی پارٹیوں نے اپنے منشور عوام کے سامنے رکھے جنھیں ردی کی ٹوکری سے نکالا گیا تھا اور الیکشن کے ایک ہفتہ بعد حکومت بنانے کی یقین دہانی کے ساتھ دوبارہ اسی ٹوکری میں پھینک دیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان کی موجودہ صورتحال میں بننے والی نئی حکومت عوام الناس کے لیے کیا اقدامات کرنے جا رہی ہے اور کون سی پالیسیوں پر عمل پیرا ہونے کی پوزیشن میں ہے اور ایسا کیا کر گزرے گی کہ ملک کو تنزل سے نکال کر ترقی کر راہ پر گامزن کر سکے۔
نو منتخب وزیر اعظم پہلے خطاب میں برملا کہہ چکے کہ خزانہ خالی ہے، ہم تنخواہیں بھی قرض سے دے رہیں گے ہمارے پاس فی الحال قرض لے کر ملک کو مزید مقروض کر نے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ جب خزانہ ہی خالی ہے اور قرض کے سوا ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے تو پھر حکومت میں آنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ ایک شخص کو پتہ ہے کہ میرے گھر میں کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے اور وہ بیس لوگوں کو کھانے کی دعوت دے کر مدعو کر لے تو اس شخص کی ذہنی حالت کے بارے میں آپ کیا رائے دیں گے۔
بات یہ ہے کہ پاکستان ایک مقروض ملک ہے جس کا بال بال قرض میں ڈوبا ہوا ہے۔ کہنے کو یہ ڈیفالٹ نہیں ہوا تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ ملک گزشتہ تیس برس سے ڈیفالٹڈ سیچوایشن میں سروائیو کر رہا ہے۔ پاکستان کو درست راہ پر گامزن کرنے والے ذہین و ماہر محب وطن افراد کی کمی نہیں ہے۔ بادشاہ اعلیٰ اپنے اشغال خاص پر نظر ثانی کر لے اور اجازت خاص کا دائرہ کار بڑھا دے تو یہ ملک تین سال میں موجودہ حالت سے نکالا جاسکتا ہے اور مزید دس سال میں اس کو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان کے معاشی تجزیہ کار اور پالیسی ساز آج بھی ملک کی گری ہوئی تنزل آمیز حالت کو بہتر ہو جانے کی امید رکھتے ہیں لیکن ان کا ایک ہی گلہ ہے کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں عمائدین و اکابرین اور سیاست دانوں کی باہمی مفاد پرستانہ خواہشیں حائل ہیں۔ سر پیٹنے کا مقام یہ ہے کہ چند افراد پر مشتمل یہ ٹولہ حریفوں کے بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کرتا ہے اور خودساختہ رائے قائم کر کے عوام الناس کو بھڑکانے، اشتعال دلانے اور ملک کے مقتدر اداروں کے خلاف اکسانے کے لیے نیچ قسم کے ہتھکنڈے بطور ٹارگٹڈ ٹول استعمال کرتا ہے جس سے معاشرے کی وحدت بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور عام انسان سے لے کر خاص مقام و شناخت کا حامل شخص سیاسی و مذہبی اور معاشی و اقتصادی معاملات و مسائل میں اوہام کا شکار ہو کر مشدد ہو گیا ہے۔
پاکستان کی معاشی صورتحال انتہائی دگر گوں ہے، جو صاحب یہ کہہ رہا ہے کہ پاکستان تین ماہ میں اور چھے ماہ میں بہت اچھے اعداد و شمار میں چلا جائے گا، وہ حقیقت کے برعکس اور لایعنی دعویٰ کر رہا ہے اور اس کے اس سراب نما دعویٰ کا مطلب یہ ہے کہ یا تو یہ شخص صحرا میں رہتا ہے یا خلا میں رہتا ہے یا پھر ملک کا حد سے زیادہ خیر خواہ اور محب وطن ہے اور اس سے ملک کی یہ حالت دیکھی نہیں جاتی اور یہ دل بہلانے کے لیے بھوک سے نڈھال بچوں کے سامنے خالی پانی کی ہنڈیا چولہے پر چڑھا کر یہ بہلاوا دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ بچو!
