پاکستان کی بے توقیری کا بیانیہ: عیب بھی کرنے کو ہنر چاہیے


عام تاثر یہ ہے کہ تحریک انصاف آئین کی تکریم اور قانون کی بالادستی پر یقین نہیں رکھتی۔ اقتدار اور انتشار کے لئے دنیا میں پاکستان کو بے توقیر کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔ پاکستان کی معیشت کی مکمل تباہی عمران خان کی شاید دیرینہ خواہش ہے جس کا اظہار گاہے بگاہے ہوتا رہتا ہے۔ گزشتہ دنوں واشنگٹن ڈی۔ سی میں تحریک انصاف کے کارکنوں نے آئی ایم ایف ہیڈکوارٹرز کے سامنے پاکستان اور پاکستانی فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کی جس کی ذمہ داری عمران خان نے قبول کی اور موقف اختیار کیا کہ یہ مظاہرہ ہر طرح سے درست تھا کیونکہ آئی ایم ایف سے قرض لینے کے لئے ملک میں سیاسی استحکام ضروری ہے جبکہ پاکستان کی معیشت ڈوب رہی ہے۔ اس احتجاج میں فوج مخالف نعروں کے متعلق جب عمران خان سے سوال ہوا تو انہوں نے اس عمل کی مذمت کرنے کی بجائے کہا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں۔ حالانکہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے دفاتر کے باہر تحریک انصاف کے اس احتجاج کی قیادت عمران خان کے قریبی ساتھی شہباز گل اور پارٹی کی مقامی قیادت کر رہی تھی۔

جب عمران خان اڈیالہ جیل میں اخبار نویسوں سے یہ کہہ رہے تھے انہیں فوج مخالف نعروں کا علم نہیں تو اسی دوران پاک فوج کے دو افسران اور پانچ جوانوں نے دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے شہادت پائی۔ فوج کے خلاف نفرت پیدا کرنا اور اس نفرت کو ہوا دینے کے نتائج عمران خان اور تحریک انصاف خوب سمجھتے ہیں۔ موجودہ چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور نہ ہی تحریک انصاف کے کسی دوسرے رہنما کی طرف سے کوئی مذمتی بیان سامنے آیا۔ اگر ایک طرف تحریک انصاف آئی ایم ایف پروگرام کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہے تو دوسری طرف اس کا فوج مخالف بیانیہ 9 مئی کے واقعات کے بعد بھی رک نہیں رہا۔ کبھی امریکا میں پاکستان کی فوجی امداد روکنے کی مہم چلائی جاتی ہے اور کبھی امریکا کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی دعوت دی جاتی ہے۔

9 مئی سے سبق سیکھنے اور فوج کے خلاف تحریک انصاف کے ووٹرز، سپورٹرز کے اندر بھرا گیا زہر نکالنے کی بجائے فوج مخالف پروپیگنڈا مسلسل جاری ہے۔ اس سے پاکستان کو کیا نقصان ہو سکتا ہے، اس کا احساس عمران خان کو ہونا چاہیے لیکن افسوس کہ اپنے سیاسی مفادات کے لیے وہ ساری حدیں پار کر رہے ہیں۔ عمران خان اور تحریک انصاف کو افواج پاکستان کی ان قربانیوں کا بھی احساس نہیں جو وہ اپنی جانیں دے کر اس ملک کو دہشت گردی اور بیرونی خطرات سے بچانے کے لیے دن رات کر رہی ہے۔

اگرچہ پاکستان کے اندر 9 مئی کے بارے میں کچھ احتیاط سے کام لیا جا رہا ہے لیکن بیرون ملک خصوصاً امریکا میں پی ٹی آئی فوج مخالف پروپیگنڈا سے نہیں رک رہی اور نہ ہی اسے روکنے کے لئے تحریک انصاف کی قیادت کوئی عملی قدم اٹھا رہی ہے۔ عمران خان چاہتے ہیں کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کا قرضہ اسی صورت میں ملنا چاہیے جب ان کی پارٹی کی حکومت کی راہ ہموار ہو۔ گزشتہ سال بھی تحریک انصاف نے اس وقت جب پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے پر پہنچ چکا تھا کوشش کی تھی کہ آئی ایم ایف پروگرام پاکستان کو نہ ملے۔

اپنی سیاست اور اقتدار کی خاطر سیاسی، قانون اور آئینی جدوجہد کی بجائے تحریک انصاف پاکستان کو ڈیفالٹ کی طرف صرف اس لیے دھکیلنا چاہتی ہے تاکہ پاکستان میں سری لنکا جیسی صورت حال پیدا ہو جائے۔ ایک طرف حکومت آئی ایم ایف سے 8 ارب ڈالر قرض کے حصول کے لیے ڈونر ایجنسی کی جانب سے عائد کی گئی شرائط پوری کرنے کی کوشاں ہے اور دوسری طرف عمران خان ملکی معیشت کے نیچے بارودی سرنگیں بچھانے میں مصروف ہیں تاکہ ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچائیں۔

عمران خان نے اپنے تین سال آٹھ ماہ کے دور حکومت میں پاکستان کی تاریخ میں آئی ایم ایف یا دوسری ڈونر ایجنسیوں سے 25 ہزار ارب قرضہ لیا گیا جو پاکستان کے کل قرضے کے 80 فیصد کے برابر بنتا ہے، جس کے بارے میں اس بات کا علم نہیں ہو سکا کہ وہ کہاں خرچ ہوا۔ نیا پاکستان بنا اور نہ ہی ریاست مدینہ۔ لطیفہ یہ کہ اس وقت وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا تھا کہ یہ قرضہ 80 فیصد نہیں، 75 فیصد کے برابر ہے۔ کہا جاتا تھا کہ ”کیا ہم کوئی غلام ہیں“ ؟

