بلوچ قوم کی توانا آواز: ماہ رنگ بلوچ


بلوچستان میں لاپتہ افراد یا ماورائے عدالت قتل کا مسئلہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ مگر تربت میں ایک بلوچ نوجوان شہید بالاچ کو اٹھانے کے بعد جب اسے قتل کیا گیا تو اس واقعے سے ایک نئی تحریک نے جنم لی۔ ماہ رنگ بلوچ کی سرکردگی میں چند بلوچ متاثرہ خاندان لانگ مارچ کی صورت میں اسلام آباد گئے۔ وہاں ان کے ساتھ کیسا رویہ اختیار کیا گیا وہ ایک الگ بحث ہے۔ مختصراً یہ کہ جو لوگ وہاں گئے تھے اسلام آباد سے مایوس ہو کر واپس بلوچستان لوٹے۔

اس لانگ مارچ نے ایک بات واضح کردی کہ بلوچ اور وفاق کے درمیان رشتے کی نوعیت کیا ہے۔ بجائے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینے یا کسی حل کی طرف جانے کے بجائے وفاقی اداروں نے لانگ مارچ کے شرکاء کی احتجاجی کیمپ کے سامنے بلوچستان کے مسترد شدہ لوگوں کا ایک اور کیمپ لگا کر اپنے اداروں کو مزید رسوا کیا۔

جب لانگ مارچ واپس بلوچستان پہنچی تو جس انداز میں عوام نے شرکاء کا استقبال کیا، اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ بلوچ اب وفاق سے مایوس ہو چکے ہیں۔

اس لانگ مارچ میں ایک کمیٹڈ لیڈر جو عوامی سطح پر مقبول ہو گئی اور شاید اس وقت بلوچ قوم کی مقبول ترین لیڈر بن چکی ہیں وہ ہیں ماہ رنگ بلوچ۔ ماہ رنگ بلوچ نے کہاں سے سیاست کا آغاز کیا ہے اور کون کون سی ذہنی اذیتوں سے گزر کر اس مقام پر پہنچی ہیں اس پہ پہلے بھی بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ مگر اب ماہ رنگ بلوچ اس قوم کی توانا آواز بن گئی ہیں۔

یہ پوری تحریک بلوچ یکجہتی کمیٹی کے پلیٹ فارم سے چلائی گئی، مگر آپ یہ سوچ کر حیران ہوں گے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی ابھی تک کوئی باقاعدہ تنظیم نہیں ہے۔ نہ اس کا کوئی تنظیمی ڈھانچہ وجود رکھتا ہے، نہ مینی فیسٹو ہے اور نہ ہی ممبرشپ کا کوئی باقاعدہ طریقہ کار ہے مگر پھر بھی بلوچ قوم کی اکثریت خود کو اس تنظیم کا ممبر تصور کرتی ہے۔

ہمارے ہاں ایک مقبول بیانیہ ہے کہ بلوچ قوم کبھی متحد نہیں ہوتی۔ یہ بات کافی حد تک درست ہے۔ جو قوم صدیوں سے کسی جنگ زدہ علاقے میں آباد ہو اور ایک ایسی جغرافیائی باؤنڈری کا مالک ہو جس پہ پوری دنیا کی نظریں ہوں تو ایسی قوم کیسے متحد ہو سکتی ہے، لیکن ماہ رنگ بلوچ نے یہ کر دکھایا۔ آج ہر بلوچ گھرانے میں بچہ بچہ ان کے نام سے واقف ہے اور سب ان کا نام لینے کی بجائے احتراماً انہیں ”بانک“ (محترمہ) کہہ کر پکارتے ہیں۔ بلوچ قوم کی تاریخ میں ایسے شخصیات بہت کم گزرے ہیں جن کو بحیثیت لیڈر اتنی عزت و شہرت ملی ہو۔ ماہ رنگ اب عام بلوچوں کی نظر میں ایک مقدس ہستی کی حیثیت اختیار کر گئی ہیں۔

مگر بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔ اس مایوسی کے بعد مستقل میں کیسا لائحہ عمل طے کیا جانا ہے اصل سوال یہی ہے۔ کیا ماہ رنگ بلوچ اب بلوچ یکجہتی کمیٹی کو مزید آرگنائز کر کے صرف ماس موبلائزیشن کرے گی یا کسی عملی اقدام کی طرف جائے گی؟ یا انٹرنیشنل کمیونٹی کو بار بار یہ باور کرانے کی کوشش کرے گی کہ بلوچستان میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ انسانی حقوق کی پامالی ہے اور انسانی حقوق کے دعویدار اس کا نوٹس لیں۔ یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر ایک منظم عوامی تحریک کا آغاز کر کے ایک الگ ہی راستے کا انتخاب کریں۔

بہر حال جو بھی ہو ماہ رنگ بلوچ اس وقت عوامی سطح پر بلوچ قوم کی ہر دلعزیز لیڈر بن چکی ہے۔

Facebook Comments HS