قدیم تہذیب کا مرکز چین اور اس کے شاہی ادوار ( ایک مختصر تذکرہ)


96 لاکھ مربع کلو میٹر پر مشتمل چین مشرقی جانب بحرالکاہل مغرب، شمال مغرب اور جنوب مغرب میں بلند پہاڑی سلسلوں، وسیع و عریض صحراؤں اور نیم بنجر سطح مرتفعوں میں گھیرا ہے جبکہ اس کی سرحدیں 14 ممالک سے ملتی ہیں۔ جنوبی چین سب ٹراپیکل جبکہ شمالی چین شدید سردی اور شدید گرمی والا خطہ ہے۔ چین کی بیشتر آبادی خاص چینیوں کے علاوہ مانچو، منگول ترک اور تبت وغیرہ کے باشندوں پر مشتمل ہے۔ چینیوں کی ابتدا اور اصل کے بارے کئی نظریات پائے جاتے ہیں۔

ایک کے مطابق چینی باشندے شروع سے ”ہونگ ہو“ (دریا زرد) اور وی (wi) میں آباد چلے آرہے ہیں۔ دوسرے کے رو سے چینی جنوبی علاقوں، غالباً برما سے آئے۔ تیسرے کے خیال میں چینی باشندے وسطی ایشیا سے آئے تھے۔ اگرچہ چینیوں کے آغاز کے بارے میں تا حال وثوق سے نہیں کہا جا سکتا ہے تاہم آثار قدیمہ کے مطابق چین حجری اور کانسی دور سے ہو کر گزرا ہے اور کئی ہزار سال کی طویل تہذیب کا ایک اہم مرکز رہا ہے۔ میسوپوٹیمیا، مصر اور سندھ (ہند) کے بعد چین کے دریا زرد (ہونگ ہو) کے کنارے پنپنے والی تہذیب دنیا کی قدیم تہذیبوں میں اہم حیثیت ہے۔ 1250 ق م کے دور کے تحریری ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ چین کی تاریخ تقریباً 4000 سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ چینی تہذیب کی نشو و نماء اور ارتقاء میں اس کے مختلف شاہی خاندانوں نے مختلف حوالوں سے حصہ ڈالا ہے۔ یہاں چین کے مختلف شاہی ادوار اور حالات کا مختصر تذکرہ کیا جاتا ہے۔

شیا شاہی دور (Xia) ۔ ابتدائی معاشرے کے بعد چین میں شاہی دور کے سلسلے قائم ہوئے۔ چینیوں کے روایتی تاریخ کے مطابق ’شیا ”پہلا شاہی دور تھا جو 2070 تا 1600 ق م تک رہا۔ اس کے پہلے حکمران کا نام“ یو ”بتایا جاتا ہے جبکہ اس کے بعد شانگ (Shang) شاہی خاندان کا دور آتا ہے (جس کو ین yin بھی کہا جاتا ہے ) ۔ شیا شاہی دور سے متعلق مفصل معلومات کا فقدان ہے کیونکہ اس کے بارے مستند تحریری ریکارڈ دستیاب نہیں ہے۔ جبکہ“ شانگ شاہی سلسلے ”کی تاریخ کی تائید آثار قدیمہ سے ہوتی ہے

شانگ دور ( 1600 تا 1046 ق م) ۔ اس دور کا تحریری ریکارڈ دریافت ہوا ہے۔ اور اس عرصے کے دوران چین میں کانسی کا استعمال شروع ہو گیا تھا۔ ”دریا زرد“ کے کنارے جینی تہذیب کا موثر آغاز شانگ دور سلطنت سے ہوتا ہے۔ اس دور میں چینی تہذیب کے تین اہم عناصر، تحریر، اجداد پرستی اور بادشاہ اور نوکر شاہی پر مبنی سیاسی نظام مرتب ہوئے۔ شانگ دور کے کلچر بعد میں آنے والے چینی کلچر کی بنیاد رہا

چو شاہی دور (Chou)

1046 ق م میں ”شانگ“ حکمرانوں کے مظالم سے تنگ آ کر شانگ بادشاہت کے شمال مغربی سرے کی نیم آزاد ریاست نے اپنے حکمران ”چو“ کی قیادت میں بغاوت کر کے شانگ کا تختہ الٹ کر ”چو“ شاہی سلسلے کا آغاز کر دیا۔ 1046 تا 256 ق م تک قائم رہنے والا یہ چینی تاریخ کا طویل ترین شاہی سلسلہ ہے۔ ”چو بادشاہت“ شمالی چین اور ہینگزو وادی کے علاقے پر مشتمل فیوڈل طرز والی حکومت تھی۔ جس میں مقامی سطح کا اختیار موروثی جاگیرداروں کو حاصل تھا۔