آج وہی عام انتخابات میں دھاندلی کا شور مچاتے ہوئے امریکہ سے مداخلت کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ نوے دنوں میں ملک کی تقدیر بدلنے کے دعوے کرنے والے ملک کی تقدیر تو خیر کیا بدلتے البتہ اسے ڈیفالٹ کے کنارے تک ضرور پہنچا دیا۔ اس وقت جب قوم نان جویں کی محتاج ہے کیا آئی ایم ایف کو خط لکھ کر قرضے کی اگلی قسط دینے سے منع کرنا ملک دشمنی نہیں؟ عمران خان کے حکم پراس وقت کے خیبرپختونخوا کے وزیرخزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے آئی ایم ایف کو خط لکھ کر قرض کی قسط دینے سے منع کیا اور اب ایک دفعہ پھر جیل سے بانی تحریک نے وہی عمل دہرایا، اس عمل ملک دوستی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے؟

ادھر آئی ایم ایف کا وفد پاکستان پہنچا اور ادھر 15 مارچ کو واشنگٹن ڈی سی میں پی ٹی آئی نے مظاہرے شروع کر دیے۔ کیا اسے وطن کی مٹی سے پیار کا نام دیا جاسکتا ہے؟ اس مظاہرے میں آئی ایم ایف کے قرضے کی اگلی قسط کو بانی تحریک انصاف کی رہائی سے مشروط کرنا کیا حب الوطنی ہے؟ کیا یورپی یونین کو خط لکھنا قوم سے ہمدردی کا ثبوت ہے؟

جھوٹی خبروں اور افواہوں کا بازار گرم کر کے اپنے بیانیے کو کامیاب بنانے کی مساعی کرنا ملک دشمنی نہیں؟ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا پر عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے اعلیٰ سطحی وفد کے پاکستان کے دورے کے دوران ایٹمی اثاثوں کے حوالے سے مبینہ ڈیل پونے کا جھوٹ پھیلایا گیا۔ دفترخارجہ کی ترجمان زہرہ بلوچ کے مطابق اس نوعیت کی خبریں قطعی طور پر حقائق کے منافی ہیں عالمی توانائی ایجنسی کا کوئی عہدیدار نہ تو اس وقت پاکستان کا دورہ کر رہا ہے اور نہ ہی مستقبل قریب میں اس کے ساتھ کسی پالیسی بات چیت کا منصوبہ ہے۔ اگر تحریک انصاف کی مختصر سی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو اس پر کئی آرٹیکل 6 لاگو ہوتے ہیں۔

عمران خان کی پالیسیوں کے نتیجے میں یہ تاثر بھی قبولیت کا باعث بن رہا ہے کہ یہ پارٹی ہر نازک مرحلے پر دہشتگردی اور دہشتگردوں کی کھلے عام اور سوشل میڈیا پر پاکستانی فوج کی مخالفت کی تحریک چلا کر پاکستان دشمن قوتوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ عسکری ادارہ دفاع وطن کے قابل نہیں رہا۔ لسبیلہ حادثہ میں جام شہادت نوش کرنے والوں اور اب میر علی میں دہشت گردی کے واقعہ میں اپنی دھرتی کی حفاظت کے لیے ہوئے والی شہادتوں کے متعلق عالمی سطح پر سوشل میڈیا پر شرمناک اور زہریلی مہم کس کی خوشنودی کے لئے چلائی گئی؟

اگر عمران خان نے سیاست سے اسٹیبلشمنٹ کے کردار کے خاتمے اور سویلین بالادستی کے لیے واقعی جدوجہد کرنی ہے تو پہلے جو کچھ خود کرتے رہے اس غلطی کا اعتراف کریں۔ اور قوم سے معافی مانگیں اور اپنے سیاسی اہداف کے حصول کے لیے اسٹیبلشمنٹ کی طرف دیکھنا بند کریں اور ایسا رستہ اختیار نہ کریں جس کا نقصان پاکستان کو ہو۔ انہیں اپنے طرز سیاست اور رویے پر نظر ثانی کی اشد ضرورت ہے اس سے پہلے کہ وقت ہاتھ سے نکل جائے۔

شرط سلیقہ ہے ہر اک امر میں
عیب بھی کرنے کو ہنر چاہیے

تحریک انصاف نے قومی اسمبلی میں پیش کی جانے والی فلسطینیوں پر اسرائیل کی جارحیت کے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد مسترد کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف قرارداد کے خلاف ووٹ دے کر یہ ثابت کیا کہ عمران خان اسرائیل اور بھارت سمیت پاکستان دشمنوں کے ایجنڈے پر کام کر کے پاکستان کی معیشت اور دفاع کو نقصان پہنچانے کے مشن پر ہیں اور وہ ہر روز کوئی ایسا اینٹی پاکستان بیانیہ پیش کرتے ہیں جس سے ان کے خلاف پاکستان دشمنی کے موقف کو تقویت ملتی ہے۔

پی ٹی آئی نے ملک کی پارلیمانی تاریخ میں ایک اور سیاہ باب کا اضافہ کیا جب ان کے نومنتخب نے اجلاس کے دوران ایوان میں سگریٹ نوشی کی اور اسپیکر کی جانب سے اعتراض کو وقعت نہ دی۔ اس واقعہ کا سنجیدگی سے جائزہ لینے اور پارلیمنٹ کا تقدس برقرار رکھنے کے لئے باقاعدہ قانون سازی کی ضرورت ہے ورنہ آئندہ سگریٹ کی جگہ جام بھی اچھالے جا سکتے ہیں

Facebook Comments HS