ٹیگور کی کہانیاں۔ تیسرا حصّہ

دریا کے کنارے عورتوں کا ایک بڑا گروہ بیٹھ کے کپڑے دھو رہا تھا۔ کپڑے دھوتے وقت ان کے سروں پہ دو پٹّے نہیں تھے اور جب وہ ہلتے تھے تو ان کے سینے کے اُبھار اور بھرے کولہوں کی تھر تھراہٹ میں ایک عجیب سی کشش تھی۔ ہم جیسے ہی کشتی سے اُترے تو اس خوبصورت منظر نے ہمارا استقبال کیا۔ ٹیگور جی آگے آگے جا رہے تھے اور میں ان کے پیچھے ننگے پاؤں چلتے چلتے کنارے پہ

Read more

ٹیگور کی کہانیاں۔ آخری حصّہ

ریلوے پلیٹ فارم پہ اتنی بھیڑ تھی کہ پیر دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ غریب ملکوں کا المیہ یہی ہے کہ بچّے اتنے پیدا ہوتے ہیں جن کے دسویں حصّے کو بھی سنبھالنا ریاست کے بس میں نہیں ہوتا۔ ایسے ملکوں میں ہر انسان اتنا مردم بیزار نظر آتا ہے کہ ڈھونڈنے سے بھی کوئی چمکتا دمکتا چہرہ نظر نہیں آتا۔ پبلک پلیسز پہ تو حالت یہ ہوتی ہے کہ کوئی معذور انسان بھیڑ میں گھس جائے تو پھر اس

Read more

ٹیگور کی کہانیاں۔ دوسرا حصّہ

کلکتے کے مضافات میں زرعی زمینیں تھیں اور ہر طرف ہریالی ہی ہریالی تھی۔ چاول کی فصل پک رہی تھی، موسمِ گرما اپنی آخری ہچکیاں لے رہی تھی اور بادِ جنوب نمی کی وجہ سے ایک عجیب سی اُداسی لئے ناتواں بوڑھے سانپ کی طرح سرسرا رہی تھی۔ درختوں کے گرے پتّے تالاب میں بے جان مچھلیوں کی طرح بے ڈھنگی سے تیر رہے تھے۔ کافی دیر پیدل چلنے کی وجہ سے مجھے اپنے پیر بوجھل معلوم ہوئے تو میں

Read more

اروندھتی رائے کی تصنیف: بے پناہ شادمانی کہ مملکت

نہ میں نے دہلی دیکھی ہے نہ کبھی کشمیر گیا ہوں۔ دہلی سے میرا پہلا تعارف خوشونت سنگھ کی ناول ”دہلی“ سے ہوا، جو ایک طوائف کی ایک شہر کی کہانی ہے۔ اشرافیہ نے جس طرح طوائف کے حسن و جوانی کے مزے لوٹے، اُسی طرح خوبصورت اور تاریخی شہر کو مسخ کر کے شاپنگ مالز اور بڑے بڑے بنگلوں کے ایک بکسے میں بدل دیا۔ جہاں اس شہر کے باسیوں کے اجداد کی قبریں تھیں اب وہاں بڑے مالز

Read more

ٹیگور کی کہانیاں۔ پہلا حصّہ

اگر ہم یہ کہیں کہ مغربی ادب کے مطالعے نے ادب کے متعلق ہمارے روایتی فکری رویّوں کو چیلنج کیا ہے تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا۔ مگر چونکہ ہماری ادب کی جڑیں مشرقی طرزِ فکر کی سرزمین میں پیوست ہیں تو ہمارا تخلیقی ادب اکثر اسی طرزِ فکر کی ترجمانی کرتا نظر آئے گا۔ مغرب اور مشرق کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ مغرب ”ڈارک ایج“ سے نکلنے کے بعد ایک واضح ڈائریکشن پہ اپنی سمت

Read more

پھولوں کے کاغذ پہ آگ کی لکھت

  ”میری تحریر، کیا نظم اور نثر، میں جانتی ہوں غیر قانونی بچّے کی طرح ہیں۔“ یہ الفاظ پنجابی کی مشہور ادیبہ امرتا پریتم کے ہیں جنہوں نے اپنی آپ بیتی لکھنے سے پہلے یہ تہیہ کر لیا تھا کہ وہ اپنی آپ بیتی صرف دس سطروں میں لکھے گی، جس کی پہلی سطر یہی ہو گی۔ سچ میں اگر آپ دیکھ لیں تو اعلیٰ پائے کا ادب جس میں صدیوں تک زندہ رہنے کی صلاحیت موجود ہو وہ سماجی

