پاکستان میں ہر سال بائیس لاکھ سے زیادہ اسقاط حمل
تیسرے بچے کی پیدائش کے بعد شہلا ایک بار پھر امید سے تھیں۔ ابھی پہلا مہینہ ہی شروع ہوا تھا لیکن وہ اس ”مشکل“ سے چھٹکارا چاہتی تھیں۔ پہلے سے موجود تین بچے، شوہر کی قلیل تنخواہ اور اپنی گرتی ہوئی صحت کے باعث وہ مزید کسی اولاد کی ہرگز متمنی نہیں تھیں۔ حمل کی خبر سن کر شوہر بھی پریشان ہو گیا اور اس نے بچہ ضائع کرنے کے لیے شہلا کو قریبی میڈیکل اسٹور سے گولیاں لا دیں۔ گولی کھاتے ہی شہلا کی حالت دو تین دن بگڑی رہی لیکن ”خطرہ“ ٹل جانے پر وہ کسی حد تک مطمئن ہو گئیں۔
دو ہفتے تک طبیعت پوری طرح نہ سنبھلی تو بے چینی کے باعث بلا آخر ڈاکٹر کے پاس پہنچیں۔ الٹراساؤنڈ میں حمل اب بھی محفوظ تھا۔ ڈاکٹر کو پوری بات بتا دی۔ ابارشن کے لیے ڈاکٹر نے انہیں پرائیویٹ کلینک بلایا۔ جہاں آٹھ ہزار روپے دے کر ان کا ابارشن کر دیا گیا۔ شہلا کے مطابق بظاہر انہیں کلینک خفیہ انداز کا لگا۔ چھوٹی سی جگہ پر قائم کلینک میں اکثریت ان ہی خواتین کی تھی جو اپنے ابارشن کی غرض سے آئیں تھیں۔ اس بات کو چار سال گزر گئے لیکن شہلا کی زندگی جیسے عذاب ہو گئی ہے۔
انفیکشن کے باعث اندرونی اعضاء کو نقصان پہنچا۔ رحم اپنی جگہ سے سرک گیا۔ ان تمام تکالیف کے باعث بار بار ماہواری کا ہونا اور ہیوی بلیڈنگ معمول بن چکا ہے۔ ڈاکٹر نے انہیں رحم نکالنے کا مشورہ دیا ہے۔ دھان پان سی شہلا کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ کسی ماہر امراض نسواں سے مستقل علاج کرا سکیں۔ شوہر کو بھی ان کے مہنگے علاج کی پروا نہیں۔ والدین بھی حیات نہیں کہ جو اس مشکل وقت میں ان کا خیال رکھتے۔ اب ان کا گزارا دواؤں پر ہے اور وہ اکثر شدید نقاہت کے باعث بستر سے اٹھ بھی نہیں پاتیں۔ لیکن شہلا خوش قسمت ہیں کہ تمام تر پیچیدگیوں کے باوجود وہ زندہ سلامت ہیں۔ چور راستوں سے کیے گئے ابارشن کے باعث ملک میں ہر سال ہزاروں خواتین اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔
اسقاط حمل کے حوالے سے پاکستانی قانون
پاکستانی قانون میں اسقاط حمل کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ ماں کی صحت کو خطرات لاحق ہوں۔ اس حوالے سے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 338 کے تحت اسقاط حمل (ابارشن) قانونا جرم ہے۔ خاتون کی مرضی سے کیے جانے والے ابارشن کی سزا تین سال قید اور ماں کی مرضی کے بغیر کرائے گئے ابارشن کی سزا دس سال تک قید ہوگی۔ ڈاکٹر سمیت ملوث تمام افراد سزاوار ہوں گے
پاکستان میں اسقاط حمل اعداد و شمار کیا کہتے ہیں
پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں اسقاط حمل کے سب سے زیادہ کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ ملک میں ابارشن کی کوئی گنجائش نہ ہونے کے باوجود پاپولیشن کونسل سروے کے مطابق پاکستان میں سالانہ بائیس لاکھ سے زیادہ اسقاط حمل کروائے جاتے ہیں۔ یعنی روزانہ چھے ہزار اسقاط حمل۔ یہ صرف ایک محتاط اندازہ ہے درست اعداد و شمار سے کوئی ادارہ واقف نہیں۔ سروے میں اسپتالوں کے ریکارڈ کو بنیاد بنا کر یہ اعداد و شمار دیے گئے ہیں۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ بہت سے ”ان چاہے حمل“ ڈاکٹرز کے نجی کلینک میں خفیہ طور پر ختم کیے جاتے ہیں۔ جن کا مکمل ریکارڈ اس سروے کا حصہ نہیں بن سکا ہو گا۔
کیا صرف غیر شادی شدہ خواتین ابارشن کراتی ہیں
ڈاکٹر شاہدہ ایک سرکاری اسپتال میں ماہر امراض نسواں کی حیثیت سے فرائض انجام دیتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ لوگوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ابارشن صرف وہ لڑکیاں کراتی ہیں جن کے غلط تعلقات ہوں۔ یا وہ ماڈرن خیالات کی مالک ہوں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ابارشن کروانے والی اکثریت شادی شدہ خواتین کی ہوتی ہے۔ جو عموماً گھریلو خواتین ہوتی ہیں۔ وہ اپنے شوہروں کے ساتھ آتی ہیں اور ”ان چاہے بچے“ کو ضائع کرانے کی بات کرتی ہیں۔ غیر قانونی ہونے کی وجہ سے کیونکہ اسپتال میں ڈاکٹر ان کا کیس نہیں لیتے تو وہ ”خفیہ راستے“ کی تلاش میں ہوتی ہیں اور ناتجربہ کار دائیوں یا ڈاکٹرز ابارشن کے نام پر ان کا جسم کھوکھلا کر دیتے ہیں۔
