عشقیہ خطوط (ماخوذ)
پروفیسر عبدالقدیر شہر کے ایک مشہور اور نامور نجی یونیورسٹی میں انگریزی ادب پڑھاتے تھے۔ پہلی بیوی کی وفات کے بعد وہ تقریباً دس سال تک مجرد رہ کر زندگی گزارتے رہے۔ عورت کے بغیر زندگی گزارنا کسی مرد کے لیے آسان نہیں ہوتا، یہ بات ان کی سمجھ میں دس سال بعد آئی جس کے بعد انھوں نے ایک نوجوان حسینہ سے شادی کرلی۔ پروفیسر صاحب شام کو گھر پر اپنے یونیورسٹی کے طالب علموں کو ٹیوشن پڑھاتے تھے جس سے ان کو اضافی آمدنی ہوتی تھی۔
رشید احمد بھی پروفیسر عبدالقدیر کے ان شاگردان رشید میں شامل تھا جو شام کو ان کے پاس پڑھنے آتا تھا۔ وہ ایک وجیہ مگر باتونی نوجوان تھا جو لوگوں کو اپنی شیریں گفتاری کے سحر میں گرفتار کرنے کا فن جانتا تھا۔ پروفیسر صاحب کو اپنے اس ہونہار شاگرد پر بڑا ناز تھا، انھوں نے اسے گھر میں آنے جانے کی کھلی چھوٹ دے رکھی تھی۔ رشید میاں اکثر اوقات پروفیسر صاحب کی غیر موجودگی میں بھی ان کے گھر جاتے اور یوں ان کی دوستی اپنے استاد کی جواں سال حسین بیوی سے ہو گئی جو آگے جاکر محبت میں بدل گئی (مرد اور عورت کی دوستی کا انجام اکثر محبت پر ہی ختم ہوجاتا ہے ) ۔
پروفیسر صاحب کی موجودگی میں دو پیار کرنے والوں کو راز و نیاز کی باتیں کرنے کا موقع کم ہی ملتا تھا۔ جدائی کی اس دیوار کو انھوں نے ایک دوسرے کو خط لکھ کر گرانے کا فیصلہ کر لیا۔ رشید میاں نے پروفیسر صاحب کی بیوی کو متاثر کرنے کے لیے خط لکھنے کے لیے انگلش میڈیم کا سہارا لیا۔ اس کا انھیں ایک اور فائدہ یہ ہوا کہ محبت کے ساتھ ساتھ انگریزی گرامر کی پریکٹس بھی ہونے لگی۔ رشید میاں کے محبت بھرے خط کے جواب میں اس کی محبوبہ دل پذیر (یعنی پروفیسر صاحب کی بیوی) نے بھی انھیں جوابی خط لکھنا شروع کیا۔ خط و کتابت کا یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک رشید احمد ٹیوشن سے فارغ نہ ہوئے۔ ان کے ٹیوشن سے فارغ ہونے کا قصہ بھی کچھ کم دلچسپ نہیں۔
ایک دن پروفیسر صاحب کو اپنی کسی فائل کی ضرورت پیش آئی، بیگم صاحبہ میکے گئی ہوئی تھیں، انھوں نے سارا گھر چھان مارا لیکن فائل نہ ملی۔ مجبوراً بیگم صاحبہ کی الماری کی تلاشی لی، فائل تو نہ ملی لیکن اپنے شاگرد رشید (یعنی رشید احمد) کے چند عشقیہ خطوط جو انھوں نے اپنی محبوبہ (یعنی پروفیسر صاحب کی بیوی) کے نام لکھے تھے، پروفیسر کے ہاتھ لگ گئے۔
پروفیسر صاحب مطلوبہ فائل بھول کر خطوط پڑھنے بیٹھ گئے، جنھیں پڑھ کر انھیں سخت غصہ آیا۔ وجہ شاگرد رشید کی وہ گرامر کی غلطیاں تھیں جو خطوط میں جابجا نظر آ رہی تھیں۔ انھوں نے تمام غلطیوں کو سرخ روشنائی والی قلم سے درست کر دیا اور خطوط اگلے دن جب رشید میاں ٹیوشن لینے آئے تو ان کے حوالے کر دیے۔ اس دن کے بعد سے رشید میاں نے ٹیوشن آنا چھوڑ دیا۔


