رمضان حکمت کا مہینہ ہے
رمضان کے مہینے میں جہاز پر ایک مسافر، ہاتھ میں ٹھنڈی بوتل اٹھائے اے سی کا مزا لیتے ہوئے، ایسی بستی کے اوپر سے گزرا، جہاں پر ایسے لوگ بھی موجود تھے، جو تپتی دھوپ میں، اینٹ کے بھٹے پر آگ کے بالکل قریب، اپنے پیٹ کی آگ بجھانے میں مصروف تھے، مگر وہ روزے کی حالت میں تھے۔ چونکہ مسافروں کو رمضان میں روزوں کی رعایت تو ہوتی ہے مگر ان جھلس دینی والی آگ میں کام کرنے والوں کے لیے، اللہ نے کوئی رخصت دینا نہیں فرمائی ہے، تو لا محالہ ہر طرح کے جاں گسل حالات میں انھیں روزہ رکھنا پڑ رہا ہے۔
جیسا کہ قرآن کا آغاز ہی رب العالمین کی حمدیت سے ہوتا ہے۔ تعریف کرنے والے، دل و دماغ سے اپنے رب کی ”رحمانیت“ اور ”رحیمیت“ کے اتنے معترف ہیں، کہ ان کے قلوب و جبین نیاز ہو کر والہانہ انداز میں اپنے رب کی رحمت کے گن گاتے ہیں۔ کیا اس رحمٰن و رحیم سے اپنے بندوں کی تکالیف پوشیدہ ہوں گی ؟ کیا میرے رب کو یہ علم نہیں کہ اس کا بندہ کس طرح اپنی زندگی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دن بھر کڑی دھوپ میں کام کرتا ہے۔ جو تپش عام حالات میں انسان کو نچوڑ دیتی ہے تو بغیر کچھ کھائے پئے، تیز گرمی کو برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے کام بھی پایہ تکمیل کرنا مقصود ہو، تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اللہ کے دین میں ایسے مجبور لوگوں کے لیے کوئی آسانی میسر نہیں؟
ایسا شخص جب روزہ رکھتا ہے اور نصف دن گزرنے کے بعد بھوک و پیاس کی شدید حالت میں مالک کی مزدوری ایمان داری کے ساتھ پوری کرنا چاہ رہا ہو، لیکن جسمانی طاقت جب اس کا ساتھ چھوڑ رہی ہو تو ایسے وقت میں اس کی نفسیاتی کیفیت کیا ہوگی؟ روزے کا مقصد خود میں قوت تقویٰ پیدا کرنا ہوتا ہے، لیکن شدید گرمی میں اپنا کام کرتے ہوئے مزدور کو کام پورا کرنے سے زیادہ سورج کے ڈھلنے کا انتظار ہو گا۔ ایسے میں تقویٰ کا خیال اس بے چارے کو کہاں آئے گا۔
اگر کوئی کام جو سخت جان طلب ہو جس کو طلوع آفتاب سے لے کر غروب آفتاب تک پورا کرنا ہو، بھاری چیزیں اور بوریاں اپنے کاندھے پر اٹھا کر پیدل فاصلے اور کسی فلیٹز کی ساتویں اور دسویں منزل طے کرنی ہو تو ایسے عالم میں وہ روزے کے مقصد کو پورا کرنے کی فکر میں ہو گا یا پھر بغیر توانائی کے سوچتا ہو گا کہ ابھی افطاری میں 6 گھنٹے مزید باقی ہیں۔
باوجود اس کے، کچھ جواں لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو روزے حالت میں ہر طرح کی سختی کو برداشت کر لیتے ہیں اور اپنا کام بھی بخوبی نبھائے جاتے ہیں۔ تو کیا ایسے لوگوں کا ایمان باقی لوگوں سے زیادہ مضبوط ہو گا؟ کیا ایمان کو پرکھنے کا معیار صرف جسم کا سخت جان ہوتا ہے؟ کسی انسان میں سخت حالات میں روزہ رکھنے کی سکت نہیں تو کیا اس کا ایمان کمزور ہے؟
استحکام ایمان اس چیز کا نام نہیں کہ تپتی دھوپ میں روزہ رکھ کر سخت جسمانی کام کر کے دکھائیں۔ تو جو لوگ روزہ رکھ کر سارا دن اے سی روم میں سو کر گزارتے ہیں یا وہ افسر جو اے سی والے دفاتر میں آرام دہ ماحول میں کام کرتے ہوں، تو کیا ان کے ایمان کو کمزور کہا جائے گا؟
رمضان کے روزوں کا واحد مقصد پورا مہینہ انسان اپنی تربیت کرنا، بے لگام نفس کو حلال چیزوں کی عادت ڈال کر حرام کاریوں سے دور کرنا ہوتا ہے۔ اگر اس مہینے مین کسی کو کوئی عارضہ لاحق ہے، یا وہ مسافر ہے تو اس کے لیے دین میں رخصت موجود ہے۔ ایسا بندہ بعد رمضان کسی بھی سہولت والے دنوں میں روزے رکھ سکتا ہے۔ اگر کسی شخص کو ایسا مرض لاحق ہے کہ وہ مستقلاً روزہ نہیں رکھ سکتا خواہ کسی بھی موسم میں آئے تو اس کے لیے ایک روزہ کے بدلے میں فدیہ دینا لازم ہوتا ہے۔ لہذا جو لوگ دن بھر چلچلاتی دھوپ میں محنت و مزدوری کرتے ہیں ایسے لوگ بھی لاچاروں اور مریضوں کے زمرے آتے ہیں، ایسے لوگوں کو چاہیے کہ رمضان کے بعد موسم تبدیل ہوتے ہی اپنے روزوں کی گنتی پوری کریں۔
اگر انسان سمجھتا ہے کہ گرمیوں میں روزہ رکھنے کی اس میں طاقت نہیں ہے۔ یا کسی کو ذیابیطس کی شدید علالت ہو یا بڑھتی عمر کا تقاضا ہو، یا کوئی ایسی بیماری ہو جس میں وقت پر دوا کھانے کے ساتھ ساتھ، کھانا تناول کرنا بھی ضروری ہو۔ اور بوجہ بھوک و پیاس یہ خدشہ ہو کہ شدید مشکلات سے دوچار ہو کر مستقبل میں اس کے عوارض میں اضافے کا سبب بن سکتا ہو۔ تو یہ سوچ کر اگر وہ روزہ نہیں رکھتا، تو کسی فقیہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اسے جبراً روزہ رکھوائے۔ باوجود اس کے فقہاء یہاں پر اپنی علمی طاقت کا بے جا استعمال کرتے ہیں تو وہ اللہ کے دیے ہوئے انسانی اختیار میں مداخلت کے مجرم قرار پاتے ہیں۔

