جانب منزل چلا چل قسط نمبر 1
سفر امریکہ کا اولین مقصد حصول علم تھا سو جس دن سے امریکہ کے سفر کی تیاریوں کا آغاز ہوا تب سے میرا ذہن امریکہ تو کم کہیں اور جانے کی طرف مصروف تھا۔ ادھر ڈیفنس میں نئے تعمیر کردہ خوبصورت گھر کو بند کرنا میرے لئے بہت مشکل مرحلہ تھا کیونکہ ابھی تو نئے گھر کی میٹھی مٹیالی سوندھ بھی مکمل نہیں ہوئی تھی کہ بلاوا آ گیا تھا۔ کیا رکھتی کیا بانٹتی کیا کیا لے کر جاتی شادی کے یہ چند برس دن رات کام سے لکن میٹی کھیلتے گزر گئے۔
ایجرٹن روڈ پر واقع سکائے لائن کا ٹریول ایجنٹ ہمارے ٹکٹ پی آئی اے لاہور سے واشنگٹن امریکہ کے بنا رہا تھا مگر مجھے پیغام آ چکا تھا میدان عرفات سے، جبل رحمت سے، جبل ثور سے، مسجد عائشہ سے، مسجد طوی سے، مسجد جن سے، جنت البقیع سے، مدینے کی گلیوں سے، روضہ رسالت مآب ﷺ سے، سرزمین حرم سے اور دنیا کی سب سے بڑی عبادت گاہ خانہ کعبہ سے۔
یہ بات انہونی تو نہیں مگر سچی ہے، میرا رب سے اسی طرح کا تعلق ہے جیسے بچے کا ماں سے ؛ اسی لئے میں نے ہر مشکل گھڑی میں رب سے مانگا ہے، اور آسانی میں اس چشمہ ء نور، برق بے اماں، محتشم دو جہاں کے ساتھ لپٹ کر شکر ادا کیا ہے۔ آج بھی اس ہی سے مدد مانگی۔
بارگاہ ایزدی سے بلاوا آ چکا تھا۔ میرے ذہن کا ایک ایک خلیہ بارگاہ الٰہی اور دربار رسالت کی طرف آہستہ آہستہ چل پڑا تھا ؛ بس ان مٹیریل باڈیز کے لئے ٹکٹ درکار تھے جن کا حساب کتاب کرتے کرتے میرا ٹریول ایجنٹ عامر بہت تھک چکا تھا ؛ اس کی وجہ تھی کہ وہ ہم دونوں میاں بیوی کے ساتھ ساتھ ہمارے دو بچوں چند ماہ کے عمر قریشی اور چار برس کے علی سنان کے لئے سستے ٹکٹ کیسے ڈھونڈے جو ہمیں ہماری منزل پر پہنچائے۔
فیصلہ ہو چکا تھا کہ کیوں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے پردیس جائیں جب کہ رب نے ادھر ہمارے دیس میں ہماری اوقات سے زیادہ عطا کیا ہے۔ آگے پڑھنے بھی تب ہی جائیں گے اگر انوار لامکانی روضۂ رسول کا دیدار ہو، زیارت کعبہ نصیب ہو اور سعادت عمرہ نصیب ہو۔ بس اب تو مقصد ہی بدل چکا تھا ؛ اب تو علم کے منبع، علم کے مرکز رب باری تعالی کے گھر کا دیدار ہی مقصد سفر بن گیا۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے علم میں یقیناً ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے۔
اب تو دن رات دعا یہ ہی نکلتی یا اللہ میں بے قدر بن کر نہیں رہنا چاہتی ؛ تو مجھے علم نصیب فرما دے ؛ سب سے افضل علم اللہ تعالی کی ذات کا علم ہے، اس کے اسماؤ صفات کا علم اور قرآن و سنت کا علم جو بلند ترین ہے۔
گھر کا ساز و سامان جو ایک ایک کر کے جمع کیا تھا اس کو بانٹا، بیچا اور دل سے قریب کو محفوظ مقام پر رکھا ؛ اپنے خوبصورت محنت سے بنے گھر پر چوکیدار کو بٹھا کر میں اپنے دونوں بچوں اور میاں کے ساتھ کینٹ اپنے والدین کے گھر شفٹ ہو گئی۔ ہمارے دفاتر سے study leave کا وقت شروع ہو چکا تھا ؛ تقریباً چار دن اور رات کی محنت کے بعد ٹریول ایجنٹ نہایت مناسب بجٹ میں ہمارا ایسا ٹکٹ بنانے میں کامیاب ہو گیا۔
ادھر پہلے تو ہمارے دونوں خاندانوں میں ہمارے امریکہ جانے کی ایک غم و مسرت کی کیفیت تھی۔
جاری ہے


