پونم پریت ( افسانہ) (قسط نمبر 3 )


میرے اسلام آباد منتقل ہو جانے کے بعد بڑی ماں کو میری شادی کی تشویش ستانے لگی۔ میں ہر سال گرمیوں میں گاؤں جاتی ہوں۔ تین سال قبل گئی تو انھوں نے تین رشتے میرے سامنے رکھ دیے۔ میں ایسے موقعوں پر خاموشی سے موضوع بدل جایا کرتی تھی۔ مگر اب کی بار وہ اصرار کرنے لگ گئیں۔ میں چونکہ شادی کا ارادہ ہی ترک کر چکی تھی لہٰذا انکار کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ محبت، دوستی یا کم ازکم پسندیدگی کے بغیر شادی مجھے ایک بھیانک تجربہ محسوس ہوتا۔

میرے دل میں عقیل احمد کی محبت جاگزیں تھی اور اسکے نام پر آج بھی میرا دل دھڑکتا تھا۔ اس کو میں نے محبوب، دوست اور شوہر کے روپ میں دیکھا تھا۔ اس نے مجھے زندگی کرنے کا ڈھنگ سکھایا تھا، بالغ نظری اور کشادہ ظرفی سکھائی تھی۔ البتہ ہجر کی کسک کم کرنے کے لئے میں نے اپنی مصروفیات بڑھا لی تھیں اور اپنے آپ کو اپنے دفتری کام اور ایم فل میں مصروف کر رکھا تھا۔

میں نے موٹر وے سے نکل کر سرگودھا جانے وال سڑک لی ہی تھی کہ پونم نے چائے مانگی۔ مجھے بھی چائے کی شدید طلب ہو رہی تھی۔ ہم نے ایک صاف ستھرے ریسٹورنٹ پر توقف کیا۔ واش روم استعمال کرنے کے بعد منہ ہاتھ دھو کر تازہ دم ہو لئے۔ ساگ اور مکئی کی روٹی پر مشتمل سادہ اور دیہاتی کھانا کھایا۔ اور تیز اور کڑاکے دار چائے نے کھانے کے بعد والی کسلمندی بھی دور کر دی۔ ہم سرگودھا کی جانب دوبارہ سفر پذیر ہوئے تو پونم نے اپنی کہانی کا سلسلہ پھر سے رواں کر دیا:

”بڑی ماں باتوں باتوں میں میرے لئے دیکھے ہوئے اپنے پسندیدہ رشتے کا ذکر کر دیتی اور اصرار کرتی کہ میں اس کو ایک دفعہ دیکھ تو لوں۔ ملک یاسر محمود بابا کے کسی واقف کار کا بھانجا تھا اور ان دنوں وزارت خارجہ میں ڈپٹی ڈائریکٹر تھا۔ جب چھ ماہ تک میں نے کوئی جواب نہ دیا تو بڑی ماں چھوٹے بھائی کے ساتھ اسلام آباد آ کر دور کے ایک رشتے دار کے ہاں ٹھہر گئیں۔ انھوں نے اگلی شام مجھے کھانے پر بلوا کر یاسر محمود سے ملوا دیا۔

درمیانہ قد اور مردانہ وجاہت سے بھرپور پینتیس سالہ یاسر محمود نے قائد اعظم یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز کرنے کے بعد سی ایس ایس کے امتحان میں ملک بھر میں تیسری پوزیشن حاصل کر کے آٹھ سال قبل فارن سروس جوائن کی تھی۔ والدین بچپن میں فوت ہو گئے۔ نانا کی کفالت میں تعلیم جاری رکھی اور اپنا مقام خود بنایا۔ یاسر محمود اردو، انگریزی اور فرانسیسی پر عبور رکھتا تھا، شعر و ادب سے دلچسپی کے علاوہ فنون لطیفہ سے بھی شغف رکھتا تھا۔ بڑی ماں کی تسلی کے لئے میں نے یاسر محمود سے رابطہ رکھنے کی حامی بھر لی۔