کچھ دیر اور سوئے رہو، ابھی کھانا پک رہا ہے۔ مختصر یہ کہ پاکستان کی معاشی ہنڈیا خالی پانی سے پک رہی ہے جس میں سوائے بہلاوے کے اور کچھ نہیں ہے۔ اگر آپ نے ملک کی موجودہ صورتحال کو معاشی اعتبار سے دیکھنا ہے اور تلخ حقائق کو حوصلہ کر کے سننا ہی ہے تو قیصر بنگالی کا یہ انٹر ویو
(https://youtu.be/2UfAuXsUMa8?si=nTBKLhomH4vjUzTR)
سن لیجیے اور اگر آپ نے سیاست دانوں کی جملہ مفاد پرستی کے قصص اور ماضی میں ہونے والے گٹھ جوڑ اور ذاتی مفادات کے حصول میں ملک کو تباہ کر کے اپنے اکاؤنٹ سونے چاندی سے بھرنے اور بیرونی و اندرونی مداخلت سے ملک و حکومت کو دولخت کرنے کی کہانی سننی ہے تو یہ انٹرویو
(https://youtu.be/l0w8KxmzgPg?si=tuxtqRJ28VhyuGCw)
آپ کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔
اس کے علاوہ یو ٹیوبرز نے سیکڑوں ماہرین معاشیات اور وطن سے درد رکھنے والے اصحاب کے انٹرویوز کیے ہیں جن کی سماعت سے ملک کی موجودہ صورتحال کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ ایک بات بہت حیران کن ہے اور وہ یہ کہ سوشل میڈیا پر ہر طرح کی کچی پکی اور غلط سلط خبر اور معلومات کے علاوہ پاکستان کے مقتدر اداروں اور جملہ سیاست دانوں سمیت ملک کو تباہ کرنے والوں کے قصص مع ثبوت موجود ہیں لیکن کوئی ان کے خلاف بات نہیں کرتا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک کے خلاف یا اس کے حمایت میں جس نے جو بھی کیا ہے وہ اسے بطور فرد اور بطور ادارہ تسلیم کرتا ہے اور یہ اجازت بھی دیتا ہے کہ ان کے بارے میں کھل کر بات کی جائے اور جو جتنا قصور وار ہے اسے ویسی ہی سزا بھی دی جائے۔ اگر یہ عنصر درست ہے تو یہ ایک اچھی روایت ہے اور اس کو جاری رہنا چاہیے۔ الیکشن2024 کے نتیجے میں بننے والی نئی حکومت کے بارے میں جو تاثر ہر جگہ دیکھنے سننے کو مل رہا ہے وہ یہ کہ حکومت ایک سال سے زیادہ نہیں چلے گی، بہت جلد پی ڈی ایم ٹو دوبارہ آئے گی اور ملک اسی طرح تنزل کا شکار ہو تا رہے گا۔
اس ملک کی بدقسمتی کہیے یا اس ملک کے باسیوں کی تقدیر کا کھوٹ جانیے۔ یہاں گزرنے والا ہر دن اچھا اور آنے والا ہر دن منحوس تصور ہوتا ہے۔ پاکستانی تاریخ کے پچھتر سالہ ادوار کا عرق نکالا جائے اور ان ادوار کی تلخیص کی جائے تو ایک جملے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان سیاست دانوں اور نگہبانوں کی باہمی چپقلش کی آماجگاہ ہے جس نے ملک کو موجودہ حالات تک پہنچایا ہے۔ گزشتہ پچھتر برس سے یہ دونوں عناصر ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہراتے چلے آرہے ہیں۔
مزے کی بات یہ کہ دونوں کا ایک دوسرے کے بغیر گزارہ بھی نہیں ہے۔ عاشق و معشوق اور میاں بیوی والا یہ کھیل گزشتہ پچھتر برس سے جاری ہے اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آنے والے پچاس برس بھی رام لیلا کے اس سوانگ بھرے رومانس کو دیکھتے گزر جائیں گے۔ ملک کی بہتری اور ترقی کے بارے میں باتیں اور دعوے تو سبھی کرتے ہیں لیکن عملی اقدامات کرنے کا حوصلہ کسی میں بھی نہیں ہے۔

