ابلاغی انقلاب، انتخاب کی آزادی اور ریاستی پابندی


ایک عرصے سے رات کو کبھی کبھار آسمان کی طرف جگمگاتے تاروں کی ایک قطار نظر آتی ہے جو زمین سے کچھ ہی دوری سے گزرتی ہے۔ یہ تارے ستارے یا سیارے نہیں مریخ کو مسخر کرنے کے ارادے والے سیٹھ الون مسک کے چھوڑے ہوئے سیٹلائٹ ہیں جو زمین پر رہنے والوں کے لئے ابلاغ یا کمیونیکیشن کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔

الون مسک کا دعویٰ ہے کہ اس نے ابلاغ کو ہر قسم کی پابندیوں اور سرحدوں سے آزاد کر دیا ہے۔ اس کے سیٹلائٹ کی مدد سے زمیں پر کوئی کہیں بھی رہتا ہو اس کو دنیا سے رابطہ کرنے کی سہولت دستیاب ہوتی ہے۔ اب صرف اس سہولت کی قیمت کا مسئلہ درپیش ہے جو صارف کم ہونے کی وجہ سے فی الحال مہنگی ہے مگر مستقبل میں صارفین کی تعداد میں اضافے کے ساتھ یہ سہولت ہر ایک کی دسترس میں ہوگی۔

فائبر کی تار سے جڑے انٹرنیٹ کی سہولت اب تقریباً تمام ممالک میں موجود تو ہے مگر ریاستوں نے اس کے استعمال اور معلومات تک رسائی کو اپنے حساب سے محدود کر رکھا ہے۔ الون مسک کی خلاء سے براہ راست دی گئی انٹرنیٹ کی سہولت بلا روک ٹوک ہر ایک کو دستیاب ہوتی ہے جو شعبہ ابلاغ میں ایک نئے دور کا نقطہ آغاز ہے۔

چین، شمالی کوریا، پاکستان، ایران، سعودی عرب اور مشرقی وسطیٰ کے کئی ممالک میں انٹرنیٹ تک رسائی پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے کہ کہیں شہری کوئی ایسا مواد جو ان ممالک کے نظریاتی اساس کے منافی ہو سے استفادہ نہ کر پائیں۔ ان میں سے کئی ممالک نے تو سماجی رابطہ کی ویب سائٹس کی اجازت ہی نہیں دی ہے۔

پاکستان نے گزشتہ دنوں سے الون مسک کی ملکیت ٹویٹر یا ایکس نام کے ابلاغی ذریعے پر جزوی پابندی اس جواز کے ساتھ لگا رکھی ہے کہ یہاں پر ریاستی سچ کے بجائے متبادل سچ کے نام پر جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے۔ اب واٹس ایپ اور دیگر ذرائع ابلاغ پر بھی پابندی لگانے کی باتیں سرگوشیوں میں ہیں جو اس بات غمازی ہے کہ ان ذرائع کو مستقبل میں کم از کم محدود ضرور کیا جائے گا۔ چونکہ ریاست کے پاس پروپیگنڈے کی اس نئی جنگ لڑنے کے لئے ہتھیار اور مقابلہ کی صلاحیت موجود نہیں تو پابندی واحد حل ہے جو کم از کم وقتی طور پر کارگر ہوتا ہے۔

انسانی تاریخ میں ریاست نے ہمیشہ طاقت سے خود کو منوایا ہے کیونکہ شوکت و عظمت کا معیار بھی طاقت ہی ہوتی ہے۔ سپر پاور کہلانے والے ممالک کی خوبی یہ نہیں کہ وہاں کے شہری سپر صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں یا وہاں عوام بے خوف و خطر زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ ان ممالک کی سپر طاقت کا معیار یہ ہے کہ کون کم سے کم وقت میں دنیا کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچا سکتا ہے۔ جو ملک دنیا کو جتنا جلدی اور زیادہ سے زیادہ تباہ کر سکتا ہے وہ اتنے بڑے سپر پاور کا اعزاز رکھتا ہے۔

