یہ نون لیگ کی حکومت نہیں ہے


یہ نون لیگ کی حکومت نہیں ہے لیکن یہ پیپلز پارٹی کی حکومت بھی نہیں ہے۔ آپ پوچھ سکتے ہیں کہ جب وزیر اعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری ہیں تو پھر یہ نون لیگ یا پیپلز پارٹی کی حکومت کیوں نہیں ہے؟ اگر ایسا ہی ہے تو پھر یہ پی ڈی ایم کی حکومت ہو گی؟ نہیں ایسا بھی نہیں ہے، یہ پی ڈی ایم کی حکومت بھی نہیں ہے۔

میری رائے میں 8 فروری کو پاکستان میں منعقد ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی سیاسی حکومت دراصل نگران حکومت کی توسیع ہے جس میں صدر اور وزیر اعظم کی نشستوں پر بظاہر دو نئی شخصیات نظر آ رہی ہیں لیکن یہ بے اختیار ہیں۔ آصف علی زرداری مطمئن ہیں کہ انہیں صدر مملکت کا منصب مل گیا ہے اور ان کی لاڈلی بیٹی آصفہ کو ”خاتون اول“ کا پروٹوکول ملے گا، دوسری جانب شہباز شریف کو اطمینان ہے کہ وہ وزیر اعظم ہاؤس میں قیام پذیر ہیں اور انہوں نے اپنے پسندیدہ بیوروکریٹ احد چیمہ کو اسٹیبلشمنٹ کا محکمہ سونپ کر اپنے با اختیار ہونے کا ثبوت دے دیا ہے اور میاں نواز شریف کے لیے یہ کافی ہے کہ ان کی بیٹی مریم نواز پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھال چکی ہے اور ان کے دونوں بیٹے حسین اور حسن نواز کئی سال کی خود ساختہ جلا وطنی کے بعد لاہور میں اپنے گھر پہنچ چکے ہیں۔

عام انتخابات سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں قائم گزشتہ حکومت کے حوالے سے خود مریم نواز آن ریکارڈ کہہ چکی ہیں کہ ”یہ نون لیگ کی حکومت نہیں ہے، نون لیگ کی حکومت تب ہو گی جب نواز شریف وزیر اعظم ہوں گے“ ۔ عام انتخابات منعقد ہو بھی چکے لیکن نواز شریف وزیر اعظم نہیں بنے اس لیے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ آپ اس کو کچھ بھی کہہ لیں لیکن یہ نون لیگ کی حکومت نہیں ہے۔

یہ پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم کی حکومت بھی نہیں ہے تو پھر یہ کس کی حکومت ہے؟ جو دراصل نگران حکومت کی توسیع ہے۔ سوال کا جواب بہت سادہ اور آسان ہے کہ یہ ان کی حکومت ہے جنہوں نے بیک بینی و دو گوش اسحاق ڈار کو وزرات خزانہ کی بجائے وزارت خارجہ میں بٹھانے کا فیصلہ کیا ہے لیکن بطور وزیر خارجہ بھی ان پر جلیل عباس جیلانی کی شکل میں مشیر بٹھا دیا ہے جو سب اختیارات استعمال کرے گا اور جو مقتدر چاہیں گے وہ کرے گا۔

یہ انہی کی حکومت ہے جنہوں نے پنجاب کی نگران وزرات اعلیٰ کے بعد کرکٹ بورڈ کے چیئرمین جیسی پرکشش مراعات والے منصب پر مقرر کر دیے جانے والے محسن نقوی کو وفاقی وزارت داخلہ میں لا بٹھایا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس سے پہلے انہوں نے رانا ثنا اللہ کو فیصل آباد میں اپنے گھر بٹھائے رکھنے کا پورا اہتمام بھی کیا ورنہ نون لیگ کے لیے کیا مشکل تھا کہ رانا ثنا اللہ کو آئندہ ماہ اپریل میں ہونے والے سینیٹ الیکشن میں ایوان بالا کا رکن بنا کر وزیر داخلہ کی کرسی تک پہنچا دیا جاتا لیکن نہیں، اس کی اجازت نہیں تھی۔

