گداگروں کے بادشاہ کی گداگری


دروازہ زور سے کھٹکھٹایا اور میں بیزاری سے اٹھ کر دروازے کی طرف گیا، دروازہ کا ایک پٹ کھول کر باہر دیکھا تو ایک خاتون مانگنے والی سامنے تھی۔ اللہ کے نام پر کچھ دے دو ، میرے بچے سحری سے بھوکے ہیں، میں اس پر چنگھاڑتا ہوا گویا ہوا : کیا تمہیں پتہ ہے میں کس حالت میں بیٹھا تھا اور تم نے زور زور سے دروازہ کھٹکھٹا کر میرا موڈ خراب کر دیا۔ گداگر خاتون کہنے لگی : بیٹا، میں معذرت چاہتی ہوں، مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا، میں نے اس کی بات نہیں سنی، ایک سانس میں اسے کھری کھری سنا دیں، وہ روتی ہوئی آگے بڑھ گئی۔

غصے سے میں نے دروازہ بند کیا اور کمرے میں آ کر کرسی پر بیٹھ گیا۔ چند لمحوں بعد مجھے احساس ہوا کہ میں نے اس خاتون سے زیادتی کی ہے۔ اسے یہ شعور ہوتا کہ دروازہ نہیں کھٹکھٹاتے بلکہ آوازہ لگاتے ہیں تاکہ جس کے جی میں آئے وہ دروازہ کھول کر خیرات دے سکتا ہے، تو اسے یقیناً دروازہ کھٹکھٹانے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ مجھے یوں لگا جیسے میں نے ناحق اس خاتون کا دل دکھا دیا ہے، جانے کن حالات کی ماری ہوئی میرے دروازے پر آ کر امید سے رکی تھی اور میں نے اسے نا امید کیا۔

اس احساس نے میرے خیالات میں ہیجان برپا کر دیا، سیکڑوں خیالات ایک ساتھ ذہن میں گردش کرنے لگے، یوں محسوس ہوا جیسے میں نے ایک پیشہ ور گداگر کو پھٹکارا نہیں ہے بلکہ ایک معصوم دل میں اٹھنے والے امید کے ننھے چراغ کو پھونک مار کر ہمیشہ کے لیے بجھا ڈالا ہے۔ مجھے اپنے روئیے پر شرمساری ہوئی، میں باہر نکل کر دوسری گلی تک اس خاتون کو دیکھنے گیا کہ مل گئی تو معذرت کر لوں گا اور کچھ مدد بھی کردوں گا لیکن وہ جا چکی تھی۔

پاکستان میں گزشتہ پانچ برس سے گداگروں کی کثرت میں اتنی تیزی سے اضافہ ہوا ہے کہ حقائق حیران کن ہیں۔ ان گداگروں کی فہرست میں پہلے لوئر تھرڈ کلاس شامل تھی، پھر تھرڈ کلاس شامل ہوئی اور اب اپر تھرڈ کلاس کے ساتھ لوئر مڈل کلاس بھی شامل ہو گئی ہے۔ چند افراد کی پسند اور ناپسند کی نزاعات کی وجہ سے ملک جن حالات سے گزر رہا ہے، پیشتر یہ حالات اس قدر سنگین نہ تھے۔ جس گھرمیں پانچ کھانے والے اور ایک کمانے والا موجود ہے وہاں آٹا پورا نہیں ہوتا، باقی سہولتوں کا تذکرہ آپ چھوڑ دیں۔

آٹا دو سو روپے سے اڑھائی سو روپے فی کلو مل رہا ہے۔ ہلکے معیار کا گھی پانچ سو روپے سے سات سو روپے فی کلو ملتا ہے، چینی دو سو روپے سے دو سو تیس روپے فی کلو ملتی ہے۔ اسی طرح دالیں، چاول، گرم مصالحہ، سبزیاں، پھل اور خشک میوہ جات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ کپڑوں اور جوتوں کا خیال تو چھوڑ دیجیے۔ پاکستان کے دائمی جانشین اور مستقل وارثان نے گذشتہ دس برس سے ملک کو تجربہ گاہ بنا رکھا ہے، اسے لے آؤ، اسے نکال دو ، اب اسے نکال دو ، اسے لے آؤ، نکالنے اور لانے کے نت نئے تجربات سے ملک تو دیوالیہ ہونا ہی تھا، رعایا کا کچومر بھی نکل گیا ہے۔