ایک ماہ بعد یاسر محمود کے اصرار پر میں نے اس سے نیشنل کونسل آف آرٹس میں ملنے کی حامی بھر لی۔ جب ہم ملے تو میں نے اس کو اپنی گزشتہ محبت کی کہانی مختصراً سنا ڈالی۔ یاسر محمود محمود میری بات توجہ، خاموشی اور سکون سے سنتا رہا۔ جب میری بات ختم ہوئی تو بہت اطمینان سے بولا: ”پونم جی! آپ کی گزشتہ زندگی کیا تھی؟ کیسی تھی؟ مجھے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے۔ جیسے میری گزشتہ زندگی سے آپ کو کوئی سروکار نہیں ہے۔

زندگی اپنی ہیئت میں سادہ اور خوبصورت ہے۔ انسان نے اس کو اپنی نادانیوں سے پیچیدہ اور کسی قدر بد صورت بھی بنا دیا ہے۔ میں نے حیران ہو کر یاسر محمود سے پوچھا:“ جو وقت گزر گیا کیا اس کے اثرات آنے والے وقت پر نہیں ہوتے؟ کیا گزرے وقت کے سائے انسان کا پیچھا نہیں کرتے؟ ”یاسر محمود نے بہت نرمی اور محبت بھرے لہجے میں جواب دیا:“ پونم جی! زندگی میں جو بھی فیصلہ آپ کرتے ہیں۔ وہ زمینی حالات، آپ کے خیالات اور آپ کے دلی جذبات کے تحت لمحہ موجود کا بہترین فیصلہ ہوتا ہے۔

مگر وقت گزر جانے کے بعد جب ہم تجزیہ کرنے بیٹھتے ہیں تو اس وقت کے حالات و جذبات کو منفی کر کے نتائج نکالتے ہیں اور اپنے فیصلوں پر پچھتاتے رہتے ہیں۔ جو اپنے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔ جو پہلے ہو چکا وہ اس وقت کے تقاضے کے مطابق بہترین بات تھی۔ جو ، اب ہو گا یہ آج کی سب سے اچھی بات ہوگی۔ آپ مجھے پہلی نظر میں اچھی لگی تھیں۔ میں آپ سے جیون بھر کے ساتھ کی درخواست کرتا ہوں۔ اگر آپ کو قبول ہے تو اگلا فیصلہ وقت خود کر دے گا۔ اگر آپ فوری جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں تو بھی کوئی بات نہیں۔ ٹیک یور ٹائم۔ ”جب میں نے یاسر محمود کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا تو اس میں دوستی کی دعوت کے ساتھ چاہت کی گرمجوشی بھی محسوس ہوئی۔“

جب ہم لوگ سرگودھا کے مضافات میں پہنچے تو دو پہر ڈھلنے کو تھی۔ پونم کی فرمائش پر ہم پہلے سرگودھا شہر چلے گئے۔ پونم نے مجھے عقیل احمد کے کلینک کے علاوہ اپنا سکول اور کالج بھی دکھایا۔ اس کے بعد طے شدہ پروگرام کے مطابق میں ایک دیرینہ دوست اور ہم جماعت ملک الطاف حسین کے پاس سیٹلائٹ ٹاؤن میں رک گیا اور پونم میری گاڑی لے کر اپنے گھر شب بسری کے لئے چلی گئی۔ ملک الطاف حسین میرا انٹرمیڈیٹ کے وقت کا دوست تھا۔ انگریزی ادب میں ڈاکٹریٹ کرنے کے بعد یونیورسٹی آف سرگودھا میں میں انگریزی کا پروفیسر تھا۔ ہم لوگ دس سال بعد ملے تھے۔ دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ میں کہیں نصف رات کے بعد جو سویا تو اگلے دن دیر تک سوتا رہا۔