جغرافیائی توسیع کے ساتھ اسی دور میں چین میں چند ایسے اداروں اور اقدار کی نشو و نما ہوئی جس کا اثر آج تک قائم ہے۔ چین کے بڑے فلاسفرز کنفیوشش 551 تا 479 ق م لاؤ زے اور مینگ تازو ( 372 تا 289 ق م ) اسی زمانے میں گزرے ہیں جن کی تعلیمات نے چینی فکر اور تہذیب کو متشکل کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ ”چو بادشاہت“ چونکہ لاتعداد اکائیوں میں تقسیم تھی اس لیے وقت کے ساتھ ان کا مرکزی حکومت پر انحصار کم ہونے لگا۔

8 ویں صدی ق م میں ان راج دہانیوں پر شہنشاہوں کا کنٹرول تقریباً نہ ہونے کے برابر تھا۔ 771 ق م میں مخالف باج گزاروں کا ”چو“ دارالحکومت کو تباہ اور بادشاہ کو قتل کرنے سے چو شاہی کا اقتدار ختم ہو گیا۔ شاہی خاندان مشرقی جانب ”لو ینگ“ جا کر رہائش پذیر ہو گیا۔ جہاں اس کا شاہی سلسلہ 250 ق م تک قائم رہا تاہم یہاں اس کا اختیار محض ریاست کے مذہبی رسومات ادا کرنے تک محدود رہ گیا تھا۔ جبکہ مخالف فیوڈلز میں سے سات طاقتور جاگیردار بتدریج اپنے کمزور ہمسائیوں کو فتح کرنے کے ساتھ ونگ ( بادشاہ) کا لقب اختیار کرتے رہے ان ابھرتے ریاستوں کے مابین جنگیں معمول بن گئی تھیں۔ جس کی وجہ سے 400 ق م سے 221 تک کے 200 سال کا عرصہ چینی تاریخ میں ”متحارب ریاستوں“ کا دور کہلایا جاتا ہے۔

چن یا قن (Chin/ Qin) دور شاہی۔ 221 ق م میں چن (Chin) ریاست کے حکمران نے بقیہ حریف ریاستوں کو شکست دے کر فتح کر لیا اور اس سے چن شاہی خاندان کے تحت چین کے متحد ہونے کا آغاز ہوا۔ یہ شاہی خاندان ہندوستان کے اشوک دور کا ہم عصر تھا۔ چین کا نام چن لفظ سے رواج پا گیا۔ اس سلسلہ کے بادشاہ ”ونگ چنگ“ نے ”شی ہونگ تی (Shih Huang Ti)“ بمعنی ”پہلا شہنشاہ“ کا لقب اختیار کیا۔ اس نے جنوبی جانب جنوبی بحیرہ چین تک سلطنت کی سرحدیں بڑھا لیں۔

وزن اور پیمائش کے پیمانوں اور تحریری زبان کو معیاری بنایا۔ شاہراہیں اور نہریں تعمیر کیے۔ اسی شہنشاہ نے پرانے فیوڈل نظام کے خاتمے کے لیے اسی (نظام) کے موئید کنفیوشش علماء اور ان کی تعلیمات کو ممنوع قرار دے کر ان سے متعلق کتابوں کو جلانے کا حکم دیا۔ ایک روایت کے متعلق اس حکم کی خلاف ورزی کرنے 460 علما کو موت کے گھاٹ اتارا۔ تاہم چین کو متحد کرنے کا آغاز اور چند اہم اقدامات کرنے والا یہ ”چن شاہی“ دور مختصر رہا۔ اس کی جگہ 202 ق م میں ایک کسان رہنما ”لیو پنگ“ کی قیادت میں ہان (Han ) شاہی خاندان سلسلہ قائم ہوا۔

ہان شاہی دور ( 202 ق م تا 220 عیسوی) ۔ 400 سال سے زیادہ حکمران رہنے والا یہ شاہی خاندان چینی تاریخ کا سب سے طاقتور، ترقی یافتہ اور اہم شاہی سلسلہ رہا ہے۔ (یہ رومن سلطنت کا ہم عصر تھا) اسی دور میں موثر انتظام حکومت، وسیع پیمانے پر سڑکوں اور نہروں کے نیت ورک اور بڑے قصبوں کے طفیل چین کافی ترقی یافتہ رہا۔ کاغذ کے علاوہ کئی ایجادات اور دریافتیں کی گئیں۔ اسی دور میں وسطی ایشیا اور یورپ کے درمیان شاہراہ ریشم سے تجارت کی ابتدا ہوئی شاہراہ کے پہلے سرے پر دارالحکومت ”شیانگ“ تعمیر کیا گیا۔