فیملی پلاننگ کے طریقوں پر عمل کیوں نہیں ہوتا
یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر کسی جوڑے کو بچے نہیں چاہیں تو وہ فیملی پلاننگ کے طریقوں پر عمل کیوں نہیں کرتے۔ آخر اسقاط حمل کی نوبت آتی ہی کیوں ہے۔ معروف نجی اسپتال سے منسلک ڈاکٹر شیبا انصاری کے مطابق فیملی پلاننگ کے مروجہ طریقوں سے عدم واقفیت اس کی ایک بڑی وجہ ہے۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ دو اؤں یا انجیکشن کے استعمال کے حوالے سے خواتین میں یہ سوچ بھی پائی جاتی ہے کہ اس سے ان کا ہارمونل نظام بگڑ سکتا ہے اور وہ موٹاپے کا شکار ہو سکتی ہیں۔
اہم بات یہ بھی ہے کہ خاتون اگر ایسے کسی طریقے کو اپنانے کی کوشش کرے بھی تو شوہر اس کے ساتھ تعاون نہیں کرتا۔ نتیجتاً غیر قانونی طور پر ابارشن کی نوبت آتی ہے۔ اور خاتون کی صحت داؤ پر لگ جاتی ہے۔ لیکن گھریلو خاتون کلثوم (فرضی نام) کا کہنا ہے کہ انہوں نے بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفے کی کوشش کی۔ احتیاطی تدابیر اختیار کیں لیکن ضروری نہیں کہ یہ احتیاط ہمیشہ سو فیصد رزلٹ دے۔ احتیاطی تدابیر کے باوجود، دو بار انہیں حمل ٹھہرا۔ ایک بار انہوں نے اسے قبول کیا لیکن دوسری بار ٹی۔ بی کے باعث ان کی صحت اس قابل ہی نہیں تھی کہ وہ اس ”ان چاہے حمل“ کو قبول کرتیں۔ اس لیے انہوں نے تولیدی صحت کے قریبی مرکز سے رابطہ کیا۔
خواتین کی تولیدی صحت کے مراکز
ڈاکٹر ثناء (فرضی نام) ایک معروف نجی اسپتال سے وابستہ ہیں۔ چار بچوں کی ماں ہیں۔ ان کا ایک بیٹا ذہنی و جسمانی طور پر معذور ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ خصوصی بچوں کی ماں ہونا آسان نہیں ہوتا۔ یہی وجہ تھی کہ جب اس بچے کے فوراً بعد جلد ہی انہیں دوسرا حمل ٹھہرا تو وہ اس کے لیے تیار نہیں تھیں۔ بحیثیت ڈاکٹر وہ خواتین کی تولیدی صحت کے ایسے مراکز سے واقف تھیں۔ جہاں قانون کے تحت ابتدائی دو ماہ سے چار ماہ میں ضرورت کے تحت حمل ختم کرایا جاسکتا تھا۔ انہوں نے ماری اسٹوپس سوسائٹی کے قریبی سینٹر سے اس حوالے سے مدد لی۔ یوں وہ اپنی خصوصی بچی پر بہتر توجہ دینے کے قابل ہو سکیں
حل کیا ہے
غیر محفوظ اور خفیہ انداز میں کرائے گئے اسقاط حمل کے نتیجے میں سالانہ ہزاروں خواتین اپنی جان سے ہاتھ دھو رہی ہیں۔ کیا اس کا حل ابارشن کو قانونی شکل دینا یا قانون میں نرمی کرنا ہو گا۔ ظاہر ہے پاکستان جیسے ملک میں ایسا ممکن نظر نہیں آتا۔ تو پھر آخر اس کا حل کیا ہے۔ اگر شریعت میں بلا ضرورت ابارشن کی گنجائش نہیں ہے تو وہی شریعت کسی بھی جوڑے کو بچوں میں مناسب وقفے کی اجازت دیتی ہے تاکہ بار بار زچگی کی تکلیف سے گزرنے والی ماؤں کی صحت بھی داؤ پر نہ لگے۔
اور بچوں میں مناسب وقفے کے باعث وہ اپنی صحت پر بھی توجہ دے سکیں۔ اس حوالے سے ابلاغ کی اس حد تک کمی ہے کہ خواتین اپنے علاقے کے تولیدی صحت کے مرکز تک جانا بھی مناسب نہیں سمجھتیں۔ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ تولیدی صحت کے مراکز محض ایک فون کال پر بھی رہنمائی اور مدد کے لیے موجود ہوتے ہیں۔ یہاں مکمل ذمہ داری اور رازداری کے ساتھ بات ہوتی ہے۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ فیملی پلاننگ کے حوالے سے عوام میں آگاہی و شعور فراہم کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے ہر فورم کو استعمال کیا جائے۔ چاہے وہ ٹی وی ہو سوشل میڈیا اخبار رسالے مسجد و منبر کے ذریعے اس بات کا ابلاغ کیا جائے تاکہ اس مسئلے کی سنگینی کو حساسیت کے ساتھ سمجھا جا سکے۔ اور ماؤں کی زندگی اور صحت، سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے


