دنیا میں امن کے قیام کے لئے ممالک اور خطوں کے مابین بڑے تضادات اور تصفیوں کا حل ضروری ہے۔اقوام متحدہ کے قیام سے لے کر آج تک جتنی بھی عالمی تنظیمیں وجود میں آئی ہیں ان کی کار کردگی اسی صورت بہتر ہو سکتی ہے جب علاقائی اور بین الممالک تصفیوں کو فوری طور پر حل کیا جائے اور اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ان تنظیموں میں شامل بڑے ممالک کے درمیان تعلقات بہتر ہوں۔مشرق وسطی کے حالات ہوں،جنوبی ایشیا ء کے مسائل ہوں یا پھر  روس یوکرین نیا عالمی تنازعہ ہو،ہر طور پر  فریق ممالک کے مل بیٹھ کر بات چیت نہ کرنے کے ماحول نے ان مسائل کو  اب تک قائم رکھا ہوا ہے اور یہی رویہ رہا تو  مستقبل میں بھی ان مسائل کا حل نظر نہیں آتا۔

دنیا میں موجود بڑے مسائل کے حل کے لئے ہمیشہ عالمی طاقتوں کی جانب دیکھا گیا ہے۔دنیا میں دو  قطبی طاقتوں کے عرصے کے دوران شاید مسائل کے حل کے لئے کوئی مبہم سی امید تھی لیکن طاقت کا توازن 90 کی دہائی میں بگڑا اور ایک سپر پاور کا تصور پروان چڑھا تو اس امید نے بھی دم توڑ دیا اور پھر یہی کیفیت ہو گئی کہ

خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

اس صورتحال میں  دو دہائیوں کے گزرنے کے بعد مالی اعتبار سے دنیا میں طاقت کا توازن بہتر ہوا تو اب ایسی کوششیں دیکھی جا رہی ہیں جس میں بڑے اور اہم ممالک کے مابین تعلقات کو بہتر کر کے خطے اور دنیا کی صورتحال بہتر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اس کا ثبوت چین کی جان سے ثالثی کے بعد ایران سعودی عرب تعلقات کا معمول پر آنا تھا ۔  10 مارچ 2023 کو ہونے والی اس پیش رفت کو عرب ممالک سمیت تمام اسلامی  اور خطے کے ممالک نے انتہائی خوش آئند قرار دیا تھا اور اب اس پیش رفت کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے

گزشتہ ایک سال کے دوران، سعودی عرب  اور ایران کے تعلقات  میں بہتری کے بعد دونوں ممالک کے عوام اور خطے کے لئے پائیدار امن کے لئے فوائد حاصل کیے گئے ہیں.یہ تاریخی مصالحت نہ صرف علاقائی امن کے لیے چین کے عزم کی عکاسی کرتی ہے بلکہ مذاکرات کے ذریعے تنازعات کو حل کرنے کے لیے ایک نئی مثال بھی قائم کرتی ہے۔

آج بھی چین کی امن کی وکالت مشرق وسطیٰ کے ممالک میں گونجتی ہے۔ایک ایسے وقت میں جب اسرائیل اور حماس کے درمیان طویل تنازعہ مشرق وسطیٰ کے استحکام کے لئے شدید خطرہ بنا ہوا ہے ، خطے کے ممالک امن کی بحالی میں مدد کے لیے مزید امن کی کوششوں کے خواہاں ہیں۔سعودی عرب اور ایران کے درمیان تنازعہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا ایک بڑا ذریعہ تھا۔یمن اور شام جیسے ممالک میں مخالف قوتوں کی پشت پناہی کرکے پراکسی فوجی تنازعات میں ملوث ہونے سمیت متعدد معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات تھے۔2016 میں سعودی عرب نے ایران میں سعودی سفارت خانوں پر حملوں کے جواب میں ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر دیے تھے۔دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری میں مدد کے لیے چین نے ثالث کا کردار ادا کیا اور ان ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے فریقوں کے درمیان رابطے اور بات چیت میں سہولت فراہم کی۔10 مارچ 2023 کو بیجنگ میں چین کے ساتھ جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں ، سعودی عرب اور ایران نے اعلان کیا کہ وہ دو ماہ کے اندر اپنے سفارت خانے اور سفارتی مشن دوبارہ کھولنے کے معاہدے پر پہنچ گئے ہیں ، جو ان کے تعلقات کی بہتری میں ایک سنگ میل کی حیثیت ہے۔اس کے کچھ ہی عرصے بعد مشرق وسطیٰ کے امن عمل میں کئی مثبت پیش رفت سامنے آئی ۔شام 12 سال کے وقفے کے بعد عرب لیگ میں واپس آیا۔ قطر اور بحرین نے سفارتی تعلقات بحال کرنے کا فیصلہ کر لیا ایران، ترکی اور مصر کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی۔ اور یمن میں کشیدگی کم ہو گئی۔