Read more

شکستِ ناتمام

دنیا میں کوئی بھی معاشرہ یا کوئی بھی کمیونٹی پرفیکٹ نہیں ہوتی۔ ہر معاشرے میں کچھ خامیاں اور چند خوبیاں لازمی پائی جاتی ہیں۔ مثلاً کسی قوم کے بارے میں کہا جائے کہ وہ بہادر ہیں یا بزدل ہیں تو یہ سراسر غلط بیانی ہوگی کیونکہ پوری قوم نہ تو بہادر ہو سکتی ہے، نہ بزدل۔ نہ پوری قوم وفادار ہو سکتی ہے اور نہ ہی چالباز۔ ہر قوم میں مختلف ذہنیت رکھنے والے گروہ پائے جاتے ہیں۔ یہ ایک

Read more

ایک عورت ہزار دیوانے

اس سماج میں عورت سے جو رویّہ اختیار کیا گیا ہے اس سے عورت کی سماجی حیثیت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ مختصراً یہ کہ عورت کو بس ایک سیکس اوبجیکٹ سمجھا جاتا ہے اور ہر مرد کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ اسے اس گوشت کے ٹکڑے سے کھیلنے کا موقع ملے۔ یہ انسان کی فطری جبلت ہے یا سماجی تربیت کا نتیجہ ہے جو بھی بولیں مگر اس معاشرے میں عورت کی حیثیت اتنی سی ہے۔

Read more

معصومیت کا قتل

”اور یوں بھی دنیا میں کتابوں کے علاوہ کوئی بھی چیز اصل میں ڈراؤنی نہیں ہوتی۔“ انہی کتابوں نے تو انسان کو تباہ کیا ہے، مطلب اچھا خاصا انسان جب پڑھتا ہے تو سوچتا ہے، جب سوچتا ہے تو بولتا ہے اور جب بولتا ہے تو کچھ کرتا ہے۔ یہی کچھ کرنا کبھی مقتدرہ کلاس یا ظالم کو ہضم نہیں ہوتی اور وہ فوراً ایسا سرکس سجانے لگتے ہیں کہ عام لوگ سوچنے سمجھنے سے عاری ہوں اور ظالم اپنی

Read more

در در ٹھوکر کھاتا ڈاکٹر مبارک علی

ڈاکٹر مبارک علی ایک ایسے مؤرخ ہیں جس سے شناسائی سکول کے زمانے میں ہوئی۔ سکول میں ایک چھوٹی سی لائبریری، الماریوں میں بند کتابیں جو چیخ چیخ کر قاری کو پڑھنے کی دعوت دیتے تھے مگر ہمارے علاقے میں غیر نصابی کتابوں کو پڑھنے کا رواج نہ ہونے کی وجہ سے کبھی ان الماریوں کے تالے نہیں کھلتے تھے۔ پھر یوں ہوا کہ بلوچستان کے حالات بہت خراب ہو گئے۔ نواب بگٹی شہید کیے گئے۔ طلبہ تنظیموں کے انقلابی

Read more

کہانیاں مرتی نہیں ہیں

کوئٹہ کی تنگ و پر پیچ گلیوں میں کسی ویران کمرے میں جہاں کوئی اکیلا ہو اور صرف کتابیں سانس لیتی ہوں تو کہانیاں پڑھنا بہترین مشغلہ ہے۔ ایسے میں اگر کہانیوں کی ایسی کتابیں میسر ہوں جن کے موضوعات ہمارے اپنے معاشرے سے ہوں تو پڑھنے کا لطف ہی الگ ہے۔ میں اردو فکیشن بہت پڑھتا ہوں۔ انگریزی میں چونکہ مجھے وہ مزہ نہیں آتا اور بلوچی فکشن میں بہت کم کتابیں ایسی ہیں جو واقعی پڑھنے لائق ہوں۔

Read more

”شوگر سٹریٹ“ میں نجیب محفوظ کے ساتھ

اردو ادب کی ایک اچھی روایت یہ ہے کہ جو بھی کتاب بین الاقوامی سطح پر قارئین کی توجہ کا مرکز بنتی ہے، اردو مترجم فوراً اس کا اردو ترجمہ کر کے پڑھنے والوں کے لئے آسانی پیدا کرتے ہیں۔ خاص طور پر دوسری زبانوں کے فکشن کی تقریباً تمام مشہور کتابوں کے اردو تراجم دستیاب ہیں۔ مگر اس سے ایک طرف جہاں اردو زبان کا دامن وسیع ہو رہا ہے اور اردو ادب میں نت نئے خیالات متعارف ہو

