میری بیٹی کی اپنے ”دانائی“ انکل سے ملاقات

میری بیٹی عائشہ عروج دسویں جماعت کے طالبہ ہے، زندگی کی تقریباً 14 بہاریں دیکھ چکی ہے۔ میری بہت اچھی دوست ہے، برتھ ڈے گفٹ کے طور پر گزشتہ دنوں میں نے اپنی لائبریری جو میری زندگی کا کل اثاثہ ہے اپنی بیٹی کے نام کی تھی۔
اس غیر متوقع سے گفٹ پر وہ بہت خوش ہوئی اور آج کل اپنا خاصا وقت اسی لائبریری میں گزارتی ہے۔
حالانکہ اس کے امتحانات چل رہے ہیں لیکن پھر بھی وہ اپنا کچھ وقت ضرور اس لائبریری کو دیتی ہے۔
وہ ابھی خاصی چھوٹی ہے، زندگی کے بھید اور پراسراریت آہستہ آہستہ اس پر آشکار ہوگی۔ زندگی کے حوالے سے خاصی متجسس ہے، خاموش طبع تو ضرور ہے لیکن جب بولتی ہے یا سوال کرتی ہے تو بے خوف انداز میں مخاطب ہوتی ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ شاید خاموش یا گونگا بن کے رہنا اس کی سرشت میں ہی نہیں ہے۔
جب سوال کرتی ہے تو ایسا لگتا ہے کہ سوالات کا ایک نا تھمنے والا تسلسل اس کے دماغ میں ٹھاٹھیں مار رہا ہو۔
اکثر اس کی مما اسے ٹوک دیتی ہیں
” کہ بیٹیوں کا اتنے زیادہ سوالات کرنا کوئی مناسب رویہ نہیں ہوتا تمہیں محتاط روی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے“
اس نصیحت میں ان کا معاشرتی خوف اور بیٹی سے پیار اور محبت کا پہلو عیاں ہوتا ہے۔
عائشہ کو بہت کوفت سی محسوس ہوتی ہے جب کوئی اسے ٹوکتا ہے یا اپنے الفاظ اس کے منہ میں ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔
اسے اپنے انداز سے بات کہنا یا سوال کرنا پسند ہے، بھلے کسی کو اچھا لگے یا برا اس سے اسے کوئی سروکار نہیں۔ بس جو ذہن میں ہے یا اس کی فہم کے مطابق درست ہے اس کا اظہار اسے بہر صورت کرنا ہوتا ہے۔
وہ اپنے بچپن کو بھرپور طریقے سے جینا چاہتی ہے، خود کے ذہن کو اپنے ایسے اذہان کے ساتھ انگیج کرنا چاہتی ہے۔
لیکن اس کے قرب و جوار میں ایسا کوئی بندوبست ہی نہیں ہے۔
وہ اپنے سکول میں ایسی سہیلیوں کو ڈھونڈتی رہتی ہے جن کے ساتھ وہ اپنے خیالات، سوالات اور وہ سماجی الجھنیں شیئر کر سکے جو وہ گزشتہ 14 سالوں میں دیکھ چکی ہے۔
ایسے اساتذہ ڈھونڈتی رہتی ہے جو اسے قریب بٹھا کر اس سے بات چیت کریں۔
میں اکثر عائشہ سے پوچھتا رہتا ہوں کہ اے میری دوست اور پیاری بیٹی تمہیں کوئی ایسی سہیلی یا ٹیچر ملی جس کے ساتھ تم دل کھول کے باتیں کر سکو؟
جس کے ساتھ تمہارا ڈائیلاگ ہو سکے؟
وہ پریشان ہو کر مجھے کہنے لگتی ہے کہ پاپا نہیں۔ ہر کوئی کسی نا کسی دوڑ میں لگا ہوا ہے، ہر کوئی معمول کی روٹین میں مگن ہے اور اسی میں خوش ہے۔ اساتذہ کے چہرے تکبر سے تنے رہتے ہیں اور ایک خواہ مخواہ سی سنجیدگی اپنے چہروں پر طاری کیے رکھتے ہیں، شاید وہ چاہتے یہی ہیں کہ کوئی ان سے سوال نہ کرے۔
