داستان ازل: (جن و انس کی پہلی کہانی)
ایک خواب، ایک یاد، ایک مختصر کہانی، جو ناصرف اپنے پڑھنے والوں کو فکر انگیزی کی دعوت دیتی ہے بلکہ خود ہی اپنے پڑھنے والوں کے سوالوں کے جواب بھی دیتی ہے۔
ہوش آنے پر جب میری آنکھ کھلی تو جو پہلا احساس مجھے ہوا وہ اپنے عدم سے وجود میں آنے کا تھا، اور پہلا ادراک اللہ پاک کے خالق ہونے اور اپنے مخلوق ہونے کا ۔ میں نے اپنے ارد گرد نظر دوڑائی تو تا حد نگاہ ایک وسیع و عریض میدان تھا جو مجھ جیسے بے شمار روحانی وجودوں سے بھرا ہوا تھا۔ جہاں تک نظر جا رہی تھی ہر طرف سر ہی سر نظر آ رہے تھے۔ اس قدر کثیر اژدہام کے باوجود ماحول پر ایک مہیب اور پر ہیبت سناٹا طاری تھا۔ کہیں کوئی آواز نہ تھی لیکن مجھے میرے وجود پر طاری گھبراہٹ نے بے چین کیا ہوا تھا۔
ہم سب کی نگاہیں اوپر کی سمت بے کراں وسعتوں میں کچھ تلاش رہی تھیں، جہاں ہر سو ایک سکون طاری تھا۔ اچانک اوپر کی سمت ایک نور بکھر گیا اور ایک پر ہیبت و پر جلال آواز نے ناصرف میرے وجود پر طاری گھبراہٹ میں بے پناہ اضافہ کر دیا بلکہ وہاں موجود ہم سب سجدہ ریز بھی ہو گئے۔
میرا خالق و میرا مالک مجھ سے بلکہ وہاں موجود سب سے مخاطب تھا۔
”میں تمہیں تم پر گواہ بناتے ہوئے پوچھتا ہوں کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟“
”ضرور آپ ہی ہمارے رب ہیں، ہم اس کی گواہی دیتے ہیں“
سب کی آواز ایک ساتھ ہی ابھری اور ختم ہوئی تبھی پر جلال آواز آئی۔
”یہ ہم نے اس لیے کیا کہ کہیں تم قیامت کے روز یہ نہ کہہ دو کہ ہم تو اس بات سے بے خبر تھے“
ماحول پر ایک بار پھر وہی مہیب و پر ہیبت سناٹا طاری ہو گیا۔
جس پر ہم سب نے سجدے سے سر اٹھا کر ایک دوسرے کی طرف استفہامیہ نظروں سے دیکھا اور پھر یکے بعد دیگرے اٹھ کر کھڑے ہوئے ہی تھے کہ اچانک اوپر سے بے شمار نورانی وجودوں نے اترنا شروع کر دیا، یہاں تک کہ وہاں پہلے سے موجود ہر روحانی وجود کے ساتھ ایک نورانی وجود آن کھڑا ہوا، اور السلام علیکم ورحمۃ اللہ کی صداؤں سے ماحول گونج اٹھا، جس کے جواب میں بے اختیار وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کے الفاظ ہماری زبانوں سے ادا ہونے لگے۔
میرے ساتھ آن کھڑے ہوئے نورانی وجود نے ایک استقبالیہ مسکراہٹ کے ساتھ میری طرف دیکھا اور پوچھا۔
” کچھ سمجھ آیا یہ سب کیا ہے؟“
میں نے کچھ سمجھی اور کچھ ناسمجھی کے انداز میں اس کی طرف دیکھا۔
” صرف اتنا کہ اللہ پاک ہم سب کے خالق و مالک ہیں اور شاید انہوں نے کسی خاص مقصد کے لیے ابھی ابھی ہمیں تخلیق فرمایا ہے، جس کی تکمیل کا وعدہ انہوں نے ہم سے اپنی تجلی کے اظہار کے ساتھ خود لیا ہے، اور آپ ان کے فرستادہ ہیں جو ہمیں اس مقصد کی تفصیلات بتانے اور سمجھانے کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔“
اس نے تحسین آمیز نظروں سے میری طرف دیکھا اور گویا ہوا۔
” یقیناً سب تعریفیں اس اللہ پاک کے لیے ہیں جس نے تم انسانوں کو انتہائی معاملہ فہم اور ذہین پیدا فرمایا ہے، بے شک ہم اس کے مقرب فرشتے اور فرستادہ ہیں اور اسی خاطر تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں۔“
میرے خاموشی سے اسے دیکھنے پر اس نے خود ہی سلسلہ کلام بڑھایا۔
”ہم سب یہاں پر تمہاری رہنمائی کرنے اور فرداً فرداً تم میں سے ہر ایک کی مرضی جاننے کے لیے موجود ہیں۔“
”ہماری مرضی؟“
میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
” بھلا اس معاملے میں ہماری کیا مرضی ہو سکتی ہے؟“
وہ مسکراتے ہوئے بولا۔ ”“ ساری مرضی تمہاری ہی تو ہوگی۔
”اللہ پاک کی مرضی تو صرف اتنی ہے کہ تمہاری آزمائش کی جائے اور جانچا جائے کہ تم میں سے کون یہاں پر کیے گئے اپنے وعدے کو پورا کرتا ہے اور کون وعدہ خلافی کر کے سرکشی کا راستہ اختیار کرتا ہے؟“
میں ایک ٹک حیرت سے اسے دیکھے جا رہا تھا میری حیرت سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اس نے اپنی بات جاری رکھی۔
