بوسنیا کی چشم دید کہانی۔ آخری قسط
جب ہم لوبینیا پہنچے تو شام ڈھلنے کو تھی۔ ہم برامدے میں لگی میز کے گرد بیٹھ گئے۔ ہم اکثر یہیں بیٹھا کرتے تھے۔ میرا کافی بنانے اندر چلی گئی اور سیکا اور لیپا ہمارے پاس بیٹھ گئیں۔ تھوڑی دیر بعد لیپا بھی اندر چلی گئی۔ وہ جب واپس آئی تو اس نے گہرے نیلے رنگ کی شلوار قمیض پہن رکھی تھی اور کانوں میں قصہ خوانی کے نوادرات فروشوں کے ہاں ملنے والے وہ لمبے لمبے جھمکے جن میں نیلے پتھر جڑے تھے، پہنے ہوئے تھے۔ یہ تحائف بھابھی، بیگم اقبال نے کچھ عرصہ قبل اس کے لیے بھجوائے تھے۔ اس نے ہمارے سامنے آتے ہی پوچھا
میں کیسی لگ رہی ہوں؟
پھر وہ حسب عادت کھل کھلا کر ہنسی لیکن آج اس کے قہقہے کی تان جلد ہی ٹوٹ گئی۔ آنسو اب اس کی آنکھوں میں تیرنے لگے لیکن اس نے انھیں چھلکنے نہ دیا۔ وہ مجھ سے اور اقبال سے مخاطب ہو کر بولی
بھئی یوں گم سم کیا بیٹھے ہو۔ اٹھو اور میری تصویر بناؤ۔ میں تمہیں اس لباس میں اچھی نہیں لگی کیا؟
اس دوران میرا کافی لے کر آ گئی۔ ہم کافی کی چسکیوں کے دوران بیتے دنوں کی یادوں کو تازہ کرتے رہے۔ میرا زیادہ تر خاموش رہی۔ کافی کے بعد جب ہم رخصت ہونے کو اٹھے تو میرا بولی
اقبال تم جاؤ میں واحید کو IEBL تک چھوڑ آؤں گی۔
اقبال کے جانے کے تھوڑی دیر بعد سیکا اور لیپا کو الوداع کہتے ہوئے میں میرا کے ہمراہ روانہ ہوا۔ اس نے پہلے قصبے کا ایک چکر لگایا۔ پھر آہستہ آہستہ گاڑی سٹولک کی طرف موڑ لی
تم نے خواہ مخواہ تکلف کیا۔ میں نے اس سے کہا
کیا کیا جائے دل نہیں مانا کہ تمہیں بھی ایک عام مانیٹر کی طرح الوداع کیا جائے۔ میرا بولی۔ IEBL پر جب ہم پہنچے تو سورج غروب ہونے میں کچھ ہی وقت باقی تھا۔ یہاں کے اکلوتے قہوہ خانے کی کھلی فضا میں بچھی ہوئی کرسیاں زیادہ تر خالی پڑی تھیں۔ ایک طرف سرب پولیس کے دو سپاہی کھڑے آپس میں گپ لگا رہے تھے۔ میرا نے قہوہ خانے سے ایک طرف گاڑی کھڑی کر دی اور سگریٹ سلگاتے ہوئے گاڑی سے باہر نکل کر کھڑی ہو گئی۔ سگریٹ کا ایک لمبا کش لیتے ہوئے اس کی نگاہ قہوہ خانے کے قریب گڑے ہوئے IEBL کے نشان پر جمی ہوئی تھی۔
تم یو این او والے تو اس مقام کو مقام ملاقات قرار دیتے ہو لیکن آج یہ مقام جدائی کیوں ثابت ہو رہا ہے۔ وہ اداس لہجے میں بولی
ہر ملاقات کا انجام آخر جدائی ہی ہوتا ہے۔ مگر افسوس یہ جدائی تو ہمیشہ کی جدائی ہے۔ میں نے بھی دکھ بھری آواز میں کہا
اب آہستہ آہستہ اندھیرا پھیل رہا تھا۔ میں نے اس سے کہا کہ بہتر ہے کہ وہ اب واپس چلی جائے۔ اس نے اپنا بایاں ہاتھ ملانے کو میری طرف بڑھا دیا۔
تمہیں پتہ ہے کہ میں تم سے اپنی کسی ناراضگی کا اظہار بایاں ہاتھ ملا کر ہی کیا کرتی تھی۔ اور آج میں تم سے ناراض تو نہیں ہوں مگر یہ کوئی خوشی کا موقع بھی نہیں ہے۔ اس نے کہا