اگلے روز ملک کے گھر میں دو پہر کے کھانے اور چائے پینے کے بعد جب ہم لاہور کے لئے روانہ ہوئے تو سہ پہر کا وقت ہو گا۔ میں نے دوبارہ ایم 2 موٹر وے سے جانے کی بجائے شیخوپورہ اور شاہدرہ سے لاہور جانے کا فیصلہ کیا۔ ملک الطاف حسین نے میری جیپ میں آئس باکس دیکھ کر اس میں مری کی کلاسک بیئر کے چھ عدد کین بھی رکھوا دیے۔ اس دن پونم نے سرخ اوپن شرٹ اور جینز کی ٹراوزر پہن رکھی تھی۔ جس میں وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔

کالے شیشوں والے چشمے نے اس کی دلکش ناک کے آغاز پر بیٹھ کر اپنے عدسوں کی مدد سے پونم کی مست آنکھوں سے نکلتی شراب کو باہر آنے سے روک رکھا تھا اور چشمے کے نازک باہوں نے اس کی گھنی زلفوں میں کانوں کے پیچھے تک جا کر دونوں اطراف سے اپنی گرفت مضبوط کر رکھی تھی۔ وہ ایک پر اعتماد شخصیت کی حامل لگ رہی تھی۔ میں نے بے ساختہ بول دیا: ”آج تو بجلیاں گر رہی ہیں۔“ وہ ذرا بھی لجائی یا شرمائی نہیں بلکہ مجھے آنکھ مار کر بولی: ”شکریہ۔ مگر بجلیاں کبھی نیلے نیلے صاف آسمان سے نہیں گرتی دیکھیں۔“ پونم کا فوری جواب تھا : میں نے بھی بے ساختہ کہا: ”تمھاری زلفوں سے جو گھٹا چھائی ہے وہ کوئی چمتکار بھی کر سکتی ہے۔“ وہ ہنس دی اور ہنستے ہنستے بولی: اگر کوئی ایسا معجزہ ہوا تو ہم دونوں بہت محظوظ ہوں گے ۔ ویسے تم عشقیہ ڈائیلاگ بند کرو اور دھیان سے گاڑی چلاؤ مجھے دیکھنے کے لئے ابھی دو دن پڑے ہیں۔ ”جب وہ گاڑی میں بیٹھی تو ماحول کول واٹر کی خوشبو سے مہک اٹھا۔ پونم کی کتھا اب ایک نازک موڑ پر پہنچ چکی تھی:

”ایک سال بعد میں اور یاسر محمود شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔ پندرہ دن کے ہنی مون کے لئے جزیرہ بالی (انڈونیشیا) کا انتخاب ہوا۔ قدرتی حسن سے مالا مال بالی کا جزیرہ دنیا کی خوبصورت ترین جگہوں میں سے ایک ہے۔ ہم دونوں نے وہ پندرہ دن ایک دوسرے میں جذب ہو کر اور قدرتی نظاروں سے محظوظ ہوتے ہوئے گزارے۔ واپس آ کر اسلام آباد میں ایک سال یاد گار عرصہ تھا۔ یاسر محمود ایک عزت و توقیر دینے والا اور سب سے بڑھ کر ایک محبت کرنے والا شوہر ثابت ہوا۔“ جب ہم خانقاہ ڈوگراں پہنچے تو پونم نے پینے کے لیے کچھ ٹھنڈا مانگا اور مری بروری کی ٹھنڈی ٹھار آب جو کے دو گھونٹ لے کر وہ دوبارہ گویا ہوئی:

” ایک سال بعد وزارت خارجہ کی طرف سے یاسر محمود کی تعیناتی برطانیہ ہو گئی۔ یاسر محمود نے ایک ماہ بعد برطانیہ روانہ ہونا تھا۔ اگرچہ میری سفری دستاویزات تیار کر لی گئیں تھیں، مگر میں اس وقت ایم فل کے فائنل سمیسٹر اور تھیسز چھوڑ کر نہیں جا جا سکتی تھی۔ لہٰذا میرا برطانیہ جانا چار ماہ بعد طے پایا۔“ یہ کہہ کر پونم پر ایک دفعہ پھر افسردگی چھا گئی۔ ”مگر زندگی خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ اتنی بے وفا کیوں ہے؟ اس میں کچھ بھی دائمی نہیں۔ محبت بھی نہیں۔ ”