مگر اب یہ کیا ہوا کہ خلاء میں اڑنے والے چند لوہے کے سیٹلائٹ نے ان تمام ممالک کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں جو ایک مائیکرو سیکنڈ میں دنیا کو ختم تو کر سکتے ہیں مگر ان لہروں کو نہیں روک سکیں گے جو ان سیٹلائٹ سے نکل کر ہر گھر، ہر گاڑی، ہر گھڑی، ہر کلائی اور ہر انگلی تک پہنچیں گی۔ ان لہروں میں ہر شخص کے لئے آزادی ہوگی کہ وہ کیا سننا چاہتا ہے، کیا کہنا چاہتا ہے، کیا پڑھنا چاہتا ہے، کیا لکھنا چاہتا ہے۔ کیا پڑھنا چاہتا ہے، کیا پڑھانا چاہتا ہے، کیا دیکھنا چاہتا ہے اور کیا دکھانا چاہتا ہے۔

انسان کو انتخاب میں آج تک ابلاغ میں اتنی آزادی نہیں ملی تھی جتنی آج حاصل ہے۔ کھانے پینے، پہننے سے لے کر زندگی گزارنے کے اطوار تک ہر میدان میں انتخاب کے ایک سے زیادہ مواقع موجود ہیں جو اس کو ذرائع ابلاغ نے مہیا کیے ہیں۔ اب ایک نوجوان شریک حیات کے انتخاب کے لئے ہاتھوں میں قسمت کی لکیریں نہیں دکھاتا یا جنم کنڈلیاں نہیں ملاتا بلکہ ہتھیلی میں رکھے موبائل فون پر اپنے رجحان اور میلان کے مطابق انتخاب کرتا ہے۔ ابلاغ کی دی ہوئی انتخاب کی اس آزادی نے انسان کو خود مختار اور اپنی قسمت کا مالک بھی بنا دیا ہے جو وہ پہلے نہ تھا۔

انتخاب کی یہ آزادی ایک خود کار نظام کے تحت عمل پذیر ہوتی ہے جو بظاہر کسی شخص، ادارے یا ریاست کے تابع نہیں۔ جب کوئی انتخاب کی آزادی کے ساتھ اپنی پسند کی تلاش کرتا تو یہ خود کار نظام اس کو بتاتا ہے کہ اس کی پسند کیا ہے۔ یہ بتانے والا کوئی فرد نہیں ہوتا نہ کوئی ادارہ اور نہ کوئی ریاست، یہ ایک ایسا نظام ہوتا ہے جس کا کوئی وجود نہیں مگر ہر جگہ ہر وقت موجود ہے۔ کسی جگہ جب راہ سجھائی نہ دے تو راہ کھانے کے لئے ہر زبان میں بات کرنے والا نقشہ کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔ لوگ اپنے اہل خانہ شریک حیات اور دوستوں سے تو چھپ سکتے ہیں مگر اس نادیدہ نظام سے روپوش نہیں رہ سکتے جو ہمہ وقت سب پر کی نگرانی کرتا ہے۔

جب ہم آزادی کے ساتھ انتخاب کرتے ہیں تو ہماری پسند کا ہمیں بتانے والے کو پہلے سے ایسے علم ہوتا ہے جیسے اس نے ہماری لکھی ہو۔ جب کوئی پوچھتا ہے کہ اس کو کیا چاہیے تو بتانے والا بالکل وہی چیز سامنے لاتا ہے جس کی واقعی اس کو ضرورت ہوتی ہے یا اس کو تلاش تھی۔ یہ سب کرشمہ نہیں ہوتا بلکہ جانے انجانے میں موبائل فون یا کمپیوٹر پر اپنی انگلی سے کی گئی وہ تلاش ہوتی ہے جو ہمیں یاد بھی نہیں رہتی مگر اس نظام میں ہمیشہ محفوظ رہ جاتی ہے اور جب بھی ہم ڈھونڈنے نکلتے ہیں تو ہماری تقدیر بن بن کر سامنے آجاتی ہے۔