”کیونکہ اس آزمائش و جانچ کے بعد انہوں نے فیصلے کا ایک عظیم الشان دن“ روز قیامت ”مقرر کیا ہے، کہ جس دن ان دونوں طرح کے لوگوں کو ان کے کیے کا پورے عدل کے ساتھ نہایت شاندار بدلہ دیا جائے گا۔ وعدہ پورا کرنے والوں کو اللہ پاک اپنی قربت کے ایک عظیم الشان مقام پر ہمیشہ کی بادشاہی سے نوازیں گے۔ اس مقام کو اللہ پاک نے“ جنت ”کا نام دیا ہے۔ جنت کے بادشاہوں کو نہ موت آئے گی اور نہ کبھی بڑھاپا، نہ کوئی غم ہو گا اور نہ کوئی اندیشہ، اور نہ اللہ پاک ان سے کبھی ناراض ہوں گے۔ یہاں تک کہ وہ جو بات بھی منہ سے نکالیں گے یا دل میں خواہش کریں گے وہ پوری ہو گی اور کبھی رد نہ ہو گی۔“
میں خاموشی اور انہماک سے اس کو سنے جا رہا تھا۔
” جبکہ سرکشی کا راستہ اختیار کرنے والوں کو اللہ پاک اپنے فضل، رحم و کرم سے دوری کے ایک اذیت ناک مقام پر ہمیشہ کی ذلت و رسوائی کے ساتھ شدید عذاب میں مبتلا کر کے چھوڑ دیں گے۔ اس مقام کو اللہ پاک نے“ جہنم ”کا نام دیا ہے۔ جہنم کے باسیوں کو بھی کبھی موت نہ آئے گی۔ لیکن نہ ان کے دکھ درد کم ہوں گے اور نہ کبھی ذلت و رسوائی میں کمی آئے گی اور نہ اللہ پاک ان سے کبھی راضی ہوں گے۔ یہاں تک کہ ان کے منہ سے نکلی ہر دہائی اور فریاد سنی ان سنی کر دی جائے گی اور ہر توبہ رد۔ الا ماشاءاللہ۔“
جہنم کے تذکرے میں کچھ ایسا تھا کہ مجھے اپنے وجود میں سنسنی سی دوڑتی محسوس ہوئی اور میں زیادہ توجہ سے اس کو سننے لگا کہ کہیں میری لاعلمی مجھے سرکشوں میں نہ شامل کروا دے۔
”اللہ پاک نے تمہیں اپنی بندگی کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ اور وہ اب تمہاری آزمائش کی خاطر تمہیں ایک لامحدود کائنات میں بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔“
”کیا مطلب؟“ میں مزید حیرت سے گویا ہوا۔
”اللہ کے کرم سے ہمیں مکمل ادراک ہے کہ اللہ پاک ہمارے خالق اور ہم ان کی مخلوق ہیں۔ اور پھر ابھی ابھی انہوں نے اپنی تجلی کا اظہار فرماتے ہوئے ہم سے عہد بھی لیا ہے۔ تو کسی آزمائش کی بھلا کیا ضرورت ہے۔ ؟ ہم کوئی وعدہ خلافی یا سرکشی کیسے کر سکتے ہیں۔ ؟“
اس کے چہرے پر ایک پر تاسف مسکراہٹ پھیل گئی۔ اور اسی تاسف بھرے انداز میں اس نے میری معلومات میں اضافہ کرنا شروع کر دیا۔
”ہونا تو ایسا ہی چاہیے لیکن ایسا ہو گا نہیں۔ تم سے پہلے بھی اللہ پاک نے اپنی ایک مخلوق“ جنات ”کو تمہاری طرح ارادہ و اختیار دے کر اس کائنات میں آزمائش کی خاطر بھیجا تھا۔ لیکن وہ اس آزمائش میں بری طرح ناکام رہے اور انہوں نے اپنی سرکش فطرت اور ناعاقبت اندیشی کے باعث اللہ پاک کی زمین کو فساد سے بھر دیا۔ جس کی پاداش میں اللہ پاک نے ہمیں ان کو ان کی اوقات دکھانے اور زمین ان کے اختیار و تصرف سے واپس لینے کا حکم دیا۔“
پھر میری آنکھوں میں براہ راست غور سے دیکھتے ہوئے وہ بولا۔
”ان کی اس معزولی کے ساتھ ہی زمین پر ان کا “ خلیفہ ”بھیجنے کا فیصلہ ہوا۔ جس کے لیے تمہیں چنا گیا ہے۔ لیکن بے حد ذہین او ر معاملہ فہم ہونے کے ساتھ ساتھ تم انسان بڑے ہی ظالم، بے وقوف اور جلد باز بھی ہو۔“
پھر ایک لمحے کے توقف کے بعد اس نے رسانیت سے سمجھانے والے انداز میں بات کو جاری رکھا۔
”اور دوسری بات یہ کہ جہاں تمہیں آزمائش کے لیے بھیجا جائے گا۔ وہاں پر اسی آزمائش کی غرض سے تمہیں ورغلانے اور راہ راست سے بھٹکانے کے لیے ناصرف شیاطین (جنات) کو کھلی چھوٹ“ ڈھیل ”دی جائے گی کہ ان میں سے کم از کم کوئی ایک تمہارے زمین پر بھیجے جانے سے لے کر واپس اٹھائے جانے تک مستقل تم سے چمٹا رہے۔ بلکہ خود تم میں سے بہت سے انسان بھی اپنے نفس کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنی انا، خود پسندی، خود غرضی، لالچ اور ناعاقبت اندیشی کے باعث ان کے ساتھ مل کر اپنی جانوں پر ظلم کریں گے اور ان کے شانہ بشانہ ہوں گے۔ اور ان سب سے بڑھ کر یہاں پر ہونے والی یہ ساری باتیں بھی تمہارے ذہنوں سے محو بھی کر دی جائیں گی۔ اور تم لوگ اپنی اس آزمائش کے بارے میں کسی قدر بے یقینی اور ابہام کا شکار ہو جاؤ گے۔“
اس کی مکمل گفتگو کے آخری جملے نے مجھے دہلا کے رکھ دیا۔
”محو کر دی جائیں گی؟“
میں جو اب تک اس کے ادا کیے ایک ایک لفظ کو اچھی طرح اپنے دماغ میں بٹھا رہا تھا کہ مجھے کسی صورت بھی ناکام ہو کر جہنم کا مستحق نہیں ہونا تھا۔ اس آخری جملے پر بری طرح سٹپٹا گیا۔
”تو پھر ہم اس آزمائش میں اپنے اس وعدے پر کیسے پورا اتریں گے؟ یہ کیسی آزمائش ہے؟“
