غزہ اسرائیل جنگ


تقریباً دو سال کے بعد بلاگ لکھنے کی کوشش کی۔ بوجہ روزگار لکھنے کا کام صرف ریسرچ آرٹیکل تک رہ گیا ہے۔ مگر کچھ دنوں سے گھٹن اس قدر ہو چکی ہے کہ قلم اٹھانے پہ مجبور ہو گیا۔ بہت سے دوست اور شاگرد غزہ، اسرائیل جنگ پہ تصاویر اور دکھ شیئر کرتے ملتے ہیں۔ سوچا میں بھی وہ کچھ لکھ دو جو میری ذاتی سوچ ہے۔ آپ کو اختلاف ہو سکتا ہے۔ برائے مہربانی گالی مت دیجئے گا۔ میرے شاگرد بھی پڑھتے ہیں۔

ویسے غزہ اسرائیل کی جنگ کو کافی لوگوں نے کمائی کا ذریعہ بنایا ہے۔ القدس لکھی شرٹیں، موبائل فون کے کورز، رنگ ٹونز وغیرہ تو عام مارکیٹ میں بک رہی ہیں۔ خیر سرمایہ دار تو جنگ، صلح ہمیشہ اپنے فائدے کے لئے کرواتا ہے۔ غزہ کا سب سے بڑا قصور اس کا ساحل سمندر پہ ہونا ہے۔ اسرائیل کی بین الاقوامی درآمدات/برآمدات کے لئے تقریباً فضائی راستہ استعمال کیا جاتا ہے۔ جو وقت کے ساتھ مہنگا تصور کیا جاتا ہے ۔ جی 20 کانفرنس 2023 جو انڈیا میں منعقد کی گئی۔ اس میں ٹیوب پراجیکٹ کا پروپوزل دیا گیا۔ جسے مختلف فیزز میں ایگزیکیوٹ کیا جائے گا۔ فیز 1 میں یہ پراسس دوبئی سے بمبئی کو زیر سمندر ٹرین کے ذریعے جوڑنا ہے۔ جس کا فیز 2 دوبئی سے سعودیہ کو جوڑنا ہے۔ پھر سعودیہ سے اسرائیل کو جوڑنا ہے۔ اس طرح انڈیا، متحدہ عرب ریاستیں، اسرائیل، مصر اور براعظم افریقہ ایک ٹیوب کے ذریعے جڑ جائے گا۔ غزہ اس پراجیکٹ میں اسرائیل کے حوالے سے اہم ترین مقام ہے۔ یہ پراجیکٹ دراصل چین کے ون بیلٹ، ون روڈ کے متوازی امریکی پروگرام ہے۔

اب اسرائیل کے پاس غزہ پہ قبضہ کرنے کی مناسب وجہ نہیں تھی۔ پیشگی معذرت، یہ مناسب وجہ حماس نے ڈرامائی انداز میں فراہم کی۔ اس جواز کے بعد اسرائیل نے غزہ کو مکمل تہس نہس کر دیا۔ امید ہے، اسرائیل کو خاطرخواہ نتائج مل چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے امریکہ غزہ میں عارضی بندرگاہ بنانا چاہتا ہے۔ جس کا اعلان چند دن پہلے امریکی صدر کرچکے ہیں۔ امید کی جا سکتی ہے جلد ہی اقوام متحدہ کی طرف سے یہ اعلامیہ جاری ہو گا، غزہ میں نیٹو جیسی غیر جانبدار فوج تعینات کی جائے گی۔ جو وہاں لاء اینڈ آرڈر کی حالت کو منیج کرے گی۔ اسرائیل جلد اس پہ اعلان کرے گا کہ غزہ کو دوبارہ سے ایک بہترین شہر میں تبدیل کر دیں گے۔ پھر غزہ مکمل انڈسٹریل پورٹ سٹی بن جائے گا۔

اسی پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے دوبئی کی کسی ٹیکنالوجی کمپنی نے مصر میں 35 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔

یاد رکھیں! امریکہ سپر پاور ہے۔ جو اپنی طاقت اور اکانومی کو سسٹین کرنے کے لئے سروائیوول کی جنگ لڑ رہا ہے۔ ایکو سسٹم میں طاقت بدلتی رہتی ہے۔ البتہ آپ بھرپور کوشش سے طاقت کو مزید کچھ عرصہ کے لئے برقرار رکھ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے امریکہ نے چین کے ون بیلٹ، ون روڈ کے اہم کاریڈور پاکستان پہ اپنی نحوست کے پنجے گاڑے ہوئے ہیں۔ گوادر کو ڈائریکٹ واچ، مانیٹر کرنے کے لئے عمان کی پورٹس پہ قابض ہیں۔ جو گوادر سے بذریعہ لانچ پون گھنٹے کی مسافت ہے۔ یہی سے وہ چابہار کو بھی مانیٹر کر رہے ہیں۔ تمام سمندری ٹریفک کو متحدہ عرب امارات کی طرف آتے جاتے اور افریقہ کی طرف مال بردار جہازوں کو بھی مانیٹر کر رہے ہیں۔

پچھلے دنوں سعودیہ/چین کے لوکل کرنسی معاہدے کے بعد امریکہ کو تحفظات تھے۔ پھر نجران یمن بارڈر پہ تیل کے ذخائر، امریکہ نے یمن پہ بھرپور حملہ کر کے اپنی انا کو تسکین بخشی۔ کیونکہ امریکہ کو خدشہ ہے کہ چین کہیں یمن میں اثرانداز نہ ہو۔ یمن بالکل ایتھوپیا کے سامنے واقع ہے۔ یہاں سمندر کا پاٹ گوادر، عمان سے بھی کم فاصلہ پہ واقع ہے۔ یہیں سے سمندری سپلائی چین افریقہ مصر، غزہ سمیت آگے جاتی ہے۔ اسی لئے امریکہ نے مصر پہ بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔

امریکہ نے باقاعدہ طور پہ ون بیلٹ، ون روڈ کے مقابلے میں ٹیوب پراجیکٹ لانچ کر دیا ہے۔ اپنے سروائیول کے لئے امریکہ ہر حربہ استعمال کرے گا۔ ٹرمپ کے آنے کے بعد امریکی پالیسیز بدل چکی ہیں، امریکہ عراق، شام، افغانستان میں جو جنگ پہ خواہ مخواہ پیسہ لگا رہا ہے۔ جنگ کی بجائے کاروباری انداز میں اسے استعمال کرے۔ پاکستان میں سی پیک کو ایک خاص پاور پالیٹیکس کے 2017 کے بعد نقصان پہنچایا گیا۔ امریکہ کی خاص پالیسی یہ بھی ہے تھرڈ ورلڈ میں اہم پوزیشن پہ نالائق لوگوں کو بٹھا دیا، ان کا سیٹ پہ رہنا ایک ایٹمی جنگ سے کم نہیں ہے۔

Facebook Comments HS