کل کی بات ہے، ڈالر کی قیمت سو روپے تھی اور پٹرول پچپن روپے فی لیٹر ملتا تھا، دوست کہتے تھے کہ جس ملک میں نیسلے کی بوتل مہنگی اور پٹرول سستا ہو، وہاں کا نظام عدل کیسا ہو گا۔ آج دیکھ لیجیے، پٹرول فی لیٹر پونے تین سو روپے اور نیسلے کی بوتل سو روپے کے ارد گرد گھوم رہی ہے۔ میری ماہنامہ تنخواہ ڈیڑھ لاکھ روپے ہے، گھر ذاتی ہے اور گاؤں سے گندم، چاول وغیرہ آ جاتا ہے، اس کے باوجود تنخواہ کا پتہ نہیں چلتا، ادھر ملی اور ادھر صرف ہو گئی، پاکستانی کرنسی میں ہزار کا نوٹ مارکیٹ میں اتنا سستا اور سبک ہے کہ ہوا کے ہلکے سے جھونکے کی دبازت نہیں سہ سکتا یعنی اس ہزار کے نوٹ کا مارکیٹ میں کچھ بھی نہیں آتا۔

باٹا کے جوتے دو سال پہلے تین سے چار ہزار میں اچھے مل جاتے تھے، آج دس ہزار میں کوڑا ملتا ہے۔ برانڈ کا سوٹ پانچ ہزار میں آرام سے مل جاتا تھا اور آج بیس ہزار کا وہی سوٹ اسی برانڈ سے نہیں ملتا۔ ناصحین کہتے ہیں کرونا نے یہ تباہی کی ہے، پیارے بھائی، ہمارے ہاں زرداریوں، خانوں، میاؤں، ترینوں، چٹھوں، کھوکھروں، راجپوتوں، وڈیروں، جاگیرداروں اور جس جس کے ساتھ ن غنہ لگتا ہے، سبھی کرونا کا بھیس بدل کر جونک کی طرح پاکستانی معیشت کو چپکے ہوئے ہیں۔

اس لاغر و مریل وجود کا خون چوس چوس کر تو ختم کر ڈالا ہے، اب ہڈیوں کا گودا رہ گیا ہے جسے کمال شوق سے چاٹ رہے ہیں، اس کے باوجود ان کا پیٹ نہیں بھرا۔ لگتا یوں ہے یہ جونکیں اسے مار کر ہی مریں گی اور ستی کی رسم نبھائیں گی۔ نام نہاد چند افراد کی دنیا بھر میں پھیلی ہوئی جائیداد کی خبریں سن سن کر کلیجا چرتا ہے، جی کڑھتا ہے، رہ رہ کر یہ خیال آتا ہے کہ پتہ نہیں یہ لوگ کیسے اتنی بڑی جائیدادیں بنا لیتے ہیں، مجھ سے تو دو سال ہو گئے، کچن میں دس ٹائل ٹوٹ گئی ہیں، وہ نہیں لگوائی جا رہیں۔

پاکستان کے حالات اس قدر دگرگوں ہیں کہ یہاں ہر دوسرا شخص گداگر نہیں بنے گا تو اور کیا کرے گا۔ آئے روز کا معمول ہے، فلاں صاحب نے بچوں کو مار کر خود کشی کر لی اور فلاں شخص نے بچوں کو نہر میں پھینک دیا، وجہ وہی کہ بچوں کا پیٹ نہیں بھرا جاتا، گھر کا کرایہ کون دے، بجلی، سوئی گیس کے بل کون ادا کرے۔ الیکشن 2024 میں پاکستانی رعایا کے ووٹ کے ساتھ جو سلوک ہوا ہے، اس سے یہ بات تو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی کہ بہ حیثیت پاکستانی شہری، ووٹ کی طرح ہماری کوئی عزت نہیں ہے، ہم غلام در غلام اور بھکاری در بھکاری ہیں۔

نا اہل حکمرانوں کا جب جی چاہتا ہے ہمیں آئی ایم ایف کے ہاتھ سستے داموں فروخت کر دیتے ہیں اور اپنی مرضی کی آسائشوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ قرض لے کر ہی ملک چلانا ہے تو یہ کام تو کوئی بھی کر سکتا ہے، اس میں الیکشن کے نام پر دھوکا کر کے، جعل سازی کے تمام حربے استعمال کر کے حکومت میں آ کر مسیحا بننے کی کیا ضرورت ہے، شاہی محلات کے وسیع ڈرائنگ رومز میں بیٹھے صاحبان اقتدار کو اگر فرصت ہوتو کیمرا کے بغیر بھیس بدل کر عام شاہراہوں پر بھیک مانگنے والے گداگروں کے چہروں کو غور سے دیکھیں۔