میرے سوال کی تڑپ اور بے چینی پر مسکراتے ہوئے اس نے میری طرف دیکھا۔
”میں نے بتایا تھا نا کہ انسان بڑا ہی جلد باز ہے۔ تم نے پوری بات جانے بنا ہی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش شروع کر دی۔“
”گھبراؤ مت۔ اللہ پاک تمہیں اس آزمائش میں بے یار و مددگار ہرگز نہیں چھوڑیں گے۔ بلکہ جیسے وہاں تمہیں ورغلانے اور بھٹکانے کے لیے شیاطین (جنات) اور تم انسانوں میں سے بہت سے ناعاقبت اندیش لوگ موجود ہوں گے۔ تو بالکل اسی طرح تمہیں راہ راست پر گامزن رکھنے اور ناکامی سے بچانے کے لیے بھی اللہ پاک ہم فرشتوں میں سے بہت سوں کو تم سب کے ساتھ مقرر فرمائیں گے جو تمہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے اور ہر لمحے تمہارے ضمیر کی آواز بن کر تمہیں ظلم (گناہ) سے باز رکھنے کے لیے کوشاں رہیں گے۔“
یہ تسلی بھی شاید میری بے چینی کو کم نہ کر سکی تبھی وہ مزید گویا ہوا۔
”اور اس کے علاوہ خود تم انسانوں میں سے بھی بے شمار اولالعزم اور بلند حوصلہ لوگوں کو انبیاء کرام کے طور پر تم میں بھیجا جائے گا۔ جو اپنے اپنے وقت میں ناصرف تمہاری اس آزمائش (زندگی) میں کامیابی کے لیے اللہ پاک کی طرف سے بھیجے گئے پیغام ہدایت کے ذریعے راہنمائی کریں گے۔ بلکہ آج کے دن کا یہ کیا گیا وعدہ اور دی گئی گواہی بھی یاد کرائیں گے۔“
”مزید تم میں سے ان کے ساتھ اخلاص سے جڑنے والے بے شمار انسان قیامت تک صدیقین، شہداء اور صالحین کے طور پر ان کے اس عظیم کام کو جاری رکھیں گے۔ اور صرف یہ ہی نہیں بلکہ پوری کائنات میں تمہارے رب کی ربوبیت کی بے شمار نشانیاں، تجلیات اور شانیں اس قدر عیاں ہوں گی کہ تلاش حق کے خواہشمند مسافر کو ذرا برابر بھی زحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔“
”تو کیا اس مخلوق“ جنات ”کو یہ ساری امداد اور یاددہانی میسر نہیں کی گئی تھی کہ وہ ناکام ہو گئے۔ ؟ اور اگر راہنمائی میسر ہونے کے باوجود بھی وہ ناکام ہو گئے تو ہم“ انسان ”کیونکر کامیاب ہو سکیں گے۔ ؟ آخر ہم میں ایسا کیا ہے۔ ؟“
میں نے ایک سانس میں کئی سوال کر ڈالے۔ اس کے چہرے پر سنجیدگی اور تحسین کے آثار بیک وقت پیدا ہو گئے اور اس نے آنکھیں بند کر کے ایک جذب کے عالم میں الفاظ ادا کیے :
”اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں تو انہوں نے کہا کہ ایسے شخص کو کیوں پیدا کرتا ہے جو زمین میں فساد کرے اور خون بہائے؟ ہم تیری تسبیح اور پاکیزگی بیان کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔“
پھر اس نے آنکھیں کھول کر مجھے دیکھا اور اپنی اسی اپنایت بھری مسکراہٹ میں جواب دیا۔
”تمہارا یہ سوال کرنا ثابت کرتا ہے کہ تم میں سے بہت سے اپنے رب کی اس آزمائش کو سنجیدگی سے لیں گے اور انشااللہ کامیاب بھی ہو جائیں گے کہ بے شک جو وہ جانتا ہے ہم نہیں جانتے۔“
”جس طرح ہم فرشتے، جنات اور تم انسان تخلیق میں ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں۔ یعنی ہم“ فرشتے ”نور سے بنے اور صرف نورانی وجود رکھتے ہیں۔ جبکہ“ جنات ”آگ کے شعلے کی لپٹ سے پیدا کیے گئے اور وہ دو اجزاء کا مرکب یعنی حیوانی وجود کے ساتھ ساتھ“ جان ”بھی رکھتے ہیں۔ یہی جان دراصل“ امر ربی ”ہے۔ اور تم“ انسان ”کھنکھناتی ہوئی کالی مٹی کے گارے سے بنائے گئے ہو اور تین اجزاء کا مرکب یعنی حیوانی وجود اور جان کے ساتھ ساتھ روحانی وجود بھی رکھتے ہو۔“
” بالکل اسی طرح جنات کے لئے منتخب کی گئی آزمائش اور ان کو میسر امداد اور یاد دہانی بھی تم انسانوں سے یکسر مختلف تھی۔“
اس کی باتیں شدید الجھا دینے والی تھیں مگر مجھے معلوم تھا کہ میری دائمی کامیابی اور ناکامی کا دار و مدار انھی باتوں پر ہے اسی لئے میں مکمل توجہ سے اس کے ایک ایک لفظ کو اپنے ذہن میں محفوظ کرنے کی مکمل کوشش کر رہا تھا۔
”ہم فرشتوں کو تو اللہ پاک نے صرف اپنے احکامات کی بجا آوری کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ اور ہم اس کی تسبیح و پاکیزگی بیان کرنے والے ہیں۔ اسی لیے اس نے ہمیں عقل و شعور اور اظہار کی آزادی تو دی لیکن ارادہ و اختیار نہیں کہ ہماری آزمائش مقصود نہ تھی۔“