کنفیوشسزم کو باضابطہ حیثیت دی گئی۔ اس سلسلے کا سب سے اہم حکمران چھٹا شہنشاہ ”ووتی (Wu Ti) تھا جو 141 سے 87 ق م تک حکمران رہا اور“ مارشل شہنشاہ ”کہلایا جاتا تھا۔ جس نے اپنی فتوحات سے جنوبی مانچوریا، شمالی کوریا اور شمالی ویت نام تک سلطنت کی توسیع کر لی۔ مغرب (رومن) کے ساتھ تجارتی روابط قائم ہو گئے۔ ہان شاہی کے 400 سال دور کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ابتدائی ہان دور 206 ق م سے 8 عیسوی تک اور ثانوی دور 25 عیسوی سے 220 عیسوی تک ہے۔

“ ووتی ”کے بعد اس کے جانشین نا اہل رہے 9 عیسوی میں ونگ منگ نامی ایک حکومتی عہدیدار نے تخت پر غاصبانہ قبضہ کر دیا۔ جس نے اپنے قبضے کے دوران کئی مالی اصلاحات کرنے کی کوشش کی 23 عیسوی میں“ ونگ منگ ”کو ایک باغی نے قتل کر دیا۔ 26 سال تعطل کے بعد“ ہان شاہی ”کا 25 عیسوی سے ثانوی دور شروع ہوتا ہے جس کے دوران اس کا دارالحکومت“ لو ینگ ”رہا۔ اسی زمانے میں ہندوستان کے ساتھ تجارت کے طفیل چین میں بدھ مت متعارف ہوا۔

شہنشاہ مینگ تی ( 58 تا 76 ع) کا اس کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے سے اس کا پھیلاؤ ہونے لگا۔ تاہم ہان شاہی کا یہ دوسرا دور اپنے پہلے دور جیسے معیاری نہیں تھا۔ فیوڈل طبقے کے جنگجووں کی ریشہ دوانیوں اور کسانوں کی بغاوتوں نے سلطنت کو کمزور کر دیا۔ 220 عیسوی میں ایک جنگجو جاگیردار تخت پر قبضہ کر لیتا ہے جس کے نتیجے میں اگلے 350 سال تک چین انتشار کا شکار رہا اسی عرصے میں بیک وقت تین سلطنتیں رہیں اور اسی بنا پر یہ“ تین سلطنتوں ”کے دور کے نام سے مشہور ہے

سو (Sui) خاندان دور ( 589 تا 618 ع) ۔ چین کا پھر سے متحد ہونے کا آغاز سو خاندان کے دور سے ہوتا ہے۔ یہ دور اگرچہ محض 47 سال رہا مگر اس مختصر عرصے میں بڑے فتوحات کے ساتھ جنوب کے ”ہینگزو“ سے شمال کے ”کیفینگ“ تک ”گرینڈ کینال“ کی تعمیر اور دیوار چین کے بحالی کے کام ہوئے۔ اس خاندان کے ایک شہنشاہ ”وین“ کا ایک نمایاں کارنامہ نوکر شاہی کے لیے بذریعہ امتحان اہل افراد کا انتخاب کا طریقہ کار متعارف کرانا تھا، ۔ ”

تانگ (T، ang) دور ( 618 تا 907 ع) ”سو“ کے بعد آنے والا تانگ شاہی دور چینی تاریخ کے بہترین ادوار میں سے ہے۔ اس میں متحدہ چین کو استحکام ملتا ہے۔ تانگ شاہی خاندان کے شہنشاہ ”کاوسو“ نے اپنا سیاسی اور تجارتی اثر جنوب میں ”انام“ اور کمبوڈیا اور مغرب میں ایران اور بحیرہ کیسپین تک بڑھایا۔ اس کے وسیع سلطنت میں کوریا کا ایک حصہ بھی شامل تھا۔ اس کا دارالسلطنت اپنی شان و شوکت اور تہذیب و تمدن کے حوالے سے خاص مقام رکھتا تھا۔