یہ گداگر آپ کو کھاتے پیتے گھروں کے افراد معلوم ہوں گے جن کی سفید پوشی پر آپ نے ڈاکا ڈالا ہے، انھیں اس قدر مجبور کیا ہے کہ یہ سفید پوش طبقہ بھیس بدل کر گداگری پر مجبور ہو گیا ہے۔ کل کی بات ہے ادھار رقم دوستوں، عزیزوں سے جب چاہے، مل جاتی تھی، احباب خوشی سے مدد بھی کر دیتے تھے، آج لاکھ روپیہ تنخواہ لینے والے سے پانچ ہزار ادھار مانگیں تو وہ رونے لگتا ہے، مہنگائی کے درد ناک قصے سناتا ہے، اس کی روداد سن کر جی میں آتا ہے، پہلے اپنے منہ پر تھپڑ مارا جائے، پھر اس کو تسلی دی جائے کہ ناحق اس بچارے سے ادھار مانگ کر اسے شرمندہ کیا۔

الیکشن میں سیاسی جماعتوں نے مہنگائی کم کرنے اور غریب کی زندگی کو آسان کرنے کے دعوے کیے ہیں لیکن رعایا یہ جانتی ہے کہ یہ دعوے فقط سبز باغ ہیں جو ہمیشہ قیام پاکستان سے ہنوز دکھائے جا رہے ہیں۔ اس ملک کی رعایا کی یہ بدقسمتی ہے کہ حکمران ملک کے وسائل کو لوٹنے اور اس کو غارت کرنے کے درپئے رہے ہیں۔ پاکستانی تاریخ میں لائق مثال کوئی ایسا حکمران نہیں آیا جس نے براہ راست تھرڈ کلاس اور مڈل کلاس کی حالت زار پر ترس کھا کر ان کے لیے عملی اقدامات کیے ہوں۔

ہم یہ کر دیں گے، ہم وہ کر دیں گے۔ ہم جانتے ہیں کہ آپ نے کچھ نہیں کرنا، آپ نے صرف دھوکا دینا ہے اور دھوکا دینے میں آپ دنیا کے ماہر ترین دھوکے بازوں میں سر فہرست ہیں۔ پاکستان واحد ملک ہے جہاں انسان کی قیمت روز بروز کم ہو رہی ہے اور اشیائے خورونوش کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ پاکستان میں پیاز، بینگن، شملہ مرچ کی اہمیت ایک انسان سے زیادہ ہے کیوں کہ سبزیاں اپنے اندر بھوک مٹانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ پاکستانی رعایا حکمرانوں سے بنیادی انسانی ضرورتوں کا سوال کرتی ہے تو انھیں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ تم تو ازل کے بھوکے ہو اور تمہاری بھوک کبھی ختم نہیں ہوتی۔

ایک صاحب نے بدقسمتی سے ایک ہسپتال بنا لیا تھا، اس نے طعنے دے دے کر ہماری زندگی اجیرن کر دی کہ دیکھو میں نے تمہارے لیے ہسپتال بنایا ہے، اب مجھے وزیر اعظم بناؤ۔ ایک صاحب نے کہا کہ میرے دور میں چینی اتنے روپے تھی اور آٹا اتنے روپے تھا اور یہ تھا اور وہ تھا، مجھے وزیر اعظم بناؤ، ایک صاحب کہتے ہیں، میں نے یہ بنایا اور میں نے وہ بنایا، میں یہ بناؤں گا، میں وہ بناؤں گا، بس مجھے وزیر اعظم بناؤ۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ اقتدار کے بھوکے یہ دھوکے باز خود بے وقوف ہیں یا بہ حیثیت مجموعی پاکستانی رعایا بے وقوف ہے یا پھر ہم سب بے وقوف ہیں اور ایک دوسرے کو دھوکا دے رہے ہیں۔

ہمسایہ ممالک جو کل تک انھیں مسائل میں گھرے تھے، دیکھ لیجیے آج وہ کہاں کھڑے ہیں، ہمارے بزرگ جس ٹکا کو نفرت بھری نگاہ سے دیکھتے تھے، آج وہ ٹکے ٹوکری والا بنگالی ٹکا آپ کے پیارے سے خوبصورت گھٹیا روپے کے مقابلے میں کہاں کھڑا ہے۔ ہمارا وزیر اعظم اور چیف کمانڈر سمندر پار جا کر مدد کے نام پر بھیک مانگتے ہیں تو میرا سر شرم سے جھک جاتا ہے اور مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ چھبیس کروڑ پاکستانیوں کی بین الا اقوامی شناخت ایک گداگر کی ہے۔ آپ مانے یا نہ مانے، یہ ایک تلخ حقیقت ہے اور یہی ہماری اوقات ہے، آپ تسلیم کریں نہ کریں، آپ ہوش کے ناخن لیں نہ لیں، آپ کو شرم آئے نہ آئے، آپ چلو بھر پانی میں ڈوب مریں، نہ مریں، اس سے شناخت تبدیل نہیں ہو سکتی، واللہ، نہیں ہو سکتی۔

Facebook Comments HS