”لیکن جنات کو اس نے زمین میں تصرف، بے پناہ قوت، ارادہ و اختیار دیا اور کائنات ان پر اس طرح آشکار فرمائی کہ ان کو آسمانوں تک رسائی دے دی تاکہ وہ اپنے رب کی ربوبیت، عظمت اور جاہ و جلال کا بھرپور مشاہدہ اپنے سر کی آنکھوں سے انتہا درجے پر پہنچ کر کریں۔ یعنی انھیں عین الیقین کی منزل پر پہنچا دیا تھا۔ انہیں ہمارے ذریعے ہر لمحہ بلا واسطہ رہنمائی بھی میسر تھی اور ہم سے میل جول اور بات چیت کی اجازت بھی۔“
”ہم نے مدتوں ان کو اللہ پاک کی زمین پر اس کی مرضی سے رہنے کی تلقین کی اور اس کی ناراضگی سے ڈرایا، لیکن ان کی اکثریت اپنی سرکش اور شرپسند فطرت پر قابو پانے کی بجائے اس کے ہاتھوں کھلونا بنتی چلی گئی۔“
اس کے لہجے کا دکھ شاہد تھا کہ جنات کی بربادی اور ناکامی نے فرشتوں کو بھی افسردہ کر دیا تھا۔ میں بھی اس انجام سے خوفزدہ ہو چکا تھا لیکن یہ داستان صرف جنات کے عبرتناک ماضی کی نہ تھی بلکہ مجھے اس میں نوع انسانی کا مستقبل بھی جھلکتا محسوس ہو رہا تھا۔ اسی لئے مجھے مکمل توجہ سے اس کی ساری باتیں ابھی سننی تھیں۔ میرے جذبات سے باخبر وہ فرشتہ بھی اپنے لہجے کے اتار چڑھاؤ کے ذریعے ہر بات کی اہمیت اور شدت بخوبی آشکار کر رہا تھا۔
”یہاں تک کہ ایک دن رب کائنات کی طرف سے جنات کو زمین میں معزول کر کے ان کا “ خلیفہ ”بھیجنے کا فیصلہ فرما دیا گیا۔ نتیجتاً ہم فرشتوں کے ذریعے ہی ان کو دھکیل کر پہاڑوں کے دامنوں، زیر زمین گھاٹیوں اور سمندروں کے جزیروں میں چھپنے پر مجبور کر دیا گیا۔ تب ان کے سردار“ عزازیل ”نے ہتھیار ڈال دیے اور اپنی پوری قوم کی طرف سے معافی کا خواستگار ہوا۔ جس پر ان کو امان دے دی گئی اور عزازیل شکر گزاری کے جذبے سے معمور رب کائنات کی انتھک عبادت میں مشغول ہو گیا۔“
”پھر کیا ہوا؟“
وہ لمحہ بھر کے لئے رکا ہی تھا کہ میں بول اٹھا کیونکہ داستان اپنے عروج پر تھی اور میں ایک لمحہ کا وقفہ بھی برداشت نہیں کر پا رہا تھا۔ میری بے صبری پر وہ حسب عادت لطیف سا مسکرایا۔
”پھر اللہ پاک کی صفت کریمی کا ظہور ہوا اور اس کے درجات بلند ہوتے چلے گئے۔“
”یہاں تک کہ اس کو ہم فرشتوں یعنی رب کائنات کے احکامات کی بجا آوری اور تسبیح و پاکیزگی بیان کرنے والوں میں شامل کر لیا گیا۔ اور پھر وہ دن آیا کہ اسے ہم پر بھی سردار مقرر کر دیا گیا۔“
”اللہ پاک کے اس بے پایاں کرم و بے نیازی سے شاید وہ اس خوش فہمی اور گھمنڈ کا شکار ہو گیا۔ کہ ایک دن وہ اپنے رب کو زمین میں جنات کی معزولی اور ان کا “ خلیفہ ”بھیجنے کے فیصلے کو واپس لینے کے لیے راضی کر لے گا۔“
”لیکن خالق کائنات کا فیصلہ اٹل تھا۔“
”اور جس دن رب العالمین نے اسے تم انسانوں کو اس کا خلیفہ تسلیم کرتے ہوئے تعظیم (سجدہ کرنے ) دینے کا حکم دیا تو وہ اپنا حوصلہ و صبر کھو بیٹھا۔ اور نتیجتاً ناعاقبت اندیشی کرتے ہوئے اپنے ہی خالق کو انکار کرنے کی جراءت کا مرتکب ہوا۔ اور اللہ سے ایک دعوے کے ساتھ ساتھ درخواست بھی کی کہ اے اللہ پاک تیری مرضی ہے۔ دیکھ لے اسے تو نے مجھ پر بزرگی تو دے دی ہے۔ لیکن اگر مجھے بھی قیامت تک تو نے ڈھیل دی تو میں اس کی اولاد کو بجز بہت تھوڑے لوگوں کے۔ اپنے بس میں کرلوں گا۔“
جس پر مالک کائنات نے اپنی شان بے نیازی سے اسے قیامت تک ڈھیل دیتے ہوئے فرمایا:
”یقین رکھ کہ جو میرے بندے ہیں، ان پر تیرا کوئی بس نہیں چلے گا، اور تیرا پروردگار ( ان کی ) رکھوالی کے لیے کافی ہے۔“
اور فرمایا کہ :
”جا۔ اب ان میں سے جو بھی تیرا تابعدار ہو جائے گا، تو تم سب کی سزا جہنم ہے، جو پورا پورا بدلہ ہے۔“
یہاں تک بات کر کے اس نے انتہائی سنجیدگی سے میری طرف دیکھا گویا پوچھ رہا کہ کچھ سمجھ آ رہا ہے؟ جس پر میرا سر بے ساختہ میں اثباتی انداز میں ہلا تو اس نے سلسلہ کلام وہیں سے جوڑا۔
”اور آخر کار آج کا وہ عظیم الشان دن آن پہنچا ہے۔ کہ جس دن اللہ پاک نے بذات خود انسان“ جنات کے خلیفہ ”سے وفاداری کا عہد لیا ہے۔ اور اللہ پاک کی رحمت سے ہمیشہ کے لیے مایوس ہو چکے جنات کے سردار عزازیل“ ابلیس ”اور اس کی قوم، سب نے اپنے خلیفہ“ انسان ”کو بھی ناصرف اپنی طرح ناکام کرنے۔ بلکہ خود سے بھی بدتر ثابت کر کے اپنی ناکامی کا جواز پیدا کرنے اور اپنے زعم میں اللہ پاک پر نعوذباللہ یہ ثابت کرنے کے لیے کمر کس لی ہے کہ۔ جن و انس یا جس کسی بھی اور مخلوق کو ارادہ، اختیار و تصرف دیا جائے گا۔ وہ کبھی کامیاب ہو ہی نہیں سکتا۔“