پونم نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اس کا بوسہ لیا اور رونے لگ گئی۔ میں نے پونم کو کھل کر رونے دیا۔ اور اس اثناء میں خاموش بیٹھا یہ اندازہ لگاتا رہا کہ زندگی نے پونم کے ساتھ کیا کھیل کھیلا ہو گا۔

کچھ دیر روتے رہنے کے بعد وہ خاموش ہو گئی۔ میں نے ٹشو پیپر کا ایک پرت اس کو دیا۔ چند منٹ بعد وہ آنسو پونچھ کر ہلکا پلکا محسوس کر رہی تھی۔ اب کی بار مجھ سے مانگنے کی بجائے پونم نے میری سیٹ کی پشت پر پڑے آئس باکس کے اندر سے ٹھنڈے کا ایک اور کین نکالا اور ڈبے کو ہاتھ میں لے کر اس کی ٹھنڈک محسوس کرتے ہوئے بولی: ”کیا تم کو کرونا وائرس والی وبا یاد ہے؟“

پونم نے ایسے پوچھا جیسے وہ کوئی معمولی وبا ہو۔ میں نے وبا کی آمد اور مضمرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: ”جو عفریت دنیا میں عذاب بن کر نازل ہوئی تھی، جب تک دوا تیار ہوتی دو سال کے اندر اندر کروڑوں زندگیاں نگل گئی تھی؟“ اس آفت کو کیسے بھلایا جا سکتا ہے؟ ”۔“ مگر نقصان کے ساتھ ساتھ کرونا کی وبا انسانوں کو زندگی کرنے کے کچھ آداب بھی سکھا گئی۔ وہ انسانوں کو اپنی دھرتی ماں سے اچھا سلوک کرنا سکھا گئی۔ انسان کو سادہ اور ضروریات پر مبنی زندگی گزارنے کا سلیقہ آ گیا ہے۔

ماحولیاتی آلودگی آدھی رہ گئی۔ زمین کے وہ قدرتی وسائل جو بے دریغ استعمال ہو رہے تھے، کسی حد تک محفوظ ہو گئے ہیں۔ دنیا کا نظام آن لائن ہو گیا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں کارپوریٹ سیکٹر (سرمایہ دارانہ تجارت) کی بڑی بڑی مالز (مارکیٹیں ) بند ہو جائیں گی کیونکہ کنزیومر گڈز، (اشیائے صرف) ’سورس‘ (فیکٹری) سے چل کر کنزیومر (صارف) تک پہنچ جائیں گی۔ ”میں نے کرونا پر لیکچر دینے کی کوشش کی۔ (جاری ہے )

پونم غمزدہ لہجے میں بولی: ”یاسر محمود خوش و خرم مانچسٹر پہنچ گیا۔ جنوری سے مارچ تک کا عرصہ فون پر باتیں کرتے، ہنستے کھیلتے اور دن گنتے گزر گیا تھا۔ اپریل کے مہینے میں میرے فائنل امتحانات ہو گئے اور تھیسز بھی مکمل ہو گیا۔ جوں ہی میں نے لندن روانہ ہونے کی تیاری مکمل کی، یاسر محمود کو کرونا وائرس نے آ لیا۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے۔ جب فون پر بات کرتے کرتے اس نے لگا تار اتنی شدت سے کھانسی کی کہ بات کرنا دشوار ہو رہا تھا۔ میرے کریدنے پر یاسر محمود نے بتایا کہ اس کو تین دن سے بخار بھی ہے۔ سونگھنے کی حس ختم اور کھانے پینے کا ذائقہ بھی نہیں رہا۔ یہ میری اور یاسر محمود کی آخری گفتگو تھی۔“ (جاری ہے )

Facebook Comments HS