وفاقی کابینہ کی تشکیل: کام کام اور بس کام


وفاقی کابینہ کی تشکیل کا مرحلہ بھی طے کر لیا گیا اور اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کے عوام کو ہر ممکن حد تک وہ تمام سہولیات بہم پہنچائے کہ جو ممکن بھی ہے مگر صرف بار بار کے سیاسی عدم استحکام کے سبب سے ان تک نہیں پہنچ سکی ہیں۔ شہباز شریف نے گزشتہ پی ٹی آئی دور میں بہت سخت حالات کا مقابلہ کیا اور یہ سب صرف ان کو اس لئے جھیلنا پڑا کہ وہ کسی طور بھی نواز شریف سے بے وفائی کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئے اور نواز شریف کسی طور پر بھی اس پر راضی نہیں ہوئے کہ کوئی بھی ماورائے آئین ہو سکتا ہے اور وہ اپنے ان خیالات کی وجہ سے سخت ترین حالات کا شکار ہو کر جلا وطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیے گئے تھے۔

مجھے یاد ہے کہ میں نواز شریف سے ملاقات کی غرض سے میں جب جدہ ان کے گھر پر گیا تو پرویز مشرف کی آمریت کا سورج سوا نیزے پر تھا۔ مسلم لیگ نون کے لئے سانس لینا تک محال کر دیا گیا تھا مگر اس سب کے باوجود نواز شریف اس کا تہیہ کیے ہوئے تھے کہ چاہے اور جتنا مرضی راستہ روکا جائے مگر اپنے موقف سے کسی طور دست بردار نہیں ہونا ہے، کیپٹن صفدر اور حسین نواز بھی ان ملاقاتوں میں موجود تھے۔ جدہ میں ہی ان کے والد میاں شریف مرحوم سے ملاقات ہوئی تھی اور انہوں نے اپنے بازوؤں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مجھے کہا تھا کہ میں نے صرف محنت پر بھروسا کیا ہے اور مجھے نصیحت کی تھی کہ ہمیشہ محنت اور ثابت قدمی پر بھروسا رکھنا، رب مدد کرے گا، اس ہی سبق کو نواز شریف، شہباز شریف نے پلے باندھا ہوا ہے۔

میرا سفارت کاروں سے گزشتہ پچیس برس سے زائد سے رابطہ ہے اور اس سلسلے میں جب میں واپس آیا تو ایک پریس کانفرنس اور شام کو ڈنر کا میں نے اہتمام کیا جس میں تمام اہم ممالک کے سفارت کار شریک ہوئے اسحاق ڈار، راجہ ظفرالحق اور اقبال ظفر جھگڑا مہمانان خصوصی تھے اور پاکستان میں موجود رہ کر آمریت کا مقابلہ کرنے کے عزم کا اظہار کر رہے تھے۔ کچھ عرصہ بعد شہباز شریف جب جدہ سے لندن چلے گئے تو ان سے وہاں پر ملاقات ہوئی اور اس ملاقات میں شہباز شریف نے وہ جدہ والا موقف ہی دوہرایا کہ نواز شریف کا فیصلہ حتمی ہے اور چاہے آزمائش جتنی مرضی مزید کڑی ہو جائے سوچ کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا ہے۔

ان دنوں میں پرویز مشرف مسلم لیگ نون کے خلاف پولیس گردی کر رہا تھا جس سے میں بھی متاثر ہوا تھا اس پر شہباز شریف نے مجھے کہا تھا کہ نواز شریف کی قیادت میں دی گئی یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور ہم منزل ضرور حاصل کر لیں گے۔ جب شہباز شریف نے جبری جلا وطنی ختم کر کے پاکستان آنے کی کوشش کی تو اس روز مشاہد اللّہ خان مرحوم اور میں نے لاہور کے ایک ہوٹل میں میڈیا سیل قائم کیا ہوا تھا پولیس ہمیں دفاتر اور گھروں میں تلاش کرتی رہی جبکہ ہم ایک ہوٹل سے دنیا بھر کے میڈیا سے رابطہ قائم کر رہے تھے۔

جب نواز شریف نے پہلی بار جلا وطنی ختم کر کے وطن واپس آنے کی کوشش کی اور ان کو دوبارہ جلا وطن کر دیا گیا تھا تو اس روز اسلام آباد میں تھانہ آب پارہ میں مجھے بھی راجہ ظفرالحق اور اقبال جھگڑا کے ہمراہ پابند سلاسل کر دیا گیا تھا۔ پھر بالآخر آمریت انجام کو پہنچی اور ملک میں بحالی جمہوریت کا آغاز ہو گیا۔ سیاسی ادوار میں سیاسی جماعتوں کے تعلقات سرد و گرم ہوتے رہتے ہی ہیں مگر اس میں اتنی شدت نہیں آئی کہ جمہوریت ہی پٹری سے اتر جاتی۔