”جبکہ اللہ پاک جو اس قدر رحیم و کریم ہیں۔ کہ جب اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کو پیدا فرما چکے تو اپنی کتاب ( لوح محفوظ ) میں، جو اس کے پاس عرش پر موجود ہے۔ اس نے لکھ دیا کہ میری رحمت میرے غصہ پر غالب ہے۔ سو اللہ پاک نے آج کے بعد قیامت تک پیدا ہونے والی“ جنات ”کی نسل کو بھی“ انسان ”کے ساتھ مہلت دے دی ہے۔“
”یعنی عزازیل اب سے ہمارا کھلا دشمن ہے اور ہمیں اس سے بچ کر زندگی گزارنی ہوگی ورنہ ہمیشہ کی ناکامی ہمارا مقدر بنے گی؟“
میں نے اب تک کی تمام باتوں کا نچوڑ نکالنے کی کوشش کی تو اس کی تائید نے میرا حوصلہ بڑھایا جس پر میں نے اپنے اعادے کا اظہار کیا۔
”اور اب عزازیل اور اس کی قوم کے اسی زعم کو مٹی میں ملانا آج کے بعد زمین پر اتارے جانے والے جن و انس کی اصل آزمائش ہے کہ وہ ان کی طرح“ عین الیقین ”کی انتہا کو پہنچے بغیر بھی کامیاب ہو کر دکھا دیں۔ جبکہ انسانوں اور جنات میں سے جنات مظاہر قدرت کے شاہد ہونے میں اب بھی انسانوں سے کہیں بڑھ کر ہیں۔“
میرے پر عزم انداز پر اس نے مجھے خوش ہو کر دیکھتے ہوئے کہا۔
”بے شک جو اللہ پاک جانتے ہیں وہ کوئی نہیں جانتا“
جس پر بے اختیار میری زبان پر ”شکر الحمدللہ رب العالمین“ کے الفاظ جاری ہو گئے۔
” بس پھر اب ہمیں صرف ایک جیسی آزمائش سے گزر کر خود کو اللہ پاک کا تابعدار بندہ ثابت کرنا ہے؟“
میں نے قدرے تسلی بھرے انداز میں کہا کہ مکمل بات مجھے اب سمجھ میں آ گئی تھی۔
”میں نے کب کہا ہے کہ تم سب کو ایک جیسی آزمائش سے گزرنا ہو گا؟“ اس نے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا۔
”تم سب کی آزمائش ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہوگی۔ کسی کی دنیاوی لحاظ سے نہایت مشکل و سخت، کسی کی نہایت آسان اور کسی کی کچھ معتدل۔“
”کیا مطلب؟“ میں نے پھر سے پریشان ہو کر پوچھا۔
”اس طرح تو آسان اور معتدل آزمائش سے گزرنے والے کامیاب ہو جائیں گے اور مشکل آزمائش والے ناکام۔ بھلا اس میں کسی کا کیا کمال اور کیا قصور ہو گا؟“
وہ تشفی آمیز لہجے میں بولا۔
”گھبراؤ مت۔ اول تو میں نے دنیاوی لحاظ سے آزمائش کو مشکل، آسان اور معتدل کہا ہے۔“
” جبکہ دراصل یہ تمام آزمائشیں ہی مشکل ہوں گی کیونکہ ان سب میں ہی کامیابی و ناکامی کے ایک سے مواقع و امکانات ہوں گے۔ دوسرا یہ کہ اللہ پاک کے عدل کا تقاضا بھی یہ ہی ہے کہ تم سب کو کامیابی کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔ لہٰذا تمہاری آزمائش کیسی ہو گی۔ یعنی مشکل، آسان یا معتدل، یہ بھی تمہیں خود ہی چننا ہے تاکہ اللہ پاک کی حجت تم پر تمام ہو جائے اور ناکامی کی صورت میں تم قیامت کے روز یہ بھی نہ کہہ سکو کہ اگر تمہیں اس کی بجائے دوسری آزمائش سے گزارا جاتا تو تم یقیناً کامیاب ہو جاتے۔ اور تیسرا یہ کہ ہر تین صورتوں میں کامیابی کا بدلہ وعدے مطابق اللہ پاک کے کرم کے صدقے تمہاری خواہش و گمان سے کہیں بڑھ کر جبکہ ناکامی کی صورت میں وعید کے مطابق پورا پورا دیا جائے گا۔“
”چلو یہ تو سمجھ آ گیا کہ مشکل، آسان اور معتدل آزمائشوں میں سے چناؤ ہمیں خود کرنا ہے۔ لیکن یہ سمجھ نہیں آیا کہ اگر یہ تینوں ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہوں گی تو ان میں کامیابی و ناکامی کے یکساں مواقع و امکانات کیسے ہو سکتے ہیں۔ ؟“ میری الجھن ابھی بھی برقرار تھی۔
وہ پھر سے اپنی دل بڑھانے والی مسکراہٹ کے ساتھ گویا ہوا:
”ابھی جب تم اپنی آزمائش کے لیے طریقہ کار کا انتخاب اور اس کی تفصیلات طے کرو گے تو یہ بات تمہیں خود بخود سمجھ آ جائے گی۔ لہذا بہتر ہے کہ اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آئیں اور دیکھیں کہ آج کے اس سب سے اہم دن تم انسان اللہ پاک کی طرف سے ودیعت کردہ ایک سی فہم و فراست اور ہمت و حوصلے کا استعمال کس طرح کرتے ہو؟“