جاپان اور جنوبی کوریا سے وفود علوم و فنون اور تہذیب و تمدن کے مطالعے کے لیے آتے تھے۔ تانگ حکمران بیرونی تجارت اور سیاحوں کی بہت حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ 20 لاکھ آبادی پر مشتمل دارالحکومت شیانگ اپنے وقت میں دنیا کا سب سے بڑا شہر رہا۔ تانگ دور آرٹس، ادب اور شاعری کے لیے بھی شہرت رکھتا ہے۔ اس دور کے دو اہم شاعر ”لی پو“ ( 701 تا 762 ) اور تو فو ( 712 تا 770 ) رہے ہیں۔ چینی تاریخ کی واحد ملکہ وو زو (Wu Chao) ( 683 تا 705 ع بھی اسی دور میں ہو گزری ہے۔

اپنے پیشرو ہن شاہی کی طرح تانگ شاہی بھی وقت کے ساتھ زوال پذیر ہو کر کمزور ہو گئی۔ 875 کے بعد اس کے خلاف کئی بغاوتیں برپا ہوئیں۔ 884 کے بعد یکے بعد دیگرے کئی مخالف فوجی کمانڈرز یا ان کے کٹھ پتلی تخت پر قبضہ جمانے رہے۔ یہاں تک کہ 907 میں شاہی سلسلہ تحلیل کر دیا گیا۔ 50 سال تک انتشار اور بد نظمی کا عرصہ رہا۔ غیر اہم قسم کے حکمرانوں کا دور رہا۔

سونگ  دور- 960 میں سونگ خاندان برسراقتدار آتا ہے چینی تاریخ میں سونگ شاہی دور ( 960 تا 1279 ع) بھی کئی حوالوں سے کافی اہم رہا ہے۔ اسی دور میں نوکر شاہی اور فوج کو مرکز کے تحت کر دیا گیا۔ تجارت کو ترقی ملی۔ چائے، ریشم اور چینی ظروف کے لدے جہاز ہندوستان اور افریقہ تک جاتے تھے۔ چھاپہ خانے کی ایجاد ہوئی۔ سونگ کا مجموعی دور 300 سال تک رہا۔ سونگ حکمرانوں کے کمزور ہو جانے پر جنوبی مانچوریا کے ”جورچن“ (چن/ گولڈن تاتار) قبیلہ متحرک ہوا۔

1122 میں سونگ بادشاہت نے اس کی مدد حاصل کر کے چین کے شمال مشرقی سرحدی علاقے پر قابض ایک دوسرے تاتاری قبیلے کو نکال باہر کیا مگر اس کے بعد جورچن سونگ حکمرانوں کے ساتھ الجھ پڑے۔ 1127 میں جنوب کی طرف پیش قدمی کر کے ان کے دارالحکومت ”کیفینگ“ کا محاصرہ کر لیا۔ دس سال جنگ کے بعد ایک معاہدے کے تحت ”ینگوز وادی“ کے شمالی جانب علاقہ جورچن ”(جن ) کے قبضے میں دیا گیا اور سونگ خاندان کی سلطنت جنوب تک محدود ہو گئی۔

شمالی چین کھونے کے بعد“ جنوبی سونگ ”کے نام سے جانے والے شاہی سلسلہ نے“ ینگزو (Yangtze) ڈیلٹا ”کے جنوبی کنارے پر“ ہینگزو ”(Hangchow) کے نام سے نیا دارالحکومت قائم کیا۔ اس حصے میں۔ جنوبی سونگ سلسلہ کی حکومت 1127 تا 1279 عیسوی تک قائم رہی۔ سیاسی لحاظ سے کمزور ہونے باوجود اسی عرصے میں جنوبی چین میں فنون لطیفہ، شاعری اور مصوری کو بہت ترقی ملی۔

منگول تسلط@۔ 1209 میں منگول سردار چنگیز خان نے شمال مغربی جین کی Xi Xia ریاست کو باجگزار بنایا تھا۔ 1214 میں جن (جورچن) بادشاہت کے دارالحکومت بیجنگ پر قبضہ کر کے دریا زرد کے شمال تک علاقہ منگولوں کے تحت کر لیا تھا۔ 1260 میں چنگیز خان کے پوتے قبلائی خان نے جنوبی چین کی سونگ بادشاہت کے خلاف مہم شروع کی اس کو شکست دینے پر پورا چین منگولوں کے زیر تسلط آ گیا۔ قبلائی خان نے پیکنگ کو دارالحکومت بنا کر 1279 سے ”یوان“ Yuan کے نام سے نیا شاہی سلسلہ قائم کر دیا۔

