معاشی چیلنجز


محمد اورنگزیب نے وفاقی وزیر خزانہ کے عہدے کا چارج سنبھال لیا ہے اب ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ جلد سے ملکی معیشت کو بھنور سے نکالنے کی تدبیر کریں۔ گزشتہ دنوں وفاقی وزارت خزانہ نے پاکستان کی معیشت کو درپیش 8 بڑے معاشی خطرات کی نشاندہی کی تھی، ان میں میکرو اکنامک عدم توازن، بڑھتا ہوا قرضہ، خسارے میں جاتی سرکاری کمپنیاں، ماحولیاتی تنزلی، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ خطرات، صوبائی مالیاتی ڈسپلن اور گورننس کے چیلنجز شامل تھے۔

اس حوالے سے وزیر خزانہ صاحب بخوبی ادراک رکھتے ہیں کہ معیشت کا علاج وقتی طور پر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی لاکر یا عالمی اداروں اور دوست ممالک کے قرض سے زر مبادلہ کے ذخائر وقتی طور پر بڑھا کر اب نہیں ہو سکتا۔ ہمیں اپنی ایکسپورٹ اب ہر صورت بڑھانی ہوگی جس کے لیے بیرونی سرمایہ کاری نہایت ضروری ہوگی۔ بیرونی سرمایہ دار کو متاثر کرنے کے لیے سیاسی استحکام اور معاشی پالیسیوں کا تسلسل ضروری ہے۔ معاشی پالیسی کا بنیادی نکتہ اب نجی شعبے میں روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہونا چاہیے۔

کیونکہ جب تک روزگار کے نئے مواقع پیدا نہیں ہوں گے عوام کی مشکلات میں کمی نہیں آ سکتی۔ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے ترقیاتی منصوبے نہایت ضروری ہوتے ہیں اور موجودہ معاشی حالات میں ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کے لیے حکومت کو اپنے غیر ضروری اخراجات میں کمی کرنا ہوگی۔ ماضی میں اس حوالے سے ہفتے میں تین یا چار دن کام ورک فرام ہوم اور سرکاری افسران کی مراعات میں کمی جیسے مقبول اعلانات ہوئے۔ اس قسم کے فیصلوں سے خاطر خواہ فائدہ نہ ہونے کے ساتھ ساتھ محکمانہ کارکردگی پر فرق پڑے گا اور بد عنوانی کے نئے راستے بھی کھلیں گے۔

غیر ترقیاتی اخراجات کم کرنے کے لیے طویل مدتی، سخت فیصلوں کی ضرورت ہوگی اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنے جیسا غیر مقبول فیصلہ کرنا پڑے گا۔ اس وقت وفاقی اور صوبائی ملازمین کی تعداد تقریباً تیس لاکھ ہے اور پچیس لاکھ سے زائد ریٹائرڈ ملازمین ہیں جو پنشن وصول کرتے ہیں، یہ بہت بڑی رقم بنتی ہے اور اس کا بھی حل نکلنے کی ضرورت ہے۔ سرکاری ملازمین کی تعداد کم کرنے کی بھی ضرورت ہے کیونکہ اس سے نصف تعداد بھی کار مملکت بخوبی انجام دے سکتی ہے۔

اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو ملازمتوں سے محروم کرنا یقیناً کسی ایک سیاسی جماعت کے لیے مشکل فیصلہ ہو گا اس لیے تمام سیاسی جماعتیں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز مل کر ہی یہ فیصلہ لے سکتے ہیں۔ اسی طرح وفاقی حکومت کو اب غیر ضروری مگر مقبول عام اسکیمز، جیسے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو بھی ہر صورت ختم کرنا پڑے گا۔ ویسے بھی یہ پروگرام اب بہت بڑی کرپشن کا ذریعہ بن چکا ہے اور مختلف جگہوں پر رقوم کی کٹوتی کے بعد بھی اصل سفید پوش طبقے تک اس کے ثمرات نہیں پہنچ پاتے۔

اس کے علاوہ خسارے میں چلنے والے تمام اداروں کی نجکاری فی الفور ضروری ہے۔ عالمی بینک کی 2023 کی رپورٹ بتاتی ہے پاکستان کے ریاستی ملکیت میں چلنے والے کاروباری ادارے جنوبی ایشیا میں سب سے کم منافع بخش ہیں۔ ان کی وجہ سے پاکستان کے سرکاری خزانے کو ہر سال 500 بلین روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ صرف پاکستان انٹرنیشنل ائر لائنز (پی آئی اے ) ہر روز پاکستان کا 500 ملین روپے کا نقصان کرتی ہے، دیگر خسارے میں چلنے والے ادارے بھی اس سے مختلف نہیں۔