جن با اختیار قوتوں نے پی ٹی آئی کی سینئر قیادت کو مجبور کیا کہ وہ صرف پارٹی نہیں بلکہ فی الحال سیاست سے ہی ریٹائرمنٹ کا اعلان کریں، کہیں ایسا تو نہیں کہ انہوں نے ہی رانا ثنا اللہ اور خواجہ سعد رفیق کو بھی آمادہ کر لیا کہ وہ فی الحال منتخب ایوانوں سے جدائی برداشت کر لیں اور کسی بھی دوسرے راستے سے وہاں پہنچنے کی کوشش نہ کریں جہاں نون لیگ اپنے لوگوں کو پہنچا دیتی ہے۔

یہ انہی کی حکومت ہے کہ جنہوں نے حبیب بینک کے سربراہ کی کروڑوں کی تنخواہ والی نوکری سے استعفیٰ دلوا کر محمد اورنگزیب کو قائل کر لیا کہ وہ چند کروڑ کی بجائے چند لاکھ کی مراعات قبول کر لیں کیونکہ زندگی میں پیسہ ہی تو سب کچھ نہیں ہوتا اور ڈاکٹر شمشاد اختر کو بھی وزارت خزانہ میں خدمات جاری رکھنے پر انہوں نے قائل کر لیا۔

وفاق کی سطح پر خزانہ، خارجہ اور داخلہ کی وزارتیں جس حکومت کے اختیار میں نہیں ہیں تو پھر وہ کیسی حکومت ہے؟ اس سوال کا جواب واضح ہو چکا ہے لیکن اب اگلا سوال کہ یہ سب کیوں کیا گیا؟

جی، یہ سب اس لیے کیا گیا کہ اگر حکومت اس پارٹی یعنی پی ٹی آئی کو بنانے کا موقع دے دیا جاتا جو کہ ایوان اقتدار سے نکالے جانے کے بعد آندھی اور طوفان کی طرح پلٹ کر آئی اور بگولے کی طرح 8 فروری کو سب کچھ اڑا کر لے جا رہی تھی کہ اسے مشکل سے ہی روکا جا سکا۔ یہ بات تو طے کہ فی الحال کوئی امکان نہیں لگتا کہ یہ پارٹی کبھی پاکستان کے سیاسی منظر پر ابھرے گی لیکن یہی بات چند سال پہلے تک نواز شریف اور نون لیگ کے بارے میں بھی کہی جا رہی تھی۔ اس لیے وطن عزیز میں کچھ بھی حتمی نہیں ہے۔

آپ کو یاد ہو گا کہ 8 فروری کے انتخابات سے پہلے ”ٹیکنوکریٹس کی حکومت“ کا معاملہ زیر بحث رہا، پھر ”ہائیبرڈ رجیم“ کی بات بھی کی گئی، کچھ لوگ یہ بھی کہتے سنے گئے کہ نگران حکومت کو دو سال کی توسیع دی جا سکتی ہے۔ اس کا جواز یہ پیش کیا جاتا رہا کہ پاکستان کو ہمیشہ سے لاحق ”سنگین بحران“ کا معاملہ اب ”سنگین معاشی چیلنج“ بن کر حلق میں اٹک گیا ہے۔

پاکستان کی مقتدرہ نے اس معاشی چیلنج سے نمٹنے کے لیے معاملات کسی منتخب حکومت پر چھوڑنے کی بجائے خود طے کرنے کا فیصلہ کیا لیکن یہ بات بھی طے تھی خود ”فور فرنٹ“ پر نہیں آئیں گے بلکہ معاملات کو اپنے کنٹرول میں رکھتے ہوئے سیاستدانوں کا کندھا استعمال کریں گے۔

یہ تجربہ کامیاب ہو گا یا ناکام؟ اس حوالے سے ہر ایک اپنی رائے ہو سکتی ہے۔ میری رائے تو بس اتنی ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کی سرحدوں میں گھس کر بزدلانہ کارروائی کے جواب میں اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ ”سرپرائز تو آپ کو ہم دیں گے، کب اور کیسے؟ اس کا فیصلہ بھی ہم خود کریں گے، کیونکہ ہم تو بنے ہی تمہارے لیے ہیں“ اور پھر واقعی پاکستان کی جری افواج نے وہ سب کر دکھایا جس کے لیے وہ بنے ہیں لیکن اب جو کام ادارے نے اپنے ذمے لے لیا ہے، یہ اس کے لیے نہیں بنے ہیں اور نہ ہی یہ ان کی تربیت میں شامل ہے۔

Facebook Comments HS