”آج کے دن تم میں سب سے بڑھ کر ہمت و حوصلہ کرنے والے اولالعزم لوگ ناصرف جنت بلکہ اس کے بھی اعلیٰ ترین مقام کے حصول کی خاطر مشکل ترین آزمائش کا انتخاب کریں گے۔ حالانکہ اس میں ناکامی کی صورت میں ملنے والی سزا بھی اسی قدر شدید ترین ہو گی۔“
”اور اسی طرح ان سے کم ہمت و حوصلہ رکھنے والے اپنے اپنے حساب سے کسی قدر کم مشکل آزمائش کا انتخاب کریں گے کہ کامیابی کی صورت میں اجر بھلے ہی کم ہو مگر خدا نخواستہ ان کی ناکامی کی صورت میں سزا کی شدت بھی اتنی ہی کم ہو گی اور معافی کے امکانات زیادہ۔“
”جبکہ ہمت و حوصلہ نہ کر پانے والے لوگ کوشش کریں گے کہ کسی طرح آزمائش دینی ہی نہ پڑے۔ کہ بھلے اجر ملے نہ ملے، بس کسی طرح جہنم کی سزا سے بچ جائیں۔“
اس کی اس بات نے پھر سے میرے لئے سوال کے در کھول دیے تھے۔
” اگر کسی بھی طرح کی آزمائش دیے بغیر بھی جہنم سے بچ کر جنت پہنچنا ممکن ہے تو آسان یا مشکل آزمائش کے انتخاب کی بھلا کیا ضرورت؟ کیونکہ جنت میں صرف پہنچ جانا بھی تو کامیابی ہی ہے نا؟
میرے سوال پر اس نے تائیدی انداز میں سر ہلاتے ہوئے جواب دیا۔
” پہلی بات یہ کہ ٹھیک ہے جنت میں پہنچ جانا ہی کامیابی ہے۔ لیکن“ بادشاہ ”کی حیثیت سے، ناکہ حور یا غلمان (جنت کے خدام) کے طور پر ۔“
”آزمائش نہ دینے کی صورت میں جنت کے خادموں میں تو شامل ہوا جا سکتا ہے۔ لیکن بادشاہ نہیں بنا جا سکتا۔“
”اور دوسری بات یہ کہ اللہ پاک نے خوب سے خوب تر کی خواہش اور خطرہ مول لینے کی عادت تم انسانوں کی فطرت میں رکھی ہے۔ تو تم میں سے جو جتنی زیادہ ہمت و حوصلہ کر پائے گا اور اولالعزم ہو گا وہ اتنی ہی بڑی اور مشکل آزمائش دینے کو تیار ہو جائے گا کہ اسی آزمائش کے حساب سے جنت میں اس کا مقام و مرتبہ طے ہو گا۔“
”یاد رکھو! انسان جس سطح کی آزمائش میں کامیابی حاصل کرے گا۔ اللہ پاک اس کو اسی سطح پر اپنی قربت سے نوازیں گے۔ اور یہی بات تم میں سے بے شمار کے لیے مشکل ترین آزمائش کے چناؤ کی وجہ بنے گی۔“
”تم انسانوں میں ہی وہ عظیم ترین، بلند حوصلہ اور اولالعزم ہستی بھی موجود ہیں جو اللہ پاک کی قربت کی انتہا کے مقام الوسیلہ (مقام محمود) کو پانے کی خاطر پوری نوع انسانی میں سب سے بڑھ کر آزمائش و ذمہ داری اٹھانے کی حامی بھر چکے ہیں۔ اور اللہ پاک اپنے لا محدود علم سے یہ جانتے ہوئے کہ وہ اس آزمائش و ذمہ داری کو اٹھانے میں انتہائی شاندار طریقے سے انشااللہ کامیاب بھی ہو جائیں گے۔ ان سے اس مقام محمود کا وعدہ بھی فرما چکے ہیں۔“
”اور انہیں تم انسانوں میں بھیجے جانے والے انبیاء کرام میں“ امام الانبیاء ”کے طور پر بھیجا جائے گا۔“
”اسی طرح تم میں سے اور بے شمار اولالعزم انسان بھی اللہ پاک کی قربت کے حصول کی خاطر مشکل آزمائش اور بھاری ذمہ داری اٹھانے کی حامی بھر چکے ہیں۔ جن کا اللہ پاک اپنے علم سے کامیاب جانتے ہوئے تم میں بھیجے جانے والے انبیاء کرام کے طور پر انتخاب فرما چکے ہیں۔“
”جبکہ انہی میں سے وہ لوگ جن کے بارے میں اللہ پاک اپنے لا محدود علم سے جانتے ہیں کہ وہ بطور“ نبی ”اس بھاری ذمہ داری کو اٹھانے کی آزمائش میں ناکام ہو جائیں گے۔ انہیں صرف اللہ پاک کی قربت کے حصول کی خاطر اس قدر بڑا خطرہ مول لے کر اتنی بڑی آزمائش میں کودنے کی حامی بھرنے پر خوش ہو کر اس کے عوض انبیاء کرام کے زمانے میں ان کے ارد گرد بسنے والے لوگوں کی آزمائش میں ڈالنے کا موقع دیا ہے۔ جسے انہوں نے بخوشی قبول بھی کر لیا ہے۔“
” اللہ پاک اپنے قانون مطابق انبیاء کرام جیسی بھاری ذمہ داری اٹھانے کا موقع کسی ایسے انسان کو نہیں دیں گے جس کو وہ اپنے علم سے ناکام جانتے ہیں۔ کیونکہ انبیاء کرام زمین پر اللہ پاک کے نمائندے کی حیثیت سے بھیجے جائیں گے۔ اس لیے وہ معصوم و محفوظ ہوں گے اور ان سے گناہ سرزد ہونا یا آزمائش میں ناکام ہونا ناممکن ہو گا۔“
”اور دوسری طرف اللہ پاک تم میں سے ہمت و حوصلہ نہ کر پانے اور آزمائش سے دستبردار ہونے والوں کے لیے بھی فیصلہ فرما چکے ہیں کہ انہیں اس کے قانون مطابق زمین پر بھیجا تو جائے گا۔ مگر ذہنی بلوغت (عقل و شعور) نہیں دی جائے گی یا اس عمر سے پہلے ہی واپس اٹھا لیا جائے گا اور وہ جہنم سے بچ کر جنت میں تو پہنچ جائیں گے۔ لیکن پھر وہ حور و غلمان کے طور پر ہمیشہ جنت کے بادشاہوں کے خادموں کی حیثیت سے رہیں گے۔“