ان کاروباری اداروں کی نجکاری، یا انہیں بند کرنے پر گزشتہ تین دہائیوں سے بحث ہو رہی ہے مگر اب تک ایسا نہیں ہو سکا کیونکہ اپوزیشن جماعتیں وقتی مفاد کی خاطر نجکاری کے عمل کو سیاسی ایشو بناتی رہی ہیں اور عدلیہ کی طرف سے بھی فوراً اس قسم کے حکومتی اقدامات کالعدم ہو جاتے ہیں۔ تمام اسٹیک ہولڈر متفق ہوں گے تو ہی خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری ممکن ہو سکے گی۔ اگرچہ ایس آئی ایف سی کے قیام اور اس میں عسکری اداروں کی شمولیت پر ہمیں خدشات تھے۔

تاہم ہمیں بتایا گیا تھا کہ حکومتی ضابطے، نوکر شاہی کی رکاوٹیں اور ادارہ جاتی اصلاحات نہ ہونے اور حکومتوں کی نا اہلیوں کے باعث اس وقت ملک میں اقتصادی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے ماحول سازگار نہیں ہے۔ اسی طرح حکومتی ضابطے پیچیدہ اور بوجھل ہیں جس سے نہ صرف کاروبار کے قیام میں تاخیر ہوتی ہے بلکہ متعلقہ اخراجات میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے، یہ رکاوٹیں دور کرنے کے لیے اس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ اس پلیٹ فارم کا جو بنیادی مقصد تھا اس حوالے سے فی الحال کوئی قابل ذکر کام بھی نہیں ہوا، تاہم امید رکھنی چاہیے کہ اور کچھ نہیں کم از کم یہ ادارہ خسارے میں چلنے والے قومی اداروں کی نجکاری پر اتفاق رائے یقینی بنانے میں ضرور کامیاب ہو گا۔

دست نگر معیشت میں دفاع پر اٹھنے کثیر اخراجات کا بھی باریک بینی سے جائزہ لینے اور ملکی سلامتی کو تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کفایت شعاری سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ معیشت کے لیے ایک بڑا درد سر بجلی کا شعبہ ہے جس کا گردشی قرض ہر سال خطیر رقم نگل جاتا ہے پھر بھی اس کا پیٹ نہیں بھرتا۔ ملک میں بجلی کی بڑے پیمانے پر چوری چکاری بھی ایک مسئلہ ہے جس کی قیمت ایمانداری سے بل دینے والوں اور حکومت کو ادا کرنا پڑتی ہے اس کا حل بھی ہمارے ملکی حالات میں مل بیٹھ کر ہی نکل سکتا ہے۔

گزشتہ آٹھ برسوں میں حکومت بجلی خریدنے کے لیے قومی خزانہ سے تقریباً تین ہزار ارب روپے کے قریب خرچ کر چکی ہے۔ اس کے باوجود اس وقت بجلی کا گردشی قرض تین ہزار ارب روپے کے قریب ہے۔ جب تک اس مسئلے کا حل نہیں نکلتا آمدن اور اخراجات میں توازن لانا ممکن نہیں ہو سکے گا۔ اس کے علاوہ جتنا جلد ممکن ہو روایتی ذرائع پر انحصار کم کر کے ہمیں قابل تجدید توانائی کی طرف جانا پڑے گا۔ اسی طرح حکومت کی آمدن میں اضافے کے لیے ٹیکس کے نظام کو عام فہم بنانے اس میں اصلاحات اور اس کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔

یقیناً تاجر برادری اور پراپرٹی مافیا اس میں مزاحم ہوگی۔ ان معاملات پر دلیرانہ فیصلے اور اقدامات کوئی حکومت تنہا نہیں لے سکتی اور ملکی معیشت کو پٹری پر ڈالنے کے لیے آج نہیں تو کل یہ کام کرنا ہو گا۔ یہ ادراک اب ہو جانا چاہیے معیشت کو درپیش یہ بنیادی مسائل حل کیے بغیر قرض، ترسیلات زر کے سہارے یا درآمدات میں مصنوعی کمی کے ذریعے ملک کو طویل عرصہ تک نہیں چلایا جا سکتا۔

Facebook Comments HS