تم ایک ایسے ملک کی شہری ہو جہاں کے باسی جنگ ختم ہونے کے باوجود بھی حالت جنگ میں ہیں۔ لہٰذا تمہیں تو حوصلہ ہمیشہ بلند رکھنا ہے۔ وہ گاڑی میں بیٹھ رہی تھی تو میں نے اس سے کہا۔ ہاں : اسی لیے مجھے موت سے زیادہ زندگی سے ڈر لگتا ہے۔
یہ کہتے ہی اس نے کار موڑ لی۔ کھڑکی سے بازو نکال کر فضا میں بلند کیا اور پھر اس کی گاڑی لوبینیا کی سمت بھاگنے لگی۔ میں شام کے دھندلکے میں کھڑا کار کی عقبی سرخ بتیاں دیکھتا رہا، جو کچھ دیر تک نظر آتی رہیں۔ پھر بل کھاتی سڑک میں کہیں گم ہو گئیں۔
25 مئی 1997 کی صبح کو ہم دو گاڑیوں میں سٹولک سے موسطار کے لیے روانہ ہوئے۔ ایک گاڑی کو شیام چلا رہا تھا اور دوسری ندیم۔ ان دونوں نے یہ ڈیوٹی اس لیے سنبھالی تھی کہ وہ ہر حال میں ہمیں الوداع کہنے موسطار تک جانا چاہتے تھے۔ موسطار کے ریجنل ہیڈ کوارٹر میں ہمیں زغرب لے جانے والی بس پہلے سے منتظر کھڑی تھی۔ موسطار ریجن کے مختلف اسٹیشنوں سے پاکستانی اور نیپالی ساتھی دو دو چار چار کی ٹولیوں میں آ کے یہاں جمع ہو رہے تھے۔
کوئی آدھے گھنٹے میں سب یہاں موجود تھے۔ ساڑھے آٹھ بجے تک سب نے اپنی اپنی نشستیں بھی سنبھال لیں۔ رخصت کرنے کے لیے آنے والے مختلف ساتھیوں نے اس بس کو تقریباً گھیرے میں لے رکھا تھا۔ بس کا انجن حرکت میں آیا تو ہاتھ ہلا ہلا کر الوداع کہنے والے ساتھیوں کا دائرہ کچھ کشادہ ہوا۔ صدر دروازے پر پہنچ کر بس بائیں ہاتھ مڑی اور دریائے نرٹوا کے ساتھ ساتھ ایم۔ 17 شاہراہ پر آگے بڑھنے لگی۔ جامعہ ساریچہ حرم کا اکلوتا مینار کچھ دیر تک نظر آتا رہا۔ پھر وہ بھی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
موسطار کی آخری نشانی کے طور پر اب نرٹوا ہماری بس کے رخ ہمارے ساتھ ساتھ بہہ رہا تھا۔ میں نے سوچا میرا یہ ہم سفر اس شہر سے گزر کر آیا ہے جہاں اس کے کناروں کا فاصلہ اس سے کہیں زیادہ ہوتا ہے جتنا کہ وہ نظر آتا ہے۔ پچھلے ایک سال کے دوران موسطار کے جہان سنگ و خشت میں تو تبدیلیاں آئی تھیں لیکن نفرتوں کے درمیان پیار کی بستی ابھرنے کی کوئی کرن کسی سمت سے نمودار نہ ہوئی تھی۔ نرٹوا کے دونوں کناروں پر تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے پر کچھ نئی عمارتیں وجود میں آ گئی تھیں۔ شاہراہوں کے کنارے لگائے گئے درختوں پر بھی اب کونپلیں پھوٹ چکی تھیں لیکن دلوں کے فاصلے کم کرنے کے تمام حیلے غیر معتبر ٹھہرے تھے۔ میں نے دل ہی دل میں نرٹوا سے یہ سوال کیا کہ تیرے دونوں کناروں پر آباد لوگوں کے درمیان یہ فاصلے آخر کب سمٹیں گے۔ نرٹوا نے میرے کان میں سرگوشی کی۔
صبا کی مست خرامی تہہ کمند نہیں
اسیر دام نہیں ہے بہار کا موسم
بلا سے ہم نے نہ دیکھا تو اور دیکھیں گے
فروغ گلشن و صوت ہزار کا موسم۔


