راندہ درگاہ


میں 2024 کا نوجوان ہوں، میں نے جب بھی کسی سوال کی کھوج کی ہے ایک نئے واہمے کا شکار ہوا ہوں۔ شاید یہ میرے لا شعوری فرار کی تلاش کا نتیجہ ہے۔ میرے سارے آئیڈیل اور سٹیریو ٹائپ معیارات پر ذہن نے کھانسنا شروع کر دیا ہے۔ یا یہ سوال ہمیشہ سے موجود تھے اور تسلیم بنا تحقیق ہی پرانا چلن تھا۔ جب اپنی جڑوں پہ ہی اعتبار نہ رہے تو یقین کا پودا کیسے پروان چڑھے۔ بچپن سے ہمارے گھر میں ایک یکسانیت کی فضا تھی۔ جہاں سوال کرنے کو بغاوت تصور کیا جاتا تھا یہی حال سکول کا تھا جہاں صرف رٹا لگانا سکھایا جاتا تھا۔ ایسے میں ہم نے کمپیوٹر کی گود میں پناہ لی۔ اپنی خاندانی خوبی شرافت کے ثمرات بچپن سے ہی دیکھ کر شک کا بیج بو دیا جس نے ہر معیار پر سوالات کھڑے کر دیے۔

ہم لوگ گالیاں کیوں دیتے ہیں، لوگ وائٹ کالر کرائم کیوں کرتے ہیں، سرکاری ملازم ڈرپوک کیوں ہوتے ہیں، استاد، مولوی اور معاشرہ سوال سے اس قدر ڈرتا کیوں ہے۔ پھر انٹرنیٹ نے ہمیں وہ دے دیا جو ان ٹھیکیداروں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ ممنوع لٹریچر تک دسترس مل گئی، نشہ، شراب و شباب ایک کلک کے فاصلے پر۔ نئی سوچ نئے سوال۔ ہر نئی ایجاد کے ساتھ اس کے نقصانات اور فوائد اور بے لاگ تبصرے کی آزادی ملی لیکن کھوپڑی سے باہر یہ باتیں آج بھی ممنوع ہیں آج بھی گناہ اور ٹیبو ہیں۔

میں کور عقائد کا تجزیہ کیا کروں، جب میرے دوست ہی میرا قتل کر دیں، میرے والدین ہی میری سوچ کو مسترد کر دیں یا میرے استاد کو ہی میرے واہمے کو ہضم کرنے کا چارہ نہیں۔ شاید ہماری بنیادوں میں ہی دم خم نہیں یا ہم بھی اورویل کے بگ برادر کی ذہن سازی کا شکار ہو گئے ہیں۔ آٹے دال کا بھاؤ ساری سوچ کو گہری کھائی میں پھینک دیتا ہے۔ پھر میرے پاس آپشن بی کیا ہے۔ نشہ کچا یا پکا چاہے وہ نطشے کا فوق الانسان بن کر ہو یا اپنی انا کا غبارہ پھلا کر اپنے چھوٹوں کا ذہنی استحصال کر کے۔

پھر ایسی زندگی پر میرا ورڈکٹ کتنا درست ہو گا۔ حسن کی انتخاب موت جیسے ہیوگو کی اسمیرالڈا یا میرا جی کی جسمانی محرومی اس میں عورت کے تڑپ تڑپ کر جان دینے میں یا اپنے ذہنی خلفشار سے فرار پانے میں رگ جان سے بہتا لہو کتنا نشہ آور ہو سکتا ہے۔ یہ ایک الگ بحث ہے۔ یا ابلیس کی طرح راندہ درگاہ ہو کر دربار ایزدی سے نکالے جانے پر صرف اس لیے کہ اس نے اپنے حق رائے کا استعمال کیا۔ شیطان و یزداں کی اس کشمکش میں کون جانے جس کو ہم ازل سے ولن سمجھ رہے ہیں وہ پروپیگنڈا ہی نہ ہو۔

مجھے غم نہیں کہ جب میری آنکھوں میں شک کی تیز چبھن نے ڈیرے ڈال لیے تھے تم نے اپنی شمشیر آبدار سے میرے زخم کو جلا بخشی۔ اور مجھے واہمے کے گھنیرے بادلوں سے نکال لائی۔ میں جب ابدی سچائی کے نخلستان میں پہنچا، تو اسے بے آب و گیاہ ریگستان پایا۔ میری آنکھوں میں پلتا یہ السر تمہیں کس بہشت بریں کی نوید لگتا ہے۔ کاغذوں پہ بیل بوٹے بنانے والی اک چنچل روح، تو تو دو جہاں کی پالنہار ہے میری افتاد تیرے مصحف تیرے اپوسٹل کی سرخی نہ بن سکی۔ کسی دیوار گریا میں کسی کعبہ، کسی سومنات نے میری افتاد کا نوحہ نہیں گایا۔ کیا میں بازار حسن کو اپنی آفرینش دان کرنے والی راگوں پہ تھرکتی تتلی جتنی بھی معتبر نہ تھی جو تو نے اس طرح مجھے راندہ درگاہ جانا اور معبد کے پتھر سے اتار پھینکا۔ مجھے میرے سوالوں کا جواب چاہیے۔

Facebook Comments HS