جرمنی اور رمضان المبارک


جرمنی کی تاریخ میں، پہلی دفعہ، جرمنی کے مالیاتی مرکز فرینکفرٹ (مین) کے اندرون شہر میں ماہ رمضان کا خیر مقدم کیا گیا ہے ۔ گروسن بوکن ہائیمر سٹرا سے پر واقع، پیدل چلنے والوں کے لئے مختص اور شاپنگ اور لذیذ کھانوں کے لئے مشہور ”فریسگس“ یعنی فوڈ اسٹریٹ کو ہلالی چاند، ستاروں، فانوسوں اور برقی قمقموں سے سجایا گیا ہے۔ درمیان میں ”رمضان مبارک“ کی تحریر نے اس روشنی کی سجاوٹ کو چار چاند لگا دیے ہیں۔

اتوار کی شام (جرمنی میں پیر کا پہلا روزہ تھا) جب یہ تحریر روشن کرنا تھی تو عوام کا ایک جم غفیر وہاں اس کو دیکھنے اور منانے کے لئے موجود تھا۔ عوام کی الٹی گنتی کی صداؤں کے بعد ، چھ بج کر سینتیس منٹ پر اس کو روشن کیا گیا تو ہر طرف موبائل فونز نظر آ رہے تھے اور عوام کی خوشی کی چیخ و پکار سنائی دے رہی تھی۔

گزشتہ سال، شہر کی سٹی کونسل کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ فرینکفرٹ (مین ) شہر کا کثیر الثقافتی آفس اور ایک لمیٹیڈ کمپنی مل کر رمضان کی آمد پر، یہ روشنیاں لگائیں گے جس کے لئے پچھتر ہزار یورو مختص کیے گئے تھے۔ فرینکفرٹ سٹی کونسل کی حکمرانی چئیر پرسن اور گرین جماعت کی راہنما کا کہنا ہے کہ یہ اقدام یہاں کے باشندوں میں آپس میں ہم آہنگی، رواداری، امن پسندی کے لئے ایک سنگ میل ہے۔ اس سے اینٹی اسلامک اور اینٹی صیہونیت کے جذبات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ فرینکفرٹ (مین ) میں تقریباً ایک سے ڈیڑھ لاکھ مسلمان بستے ہیں جو فرینکفرٹ (مین ) کی کل آبادی کا پندرہ فیصد ہے۔ سٹی کونسل میں

کثیر الجماعتی اتحادی حکمرانوں کے برعکس، دو دوسری نمائندہ جماعتوں سی۔ ڈی۔ یو اور اے۔ ایف۔ ڈی نے روشنیاں لگانے کی مخالفت کی تھی کہ اس سے پیسوں کا ضیاع ہے اور لوگوں کے ٹیکسوں سے یہ خرچہ ہو رہا ہے۔ کچھ لوگ ان روشنیوں کو یورپ یا جرمنی میں عیسائیوں کے کرسمس اور یہودیوں کے ہنوکا فیسٹیول، پر لگائی گئی روشنیوں سے موازنہ کرتے ہوئے اس بات کے حق میں ہیں کہ مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد جرمنی میں سالہا سالوں سے سکونت اختیار کیے ہوئے ہے اور وہ یہاں ٹیکس ادا کر رہی ہے تو ان کو بھی اپنے مذہبی تہوار منانے اور نمائش کا پورا حق حاصل ہے۔

گزشتہ سال یورپ میں پہلی دفعہ برطانیہ کے شہر لندن کے پکاڈیلی سرکس پر رمضان کی آمد پر، ایسی ہی روشنیوں کا انعقاد کیا گیا تھا۔

فرینکفرٹ (مین ) شہر میں سٹی کونسل کی معاونت کے برعکس، جرمنی کے ایک دوسرے شہر کولون۔ اہرن فیلڈ کی ونلور سٹرا سے کو بھی، پرائیویٹ عطیات کے ذریعہ، ایسی ہی روشنیوں سے سجا کر ماہ رمضان کو خوش آمدید کہا گیا ہے ۔ ان روشنیوں کی منتظمین پانچ بہنیں ہیں جنہوں نے وہاں اورینٹل قمقمے، ہلالی چاند وغیرہ کے ساتھ ”رمضان“ کی تحریر سے اس سڑک کو آراستہ کیا ہے۔ ان کے مطابق، رمضان کی آمد پر روشنیوں کا لگانا تنوع کا اظہار ہے۔

سماجی رابطوں کے پلیٹ فارموں پر، رمضان کی روشنیاں لگائے جانے پر، دو رائے دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ مخالفین اس خوف کا اظہار کرتے ہیں کہ جرمنی میں اسلامائزیشن زور پکڑ رہی ہے اور اس کو روکنا ضروری ہے کیونکہ اسلام کا تعلق جرمنی سے نہیں ہے جبکہ مسلمان اور کچھ جرمن باشندے اس بات کی توثیق کرتے ہیں کہ اسلام کا تعلق جرمنی سے ہے اور جرمنی کا آئین، انہیں مذہبی آزادی کا حق دیتا ہے۔

2015 میں سابقہ چانسلر انجیلا میرکل نے بھی دوسری پوزیشن کہ اسلام کا جرمنی سے تعلق ہے، لی تھی۔

یہ روشنیاں ماہ رمضان کے خاتمے، بروز منگل، مورخہ نو اپریل، تک لگی رہیں گی اور شام پانچ بجے سے رات دس بجے تک روشن رہیں گی۔

آخر میں ایک اضافی معلومات یہ ہے کہ جرمنی میں فرینکفرٹ نامی دو شہر ہیں۔ ایک فرینکفرٹ (مین) اور دوسرا فرینکفرٹ (اوڈر) ۔ مین اور اوڈر دریاؤں کے نام ہیں جو ان شہروں کے درمیان بہتے ہیں۔ سب دوست سلامت رہیں۔

Facebook Comments HS