یہ نظام جہاں صارف کی انتخاب کی آزادی میں مدد کرتا ہے وہی پر اشیا و خدمات مہیا کرنے والوں کو بھی بتاتا ہے کہ اس وقت کس قسم کا رجحان ہے۔ اس نظام کی بدولت پیدا کرنے اور مہیا کرنے والوں کو بھی اب نہ صرف اپنے صارفین کی پسند کو سمجھنے میں بہت آسانی پیدا ہوئی ہے بلکہ وہ ریاستی حدود و قیود سے بے نیاز دنیا بھر میں اپنے صارفین تک پہنچ سکتے ہیں۔ بازار جاکر خریداری کرنے سے پہلے چین کا علی بابا اور امریکہ کا ایمازون گھر میں حسب ضرورت اشیا پہنچا کر دام وصول کر کے جا چکے ہوتے ہیں۔

اس نظام کی بات انتخاب اور رسائی کی حد تک بالکل سیدھی نظر آتی ہے کہ کوئی شخص کافی عرصے سے اپنی پسند کا اظہار کرتا ہے نظام اس کے میلان اور رجحان کو یاد رکھتا ہے اور اس کی راہنمائی کرتا ہے۔ ایک بڑے پیمانے پر لوگ جب اپنے رجحانات اور میلانات کا اظہار کرتے ہیں تو ایک اجتماعی رجحان بھی معلوم ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے اشیا و خدمات کی حسب ضرورت فراہمی بھی ہوتی رہتی ہے۔ اس نظام کی اس خدمت سے نہ صارفین، عام شہری، کاروباری ادارے مستفید ہوتے رہے ہیں بلکہ ریاستیں بھی اس سے استفادہ کرتی رہتی ہیں۔ یہاں تک کسی کو کوئی مسئلہ نہیں۔

مگر اب رفتہ رفتہ اس نظام نے لوگوں کے میلانات اور رجحانات کی تشکیل میں بھی کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔ اب یہ نظام صرف یہ نہیں بتاتا کہ کس ملک میں بیشتر لوگوں کا رجحان کس سیاسی نظریہ، جماعت یا لیڈر کی طرف ہے بلکہ غیر محسوس انداز میں رجحانات کو متشکل بھی کرتا ہے۔ جیسے انٹرنیٹ پر کوئی گاڑی کی تلاش کرے تو گاڑیوں کے بارے میں معلومات کی بھرمار ہوتی ہے اسی طرح جب کوئی کسی نظریے یا لیڈر کو تلاش کرتا ہے تو اس کے بارے میں ہر طرح کی معلومات کی بوچھاڑ ہوتی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ تلاش کرنے والے کو ایک خاص ماحول یا ’ایکو چیمبر‘ میں رکھ کر دنیا سے الگ کر دیا جاتا ہے اور فلٹر کر کے صرف وہی بتایا جاتا ہے جس کی ترویج مقصود ہو۔ نتیجتاً تکثیریت کے بجائے گروہ بندی وجود میں آتی ہے اور معاشرہ تعصب، آندھی عقیدت اور تنگ نظری کا شکار ہوجاتا ہے۔

ابلاغی انقلاب کے اس موڑ سے صرف پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک ہی نہیں گزر رہے ہیں بلکہ یورپ اور امریکہ سمیت ترقی یافتہ ممالک بھی اس کا مزہ چکھ رہے ہیں۔ برطانیہ میں بریگزٹ اور امریکہ کے صدارتی انتخابات میں رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے اس نظام سے لی گئی مدد اس نے ان ممالک میں بھی آزادی اظہار رائے کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ مگر یہاں نقصان اٹھانے کے باوجود ابلاغ پر پابندی لگانے کے بجائے مکالمہ پر زور دیا گیا ہے کہ شہری اپنے اجتماعی دانش و شعور سے فیصلہ کریں کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔

پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں ابلاغ پر پابندیوں کے ذریعے شہریوں کو ریاستی بیانیے کا تابع رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ذرائع ابلاغ پر پابندی وقتی طور پر مسائل سے نپٹنے میں مدد تو دے سکتی ہے مگر یہ اس کا دیرپا حل نہیں۔ ابلاغ کی لہریں اب ہوا میں شامل ہو چکی ہیں ان کو روکنے سے گھٹن پیدا ہوگی جو کسی بھی لمحے طوفان بن کر سب کچھ ملیا میٹ کردے گی۔

Facebook Comments HS

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 289 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan