محبوب آپ کے قدموں میں


یہ قصہ ہے جب کا کہ آتشؔ جواں تھا۔ میری عمر اس وقت کوئی سترہ برس کی ہوگی جب مجھے اپنے محلے کی ایک لڑکی سے عشق ہوا تھا۔ اب کیوں ہوا تھا؟ اس کا میرے پاس کوئی معقول جواب ہے نہ جواز کیونکہ عشق کیا نہیں جاتا بلکہ خودبخود ہوجاتا ہے۔ بقول غالب:

عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ
کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے

وہ لڑکی، جس کا نام ہم یہاں مہرالنساء عرف مہرو فرض کرتے ہیں، اتنی خوبصورت بھی نہیں تھی کہ اس کے در پر عاشقوں کا میلہ لگتا مگر ہاں! وہ ہماری جوانی کا دور تھا، عقل صحیح طریقے سے کام نہیں کر رہی تھی، دوسرا یہ کہ محلے میں سب سے غنیمت وہی لڑکی (مہرو) تھی باقی تو اس سے بھی گئی گزری تھیں۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ میرا یہ عشق یک طرفہ تھا مہرو مجھے دیکھ کر منہ دوسری طرف پھیر لیتی تھی۔ شروع شروع میں مہرو کی اس بے رخی کو میں اس کی ادا سمجھتا رہا لیکن بعد میں جب مجھے دیکھ کر وہ میری طرف باقاعدہ تھوکنے لگی تو مجھے یقین ہو گیا کہ یقیناً میرے کسی بدخواہ نے اسے میرے خلاف ورغلایا ہو گا جس کی وجہ سے وہ میری طرف التفات نہیں کر پا رہی۔

مہرو کی بے رخی میرے عشق کی جنوں خیزی میں کسی قسم کی کمی لانے میں کامیاب نہ ہو سکی بلکہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ اپنی محبوبہ کج ادا کی محبت حاصل کرنے کے لیے میں نے اس کے چھوٹے بھائی ببلو سے، جس کی عمر اس وقت گیارہ برس کے قریب ہوگی، دوستی کرلی اور روزانہ ایک گھنٹے کے لیے محلے کی دکان سے سائیکل کرائے پر لے کر انھیں چلانے کے لیے دے دیتا۔ اس دوستی کو مزید وسیع کر کے میں نے مہرو کی والدہ رشیدہ عرف رجو خالہ تک رسائی حاصل کرلی اور یوں اس کے گھر میں میرا آنا جانا لگ گیا۔

میری متوقع ساس ایک ادھیڑ عمر کی چالاک عورت تھی، وہ کسی حد تک میرے ارادے بھانپ گئی لیکن مجھ پر ظاہر ہونے نہ دیا بلکہ میرے معصوم عشق سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے گھر کے تمام کام مجھ سے لینے لگی۔ سبزی ترکاری خریدنا، بکری کے لیے گھاس لانا (جو میں قریبی ندی سے کاٹ کر لاتا تھا) ، دکان سے دودھ دہی لانا، مہرو کے ابا کے کپڑوں کی استری اور گھر کی صفائی کرنا میرے فرائض عاشقانہ میں شامل تھے۔ غرضیکہ اس ظالم عورت نے مجھے اپنا بے دام غلام بنا لیا تھا جب کہ محلے میں مشہور کیا تھا کہ میں اس کا منہ بولا بیٹا ہوں۔ دوسری طرف سنگ دل محبوبہ تھی کہ اس کی خاطر اتنی مشقتیں اٹھانے کے باوجود اس کو مجھ پر ترس نہیں آ رہا تھا اور تھوکنے کا عمل اب بھی شد و مد کے ساتھ بالکل اسی طرح جاری تھا جیسا کہ کراچی میں کھدائی کا کام جاری رہتا ہے۔