گزشتہ ایک سال کے دوران سعودی عرب اور ایران مصالحت کی بنیاد پر سیاست اور معیشت سمیت مختلف شعبوں میں تبادلوں میں پیش رفت کر رہے ہیں۔6 اپریل2023ء, سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود اور ان کے ایرانی ہم منصب حسین امیر عبداللہیان نے بیجنگ میں ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے جس میں سفارتی تعلقات کی فوری بحالی کا اعلان کیا گیا۔تعلقات کے دوبارہ آغاز کے چند دن بعد، ایران کی ٹریڈ پروموشن آرگنائزیشن کے مغربی ایشیا کے ڈائریکٹر فرزاد پلٹن نے اعلان کیا کہ مختصر مدت میں، سیاسی اور سفارتی تعلقات کی بحالی دونوں ممالک کو تجارت میں ایک ارب امریکی ڈالر حاصل کرنے کے قابل بنائے گی، جس میں درمیانی مدت میں مزید 2 ارب ڈالر تک توسیع کے امکانات ہیں.

ستمبر 2023 میں ، سعودی عرب میں نئے ایرانی سفیر ، علی رضا عنایتی ریاض پہنچے۔ اسی دن ایران میں سعودی عرب کے نئے سفیر عبداللہ بن سعود الانزی نے تہران میں اپنے سفارتی فرائض کا آغاز کیا۔اکتوبر میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان آل سعود کے ساتھ پہلی بار ٹیلی فون پر بات چیت کی ، جس میں اسرائیل اور حماس کے درمیانتنازعے کی نئی لہر پر دونوں ممالک کے موقف کا تعین کیا گیا تھا۔

ایک ماہ بعد سعودی عرب کی دعوت پر رئیسی مسئلہ فلسطین پر مشترکہ عرب اسلامی سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے ریاض پہنچے اور سعودی عرب کے ولی عہد سے ملاقات کی۔

واشنگٹن ڈی سی میں قائم جیو پولیٹیکل رسک کنسلٹنسی گلف اسٹیٹ اینالٹکس کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر جیورجیو کیفیرو نے ایک حالیہ مضمون میں کہا ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان گزشتہ ایک سال کے دوران ہونے والی قریبی بات چیت کچھ تجزیہ کاروں کی ایک سال قبل کی توقع سے کہیں زیادہ گہرائی کی نشاندہی کرتی ہے ۔

اس وقت اسرائیل اور حماس کے تنازعے کے نتائج اور بعض ممالک کی جانب سے جنگ بندی کی کوششوں میں رکاوٹیں مشرق وسطیٰ میں دیرینہ امن کوششوں کے لیے سنگین خطرہ بن رہی ہیں۔ایسے پس منظر میں چین کی جانب سے تنازعات کو مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے حل کرنے کی وکالت اب بھی جنگ زدہ سرزمین میں امن کو فروغ دینے کے لیے اور بھی زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔

تہران اور ریاض کے درمیان مصالحت میں بیجنگ کے کردار کے بعد، خطے میں یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ ایک ایسی علاقائی صورتحال پیدا کی جائے جہاں تعاون محاذ آرائی سے آگے بڑھ سکے ۔ایک رائے یہ بھی پائی جاتی ہے کہ عرب دنیا مغربی ‘مشروط تعلقات’ سے تنگ آ چکی ہے لہذا ایسے تناظر میں چین پر اعتماد کرنے والے عرب ممالک کے لیے یہ عقلمندی ہے کہ وہ چینی سفارتکاری ایک ماڈل کے طور پر اپنائیں. سعودی عرب میں بھی تجزیہ کاروں میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ سلامتی کے حصول کے لیے چین کا نقطہ نظر مشرق وسطیٰ کے ممالک کی پرامن ترقی کی امنگوں سے مطابقت رکھتا ہے اور سعودی ایران مفاہمت نے پورے خطے میں مشترکہ اتفاق رائے کے طور پر امن اور ترقی کے تصور کو مضبوط کیا ہے۔دوسی جانب ایران میں یہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے کہ سعودی عرب ایران اختلافات کا حل سفارتی کوششوں میں ہے اور مشرق وسطیٰ اور دنیا کو زیادہ پرامن بنانے کے لیے چین جیسے زیادہ سے زیادہ امن شراکت داروں کی شرکت کی ضرورت ہے۔