وادی تھلے بروق یاد کے بے نشاں جزیروں سے


گاؤں کی کسی صبح کا یا شام کا جب بھی
آنکھوں میں کوئی نقش سمایا تو میں رویا
پردیس میں گھر یاد جب آیا تو میں رویا
احساس جدائی نے ستایا تو میں رویا
(ذیشان مہدی)

آنکھوں کے سامنے یادوں کا ایک جمگھٹا رقص کناں ہے۔ کچھ یادیں اذیت دیتی ہیں۔ رہ رہ کے ستاتی ہیں۔ کچھ یادیں انسان کو فرحت و نشاط ایک مسرت و شادابی دیتی ہے۔ انہی خوبصورت یادوں میں سے تھلے بروق کا ایک مطالعاتی و سیاحتی دورہ تھا۔

”تھلے بروق“ اس وقت گلگت بلتستان کے مشہور و معروف سیاحتی مقامات میں سے اک نہایت اہمیت کے حامل مقام ہے۔ جو کہ سکردو شہر سے گاڑی میں تقریباً تین گھنٹے کے فاصلے پر واقع ہے۔ چاروں جانب پہاڑ، درمیان سے بہتی دریا مختلف مقامات پر ابلتے چشمے اس قدرتی حسن میں مزید نکھار پیدا کرتی ہے۔

مناظر قدرت سے مالا مال، دلفریب و آنکھوں کو خیرہ کرنے والی نظاروں سے مملو انواع و اقسام کے جڑی بوٹی، گل ہائے رنگ رنگ بھرپور، پہاڑوں، آبشاروں، چشموں، جھیلوں، ندی نالوں سرسبز و شاداب جنگلوں سے مزین دست قدرت کے حسین شاہکار، ”وادی تھلے بروق“ جہاں ایک بار جائے تو دل وہاں کا ہو کر رہ جائے بس پھر واپس آنے کا خیال دل و دماغ سے محو ہو کر قدرت کے حسین نظاروں میں کھو جاتے ہیں۔ تھلے بروق یعنی مجموعہ خوبصورتی کا نام ہے۔ جہاں تاحد نگاہ رنگ برنگے پھول، پھولوں کے اوپر تتلیوں اور چڑیوں کا ایک قافلہ جو طرح طرح کے آوازوں اور چہچہاہٹ سے ماحول کو اور بھی حسین و دلربا کر دیتا ہے۔

یوں تو وادی تھلے ندی نالوں کی سرزمین ہے۔ پانی کی فراوانی سمیت جنگلی جانوروں کا مسکن بھی ہے۔ جہاں ہر سال ان گنت غیر ملکی سیاح دست قدرت کے شاہکار دیکھنے مختلف ملکوں سے جوق در جوق کھینچتے چلے آتے ہیں۔ وادی تھلے بروق کے آخری ٹاپ پر شمدون گراونڈ واقع ہے۔ جو تاحد نگاہ چاروں طرف سرسبز و شادابی پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس ٹاپ پر چڑھتے ہی سامنے بلند و بالا گلیشئر نظر آتے ہیں جو کہ سیاہ و سفیدی کی امتزاج میں اک نہایت خوبصورت نظارہ پیش کرتا ہے۔

ہمارے بھائی محمد علی ساحل صاحب کی رسم منگنی کی خوشی میں بھائیوں نے ایک پروگرام بنایا۔ کہ ہم تھلے بروق جا کر سرپرائز اور مبارک باد دیتے ہیں۔ برادر شکیل اور حاجی عقیل صاحب ضروری سامان لینے ڈاغونی تشریف لئے گئے۔ ہم بھی کچھ اوقات کار تقسیم کر کے جانے کا مصمم ارادہ کر لیا۔ جناب برادر گلزار صاحب ہمارے بغل میں ہی محبت بھری موتیوں سے پروگرام کے بارے محو گفتگو ہوئی۔ گویا ہوئے بوا شیخ صاحب کیا خوبصورت موقع ہے کہ ہم ایک ساتھ پھر تھلے بروق میں جائیں گے۔

اور ایک دوسرے کے درمیان جو محبت و الفت ہے اس کو اور بھی مہمیز دیں گے، اتنے میں عصر کی ازاں فضا میں گونجنے لگی ہم مسجد کی طرف دوڑے نماز جماعت و اوراد عصر یہ سے جوں ہی فارغ ہو گئے۔ بیرون مسجد سے بوا شیخ کی آواز آئی ہم بھی فوراً باہر پہنچے تو شکیل اور نصرت صاحب میری انتظار میں تھے۔ بس اور کیا جلدی سے تیار ہو گئے تھلے بروق کی طرف چلتا بنا شام سے پہلے پہلے ”ہلتیق بو“ پہنچ گئے اور پھولوں کے درمیاں فوٹو سیشن ہوئی اس کے بعد جناب حاجی عقیل صاحب نے ذائقہ دار کھانا بنانا شروع کیا، باربی کیو، اور پلاؤ تیار کی۔ شب کو مل بیٹھ کر محمد علی صاحب کی رسم منگنی کی خوشی میں کیک کاٹا اور لذیذ کھانے سے خاطر تواضع ہوئی۔ شاید برسوں کی تھکاوٹ اس طرح کے ایک پروگرام سے اتر جاتے ہیں جو یاران باوفا، محبتیں دینے والے یاروں کے سنگت میں پھر وادی تھلے بروق جیسی خوبصورت وادی منعقد ہو تو کیا ہی کہنا۔

آج یاد کے بے نشاں جزیروں سے، ماضی کے وادی کے وادی میں جھانک کر دیکھتا ہوں تو دل سے یہ صدا آتی ہے۔ کاش ہم پردیس نہ آتے۔

یہ میری بد قسمتی سمجھو یا خوش قسمتی نہیں معلوم میں قضاوت نہیں کر سکتا خدا کا ہر فیصلہ خیر ہی خیر ہے پھر بھی ”مسئلہ قضا و قدر“ کے سامنے حیرت زدہ ہوں کہ تقدیر و نصیب تھی یا میری ہاتھوں کی کمائی ہجر و جدائی میری قسمت میں لکھی ہوئی ہے یا میں نے کسب کی ہے۔ بچپن کی بے خیال رعنائیوں کو چھوڑ کر

کمسن بدن پہ بوجھ ہے بوڑھے دماغ کا
سنجیدگی نے میری جوانی اجاڑ دی

عقل و دانش، علم و فہم کی تلاش کہیں یا خواہشات نفسانی کی تسکین، تزکیہ و تصفیہ نفس سے خالی علم ظاہر کی تلاش و جستجو میں بچپن جوانی میں اب جوانی بھی کسی اور وادی میں داخل ہونے کی تیاری میں ہے۔ جنت نظیر وادی تھلے تیری گلیوں میں تیری کھیتوں میں ترے سڑکوں پر میری بچپن کی یادیں قدم قدم پر بکھری پڑی ہیں۔ میں دیار غیر میں برسوں سے جدائی سہ رہا ہوں۔ اے گردش ایام کیا یہی میری نصیب و مقدر ہے؟

Facebook Comments HS