پاکستان کے مسائل کا حل
پارلیمانی جمہوری مما لک میں ہر قسم کے مسائل منتخب نمائندگان ہی حل کرتے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو پاکستان کو درپیش سیاسی افراتفری، معاشی عدم استحکام ایسے مسائل ہیں جن پر حکومتی گرفت ہمیشہ کمزور ہی رہی ہے۔ پاکستانی عوام نے 8 فروری 2024 کو جیسے تیسے انتخابات میں اپنے نمائندگان چن کر ایک بار پھر اسمبلیوں میں بھیجا۔ لیکن افسوس انتخابات اتنے متنازعہ ہو گئے کہ ان پر ہر پارٹی نے اپنے اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کیا۔
اس کے باوجود پاکستان مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی دوسری پارٹیوں کے ساتھ مل کر حکومت بنائی، کہنے میں کیا حرج ہے کہ وفاقی حکومت چلانے کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف کی تجویز کردہ 19 رکنی کابینہ کے اراکین نے حلف بھی اٹھا لیا۔ اس کابینہ میں زیادہ تر پرانے چہرے ہیں جو اس سے قبل بھی کئی مرتبہ پاکستان مسلم لیگ نون کی حکومت میں وہ کابینہ کا حصہ رہ چکے ہیں جن میں خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا تنویر حسین، سینیٹر اسحاق ڈار، سینیٹر مصدق ملک، اعظم نذیر تارڑ، ریاض حسین پیرزادہ اور اویس لغاری شامل ہیں۔
وفاقی کابینہ میں تین وزراء زیر بحث رہے جن میں ایک محمد اسحاق ڈار سابق وزیر خزانہ جن کو وزیر خارجہ بنایا جا رہا ہے اور دوسرے سابق نگران وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی جن کو وفاقی وزیر داخلہ بنایا جا رہا ہے اور تیسرے محمد اورنگزیب جو کہ اسحاق ڈار کی جگہ وزیر خزانہ بنے ہیں۔ وزارتوں کی تقسیم پر الگ سے قلم درازی کروں گا۔
حکومت بن گئی لیکن پہلے ہی دن کہا جا رہا ہے کہ یہ حکومت زیادہ عرصہ نہیں چل سکے گی کیونکہ حکومت صدر آصف علی زرداری کے رحم وکرم پر ہے لہذا وہ جب بھی یہ سمجھیں کہ کہ یہی ان کے (چارمنگ پرنس) بیٹے کو وزیر اعظم بننے کا مناسب وقت ہے تو اسی لمحے موصوف وزیر اعظم میاں شہباز شریف کی حکومت سے اپنا دست شفقت اٹھا لیں گے یوں پاکستان اور اس کی عوام کے مسائل کو پس پشت ڈال کر اقتدار کے ایوانوں میں طاقت کے حصول کی نہ ختم ہونے والی دہائیوں پرانی جنگ دوبارہ دیکھی جا سکے گی۔ شاید اسی لئے یہ ہم سوال ذہنوں میں ابھرتا ہے کہ پاکستان جس طرح کے معاشی، سیاسی اور سماجی مسائل میں گھرا ہو ہے، اور جس طرح سے انتخابات کروائے جا رہے ہیں ان حالات میں کیا 8 فروری کے انتخابات ملک اور قوم کو کسی قسم کا استحکام دے سکیں گے اور یہ ملک ترقی کی جانب گامزن ہو سکے گا؟
پی ٹی آئی نے عید کے بعد حکومت کے خلاف سڑکوں پر آنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اگر پی ٹی آئی کا احتجاج پہلے کی طرح بھرپور ہوا تو اس میں مولانا فصل الرحمان اپنا حصہ ڈالے بغیر نہیں رہیں گے جس سے حکومت کو خاصی مشکل پیش آ سکتی ہے۔ اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان کو درپیش معاشی چیلنج وقتی طور پر 2023 میں ٹل گیا تھا۔ پی ڈی ایم کی سولہ ماہ کی حکومت نے نعرہ لگایا تھا کہ سیاست نہیں ریاست بچاؤ۔ جیسا کہ مبصرین کا کہنا ہے کہ معاشی استحکام تب تک ممکن نہیں جب تک ہم اپنی اقتصادی بنیادوں کو درست نہیں کرتے، اور اگر ہم ایسا کرنے میں ناکام ہوتے ہیں تو اگلا مالیاتی بحران شاید زیادہ دور نہ ہو۔
اگرچہ ہمارے عرب اور چینی دوستوں کے اربوں ڈالر دینے کے وعدے یقین دلا رہے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنے ملک کو چلانے کے لیے دوسروں کی خیر خواہی پر انحصار کریں۔ جب تک ہم اپنے وسائل کو استعمال کر کے ملک کو چلانے کے قابل نہیں ہو جاتے ہم اپنے دوستوں اور آئی ایم ایف کے قرضوں سے اپنے پاؤں پر کبھی کھڑے نہیں ہو سکتے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک پاکستان میں سیاسی استحکام قائم نہیں ہوجاتا، جس کا دور دور تک کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔
پاکستان میں سیاسی استحکام کو دیکھ جائے تو ، مارچ کے آخر میں آئی ایم ایف سے ہونے والے مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت نئے وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کریں گے جو نئی سوچ اور وقت کے نئے تقاضوں کے تحت آئی ایم ایف کے موجودہ پیکج کی باقی ماندہ رقم کے حصول کے علاوہ 6 ارب ڈالر کے نئے پیکج پر بھی بات چیت کریں گے۔ نئے وزیر خزانہ کو اگلے ماہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے اجلاس میں شرکت کرنا ہوگی اور قرضوں کے معاملے میں نئی حکومت کے اختیارات اور پالیسی کو واضح کرنا ہو گا۔
سادہ الفاظ میں کہا جائے تو ملک کو درپیش سب سے بڑے مسئلے مالیاتی بحران پر قابو پانے کے لئے نئی حکومت کو ہر صورت آئی ایم ایف کے سامنے جھولی پھیلانی ہو گی، لیکن آپ سیاسی انتقام کی انتہا دیکھیں کہ بانی پی ٹی آئی نے جیل کے اندر سے عالمی مالیاتی ادارے کو خط لکھا تھا کہ مبینہ انتخابی دھاندلی کے ازالے تک پاکستان کو قرضہ نہ دیا جائے۔ آئی ایم ایف اس خط کا نوٹس لے یا نہ لے مگر اس مطالبے کی ٹائمنگ بڑی توجہ طلب ہے کہ بھارت آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ میں شامل ہے۔
جب پاکستان کے اندر سے آئی ایم ایف کو قرضہ نہ دینے پر اکسایا جائے گا تو اس موقع پر بھارت کہاں پیچھے رہ سکتا ہے وہ تو پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقعہ جانے نہیں دیتا لہذا اس نے بھی عالمی مالیاتی ادارے سے کہا ہے کہ پاکستان کو قرضہ دینے سے پہلے یقینی بنایا جائے کہ وہ اس قرضے کو اپنے دفاعی اخراجات کی ادائیگی کے لئے استعمال نہ کرے۔ ہمارے سیاستدانوں کو اپنے اقتدار کے حصول کی خاطر پاکستان کی سالمیت کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے۔
نئی منتخب حکومت جس کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہی معاشی بحالی ہے۔ یہ ایک مشکل صورتحال ہے۔ خاص طور پر اس لئے بھی کہ شہباز حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کا وعدہ کر رکھا ہے اور رمضان پیکج کے تحت مستحق لوگوں کی امداد کا بھی اعلان کیا ہے۔ سیاستدانوں کا تو کام ہی عوام کے حوصلوں کو بلند کرنا ہوتا ہے، لیکن اقتصادی امور کے متوقع وفاقی وزیر احسن اقبال فرماتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت کھوکھلی ہو چکی ہے۔
صرف قرضوں کی ادائیگی کے لئے اسے سات سو ارب روپے کی ضرورت ہے۔ مشکل فیصلوں اور اقدامات کے باوجود پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے لئے دو سال لگیں گے۔ پلاننگ کے وزیر احسن اقبال کو چاہیے کہ وہ عوام کو ڈرا دینے والے بیانات کے بجائے اور عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کے بجائے ان کے سامنے پلاننگ رکھیں کہ فلاں فلاں منصوبوں کی تکمیل تک پاکستان کو مشکل مالی بحران کا سامنا رہے گا۔
پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے لیکن افسوس کہ ہم نے خود ( اسلامی ریاست ) کے اہم موضوعات پر بحث کرنا اس لئے چھوڑ دی کیونکہ ہمیں ڈر ہے کہ کہیں وہ غیر اسلامی ممالک ہم سے ناراض ہو کر ہمیں قرض دینا بند نہ کر دیں۔ ہمیں اپنی سوچوں کو درست سمت دینے کی اشد ضرورت ہے ہمیں اپنے اسلاف کے دیے ہوئے ناقابل تسخیر اور کامیابیوں کے راستوں پر چلنا ہو گا۔ آج بھی اگر ہمیں دنیا میں ایک عظیم ملک و قوم بننا ہے تو ہمارے حکمرانوں کو اغیار کا ڈر نکال کر قرآن کے روشن راستوں پر چلنے کے لئے آقاء نعمتﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل کرنا ہو گا۔
قرآن پاک نے اسلامی ریاست کا مقصد متعین کر دیا ہے۔ ترجمہ: ”یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخش دیں تو یہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے روکیں گے اور سب کاموں کا اختیار اللہ کے حکم میں ہے“ ۔ (سورۃ الحج) یہ آیت آپ ﷺ کی حکومت کے طریق کار کو متعین کرتی ہے۔ آپ ﷺ کی حکومت کا مقصد رضائے الٰہی کا حصول، عوامی بہبود اور فلاحی ریاست کا قیام تھا۔ جن اصولوں کے تحت بننے والی حکومت کی بنیاد خاندانی عصبیت اور نسلی شعور کی جگہ دینی وحدت پر قائم تھی۔
قدرتی وسائل سے مالامال ہمارا پیارا وطن جو 27 رمضان المبارک کی نیک ساعتوں میں معرض وجود میں آیا جسے اللہ تعالیٰ نے بے شمار نعمتوں کے ذخائر اور قدرتی وسائل سے مالا مال کر رکھا ہے۔ آئیں رمضان کی ان بابرکت ساعتوں میں ایک بار پھر صدق دل سے پاکستان کو مل کر اتفاق و اتحاد اور محبت سے مضبوط بنانے کی کوشش کریں۔

