مریخ مشن کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہے


دنیا کو جہنم بنانے کے بعد امریکہ بہادر مریخ پر بسنے جا رہا ہے۔ ماہرین کے بقول امریکہ کی خواہش ہے کہ وہ مستقبل قریب میں اپنا مسکن مریخ کو بنائے۔ کیونکہ بقول امریکی حکمرانوں کے یہ دنیا غیر محفوظ ہوتی جا رہی ہے۔ سادہ لفظوں میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ ایک معصوم ریاست ہے جس کے پیچھے ساری دنیا لگی ہوئی ہے اور اب محفوظ جگہ کی تلاش میں مریخ جا رہا ہے۔

لیکن امریکہ مریخ پر جائے یا پلوٹو پر ہمیں اس سے کیا لینا دینا۔ ہم نے تو فی الحال اسی زمین پر ہی رہنا ہے۔ ہمارے شعراء اور ”عاشقین“ تو پہلے ہی اپنے محبوبوں کو چاند پر لے جانے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔ سائنس و ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے اور ہمارے عاشقین اب بھی پتھر کے زمانے میں رہ رہے ہیں بجائے وہ اپنے محبوبوں کو چاند پر لے جانے کی فکر کرنے اگر مریخ پر لے جانے کی ضد کرتے تو وہ اپنے محبوبوں کے عمروں کو کنٹرول کر لیتے۔ کیونکہ مریخ کا ایک سال زمین کے بارہ سال کے برابر ہے۔

کہا جاتا ہے کہ مریخ پر پانی اور آکسیجن نہیں۔ تو کیا ہوا؟ کراچی والے تو اب بھی پانی اور آکسیجن کے بغیر رہ رہے ہیں۔ پانی پینے کے قابل نہیں آکسیجن سانس لینے کے قابل نہیں۔ اس وقت بھی کراچی میں کچرا سیاست عروج پر ہے۔ ایم کیو ایم کے پندرہ ایم این ایز الیکشن لڑ رہے تھے اور اٹھارہ کامیاب ہوئے۔

پہلے زمانے میں ہر محبوب چاہتا تھا کہ وہ اپنی محبوبہ کو چاند پر لے جائے اب بڑھتی ہوئی عمر سے پریشان ہو کر ہر عورت کی خواہش ہیں کہ وہ مریخ پر جا بسے۔ عورت چاہتی ہے کہ اس دنیا میں اس کی حکمرانی رہے۔ اور ہونا بھی یہی چاہیے کہ یہ دنیا تو عورت ہی کے لئے پیدا کی گئی ہے مرد کے لئے تو اللہ تعالیٰ نے جنت بنایا تھا۔ جنت میں انسان ہمیشہ جوان رہے گا اس لئے عورت اس دنیا کو جنت سمجھتی ہے اور خود کو اس جنت کی اکیلی مخلوق۔ اس کی عمر ساٹھ سے اوپر بھی چلی جائے وہ خود کو جوان ہی سمجھے گی۔ وہ سب کچھ بتا سکتی ہے لیکن اپنی عمر بارے وہ فوراً چارلی چیپلن بن جاتی ہے یعنی کچھ نہیں کہتی۔

کہا جاتا ہے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک ناکام مرد کے پیچھے کئی عورتوں کا ہاتھ ہوتا ہے جس پر ساری دنیا خاموش ہے۔ خاموش اس لیے کہ پھر حقوق نسواں والے فوراً حرکت میں آ جاتے ہیں۔ ویسے حقوق نسواں کے لئے تو ہزاروں تنظیمیں کام کر رہی ہیں لیکن ”میاں مظلوم“ کا کوئی پرسان حال نہیں۔

مریخ پر جانے کی کوششیں ہو رہی ہے تو اس کے پیچھے بھی یقیناً عورتوں کا ہاتھ ہے اور وہ اس طرح کہ مریخ کا ایک سال زمین کے بارہ سال کے برابر ہے یعنی 72 سال کی بوڑھی عورت بھی 6سال کی بچی بن جائے گے۔ عورت چاہتی ہے کہ چاہیے حالات کنٹرول ہو یا نہ ہو لیکن عمر اور میاں ان کے کنٹرول سے باہر نہ ہو۔ وہ عمر اور شوہر دونوں کو میک اپ سے کنٹرول کرتی ہے۔

عورت کو سمجھنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا پاکستانی سیاست کو ۔ حد سے زیادہ محبت اور نفرت عورت کو باغی بنا دیتی ہے شاید قارئین نے پچھلے ہفتہ یہ رپورٹ پڑھی ہوگی کہ ایک عورت نے عدالت جاکر اپنے خاوند سے طلاق کا مطالبہ کر ڈالا جس پر الزام یہ تھا کہ جب سے ان کی شادی ہوئی ہوئی ہے ان کے درمیان کوئی جھگڑا نہیں ہوا، آج تک اس کے خاوند نے اس کی نافرمانی نہیں کی بلکہ بخوشی برضا ہر کام خود سرانجام دیتا ہے۔ جس پر ان کی بیوی ناراض ہو کر طلاق لینے پر اتر آئی۔ اب اس کا مطلب یہی ہے کہ میاں کو کبھی کبھی ”آف شور“ تو کبھی کبھی ”آن شور“ ہونا چاہیے۔

اس وقت دنیا میں ٹینشن کی بیماری عام ہوتی جا رہی ہے۔ مرد حضرات عورتوں کے ہاتھوں ٹینشن کے شکار ہے تو عورتیں اپنی گزرتی عمر کے ہاتھوں پریشان۔ ایک صحافی دوست سے پوچھا عید کیسی گزری اس نے جواب دیا یار دفتر میں گزری۔ ایک سرکاری ملازم سے پوچھا عید کیسی گزری۔ جواب دیا یار اس دفعہ تو ایکسٹرا دن بھی ملے اور خوب مزے کیے ۔ تو ایسے میں اگر حوا کی بیٹی سے پوچھا جائے کہ زندگی کہاں گزری تو بقول ایک دوست کے یہی جواب بنتا ہے کہ آئینہ کے سامنے۔

امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے تو ایسے ہی آئینہ کے سامنے کھڑے ہونے کو بدصورتی نہ سمجھا جائے بلکہ بڑے نام ہمیشہ بڑے سکرین پر جلوہ گر ہوتے ہیں۔

ہمارے فلمی ہیروئن خود کو بہت بڑی اداکارائیں سمجھتی ہے اس لئے ہر وقت خود کو آئینہ کے سامنے کھڑی خود کو دیکھتی رہتی ہیں۔ جب بھی ان سے ان کی عمر بارے پوچھا جائے تو ہنس کر جواب سیاستدانوں کی طرح گول کر دیتی ہے۔

دنیا کے دو کام انتہائی مشکل ہے پہلا اپنا آئیڈیا کسی اور کے ذہن میں فٹ کرنا اور دوسرا کسی اور کا پیسہ اپنی جیب میں منتقل کرنا۔ جو پہلے پہلے میں کامیاب ہوتا ہے اسے ٹیچر کہتے ہیں اور جو دوسرے میں کامیاب ہوتا ہے اسے بزنس مین کہتے ہیں لیکن جو ان دونوں میں کامیاب ہوتا ہے اسے بیوی کہتے ہیں۔

Facebook Comments HS