اب اس نے میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے حتمی انداز میں مجھے مخاطب کیا۔
”اور اگر اب تم ان تمام معاملات کو اچھی طرح سمجھ چکے ہو تو یہ وقت ہے کہ تم بھی اپنی آزمائش کی قسم، طریقہ کار اور اس کی تفصیلات طے کر لو۔“
”تم تو اس ازمائش سے گزرنا چاہتے ہو نا؟ کہیں دستبردار ہونے کا فیصلہ تو نہیں کر لیا؟“
اس نے استفہامیہ نظروں سے میری طرف دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
”نہیں بالکل نہیں، مجھے اس آزمائش سے ہرگز دستبردار نہیں ہونا۔“
”یہ ٹھیک ہے کہ میں ان اولالعزم لوگوں کی طرح ہمت و حوصلہ نہیں کر پا رہا جنہوں نے مشکل ترین آزمائش او ر بھاری ذمہ داری اٹھانے کی حامی بھری ہے اور اللہ پاک کے منتخب شدہ لوگوں میں شامل ہو گئے ہیں۔ لیکن میں ان لوگوں میں بھی شامل نہیں ہونا چاہتا جو ہمت و حوصلے کا مظاہرہ بالکل ہی نہ کر پائیں اور جنت کی بادشاہت اور اللہ پاک کی قربت حاصل کرنے کا شاندار موقع گنوا بیٹھیں۔“
”مجھے ان لوگوں میں شامل ہو کر جن پر اللہ پاک انعام فرمائیں گے، انشاءاللہ اس کا قرب حاصل کرنا ہے۔“
میں نے خود کلامی کے انداز میں عزم کا اظہار کیا اور اس کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کن انداز میں جواب دیا۔
”میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ جب اللہ پاک نے ہم سب انسانوں کو یکساں طور پر فہم و فراست، ہمت و حوصلہ اور خطرہ مول لینے کی فطرت عطا فرمائی ہے۔ تو میں ان تینوں صلاحیتوں کا ہی پورا پورا استعمال کروں گا اور انشاءاللہ ایسی آزمائش چنوں گا جس سے کامیابی سے گزر کر اللہ پاک کی قربت ان منتخب لوگوں کی سطح پر نہ سہی، لیکن ان کے پاس ہی کہیں حاصل کر سکوں۔“
”اس لیے اب تم مجھے بتاؤ کہ میں اپنی آزمائش کیسے چن سکتا ہوں۔ ؟“ میرے پر عزم انداز پر اس کے چہرے پر خوشی کے ساتھ ساتھ ایک طرح کی حسرت کے آثار بھی پیدا ہو گئے۔
”ٹھیک ہے پھر اب شروع کرتے ہیں۔“
بسم اللہ پڑھتے ہوئے اس نے اپنی عبا کے اندر ہاتھ ڈال کر ایک قلم اور کاغذ باہر نکالا۔
”پھر سب سے پہلے یہ بتاؤ کہ تم کس قسم کی آزمائش چاہتے ہو؟“
میرے سوالیہ انداز میں دیکھنے پر اس نے اپنی بات کی وضاحت کی۔
”تم چاہو تو علم، جہالت، عزت، ذلت، اختیار، بے اختیاری، طاقت، کمزوری، دولت، غربت، شہرت، گمنامی، حکومت، غلامی، عورت، مرد، اپنے، پرائے، سیری، بھوک، خوشی، غم، امن، جنگ، آسودگی، حسرت، دسترس، محرومی، اسیری یا رہائی میں سے کسی ایک یا کچھ کو بنیادی آزمائش کے طور پر چن سکتے ہو۔“
”جبکہ باقی میں سے کسی ایک یا کچھ کو اللہ پاک تمہارے چناؤ مطابق ثانوی آزمائش کے طور پر ساتھ شامل کر کے اس کو مکمل فرما دیں گے۔“
وہ انتہائی تفصیل کے ساتھ میرے لئے چناؤ کے امکانات واضح کر رہا تھا۔
”اور یہی وہ ثانوی آزمائشیں ہیں کہ جن کو اللہ پاک دنیا میں انسان کے برے و اچھے اعمال اور دعاؤں کے سبب انشاللہ سخت یا نرم فرماتے رہیں گے۔“
اس کے اس سوال کے ساتھ ہی میرے دل کے دریچے روشن ہوتے چلے گئے اور مجھے دنیا میں ان آزمائشوں کا مکمل ادراک حاصل ہو گیا۔ میں نے اوپر کی سمت امداد طلب نظروں سے دیکھا اور پھر اللہ پاک کا نام لے کر علم، عزت اور غربت کو بنیادی آزمائش کے طور پر چن لیا۔
اس نے تحسین آمیز نظروں سے میری طرف دیکھا۔
”تمہارے چناؤ سے لگتا ہے تم صدیقین، شہداء یا صالحین میں شامل ہونے کے خواہشمند ہو۔ اچھی بات ہے۔“
کاغذ پر کچھ لکھتے ہوئے اس نے بات جاری رکھی۔
”اب ان آزمائشوں کا طریقہ کار اور تفصیلات طے کر لیتے ہیں۔ اب یہ بتاؤ کہ زمین پر کس طرح جانا چاہتے ہو؟“
”کیا مطلب؟“
”مطلب یہ کہ اللہ پاک کے حامیوں میں شامل ہو کر دنیا میں آنکھیں کھولنا چاہو گے، اس کے مخالفوں میں یا اس سے انجان کے طور پر ؟“
”کوئی اللہ پاک کے مخالفوں میں شامل ہو کر یا اس سے انجان کے طور پر کیوں جانا چاہے گا؟“
میں نے حیرت سے پوچھا۔
”کیوں نہیں۔“ اس کے پاس ہر سوال کا بھرپور جواب موجود تھا۔
