رمضان، کسی کے لیے نعمت، کسی کے لیے زحمت


(آپ نے بہت اچھا لکھا۔ بغیر کسی تبدیلی کے دوستوں کے سامنے حاضر ہے۔ درخواست ہے کہ کبھی چین میں رہنے والے پانچ کروڑ مسلمانوں کے بارے میں بھی سوچیں۔ کوئی دس لاکھ زیادہ ان میں سے قید ہیں صرف مسلمان ہونے کے جرم میں۔)

ماہ رمضان کا با برکت مہینہ شروع ہو چکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس مہینے کی رونقیں بھی ارد گرد نظر آنے لگی ہیں۔ تاہم، یہ رمضان گزرے ہوئے خوبصورت رمضانوں کی طرح نہیں ہے۔ اس رمضان ہمارے ساتھ ہمارے اپنے موجود نہیں ہیں جو پچھلے رمضانوں میں ہمارے ساتھ تھے۔ ان میں سے کچھ ایسی جگہوں پر جا چکے ہیں جہاں سے وہ کبھی واپس نہیں آسکتے، اور کچھ ایسی جگہوں پر جہاں سے واپسی تو ممکن ہے لیکن کب یہ وہی جانیں جو انہیں ان جگہوں پر لے گئے ہیں۔

کچھ اپنے خاندان کو اچھی زندگی دینے کے لیے دور دراز پردیس میں موجود ہیں۔ تو کچھ گھر والوں سے کچھ ہی کلو میٹر دور کسی جیل میں اپنی سزا پوری ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو پچھلے رمضان تک ہمارے ساتھ بیٹھ کر سحری اور افطاری کرتے تھے۔ ان کی رونق اس مہینے کی رونق کو دوبالا کر دیتی تھی۔ کہا جاتا ہے نہ کہ خالہ ماں کی جگہ ہوتی ہے۔ یہ میرے لیے بالکل درست ثابت ہوا۔ میرا بچپن میرے گھر سے زیادہ ان کے گھر میں گزرا۔

میری ان کے بچوں کے ساتھ بے حد دوستی ہے۔ ان کا ایک بیٹا منان میرا ہم عمر تھا۔ وہ مجھے اپنی بہنوں کی طرح پیار کرتا تھا اور تنگ کرتا تھا۔ روزوں میں بھی فرمائش کرتا تھا کہ آج پکوڑے بناؤ، ساتھ دودھ سوڈا بھی لازمی اور فروٹ چاٹ تو تم بنا ہی رہی ہو۔ 2022 کے روزے تھے اور منان پندرہویں روزے ساری عید کی خریداری کر آیا اور درزی کو 3 شلوار قمیضوں کا ناپ دے آیا تھا۔ افطاری کے بعد اپنی امی سے باتیں کرتے ہوئے ہمارے مرحوم نانا جان کو یاد کرنے لگا۔

بولا ماما دیکھو نانا ابو فوت ہو گئے پتہ بھی نہیں چلا۔ میں نے کہا منان بس کیا کریں زندگی ہے سب نے ہی جانا ہے۔ کہتا اچھا میں تو اتنی جلدی نہیں جاتا، بہت گنہگار ہوں، لمبی عمر ہے میری۔ میں نے کہا اچھا اللہ کے کام اللہ جانے۔ رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوا، خالہ ہر سال کی طرح اس سال بھی اعتکاف میں بیٹھ گئیں۔ میں نے اور امی نے ان کی افطاری بنائی۔ انہیں افطاری کروا کر ہم اپنے گھر چلے گئے۔ ابو کو روٹی بنا کر دی۔

ابھی ابو روٹی کھانے ہی لگے تھے کہ فون آیا کہ منان فوت ہو گیا! کچھ دیر تو سمجھ ہی نہیں آیا کہ کیا ہوا ہے۔ جب سمجھ آیا تو دل چلانے لگا کہ ایسا کیسے ہو گیا۔ ہم نے اکٹھے عید منانی تھی۔ وہ کیسے فوت ہو گیا۔ ہم اس کی شادی کی تیاری کر رہے تھے، جنازے کی نہیں۔ ہم نے تو منان کو دلہا بنا دیکھنا تھا، ہم تو اس کی شادی کی باتیں کرتے ہوتے تھے کہ عید کے بعد رشتے دیکھنا شروع کریں گے۔ خالہ تو کہتی تھیں کہ میرا بیٹا سب سے پیارا دولہا بنے گا، ان کو کیا خبر تھی کہ ان کا جوان بیٹا ان پر غموں کے پہاڑ توڑ کر چلا جائے گا۔

میں کافی وقت تک اس کے جنازے کے پاس بیٹھی اس کو گھورتی رہی اور یقین کرنے کی کوشش میں لگی رہی کہ یہ واقعی وہی منان ہے، وہ جو بچپن سے ہمارے ساتھ رمضان کے روزے رکھتا تھا، وہ اسی مہینے میں ہم سے دور ہو گیا۔ اسے کیا خبر تھی کہ اپنے عید کے جوڑے جو اس نے انتہائی شوق سے خریدے وہ اسے پہننا نصیب نہیں ہوں گے۔ خالہ تو تدفین تک اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتی رہیں اور کہتی رہیں ہائے میرا شہزادہ میرا راجا بیٹا۔ میں سوچتی ہوں کہ اگر میرے غم کی یہ حد ہے تو اس ماں کی کیا کیفیت ہوگی جس نے اس کو پیدا کیا تھا۔

ان پر یہ رمضان کتنا بھاری گزر رہا ہو گا۔ پھر مجھے وہ بلوچ مائیں یاد آتی ہیں جو سالوں سے اپنے بیٹوں کی راہ تک رہی ہیں۔ وہ بہنیں بیٹیاں یاد آتی ہیں جو اپنے بھائیوں اور باپوں کی بازیابی کے لیے کب سے ملک میں مارچ کر رہی ہیں۔ ان ماؤں کا سوچتی ہوں جو خود اپنے بچے کو کسی کی دہلیز پر چھوڑ جاتی ہیں کہ وہ اسے پال نہیں سکتیں۔ پھر میں ان فلسطینی ماؤں کا سوچتی ہوں جو اپنے بچوں کو جنگ میں کھو چکی ہیں، جن کے اپنوں کو اسرائیلیوں نے جیلوں میں قید کر رکھا ہے۔

جو اپنی آنکھوں سے اپنے بچوں کے چیتھڑے اڑتے دیکھتی ہیں۔ جن کے بچے روز صبح اٹھتے ہیں اور کھانے کو مانگتے ہیں تو کھانے کو کچھ نہیں ہوتا۔ وہ بھی تو پچھلے سال تک رمضان ساتھ ہنسی خوشی گزارتے تھے پر اب وہ روز جنازے، خون کی لہریں اور دھماکوں کی گونجیں سنتے ہیں۔ سلام ہے ان سب ماؤں کو اور ان کے گھر والوں کو جن کے پیارے ان سے دور جا چکے ہیں اور دعا ہے کہ اللہ ان کو چٹانوں جتنا وسیع صبر دے ( آمین ) ۔

Facebook Comments HS

2 thoughts on “رمضان، کسی کے لیے نعمت، کسی کے لیے زحمت

  • 19/03/2024 at 8:54 شام
    Permalink

    Best of luck 👍

  • 19/03/2024 at 10:33 شام
    Permalink

    Best

Comments are closed.