Read more

بلوچ قوم کی توانا آواز: ماہ رنگ بلوچ

بلوچستان میں لاپتہ افراد یا ماورائے عدالت قتل کا مسئلہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ مگر تربت میں ایک بلوچ نوجوان شہید بالاچ کو اٹھانے کے بعد جب اسے قتل کیا گیا تو اس واقعے سے ایک نئی تحریک نے جنم لی۔ ماہ رنگ بلوچ کی سرکردگی میں چند بلوچ متاثرہ خاندان لانگ مارچ کی صورت میں اسلام آباد گئے۔ وہاں ان کے ساتھ کیسا رویہ اختیار کیا گیا وہ ایک الگ بحث ہے۔ مختصراً یہ کہ جو لوگ وہاں

Read more

ننھا شہزادہ

ادب کے کسی قاری نے جب تک انگریزی، فرانسیسی، روسی اور یونانی ادب کا مطالعہ نہیں کیا ہو تو وہ کوئی سنجیدہ قاری نہیں ہو سکتا۔ اتنا عرصہ ادب سے جڑے رہنے کے باوجود بھی جب کوئی پرانی کتاب پڑھنے کو ملتی ہے تو میں دھنگ رہ جاتا ہوں کہ جو ادب مغرب میں پچاس ساٹھ سال پہلے تخلیق ہوا ہے ہم آج بھی اس سٹینڈر کا ادب تخلیق نہیں کر پائے ہیں۔ اس کے وجوہات کیا ہیں وہ ایک الگ بحث ہے۔

کچھ دن پہلے ایک فرانسیسی ناول نگار آنتون دی سینٹ ایگزیوپیری کی ناول ”ننھا شہزادہ“ پڑھنے بیٹھ گیا تو میں حیران رہ گیا کہ جو کتاب 1946 میں چھپ چکی ہے، جس طرح اس ناول میں انسانی مزاج اور نفسیات کو بیان کیا گیا ہے ہم آج بھی ان موضوعات پہ بہت کم سوچتے ہیں۔

Read more

گوادر کی گلیوں میں بہتا سمندر

آپ پاکستان کے کسی بھی کونے میں جائیں اگر گوادر کا پوچھیں تو ہر کسی کو پتہ ہو گا۔ یہ سن کر تعجب ہوگا کہ جن لوگوں کو بلوچستان کا پتہ نہ ہو پھر بھی انہوں نے گوادر کا نام سنا ہو گا۔ وجہ کیا ہے؟ وجہ صرف یہ ہے کہ سی پیک کے نام پر گوادر کو اتنا اچھالا گیا کہ ہر کوئی سمجھتا ہے، گوادر اب سنگاپور اور دبئی کے شہروں کی طرح ایک ماڈرن شہر بن چکا

Read more

بلوچستان کی جامعات میں ہو کیا رہا ہے

ہو سکتا ہے اس سوال سے آپ کے ذہن میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور یا بلوچستان یونیورسٹی کوئٹہ میں ہونے والے سکینڈلز کا خیال آئے۔ یا آپ کو لگے کہ میں کسی یونیورسٹی انتظامیہ کے کرپشن کی کہانی گڑ رہا ہوں۔ تو پہلے سے بتاتا چلوں کہ یہ میرا مسئلہ بالکل بھی نہیں ہے۔ یہ تمام مسائل اپنی جگہ وجود رکھتے ہیں مگر اس وقت بلوچستان کے جامعات کو جو سب سے اہم مسئلہ درپیش ہے وہ پاکستان کے دوسرے تمام

Read more

ہر استاد، استاد نہیں ہوتا

بچپن سے ہمارا خواب ٹیچر بننا تھا۔ جب ایم۔اے کیا تو دوستوں نے پوچھا کہ اب آگے کا کیا سوچا ہے؟ میرا بس ایک ہی جواب تھا کہ ٹیچر ہی بننا ہے اور کیا۔ اس بات پہ میری ایک سہیلی ہمیشہ میرا مذاق اُڑاتی تھی کہ آپ اِتنا پڑھتے ہیں، لکھتے بھی ہیں اور ایک معمولی سا ماسٹر بن کے خود کو ضائع کرتے ہو؟ پھر کلاس روم میں بیٹھ کر چھوٹے چھوٹے بچّوں کو آستینوں سے جب ناک کا