”اللہ پاک کے حامیوں میں شامل ہو کر جانے والی آزمائش بہت بڑی ہے۔ اس آزمائش میں اللہ پاک کی پہچان کے ساتھ کسی نبی کی امت میں ہی زمین پر بھیجا جائے گا اور اس پر اللہ پاک کی حجت تمام ہو گی جس کی وجہ سے شعور کی عمر کو پہنچتے ہی ہر لمحہ قابل گرفت ہو جائے گا۔ جہاں کامیابی کے لیے پوری زندگی لگائی جا سکے گی وہیں ناکامی کے امکانات بھی اسی قدر زیادہ ہوں گے۔“
اس کا ایک ایک لفظ میرے لئے خوب معانی لئے ہوئے تھا کہ اب میں خود اس داستان کا حصہ بننے جا رہا تھا۔
”جبکہ مخالفوں میں شامل ہو کر یا اس سے انجان کے طور پر جانے والے پر زمین میں اللہ کی حجت تمام نہیں ہو گی۔ جس سے اسے وقت مل جائے گا۔“
”شعور کی عمر کو پہنچتے کے بعد اسے صرف اس فطرت سلیم پر قائم رہنے کی کوشش کرنی ہو گی جس سے اللہ پاک نے ہر انسان کو نوازا ہے۔ اور اسی طرح سچ جاننے کی خواہش کو بھی زندہ رکھنا ہو گا جو اللہ پاک نے سب انسانوں کے دلوں میں ڈالی ہے۔“
”اگر وہ اس میں کامیاب ہو گیا تو انشاءاللہ ایک دن حق کو ضرور پا لے گا اور جس دن اس نے حق کو پا لیا اللہ پاک اس کے سابقہ تمام گناہ معاف فرما دے گا اور پہلے والوں کی نسبت اس کو کم وقت قابل مواخذہ گزارنا ہو گا۔ جس سے کامیابی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔“
” ٹھیک ہے، میں اللہ پاک کی پہچان کے ساتھ اس کے حامیوں میں شامل ہو کر جانا چاہتا ہوں۔ کیونکہ مجھے کامیابی کے ساتھ ساتھ اپنی ناکامی کے خطرات اور سزاؤں کو بھی کم سے کم کرنا ہے۔“
میں نے پوری بات سننے کے بعد ایک عزم کے ساتھ اس کو جواب دیا۔
اس نے مسکراتے ہوئے کاغذ پر کچھ اندراج کیا اور پھر بولا۔
”اب یہ بتاؤ کہ تم کس صنفی حیثیت سے زمین پر جانا چاہو گے۔ ؟ مرد، عورت یا ان کی بگڑی ہوئی ملی جلی کیفیت میں؟“
”کیونکہ زمین پر ان تینوں کی سوچ، جذبات، احساسات، ذمہ داریاں، حقوق و فرائض ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہوں گے۔“
پھر سے پہلے کی طرح میرے دل کے دریچے روشن ہوئے اور مجھے ان تینوں اصناف کے مابین فرق کا مکمل ادراک حاصل ہو گیا۔ اور میں نے پھر سے اسی عزم کے ساتھ مرد کو اپنے لیے صنف کے طور پر چن لیا۔
اس بار بھی اس نے کاغذ پر کچھ درج کیا اور پھر سے گویا ہوا۔
”اب بتاؤ کہ تم کتنی عمر کے ساتھ زمین پر جانا چاہتے ہو؟“
”ہزار دنیاوی سال کے لگ بھگ؟ جو کہ اپنے زمانے کے اعتبار سے زمین پر انسانوں کی زیادہ سے زیادہ اوسط عمر ہو گی یا پھر ساٹھ سال کے قریب جو کہ کم از کم اوسط عمر ہو گی۔ یا پھر اس کے درمیان جتنی عمر تم چاہو کیونکہ یہ تمہیں چننا ہے کہ تم کتنا عرصہ گناہوں سے بچ کر اللہ پاک کی مرضی مطابق زندگی گزار پاؤ گے۔ تمہارے اسی عمر کے چناؤ مطابق تمہیں زمین پر بھیجے جانے کا زمانہ طے کیا جائے گا۔“
میں نے ساٹھ سال کے قریب اوسط عمر کا زمانہ اپنے لیے منتخب اور ساٹھ سال عمر ہی اپنے لیے طے کی جس کا اس نے پہلے کی طرح ہاتھ میں پکڑے کاغذ میں اندراج کر لیا۔
اسی طرح یہ سوال و جواب کا سلسلہ چلتا رہا اور طریقہ کار و تفصیلات طے کرتے ہمیں پتہ نہیں کتنا وقت گزر گیا کہ آخر کار یہ سوال و جواب کا سلسلہ تھما اور وہ اس سب کو کاغذ پر اتارنے کے بعد ایک لمبا سانس لے کر مخاطب ہوا۔
” الحمدللہ تم اپنے لیے ایک بہترین آزمائش کا انتخاب کر چکے ہو۔ اب یہ جیسی بھی ہے۔ صرف اور صرف تم نے خود اپنے لیے چنی ہے۔ اب تم اس میں کامیاب ہوتے ہو یا ناکام۔ لیکن روز قیامت اللہ پاک کو ہر گز یہ نہ کہہ پاؤ گے کہ تم اس بات سے بے خبر تھے۔“
”بے شک اللہ پاک تمہارے اس انتخاب سے با خبر ہے۔ لیکن پھر بھی مجھے اس سے اس کی منظوری لینی ہے کہ جس کے بعد تم اپنے چناؤ کے مطابق زمین پر بھیجے جانے کے لیے اپنے زمانے کا انتظار کرو گے اور اس کے بعد تمہاری یہ آزمائش شروع ہو جائے گی۔“
وہ مجھ سے اجازت لے کر اللہ پاک سے منظوری حاصل کرنے کے لیے جیسے ہی روانہ ہوا میرے دل پر ایک بار پھر سے وہی پہلے والی گھبراہٹ طاری ہو گئی۔ اور میں اضطراری طور پر اسے روکنے کے لیے آواز دینے ہی لگا تھا کہ ایک جھٹکے سے میری آنکھ کھل گئی۔
میرا دل بڑی زور سے دھڑک رہا تھا اور ٹھنڈے موسم کے باوجود پورا وجود پسینے پسینے ہو رہا تھا۔
باہر عصر کی اذانیں شروع ہو چکی تھیں۔
اور میں اپنے بستر پر سن ہوا بیٹھا سوچ رہا تھا کہ یہ سب کیا تھا؟
ایک حقیقت، ایک یاد یا پھر ایک خواب۔


