ن لیگ کی بقا کا سفر
الیکشن کے بعد اقتدار عوامی نمائندوں کے حوالے ہو چکا ہے اس امر پر بحث ہو سکتی ہے کہ جو لوگ حکومت کی باگ ڈور سنبھال چکے ہیں وہ عوامی نمائندگی کا کس حد تک حق رکھتے ہیں لیکن فی الحال اس بحث سے درگزر کرتے ہوئے یہ دیکھا جائے کہ جن نمائندوں کے حوالے اقتدار کیا گیا ہے وہ عوام کی خدمت کے لئے کیا اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے علاوہ ملک کے باقی صوبوں میں پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی حکومتیں ہیں جو کہ مرکز میں بھی اتحادی ہیں اسی مناسبت سے انہوں نے ملک کے تین صوبوں میں بھی ایک دوسرے کی حمایت اور مشاورت سے اپنی اپنی حکومتیں بنا لی ہیں۔
پنجاب میں عنان اقتدار نون لیگ کے حصے میں آئی ہے اور نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے اپنی سیاسی جانشین محترمہ مریم نواز کو وزیر اعلیٰ کے مسند پر بٹھایا ہے اور خود میاں صاحب بھی پنجاب میں ڈیرے جمائے بیٹھے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کی کامیابی کے لئے میاں نواز شریف نے اپنے ان سیاسی ساتھیوں کو وزیر اعلیٰ کے ساتھ نتھی کیا ہے جن پر وہ مکمل اعتماد اور بھروسا کرتے ہیں اور میاں صاحب کے یہ دوست ان کی سیاسی جانشین کی مکمل سپورٹ میں کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں۔
پنجاب ایک طویل مدت سے نون لیگ کا گڑھ رہا ہے اور سیاسی طور پر نون لیگ کا پنجاب میں طوطی بولتا رہا ہے نون لیگ نے پنجاب کے سیاسی یا انتظامی معاملات پر اپنی گرفت کبھی ڈھیلی نہیں ہونے دی۔ اس مضبوط گرفت میں بڑا ہاتھ میاں شہباز شریف کا ہے جنہوں نے پنجاب پر حکمرانی کے مختلف ادوار میں ترقیاتی کاموں کے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں جس کی وجہ سے عوام میں ان کی جڑیں ایک ترقی پسند حکمران کے طور پر بہت مضبوط ہو گئیں اور ان کی طرز حکمرانی کے چرچے بیرون ملک تک پھیل گئے تا آنکہ عمران خان نے پنجاب کے سیاسی میدان میں قدم رکھ دیا اور روایتی طرز حکمرانی کو چیلنج کر دیا۔
نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد جو بطور ایک کرکٹر ان کی مداح تھی وہ ان کی سیاسی شخصیت کی بھی ہمنوا بن گئی اور وہ ایک طویل سیاسی جد و جہد کے بعد پنجاب میں نون لیگ کا سحر توڑنے اور حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ لیکن ان کی حکمرانی کے رموز سے ناتجربہ کاری عثمان بزدار کی صورت میں سامنے آئی اور پنجاب میں ایک برا طرز حکمرانی دیکھنے میں آیا جس کا برملا اظہار اب تحریک انصاف کے رہنماء بھی کرتے ہیں۔ آئینی طریقہ کار سے حکومت کے خاتمے کے بعد پنجاب میں طویل ترین نگران دور میں حکمرانی کا قرعہ محسن نقوی کے نام نکلا جو کہ بنیادی طور پر ایک صحافی ہیں اور حکمرانی کے رموز سے نابلد سہی لیکن سیاسی جوڑ توڑ کے ماہر ہیں اور آصف علی زرداری سے قریبی تعلق رکھتے ہیں۔ محسن نقوی نے ایک مختصر مدت میں پنجاب میں تیز رفتاری سے ترقیاتی کاموں کی داغ بیل ڈالی اور انہیں مکمل بھی کرایا جو کہ ایک جز وقتی حکمرانی کے دور میں پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ انہوں نے ایک مضبوط اور منظم طریقے سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کو کامیابی سے چلایا جس کے کریڈٹ کے وہ حق دار ہیں۔