قبلائی خان بہت کامیاب حکمران تھا۔ اس نے کوریا۔ شمالی ویٹ نام، اور جنوب مغرب میں غیر جینی علاقے کو شامل سلطنت جبکہ جنوبی ویت نام، سیام (طائی لینڈ) برما (میانمار) اور تبت کو باج گزار بنایا۔ (مشہور اطالوی سیاح ”مارکو پولو“ اس کے دربار سے وابستہ رہا) 1295 میں قبلائی خان کی وفات کے بعد منگول تسلط کمزور پڑنے لگا۔ شاہی خاندان کی باہمی رسہ کشی اور قحط نے یوان شاہی کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ تو اسی اثنا ”ژو یوان ژینگ“ (Ju Yuanzhang) نامی ایک غریب کسان لڑکا منگول تسلط کے خلاف مزاحمت کرنے والے جنونی چین میں ایک خفیہ تنظیم کے پلیٹ فارم سے آبھرتا ہے اور 1368 میں اقتدار پر قابض ہو کر ”منگ ٹائی تسو“ کے نام سے اپنی بادشاہی کا اعلان کر کے منگ شاہی سلسلہ قائم کر دیتا ہے 1382 تک وہ سارے چین کو اپنے زیر حکومت کر لیتا ہے۔

جنوبی جانب ”دریا ہینگزی“ کے کنارے نان کینگ (Nanjing ) کے نام سے دارالحکومت تعمیر کرتا ہے۔ منگ کا بیٹا ”یونگ لو“ ( 1403 تا 1424 ) نے اپنے دور اقتدار میں دارالحکومت کو شمال کی طرف خان بالیک ( موجودہ پیکنگ) منتقل کر دیا۔ منگ شہنشاہ اہل علم افراد کو ترجیح دیتے تھے اس لیے تعلیم پر خصوصی توجہ دی۔ ”یونگ لو“ نے چین کے ماضی کی تحریرات پر مبنی انسائیکلوپیڈیا مرتب کروایا۔ اسی دور میں چین کی بحریہ ایک بڑی طاقت کی حیثیت رکھتی تھی تاہم وقت کے ساتھ اس سلسلہ کا اقتدار روبہ زوال ہوجاتا ہے

مانچو شاہی دور- 1644 میں شمالی جانب کے علاقے مانچوریا کے جنگجو باشندوں نے حملہ آور ہو کر چین پر تسلط حاصل کیا۔ اسی دور کے اہم واقعات میں برطانیہ چین کے درمیان لڑی جانی والی دو جنگیں 1839 تا 1842 اور 1758 تا 1860 ہیں۔ ان کو ”افیون کی جنگیں“ کہا جاتا ہے کیونکہ اس کا بنیادی سبب برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کا چین کو افیون کی سمگلنگ اور اس کے تدارک کے لیے چینی حکومت کے اقدامات بنا۔ ان جنگوں میں چین کو شکست دینے کے نتیجے میں برطانیہ نے تجارتی حقوق حاصل کیے ۔

اس کے بعد فرانس امریکہ اور روس کو بھی ایسے حقوق دیے گئے۔ 1860 میں چینی حکومت مغربی ممالک کے اثر کو رکنے میں ناکام رہی اور اس کی صنعتی ترقی زوال کا شکار ہو گئی۔ 1894 میں کوریا پر چینی قبضے کے مسئلے پر جاپان نے چین کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ چین کو شکست ہوئی اور نتیجتاً اپنے کچھ علاقے گنوانے کے ساتھ جاپان کو زیادہ تجارتی مراعات دینے پڑے۔ 1896 کے بعد مانچو حکومت کے خلاف کئی بغاوتیں ہوئیں جن کو کچل دیا گیا۔

ان میں سب سے اہم ”سن یات سین“ کی قیادت میں برپا ہوئی۔ ان بغاوتوں کے باعث مانچو بادشاہت نے چند اصلاحات کرنے کی کوشش کی مگر یہ موثر ثابت نہ ہوئے 1911 میں ایک شدید بغاوت کے نتیجے میں بالآخر 1912 میں آخری مانچو شہنشاہ کو تخت چھوڑنا پڑا۔ اور بادشاہت کی جگہ چین کو جمہوریہ قرار دیا گیا اور یوں چین میں شاہی ادوار کا طویل سلسلہ مستقل طور پر اختتام پذیر ہوا

Facebook Comments HS