سال 2023 کا پوٹھوہاری کتابی سرمایہ
2023 پوٹھوہاری زبان و ادب کے لیے اس لیے بھی بہت اہم ہے کہ اس سال ریکارڈ تعداد میں پوٹھوہاری کی کتب شائع ہو کر منظر عام پر آئیں، یہ 23 کتب پوٹھوہاری زبان و ادب کی بیشتر اصناف کا احاطہ کیے ہوئے ہیں، اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ درجنوں کی تعداد میں پوٹھوہاری کتب اب بھی اشاعت کی منتظر ہیں لیکن مصنفین اور مرتبین کی مالی مشکلات اور سر کاری اداروں کی عدم توجہی کے باعث زیور طبع سے آراستہ ہونے سے محروم ہیں۔
مطبوعہ کتب کی بات کریں تو پوٹھوہاری شاعری میں محمد سلیم مرزا کی کتاب ”جندڑی“ ، حفیظ اختر راجہ کی ”پھلاں نی کھاری“ ، یاسر یابی کی کتاب ”اکھیاں نی تریل“ ، چندا خیری بنت دلپذیر شاد کی کتاب ”پھلاں پہری کھاری“ ، چندا خیری بنت دلپذیر شاد کی مرتب کردہ کتاب ”ویلے ناجندر“ (جس میں دلپذیر شاد مرحوم کا ریڈیو ٹی وی پر پڑھا جانے والا کلام شامل ہے ) ، فرزند علی ہاشمی کی کتاب ”مچ“ ، علی عمران کاظمی کی کتاب ”ساڑ“ ثاقب امام رضوی کی کتاب ”بلنے اتھروں“ ، سید تراب نقوی کی کتاب ”کچیاں تنداں“ ، شائع ہوئیں۔
حمدیہ اور نعتیہ پوٹھوہاری ادب میں محمد جمیل جمیل کا پوٹھوہاری نعتیہ مجموعہ ”سچیاں سدھراں“ ، جنید غنی راجہ کی پوٹھوہاری نعت اور مناقب کی کتاب ”پکا رنگ فقیری آلا“ اپنا آپ منوانے میں کامیاب رہیں۔
ناول نگاری میں قمر عبداللہ کا ناول ”مٹی نی خشبو“ ، ڈرامہ نگاری میں ریڈیو پاکستان پر نشر ہونے والے نعمان رزاق کے پوٹھوہاری ڈراموں کی کتاب ”ویر مہھاڑا کہھوڑی چڑھیا“ ، افسانہ نگاری میں عادل سلطان خاکی کے پوٹھوہاری افسانوں کی کتاب ”لپاڑہ“ ، تذکرہ نگاری میں اشتیاق احمد نوشاہی سچیاری کی حضرت نوشہ گنج بخش کے پوٹھوہاری میں تذکرہ پر مشتمل کتاب ”نو، شاہیاں نے شاہ“ ، گیت نگاری میں شکور احسن کے پوٹھوہاری گیتوں کی کتاب ”نیلی اکھیاں آلی“ شامل تھیں۔
پوٹھوہاری میں بچوں کے ادب کی بات کریں تو ظہیر چوہدری کی بچوں کی کہانیوں پر مشتمل کتاب ”بوہڑی آلا جن“ ، مضامین نگاری میں شاہد لطیف ہاشمی ایڈوکیٹ کی پوٹھوہاری کتب پر لکھے گئے مضامین پر مشتمل کتاب ”گاش“ ، طنز و مزاح نگاری میں عثمان اسلم کی پوٹھوہاری لطیفوں پر مشتمل کتاب ”کتکاڑیاں“ شائع ہوئیں۔
2023 اس حوالے سے بھی اہم تھا کہ اس سال پوٹھوہاری زبان میں پہلا سفرنامہ لکھنے کا اعزاز مسرت شیریں نے ”اکھیاں تکھی رحمت“ لکھ اور شائع کر کے حاصل کیا، پوٹھوہاری میں دوسرا سفر نامہ ”رب نیاں رحمتاں“ کے نام سے طالب بخاری کا شائع ہوا جو حرمین شریفین اور ترکی کے سفر پر مشتمل تھا، ترجمہ نگاری کی بات کریں تو شریف شاد نے آپ ﷺ کے خطوط کا ”سرکار ﷺ نیاں چٹھیاں“ کے نام سے پوٹھوہاری میں ترجمہ میں ترجمہ کیا۔
پوٹھوہاری لوک ادب کی بات کریں تو راقم نے ”ہوشے“ کے عنوان سے شادی بیاہ کے مواقع پر گائے جانے والے پوٹھوہاری لوک گیتوں اور سٹھنیوں پر مشتمل کتاب مرتب کر کے پوٹھوہاری زبان و ادب کے فروغ میں اپنا حصہ ڈالا۔
پوٹھوہاری زبان میں مطبوعہ کتب کی تعداد 100 کا ہندسہ عبور کر چکی اور یہی رفتار جاری رہی تو سال 2024 میں کتب کی تعداد یقیناً 150 کے قریب پہنچ جائے گی جو بہت خوش آئند بات ہے۔
(نوٹ:مضمون نگار پوٹھوہاری زبان کے شاعر، تین کتابوں کے مرتب اور روزنامہ نوائے وقت میں سب ایڈیٹر ہیں )