انتخابات کے بعد آئندہ پانچ برس کے لئے اب محترمہ مریم نواز پنجاب کی حکمران ہیں جنہوں نے اقتدار سنبھالتے ہیں عوامی فلاح و بہبود کے مختلف منصوبوں کا اعلان کیا ہے جن کو عملی جامہ پہنانے کے لئے گزشتہ روز اسمبلی نے عبوری بجٹ بھی منظور کر لیا ہے تا کہ جون تک صوبے کے مالی معاملات کو احسن طریقے سے چلایا جا سکے۔ بجٹ کا بڑا حصہ صحت، تعلیم، تعمیرات و ترقیاتی منصوبوں کے علاوہ زراعت پر سبسڈی کے لئے بھی مخصوص کیا گیا ہے۔
اس عبوری بجٹ کے خدو خال سے پنجاب کی حکومت کی سمت کا اندازہ ہو رہا ہے اور وہ درست معلوم ہوتی ہے شاید حکمرانوں کو اس بات کا ادراک ہو چکا ہے کہ وہ کون سے کام یا منصوبے ہیں جن کی وجہ سے عوام دوستی کا دروازہ کھلتا ہے۔ اپنے آپ کو بطور عوامی وزیر اعلیٰ منوانے کے لئے محترمہ مریم نواز کے پاس ایک مکمل دور اقتدار موجود ہے جس میں ان کی حکومت کے پاس سادہ اکثریت بھی ہے یعنی مرکز کی طرح ان کی حکومت کسی دوسری سیاسی جماعت کی بیساکھیوں کی محتاج نہیں ہے۔
یہ بات تو واضح ہو چکی ہے کہ نون لیگ کی پنجاب میں کم ہوتی عوامی مقبولیت کو واپس لانے میں مریم نواز کا کلیدی کردار ہو گا اور اس میں ان کا دور اقتدار مرکزی کردار ادا کرے گا۔ بلا شبہ میاں نواز شریف نے صائب فیصلہ کیا ہے کہ انہوں نے مرکز میں ایک کمزور حکومت کی باگ ڈور نہیں سنبھالی بلکہ پنجاب پر توجہ دینے کے لئے وہ اپنے مخلص اور دیرینہ ساتھیوں کے ساتھ پنجاب میں ہی رک گئے ہیں۔ ان کا یہ فیصلہ ان کی جماعت کی آئندہ کی انتخابی سیاست کا فیصلہ ہے وہ ایک زیرک اور منجھے ہوئے سیاسی رہنماء ہیں وہ اس بات کا بھانپ چکے ہیں کہ پنجاب جو کبھی ان کے اشارہ آبرو کا منتظر ہوتا تھا وہ بات اب نہیں رہی ہے اور نون لیگ کی پنجاب میں عوامی مقبولیت میں کمی کا سہرا گزشتہ سولہ ماہی حکومت ہے جس میں آئی ایم ایف کے مطالبوں پر عوام کی زندگی اجیرن کر دی گئی اور عوام میاں شہباز شریف کی حکومت سے ناراض ہو گئے جبکہ ان کے حکومتی اتحادیوں نے یہ مشکل بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیا اور سائیڈ پر ہو گئے اور تمام تر بوجھ میاں شہباز شریف کی جھولی میں پھینک دیا۔
آج ایک بار پھر آئی ایم ایف پاکستان میں موجود ہے اور مرکز میں ایک بار پھر میاں شہباز شریف کی سربراہی میں اتحادی حکومت قائم ہے اور ایک بار پھر اتحادیوں کی یہ شدید خواہش ہے کہ عوام کی متوقع مشکلات کا بوجھ بھی میاں شہباز شریف کے کھاتے میں ڈال دیں اور اب تو میاں نواز شریف بھی بول پڑے ہیں اور حکومت سے سوال کیا ہے کہ آئی ایم ایف کے کہنے پر بجلی گیس مزید کتنی مہنگی ہو گی اور حکومت عوام کے صبر کو کب تک آزمائے گی۔
بہر حال میاں نواز شریف کی مکمل توجہ اس وقت پنجاب کی حکومت کے معاملات میں ہے ان کی حتی المقدور یہ کوشش ہو گی کہ پنجاب میں ایک صاف شفاف عوام دوست طرز حکمرانی کا تاثر اجاگر کیا جا سکے تا کہ وہ عوام جو کبھی نواز شریف کے دلدادہ اور ان کی ایک پکار پر لبیک کہتے تھے وہ ایک بار پھر میاں نواز شریف سے جڑ جائیں۔ یہ ایک طویل اور صبر آزماء سفر ہے لیکن میاں نواز شریف جیسی معاملہ فہم اور عوام کے ساتھ رابطہ رکھنے والی شخصیت ہی یہ سفر کامیابی سے طے کر سکتی ہے اور یہ سفر نون لیگ کی بقاء کا سفر ہے۔