Read more

مبارک قاضی اور شہر کی دیواروں پہ رہ گئے اشعار

موجودہ دور میں بہت کم زبانیں ایسی رہ گئی ہیں جن کے بولنے والے اپنی صلاحیتوں کا اظہار انہی زبانوں میں کریں۔ بڑی زبانیں جیسے انگری، مینڈریڈ یا ہندی و اردو وغیرہ چھوٹی زبانوں کے لئے خطرہ ثابت ہورہے ہیں۔ ایسی زبانوں کے قاری بڑی تعداد میں موجود ہیں اس لئے اکثر لکھاری انہی بڑی زبانوں میں طبع آزمائی کرتے ہیں۔ مگر جو مٹھاس مادری زبان میں موجود ہے اور ایک لکھاری جس طرح اپنی مادری زبان میں اپنے خیالات

Read more

معروف بلوچ عوامی شاعر: مبارک قاضی

آپ بلوچستان کے کسی بھی گلی کوچے میں کسی عام آدمی سے ، کسی دوکاندار سے، کسی راہگیر سے، کسی طالب علم، کسی ادبی بندے سے ، کسی استاد سے، یا کسی صفائی والے یا کسی ہیروینی سے جو کسی دیوار کے کونے میں بیٹھ کر اونگھ رہا ہوگا، پوچھ لیں تو وہ لازمی ایک نام سے واقف ہوگا جسے "مبارک قاضی” کہتے ہیں۔ خیر شہر تو شہر ہیں آپ کا کسی چھوٹے بلوچ گاؤں سے گزر ہو جہاں کسان

Read more

گرکِ شب” ایک منفرد ناول

صر حاضر میں ہمارے نوجوانوں میں یہ رجحان رواج پا چکا ہے کہ مقامی زبانوں اور اردو میں جو کچھ بھی لکھا جا رہا ہے اسے معیاری ادب قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس لئے اکثر انگریزی کتابیں پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں یا دوسری زبانوں کے انگریزی تراجم پہ گزارہ کرتے ہیں۔ مقامی زبانوں میں لکھنے اور پڑھنے کا رجحان ویسے بھی دن بہ دن کم ہوتا جا رہا ہے لیکن اب تو اردو پڑھنے والے بھی وہی رہ گئے

Read more

گیتانجلی شری کی تصنیف ”ریت سمادھی“

کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں کہ جن کو پڑھتے وقت قاری خود کتاب میں ایک کردار بن جاتا ہے۔ خاص طور پر اگر کتاب کوئی خوبصورت ناول ہو۔ جیسے ہی کہانی آگے بڑھتی جاتی ہے قاری کے جذبات پر کہانی کے ڈور کی گرفت مزید مضبوط تر ہوتی جاتی ہے۔ مگر یہ خاصیت میں نے بہت کم کتابوں میں پائی ہے۔ جن میں ایک کتاب گیتانجلی شری کی تصنیف ”ریت سمادھی“ ہے۔ فیس بک اور دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز

Read more

بھکاریوں کا شہر: کوئٹہ

گرمیوں کے موسم میں جو لوگ تھوڑا صاحبِ استطاعت ہوں اور غمِ روزگار سے جب آزاد ہوں تو انکی یہی خواہش ہوگی کہ وہ سرد علاقوں کا رُخ کریں۔ آج کل کوئٹہ کا بھی یہی حال ہے، جو بلوچستان کا صوبائی دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔ وہ بھی ایک زمانہ تھا جب لوگ اپنی علمی پیاس بجھانے کے لئے کوئٹہ کا رُخ کرتے تھے۔ یہ شہر بلوچ قوم کے لئے علم و ادب اور خاص طور پر سْیاست

Read more

طالبان کا افغانستان

جب انسان کو چاروں اطراف سے مصیبتیں گھیر لیتی ہیں تو وہ خود کو نا امیدی کی چوکھٹ پہ کھڑا پاتا ہے، لیکن پھر سے زندہ رہنے کی خواہش امید کی ایک کرن بن جاتی ہے اور نا امیدی میں انسان ایک نئی اور خوشحال صبح کا منتظر رہتا ہے۔ دنیا کی کئی اقوام کی طرح افغان بھی مجموعی طور پر اسی حالت میں رہ رہے ہیں۔ صدیوں سے وہ ایک خوبصورت صبح کا خواب آنکھوں میں سجائے بیٹھے ہیں