ایک دن میں اپنی ہونے والی ظالم ساس کے لیے تندور سے روٹیاں خرید کر لا رہا تھا کہ میری نظر اس اخبار پر پڑی جس میں روٹیاں لپیٹی ہوئی تھیں۔ ویسے مجھے اخبار و خبار پڑھنے کا شوق نہیں تھا (بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ سرے سے پڑھنے کا ہی شوق نہیں تھا) لیکن جس چیز نے اخبار کی طرف میری توجہ مبذول کرائی وہ تھا ایک اشتہار۔ ’محبوب آپ کے قدموں میں‘ جو ایک عامل بابا نے چھپوایا تھا۔ بابا کا دعویٰ تھا کہ صرف ایک تعویز کے اثر سے سنگ دل سے سنگ دل محبوبہ بھی آپ کے تلوے چاٹنے پر مجبور ہو جائے گی (بہرحال ہمیں تو اپنے تلوے چٹوانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا بس محبوبہ کو رام کرنا مقصود تھا) ۔ میں نے فوراً نان بائی سے ایک اور اخبار لے کر روٹیاں اس میں لپیٹ دیں اور اشتہار والے اخبار کو جیب میں رکھ لیا۔

اگلے دن صبح سویرے میں عامل، حضرت شاہ بابا کے آستانے پہنچ گیا، آستانہ کیا تھا بلکہ بابا کا اپنا گھر تھا جہاں ایک طرف کچھ خواتین بیٹھی ایک دوسرے سے اپنے گھریلو مسائل ڈسکس کر رہی تھیں جب کہ دوسری جانب چند نوجوان لڑکے نگاہ نیچے کیے سر جھکائے بیٹھے تھے اور محبوبہ کے قدموں میں آنے کے سہانے سپنے دیکھنے میں مصروف تھے۔ میں بھی جاکر ایک لڑکے کے پیچھے سر جھکا کر بیٹھ گیا اور تصور میں اپنی محبوبہ نارسا کے بارے میں کھلی آنکھوں سے خواب دیکھنے لگا۔ تقریباً دو گھنٹے بعد میری باری آئی، بابا نے مجھ سے مہرو کی تمام تفصیلات لے کر مجھے ایک تعویز دی جس کے بدلے میں مجھے سے پانچ سو روپے نقد وصول کیے اور ایک مہینے بعد آنے کا کہا۔ مہرو کے گھر جاکر میں نے بابا کے ہدایت کے عین مطابق تعویز کو اس کے پلنگ کے ایک پائے کے ساتھ باندھ لیا۔

تعویز کا اثر ایک ہفتے کے اندر ہی سامنے آ گیا جب میری محبوبہ محلے کے قصاب کے لونڈے کے ساتھ بھاگ گئی۔ تعویز کا الٹا اثر دیکھ کر مجھے بہت غصہ آیا اور اگلے دن دوبارہ بابا کے آستانے پہنچا مگر وہاں جاکر پتا چلا کہ آستانہ تو دو دن سے بند ہے۔ آس پاس رہنے والوں سے پتا کیا تو انھوں نے بتایا کہ دو دن پہلے عامل شاہ بابا کی جوان بیوی جس کا نام رخسانہ ہے اس کے ایک مرید، چاندو میاں کے ساتھ بھاگ گئی ہے اور شاہ بابا اس کی رپورٹ درج کروانے تھانے گئے ہیں۔

محلے داروں سے عامل بابا کی بیوی کے بھاگنے کے بارے میں جو تفصیلات ملی ہیں اس کا خلاصہ یہ ہے کہ چاندو میاں کو شاہ بابا کی جوان بیوی رخسانہ سے عشق ہو گیا تھا، اپنی محبوبہ کو اپنے قدموں میں لانے کے لیے چاندو میاں نے عامل شاہ بابا سے رابطہ کیا لیکن لڑکی کا نام نہیں بتایا۔ شاہ بابا نے پانچ سو روپے لے کر انھیں تعویز دی اور ساتھ اپنی اکلوتی بیوی بھی اس کے قدموں میں ڈال دی۔ اب بیچارہ تھانوں کے چکر لگاتا پھر رہا ہے۔

Facebook Comments HS