قوم 2013 کے انتخابات تک پہنچ گئی اور ملک میں سیاسی تبدیلی آ گئی، نواز شریف وزیر اعظم بن گئے دوسرے لفظوں میں لہو لہو امن و امان کی صورت حال، گرتی معیشت اور بد ترین لوڈ شیڈنگ کے مسائل پہاڑ سے بھی بڑے بن کر سامنے کھڑے تھے مگر میاں شریف مرحوم کی نصیحت کے محنت اور ثابت قدمی، نتیجہ اسحاق ڈار نے سامنے لا کر کھڑا کر دیا تھا کہ پاکستان بس جی ٹوئنٹی میں شمولیت کے قریب تھا، لوڈ شیڈنگ پر قابو پا لیا گیا تھا اور اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر دہشت گردی کے عفریت کی کمر توڑ دی گئی تھی حالاں کہ اس دوران دھرنا دھرنا کر کے سی پیک تک کا راستہ روکنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی تھی۔

اسی دوران جب نواز شریف دل کی بیماری کے باعث لندن چلے گئے تو ان کی مزاج پرسی کے لئے لندن گیا یہاں پر یہ پراپیگنڈہ کیا جا رہا تھا کہ وہ حکومتی معاملات سے لا تعلق ہیں مگر میں نے لندن جا کر مشاہدہ کیا کہ وہ ایک لمحہ کے لئے بھی اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہیں ہیں۔ پھر جولائی دو ہزار سترہ میں سازش کامیاب ہو گئی اور نواز شریف مریم نواز، کیپٹن صفدر وغیرہ سے عدالتی پیشیوں پر ملاقاتیں ہوتی اور میں ہر بار ایک ہی احساس لے کر اٹھتا کہ آئینی نظام کا جو تصور جدہ میں نواز شریف سے سنا تھا وہ اس پر ڈٹے ہوئے ہیں اور ہر قسم کے حالات کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہیں۔

2018 کے آر ٹی ایس زدہ انتخابات کے اگلے روز 26 جولائی 2018 کو نواز شریف، مریم نواز کیپٹن صفدر سے اڈیالہ جیل میں ملاقات ہوئی اور میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ آنے والے سخت حالات سے اچھی طرح واقف ہونے کے با وجود جو سوچ تھی اس پر مستحکم تھے۔ آنے والا وقت اتنا کٹھن ثابت ہوا کہ حمزہ شہباز کو اپنی چھوٹی سی بیٹی کی تیمار داری کرنے دینے کی بجائے انہی دنوں میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا حالاں کہ دنیا اس وقت بھی پی ایم ایل این کی گزشتہ حکومت کی کارکردگی معترف تھی۔

جب شہباز شریف جیل میں تھے تو اس وقت کے چینی قونصل جنرل نے ان کے نام ایک خط لکھا اور میرے حوالے کر دیا اب سوائے شہباز شریف کی عدالت پیشی کے وقت کے علاوہ اور کہی وہ خط ان کو پہنچانا ممکن نہیں تھا اس لئے عدالت میں ہی ان کے حوالے کیا۔ میڈیا پل پل کی خبر دے رہا تھا تو یہ خط تو بریکنگ نیوز بن گیا کہ جس کو قیدی بنا کر عدالت لائے ہو اس کی اس وقت بھی دنیا شہباز سپیڈ کا اعتراف کر رہی ہے۔ ان تمام افراد سے ان کے علاوہ بھی متعدد بار ملاقات رہی مگر ان چیدہ چیدہ واقعات کو دوہرانے کا مقصد یہ ہے کہ اس بات کو سمجھ لیا جائے کہ شہباز شریف حکومت انگاروں پر چل کر قائم ہوئی ہے اور ملک کے جو اس وقت معاشی حالات ہیں وہ بھی دہک رہے ہیں۔ اتنی طویل جد و جہد کے بعد عوام یہ شدید خواہش رکھتی ہے کہ ان کے مسائل کا جلد از جلد تدارک کیا جائے تا کہ وہ سینہ تان کر کہہ سکیں کہ ہماری قیادت نے سختیاں بھی برداشت کی اور عوام کو سختیوں سے نجات بھی دی۔ شروع میں عرض کیا تھا کہ وفاقی کابینہ تشکیل پا چکی اب بس کام کام اور بس کام۔

Facebook Comments HS