Read more

چند لمحے عصمت چغتائی کے ساتھ

کچھ لوگوں کی صحبت ایسی ہوتی ہے کہ ان کی باتوں اور مسکراہٹوں سے کبھی دل نہیں بھرتا۔ ان کی محفل سے اٹھنے کو کبھی دل نہیں کرتا۔ عصمت چغتائی ایک ایسی ہی شخصیت تھیں۔ ان سے پہلی ملاقات چند سال پہلے پرانی کتابوں کے ایک سٹال پر ان کے افسانوں کی کتاب ”چوٹیں“ کی صورت میں ہوئی۔ ملاقات اس لئے کہہ رہا ہوں کہ اسی مجموعے کی توسط سے میں عصمت سے آشنا ہو گیا۔ ان افسانوں کو پڑھتے

Read more

یہ کتابوں سے عشق کی آخری صدی نہیں!

اک چائنیز کہاوت ہے کہ ”اچھی کتابوں اور اچھے کپڑوں کے لئے جتنے پیسے خرچ کیے جائیں وہ کبھی ضائع نہیں ہوتے۔“ اچھے کپڑے آپ کی شخصیت میں نکھار پیدا کرتے ہیں اور اچھی کتابیں آپ کی سوچ سنوار کر آپ کا اپنا ایک الگ نقطۂ نظر قائم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

Read more

مغل دربار سے پاکستان کے ایوانوں تک

فکشن کے علاوہ کبھی کبھی تاریخ کی کوئی ہاتھ لگ جاتی ہے تو اس میں ضرور کسی حکمران یا بادشاہ کے قصّے ہوتے ہیں۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ تاریخ کی کسی کتاب میں آپ کو غریب عوام کا تذکرہ ملے، کیونکہ عوام کا تو کام ہی یہی ہے کہ خون پسینہ بہا کر اپنے آقا کی خوشی و آرام کے سامان مہیا کریں۔ جب آقا ہی سب کچھ ہو تو تاریخ بھی اسی کی لکھی جائے گی۔ اگر

Read more

بلوچی زبان کی پسماندگی کے وجوہات

مؤرخین کے مطابق بلوچی کا شمار اس خطے کی قدیم ترین زبانوں میں ہوتا ہے اور یہ ایک ایسے قوم کی زبان ہے جو صدیوں سے اپنی سرزمین پہ حکمران رہ چکا ہے۔ مگر اس کے باوجود موجودہ دور میں بلوچی اس حد تک پسماندہ ہے کہ اگر اس طرف مزید توجہ نہیں دی گئی تو یہ زبان تحریری صورت میں ناپید ہو گا اور جب ایک زبان تحریری صورت میں ناپید ہو جائے تو اس کے صفحہ ہستی سے

Read more

اور ڈان بہتا رہا

میرے خیال میں سردیوں کا موسم ناول پڑھنے کا بہترین موسم ہے۔ سردیوں کی لمبی راتیں کاٹنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ بندہ ایک ناول کے کردار کی طرح دنیا کے کسی کونے کی سیر پہ نکل جائے۔ کسی ان دیکھی نگر میں رونما ہونے والے واقعات کا جائزہ لے اور وہاں کے باسیوں کے دکھ درد، ان کی ہنسی خوشی میں شریک ہو کر وہاں چند خوبصورت لمحات بتانے کے بعد نئے خیالات کا انبار لئے اپنی محدود

Read more

کیا حقیقی معنوں میں ہم ٹیچر ہیں؟

معاشرے سے باغی شخص ہی حقیقی استاد ہو سکتا ہے۔ عام طور پر ہم یہی سمجھتے ہیں کہ جب ایک استاد اپنے سٹوڈنٹس کو معاشرے کے رسم و رواج اور اندھے اعتقادات کی تقلید سکھانے میں کامیاب ہو تو اسے ہم بہت بڑا اور قابل احترام استاد تصور کرتے ہیں۔ جو انسان کی فرسودہ روایات کو بچوں کے ذہن میں بھر دینے میں کامیاب ہو۔ جو بچوں کو بیکار ڈسپلن کا پابند بنا سکے۔ جو سٹوڈنٹس کو یہ باور کرا

Read more