اسی لیے عائشہ اب اپنا زیادہ تر وقت اپنی لائبریری میں گزارتی ہے، زندگی کے جس فیز میں وہ داخل ہوئی ہے اسے ہم کوئی پختہ ایج نہیں کہہ سکتے۔ دسویں جماعت میں تو بچے اپنی سائنسی کتابوں اور فارمولوں سے ہی طبع آزمائی کر رہے ہوتے ہیں یعنی انہیں اپنے حافظے کا حصہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
عائشہ جب پہلے دن خوشی سے اپنی لائبریری میں داخل ہوئی تھی اسے کتابوں کے بیچ ایک خوبصورت سے فریم میں ایک تصویر دکھائی دی۔ جسے اس نے بڑے چاؤ سے اپنے ہاتھوں کی رحل میں تھام کر بغور دیکھتے ہوئے مجھ سے پوچھا کہ پاپا یہ کون ہیں؟
میں نے جواب دیتے ہوئے کہا ”عائشہ بیٹا یہ میری رائٹنگ میوس ہیں“
وہ حیرت سے بولی کیا مطلب؟ میں نے جواب دیا جب کبھی میں لکھنے کا ارادہ کرتا ہوں تو میری رائٹنگ میوس مجھے مضمون کی صورت میں لفظوں کا گلدستہ تحفے کے طور پر دیتی ہے اور چلی جاتی ہے۔
ظاہر ہے وہ ابھی بچی ہے میری یہ ساری جذباتی سی گفتگو اس کی سمجھ کے اوپر سے گزر جاتی ہے۔
وضاحت کے طور پر میں اسے سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے بتاتا ہوں کہ یہ میرے مینٹور ہیں۔
ان سے میں نے زندگی کے بہت سے راز سیکھیے ہیں، زندگی کی باریکیاں سیکھی ہیں اور انسانوں کے درمیان انسان بن کے رہنا سیکھا ہے۔ مذاہب عالم کا احترام، ڈائیلاگ کے قرینے، نفرتوں و کدورتوں کا خاتمہ، رنگ نسل، مذہب اور علاقائی تعصبات سے اوپر اٹھ کے جینا سیکھا ہے۔
میں بھی کبھی حد سے زیادہ جذباتی، بات بات پہ الجھنے والا اور مد مقابل کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا کرتا تھا لیکن جب سے ان کے ساتھ وابستگی قائم ہوئی ہے لہجے میں ٹھہراؤ، زبان میں نرمی و شائستگی اور میانہ روی ایسے خصائص قائم ہوئے۔ اس شخص نے مجھے بتایا
” کہ دنیا میں اتنے ہی سچ ہیں جتنے انسان اور اتنی ہی سچائیاں ہیں جتنی دیکھنے والی آنکھیں“
جب میری گفتگو طویل ہوئی تو عائشہ انتہائی متجسسانہ انداز میں پوچھنے لگی کہ پاپا ان کا نام کیا ہے اور ان کا میرے ساتھ کیا رشتہ ہے؟
میں نے فی البدیہ جواب دیا کہ یہ میرے مینٹور اور رائٹنگ میوس اور تمہارے دانائی انکل ڈاکٹر خالد سہیل ہیں۔
پلٹ کر کہنے لگی یہ کہاں رہتے ہیں؟ آپ نے تو کبھی ان سے مجھے ملوایا ہی نہیں۔
میں نے کہا بیٹا یہ سات سمندر پار کینیڈا میں مقیم ہیں اور میری ان سے دو بدو ملاقات 2017 میں ان کی پیاری بہن عنبرین کوثر کے گھر پر ہوئی تھی۔
بالآخر عائشہ کا اپنے دانائی انکل سے ملنے کا خواب 6 مارچ 2024 کو اسی کی لائبریری میں شرمندہ تعبیر ہو گیا۔
عائشہ نے اپنے دانائی انکل کے ساتھ ایک پیاری سی تصویر بنوائی اور انہیں بڑی محبت اور پیار سے اپنی مما کے ہاتھ کے بنے ہوئے رنگ برنگے کھانے پیش کیے اور یوں یہ ایک خوبصورت سے شام اختتام کو پہنچی۔ ڈاکٹر خالد سہیل میاں چنوں تشریف لائے اور چلے گئے، میں عائشہ کا دوست اور ترجمان ہونے کی حیثیت سے کچھ سوالات ڈاکٹر صاحب کو پیش کرنا چاہوں گا، میری خواہش ہے کہ جب کبھی عائشہ بڑی ہو اور اپنی میچور ایج کو پہنچے تو وہ اپنی ذات کے متعلق اپنے پاپا کے جذبات اور اپنے دانائی انکل ڈاکٹر خالد سہیل کے پیار بھرے جواب کی صورت میں ان کی اپنائیت کو محسوس کرے۔ کیونکہ عائشہ ایک ایسے سماج کی نمائندہ ہے جہاں خواتین کو ادھ ادھوری سمجھا جاتا ہے اور ان کے وجود کو کوئی زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔
زیادہ سے زیادہ انہیں ایک جنسی مشین یا سیکشوئل ٹوائے سمجھا جاتا ہے جن کا مقصد مردوں کو لبھانا یا ان کے کانچ جیسے ایمانوں کو خراب کرنا ہوتا ہے۔
( عائشہ کے سوالات)
1۔ ہمیں ہمارے سماج میں پرفیکٹ ہونے کے مخمصے میں الجھا کے کیوں رکھا جاتا ہے اور اس خوبی کو پانے کے چکروں میں نجانے کتنی خواتین زمین بوس ہو جاتی ہیں؟
2۔ کیا پرفیکٹ، خوبصورت یا سلیقہ مند ہونے ایسے خصائص صرف ہماری ذات تک محدود ہیں یا مردوں کو بھی ایسا ہونا چاہیے؟
3۔ ہمیں شادی ایسے جبری بندوبست میں ایڈجسٹ ہونے کے لیے نجانے کتنی فیملیز کے آگے بن سنور کے سرنگوں ہونا یا ڈیمو دینا پڑتا ہے، مطلب کیا ہم بھاؤ تاؤ کی کوئی چیز ہیں جنہیں اچھی طرح سے دیکھا بھالا جاتا ہے؟
4۔ انسانوں کے سماج میں ہمارے لیے دوہرے معیارات کیوں؟
5۔ کیا کبھی کسی مرد نے یہ تک سوچنے کی جسارت یا زحمت کی کہ ایک پرفیکٹ دکھائی دینے والی لڑکی کبھی خود کو ڈھونڈ پاتی ہے؟ یا سماجی تقاضوں کو پورا کرتے کرتے ختم ہو جاتی ہے؟
6۔ بیٹے جتنا پڑھنا چاہیں پڑھ لیں کوئی حرج نہیں، ہمیں یہ طعنہ کیوں دیا جاتا ہے کہ ہم نے اتنا زیادہ پڑھ کے کیا کرنا ہے؟
7۔ سماجی اشاروں پر چلتے ہوئے ایک پرفیکٹ بننے والی لڑکی کیا کبھی خود کو ڈھونڈ پائے گی؟
8۔ ہمارے لیے آپشن یا چوائسز اتنی محدود کیوں؟ کیا صلاحیتیں صرف مرد کا ہی خاصہ ہوتی ہیں؟
9۔ مختلف معاشرتی حیلے بہانوں سے ہمارا شخصی و شناختی قتل کیوں کیا جاتا ہے؟
10۔ ہماری کامیابیوں سے مرد پریشان کیوں ہو جاتے ہیں اور انہیں ہماری خوشیوں کو ہضم کرنا مشکل کیوں لگتا ہے؟
11۔ ہمیں ہمارا موقف خود پیش کرنے پر اتنے مسائل کا سامنا کیوں کرنا پڑتا ہے؟
12۔ ہماری سرگرمیوں کو کنٹرول یا مانیٹر کیوں کیا جاتا ہے؟
13۔ اگر ہم ”میرا جسم میری مرضی“ کا نعرہ لگاتے ہیں تو ہماری شخصیت اور کردار کو شک کی نگاہوں سے کیوں دیکھا جاتا ہے؟
14۔ ہمیں یہ اوڑھو، وہ پہنو یا اس طرح سے بیٹھو ایسے بھاشن کیوں دیے جاتے ہیں اور ہمیں ہماری ذات کے متعلق ”مین سپلیننگ“ کا سامنا کیوں کرنا پڑتا ہے؟
15۔ ہمارا جسم، کردار یا ذہن پر مرد حاوی ہونے کی کوشش کیوں کرتے ہیں اور انہیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ ہمیں ہر وقت انہی کی ضرورت درکار رہتی ہے؟
16۔ مرد اپنے فیصلے خود لینے میں آزاد ہوتا ہے اس پر کوئی قدغن نہیں لیکن یہ آزادی ہمیں میسر کیوں نہیں ہوتی؟ کیا چند جسمانی تبدیلیوں کی وجہ سے ہم کند ذہن یا بے وقوف ثابت ہو جاتے ہیں؟

